(منبرو محراب) روزہ اور بندگی کے تقاضے - ابو ابراہیم

11 /

روزہ اور بندگی کے تقاضے
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجدجامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہور میںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے20فروری 2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
سب سے پہلے ہم پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہےکہ  اس نے ہمیں ماہ رمضان عطا فرمایا۔قرآن حکیم میں اللہ فرماتاہے :
{ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ }(ابراہیم:7)  ’’ اگر تم شکر کرو گے تومَیں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔‘‘
  شکر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مہینہ ہمیں صحت اور عافیت کے ساتھ عطافرمایا۔ یہ اللہ کو راضی کرلینے ، اللہ کو پا لینے، جہنم سے آزادی حاصل کرنے اور جنت الفردوس پانے کی محنت کا ایک موقع اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے ۔ اللہ ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آج سب سے پہلے اسی حوالے سے چند باتوں کی یاددہانی مقصود ہے ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے روزے کا مقصد یہ بیان فرمایا :
{ لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ(183)}(البقرہ) ’’ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘
  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔  بے مقصد زندگی گزارنا جانوروں کا طرز عمل ہے۔ اُن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ انسان وہ کہلائے گا جس کا کوئی مقصد ِزندگی ہواور با مقصد طور پر زندگی گزارے۔ انسان کا خالق رب ہے اور اُسی رب نے بتایا کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(56)} (الذاریات)’’اور مَیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
یہ زندگی اللہ نے عبادت کے لیے دی ہےاور عبادت صرف نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ، عمرے تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری زندگی اور زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی بندگی میں گزارنا ، اللہ کے احکامات کو ہر معاملے میں مدنظر رکھنا عبادت کا اصل مفہوم ہے ۔ بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں عبادت کا تصور چند فرائض کی ادائیگی تک محدود ہو گیا ہے ، بعض کے نزدیک تو صرف جمعہ کی دو رکعت پڑھ لینا ہی عبادت رہ گیا ہے ۔ باقی پورا وقت چاہے جو مرضی کریں ۔ یہ عبادت کا مفہوم ہرگز نہیں ہے ۔ لفظ عبادت عبد سے بنا ہے۔ عبد عربی میں غلام کو کہتے ہیں۔غلام ہر وقت اپنے آقا کا حکم ماننے کا پابند ہوتاہے۔ وہ آقا کے سامنے اپنی مرضی نہیں کرسکتا ۔ اِسی طرح انسان اپنے خالق کے احکامات پر عمل کرنے کا پابند ہے ۔ رب کے سامنے اپنی مرضی نہیں چلا سکتا ۔ تاہم غلامی اور عبادت میں ایک فرق ہے کہ غلامی مجبوری سے ہوتی ہے لیکن اللہ کی عبادت محبت کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق بھی ہے ، مالک بھی ہے ، رازق بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں ہم پہلے اقرار کرتے ہیں :
{اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ0} یہاں ہم اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، وہی ہماری ہر حاجت پوری کرنے والا ہے ، وہی کائنات کا نظام چلانے والا ہے ، وہی ہر تدبیر فرمانے والا ہے ۔ اِس اقرار کے بعد پھر ہم یہ عہد کرتے ہیں :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ0} یہی انداز سورۃ القریش میں ہے :{فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ (3) الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ لا۵ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ (4)} ’’پس انہیں بندگی کرنی چاہیے اس گھر کے رب کی۔جس نے انہیں بھوک میں کھانے کو دیا‘ اور انہیں خوف سے امن عطا کیا۔‘‘
ہمیں کھلانے ، پلانے، تحفظ دینے ، تمام حاجتیں  پوری کرنے والا اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ۔ اس اقرار کے ساتھ ہم اللہ کی اطاعت کریں تویہ حقیقی معنوں میں عبادت ہوگی ۔ اللہ سے محبت کیسی ہونی چاہیے ؟ فرمایا :
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّـلّٰہِ ط } (البقرہ :165) ’’اور جو لوگ واقعتاًصاحب ِایمان ہوتے ہیں اُن کی شدید ترین محبّت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘
یہ عبادت کے اولین تقاضےہیں لیکن کیا آج ہماری شدید ترین محبت اللہ سے ہے ؟اگر ایسا ہوگا تو عمل بتائے گا کہ یہ اللہ کا بندہ ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے۔انسان چاہے مسجد میں بیٹھا ہو یا پارلیمنٹ میں ، جج ہو، ملک کا وزیر اعظم ہو،یا فیلڈ مارشل ہو،  کسی بھی عہدے اور مقام پر ہو ، اس کی گفتگو ، عمل ، کردار ، اخلاق اور معاملات سے پتا چل جائے گا کہ اُس کے دل میں تقویٰ اور ایمان ہے ۔ اگر عمل ثبوت پیش نہیں کر رہا تو محبت اور عبادت کے دعوے بے بنیاد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ  قرآن میں فرماتا ہے :
{یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (2) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (4)}(الصف)’’اے مسلمانو! تم کیوں کہتے ہو وہ جو کرتے نہیں ہو؟بڑی شدید بےزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔‘‘
یہ بات اللہ کو انتہائی ناراض کر دینے والی ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں ہو۔ بہرحال محبت کے جذبے کے ساتھ اپنے آپ کو مکمل طور پر، ہر لمحہ اور ہر عمل میں اللہ کی اطاعت کرنا عبادت ہے ۔ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج وغیرہ عبادت کا ذریعہ ہیں ، یہ ارکان اسلام ہیں مگر مکمل اسلام نہیں ہیں ۔ البتہ جو بڑی بڑی عبادات عطا کی گئی ہیں یہ بندے کو پوری زندگی کی عبادت کے لیے تیار کرتی ہیں ۔ جیساکہ 24 گھنٹے میں 5 نمازیں بندے کو اللہ کے حضور کھڑا کرتی ہیں ، سال میں ایک مرتبہ صاحب ِ نصاب پر زکوٰۃ انسان کے مال کو پاک کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی ان بڑی بڑی عبادات کے فوائد ہیں ۔ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ اللہ کی بندگی کی راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرتی ہیں ، انسان بھول جاتاہے لیکن یہ یاددہانی کرواتی ہیں ۔ جیساکہ نماز کے بارے میں فرمایا :
{اِنَّنِیْٓ اَنَا اللہُ لَآ اِلٰــہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ لا وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ (14)} (طٰہٰ) ’’یقیناً میں ہی اللہ ہوں! کوئی اورمعبود نہیں سوائے میرے‘پس تم میری ہی بندگی کرو‘ اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے۔‘‘
نماز یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم نے مسجد کے باہر جاکر بھی اللہ کا بندہ بننا ہے ، وہاں سرکشی اور من مانی نہیں کرنی ۔ اسی طرح زکوٰۃ یہ یاد دلاتی ہے کہ مال کی محبت میں ہم نے اللہ کی نافرمانی نہیں کرنی ، حرام میں ملوث نہیں ہونا ۔ آج مال کی محبت میںہمارے معاشرے میں کتنے بڑے بڑے جرائم ہو رہے ہیں ، بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ، کہیں والدین کو قتل کیا جارہا ہے ۔ یہ مال کی محبت ہی تو ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ہلاک ہو گیا دینار کا بندہ اور درہم کا بندہ(یعنی مال کی محبت میں اللہ کو بھول جانے والا۔‘‘)(بخاری )
مال کی محبت میں انسان اللہ کی بندگی سے منہ موڑتا ہے ، سرکشی کرتاہے ۔ شرک صرف بتوں کی پرستش کا نام نہیں بلکہ مال کی محبت میں اللہ کو فراموش کردینا بھی شرک ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ہر اُمت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہے ، میری اُمت کا فتنہ مال ہے ۔ اس مال کی خاطر انسان بڑے سے بڑے گناہ کرتاہے ، ایپسٹن فائلز سے اب کیا کچھ ظاہر ہورہا ہے۔ سورۃ زلزال میں ہم پڑھتے ہیں کہ روزِ قیامت زمین اپنے بوجھ نکال کر باہر رکھ دے گی ۔ مسلم شریف کی حدیث کے مطابق یہ بوجھ سونے اور چاندی کے ڈھیر ہوں  گے اور انسان انہیں دیکھ کر پشیمان ہوں گے کہ اس دولت کی خاطر ہم دنیا میں رب سے سرکشی کرتے رہے۔ آج یہ کتنا بے وقعت پڑا ہے ۔ بندہ کہے گا آج یہ مال میرے کسی کام کا نہیں ۔ ہمارے استاد ڈاکٹر اسراراحمدؒ سورۃ الحدید کے درس میں تفصیل سے اس بات کو بیان کرتے تھے کہ اگر مال کی محبت میں بندہ غرق ہوگا تو اللہ کی اطاعت کیسے کر سکے گا؟ اللہ کے دین کے تقاضوں پر عمل کیسے ہوگا؟ مال کی محبت اللہ کی اطاعت میں رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ یہ رکاوٹ تب ہٹے گی جب ہم اللہ کی راہ میں اس مال کو خرچ کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، صدقات و خیرات کریں گے ۔ زکوٰۃ  کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
(( إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ )) (ترمذی)  ”مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۔‘‘
  جب یہ مال اللہ کی راہ میں خلوص کے ساتھ    خرچ ہوگا تو اس کی محبت دل سے نکلے گی اور مال بھی پاک ہوگا ۔ مال کی محبت دل سے نکلے گی تو اللہ کی بندگی میں انسان آگے بڑھے گا ۔ اِسی طرح حج ان تمام عبادتوں کا مجموعہ  ہے ۔ اس میں مال کا انفاق بھی ہے ، نماز کی ادائیگی بھی ہے ، سفر اور مشقت بھی ہے ۔اسی طرح روزہ بھی اللہ کی بندگی کے راستے میں رکاوٹوں کو دور کرتاہے ۔ بندگی کا تقاضا تو مرتے دم تک ہے جیسا کہ فرمایا :{وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ (99)} (الحجر)’’اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہو جائے۔‘‘
{وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (102)} (آل عمران) ’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
رمضان میںبڑے اچھے مسلمان بن رہے ہیں ، نماز بھی ہے ، روزہ بھی ہے ، تلاوت ِ قرآن بھی ہے ، لیکن چاند رات آتے ہی اگر ہمارا مزاج بدل رہا ہے اور شوال میں وہ کیفیت نہیں رہتی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے روزے کا مقصد حاصل نہیں کیا ۔ روزہ انسان کو صبر اور تقویٰ کی مشق کرواتا ہے کیونکہ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:جنت کو مشقتوں اور تکالیف نے گھیر رکھا ہے جبکہ جہنم کو لذتوں اور آسائشوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ جنت چاہیے تو محنت اور مشقت سے گزرنا پڑے گا ، اللہ کی بندگی میں جان ، مال اور صلاحیت کو لگانا ہوگا ، روزہ اسی کی مشق کرواتا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔‘‘
اِسی طرح روزے کا حاصل تقویٰ ہے اور جنت میں جانے کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ روزے کی حالت میں جس طرح ہم نے حلال کو چھوڑ دیا اسی طرح رمضان کے بعد ہمیں حرام کو بھی چھوڑنا ہوگا ۔ روزے کی حالت میں ہم صبر کرتے ہیں اور نفس کو بے قابو نہیں ہونے دیتے ، رمضان کے بعد بھی ہمیں اپنے نفس کوکنٹرول میں رکھنا ہے ، اس کو معبود نہیں بنانا ۔ فرمایا :
{اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰىہُ ط}(الفرقان:43) ’’کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟‘‘
اللہ کے احکامات کو ماننے کی بجائے اپنے نفس کی بات کو ماننا اور نفس کی خواہشات کے لیے دینی تقاضوں کو فراموش کردینا نفس کو معبود بنانا ہے ۔ روزہ نفس کو کنٹرول کرنے کی مشق کرواتاہے تاکہ انسان تقویٰ کی روش پر چلنا شروع کردے ۔ 
رات کا قیام 
روزے کا ایک بہت بڑا حاصل روح کی بیداری ہے ۔ روزے کی حالت میں روح کو بیدار کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ انسان کا اصل وجود اُس کی روح ہے ۔ روح کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ روزہ کی حالت میں جب انسان تقویٰ حاصل کرتاہے تو روح بیدارہوتی ہے ۔ اِس بیدار روح کی غذا قرآن مجید ہے ۔ دن کو روزہ رکھ کر رات کو اگر قرآن کی تلاوت کریں گے ، قرآن سنیں گے ، سیکھیں گے ، سمجھیں گے تو ہماری روح توانا ہوگی اور جب روح توانا ہوگی تو انسان کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط ہوگا ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے اللہ فرماتا ہے : ’’ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔‘‘ 
مومن کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اُس کورب مل جائے ۔ اگر روزہ کی وجہ سے رب مل جاتاہے تو یہ کتنی بڑی نعمت ہے ۔ لہٰذا رمضان رب کو پالینے کا مہینہ ہے ۔یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہوگی اگر روزمحشر رب یہ کہہ دے :
{یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ (27) ارْجِعِیْٓ  اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (28) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ (29) وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (30)}(الفجر)’’اے نفسِمطمئنّہ! اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی‘ وہ تم سے راضی۔توداخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔اور داخل ہو جائو میری جنّت میں!‘‘
روزے کی حالت میں ہم تھوڑی بہت مشقت برداشت کرتے ہیں اور اس کا اتنا بڑا انعام اگر مل رہا ہے تو ہمیں رمضان کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے اوقات کو فضول کاموں میں ضائع ہرگز نہیں کرنا چاہیے ۔ بلکہ دن کو روزہ رکھ کر رات کو قرآن کے ساتھ قیام کرنا چاہیے ۔  محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے نماز تراویح کے دوران دورئہ      ترجمۂ قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آج پاکستان کے تمام شہروں تک پھیل چکا ہے اور تقریباً 150 مقامات پر    دورۂ ترجمۂ قرآن اور بعض مقامات پر خلاصہ ٔمضامین ِقرآن کا اہتمام ہورہا ہے ۔ شہروں میں تو ویسے بھی لوگ رمضان کی راتوں میں جاگتے رہتے ہیں ، یہی وقت اگر ہم قرآن کو سننے ، سیکھنے ، سمجھنے میں لگائیں تو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع حاصل کر سکتے ہیں ۔ دورۂ ترجمہ ٔقرآن میں قرآن کو ترجمے اور تشریح  کے ساتھ سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ اِس سے ایک طرف ہماری روح اور دینی فکر بیدار ہوگی اور دوسری طرف دورِحاضر کے فتنوں سے بچنےاور اپنے نفس کو گناہوں سے بچانے کا موقع بھی ملے گا کیونکہ دجالی فتنوں کا دور ہے ، بچوں کا عقیدہ و ایمان چھین لینے کے لیے سوشل میڈیا پر بے شمار فتنے موجود ہیں اور دجالی تہذیب کو میڈیا کے ذریعے بھی پروموٹ کیا جارہا ہے ۔ ان حالات میں اگر ہم اپنے بچوں کو قرآن کا پیغام نہیں سنائیں گے تو    وہ دجالی فتنوں کا شکار ہو جائیں گے ۔ لہٰذا کوشش کریں کہ دورۂ ترجمہ ٔقرآن کی محافل میں اپنے ساتھ بچوں کو بھی لائیں تاکہ وہ بھی قرآن کا پیغام سن سکیں ۔ خواتین کے لیے بھی شرکت کا باپردہ انتظام ہوتا ہے ۔ رمضان کا یہ مہینہ رحمتوں ، برکتوں اور جنتوں کے حصول کا مہینہ ہے ۔ جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے ۔ نیکی میں آگے بڑھنے اور بدی سے خود کو روکنے کا مہینہ ہے ۔ جنت کے دروازے کھلے ہیں اور اس کا حصول رمضان میں آسان ہو گیا ہے ۔ لہٰذا س موقع سے فائدہ اُٹھائیے ۔ 
بدقسمتی سے ہمیں اِس اہم موقع سے فائدہ اُٹھانے کی بجائے فضولیات میں اُلجھایا جارہا ہے ۔ کرکٹ ، کھیل تماشے ، رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر لوگوں کو مصروف رکھا جارہا ہے تاکہ وہ رمضان کی برکتوں سے استفادہ نہ کرسکیں ۔  اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لوگوں کو اسلام کے قریب لانے کی کوشش ہونی چاہیے تھی لیکن اِس کے برعکس یہاں کچھ اور چل رہا ہے ۔ سندھ اسمبلی کے ایک ہندو ممبر نے گزشتہ دنوں شراب پر پابندی کا مطالبہ کیا لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان ممبران اسمبلی نے اُس  کی مخالفت کی ۔ سندھ میں وہ علاقہ جس کو پیپلز پارٹی کا گڑھ کہا جاتا ہے ،وہاں سرعام شراب خانے کھلے ہوئے ہیں اور رمضان کی راتوں میں بھی وہاں سرعام شراب فروخت ہورہی ہے ، پارٹیاں ہورہی ہیں ، ناچ گانا ہورہا ہے ، فحاشی اور بے حیائی سرعام ہو رہی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ سندھ حکومت کی اجازت سے یہ سب ہورہا ہے ۔ اسی طرح  رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر پورے پاکستان میں تماشا چل رہا ہے، وہ چینلز بھی 12 گھنٹے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر تماشا لگائے ہوئے ہیں جو باقی مہینوں میں آدھا گھنٹہ بھی کوئی دینی پروگرام نہیں کرتے ۔ اصل میں اُن کے پیچھے سرمایہ دار بیٹھا ہوا ہے ، اُس کی پروڈکٹ فروخت ہورہی ہے ، اور رمضان کو انہوںنے بزنس بنایا ہوا ہے ۔ اشتہارات میں بے حیائی اور ناچ گانے بھی چل رہے ہیں ۔انا للہ و انا الیہ راجعون !ریاستی ادارے کدھر ہیں ،  پیمرا کدھر ہے۔ اس سب میں نظریہ ٔپاکستان کہاں  ہے؟ اسی طرح سود کے خاتمے کے لیے بھی ہماری حکومتیں تیار نہیں ہیں ۔ حالانکہ وفاقی شرعی عدالت سے کئی بار فیصلہ آچکا۔ایک طرف فحاشی و عریانی کے دھندے اور دوسری طرف سودی کاروبار ، اللہ سے جنگ جاری رکھنے کا باقاعدہ اعلان ہمارے حکمرانوں نے کیا ہوا ہے ۔ کیا اِن حالات میں ہم پر رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی ؟قرآن میں   اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپؐ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کے جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں، لیکن اُنہیں بھی تو چاہیے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی اُن کی بھلائی کا باعث ہے ۔‘‘ (البقرہ :186)
رحمتیں اور برکتیں تب نازل ہوں گی جب ہم اللہ کے فرمانبردار بندے بن جائیں گے ۔ اللہ کے ساتھ جنگ کرکے تو رحمتیں اور برکتیں حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ اصل میں رمضان کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم یہ سب چیزیں چھوڑ دیں ، رمضان ٹرانسمیشن ، کرکٹ ، ناچ گانا، فلمیں ، ڈرامے وغیرہ وغیرہ جو بھی شر پھیلایا جارہا ہے ، اُس سے خود کو بچائیں تو رمضان کا مقصد بھی پورا ہو جائے اور اللہ کی رحمتیں بھی نازل ہوں گی۔ دوسری طرف یہ کھیل تماشے بھی خودبخود رک جائیں گے ۔ ظاہر ہے جب عوام اُن کو دیکھیں گے ہی نہیں تو یہ سلسلہ بند ہو جائے گا ۔ لیکن اگر ہم خود یہ سب دیکھنا نہیں چھوڑتے ، سودی دھندا بند نہیں کرتے ، ناچ گانا ، فلمیں ، ڈرامے اور دیگر فضولیات دیکھنا نہیں چھوڑتے تو اللہ کے نزدیک قصوروار ہم خود بھی ہیں ۔ 
غزہ کی صورت حال اور ٹرمپ کا امن بورڈ 
غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں ٹرمپ نے غیر مسلم حکمرانوں کو بھی بلایا، مسلم حکمرانوں کو بھی بلایا ۔   غیر مسلموں  میں سے تو بعض نہیں گئے لیکن مسلم حکمران بھاگے بھاگے پہنچ گئے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی گئے اور ٹرمپ کی تعریفوں کے پُل باندھے ۔ حالانکہ دوسری طرف وہی ٹرمپ فلسطین کے مسلمانوں کے قاتل نیتن یاہو  سے ہاتھ ملا کر کھڑا ہے ۔ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہو کر مسلم حکمران کس کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں ؟ نیتن یاہو تو اعلانیہ کہہ رہا ہے جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جائے گا ، اُن کو غزہ سے نکالا نہیں جائے گا، کوئی امن بورڈ قابل قبول نہیں ہے ۔ ہماری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہماری فوج کے جوانوں کو غزہ بھیجا گیا تو وہ وہاں کیا کریں گے؟ کیا ہماری فوج اسرائیلی مظالم کو روک پائے گی ، مسجد اقصیٰ  کی حفاظت کرے گی ۔ کیا گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ہم روک پائیں گے ؟ حالانکہ اِس سے پہلے کئی بار اسرائیل نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے ، امن معاہدہ کے باجود ابھی تک فلسطینیوں کی نسل کُشی جاری ہے ۔اللہ تعالیٰ   مسلم حکمرانوں کو ہدایت دے ۔ غیر وں پر بھروسا کرنے کی بجائے مسلم ممالک خود متحد ہوں تو اُمت کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کے ساتھ مخلص  ہوں گے تو اللہ کی مدد بھی آئے گی اور اُن کو اللہ تعالیٰ  اتحاد و اتفاق بھی دے گا ۔ لیکن اگر محض اپنی کرسی بچانے کے لیے ، یا ڈالرز کے لیے ہمارے حکمران اور پالیسی ساز پالیسیاں  بناتے رہیں گے تو باطل کے سامنے سرنگو ں ہو تے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے کہ یہودو نصاریٰ  کبھی تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم اُن کی ملت کی پیروی نہ کرو ۔  یعنی یہودو نصاریٰ تو یہ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کو چھوڑ دیں ، اسلام کو چھوڑ دیں ، اللہ کے رسول ﷺ کا نام نہ لیں تو تب وہ راضی ہوں گے ، اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ یہ واضح ہے ۔ اس کے باوجود بھی اگر ہمارے حکمران اُن پر بھروسا کرتے ہیں تو پھر ہم ان کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ  حکمرانوں کو بھی ہدایت دے اور ہمیں بھی ہدایت دے ۔سب کو اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !