اداریہ
رضاء الحق
پاک افغان جھڑپیں ،فائدہ کون اُٹھا رہا ہے؟
اِس وقت ابلیسی اتحادِ ثلاثہ (اسرائیل، امریکہ اور بھارت) کا گٹھ جوڑ اپنے عروج پر ہے اور اُن کا واضح نشانہ مشرقِ وسطیٰ اور ہمارے خطے کے مسلم ممالک ہیں۔ چند برس قبل پاکستان میں چلتی حکومت کا تختہ اُلٹ کر ایک ایسی حکومت قائم کی گئی جس میں ماضی کی تمام حکومتی پارٹیاں (اُس وقت کی متحدہ اپوزیشن) شامل تھیں۔ اُس اُلٹ پھیر کے پیچھے بھی بھاری بوٹوں کی آواز اُسی طرح گونج رہی تھی جیسے اُلٹائی گئی حکومت کے قیام کے وقت گونجتی تھی۔ یہ پاکستان کا 75 سالہ المیہ ہے، کوئی دو چار دن کی بات نہیں۔ بہرحال، آج پاکستان میں فارم 47 کی جو حکومت قائم ہے، وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے تنازعات کو حل کرنے کی بجائے اِنہیں مزید ہوا دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف 15 اگست 2021ء کو افغانستان میں امریکی قبضہ کے خلاف 20 سالہ جدوجہد رنگ لائی اور افغان طالبان نے اپنی حکومت (دوبارہ) قائم کرلی۔ لیکن یہ افغان حکومت 1996ء کی حکومت سے کچھ مختلف تھی اور بہرحال اِس میں ’’قطری‘‘ رنگ بھی تھا۔ آج جب کہ ابلیسی اتحادِثلاثہ دنیا میں دند ناتا پھر رہا ہے۔ فلسطین میں قتل و غارت گری کے بعد گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو مزید آگے بڑھا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مسلم ممالک پر قبضہ کرنے پر تُلاہوا ہے اور اِس خطہ بلکہ پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ جو ایران پر حملہ کرنے کی دھمکی دے کر پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے درپے ہے۔ (وزیراعظم پاکستان کے ٹرمپ کے قصیدے پڑھنے، اُسے گلے لگانے اور ٹرمپ کی فیلڈ مارشل کی تعریفوں کے باوجود)۔ دوسری جانب افغانستان کا رُخ ہمسایہ مسلم ممالک (چھ میں سے پانچ) سے موڑ کر بھارت کی طرف موڑنے میں بھی اُس کا کردار ہے۔
ایسے میں پاکستان اور افغانستان میں سرحدی جھڑپوں کی خبریں اب معمول کی خبریں بنتی جارہی ہیں۔ اِس حوالے سے سوشل میڈیا پر تو مصدقہ اور غیر مصدقہ خبروں کی بھرمار ہے۔ بہرحال دونوں طرف سے ایک دوسرے کو بڑا نقصان پہنچانے کے دعوے، ماردھاڑ اور قتل و غارت جاری ہیں۔ ایک طرف افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ سرحد پار پاکستان کی فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پاکستانی فوجیوں کو گرفتار (اغواء) کر لیا گیا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر افغانستان کے مختلف شہروں پر حملوں اور بمباری کی رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔ جس میں مبینہ طور پر سرحد پار دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے (کتنے شہری بھی جاں بحق ہوئے، کوئی نہیں بتاتا)۔ حکومتِ پاکستان تو خود فیصلے کرتی نہیں بلکہ اندرونی اور بیرونی آقاؤں کی زبان کو ہی آگے بڑھاتی ہے۔ دوسری طرف افغان حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیدار بھی پاکستان کے خلاف زہریلی زبان استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ جب کہ جوشیلے افغان کمانڈر افغان میڈیا پر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ اگر امیر المومنین حکم دیں تو 24 گھنٹے میں پاکستان پر قبضہ کر لیں۔ گویا دونوں جانب سے زبان کے غلط استعمال اور اخلاقیات کی کم ترین سطح کو اپنا لیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران یہ ’’ہرج‘‘ (قتل و غارت گری) کیا نتیجہ سامنے لائے گا، اِس حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
برادر ہمسایہ مسلم ممالک کے ایک دوسرے کو بڑھ چڑھ کر قتل کرنے کے دعوے سمجھ سے باہر ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں واضح طور پر فرماتا ہے: ’’اور جو کوئی قتل کرے گا،کسی مومن کو جان بوجھ کر،تو اُس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اللہ کا غضب اُس پر ہوگا،اور اللہ نے اُس پر لعنت فرمائی ہےاور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ (النساء: 93)
اللہ کا نظام (لین دین) زمین پر نافذ کرنے کا ارادہ اورمقصد سامنے ہو تو پھریہ بات بخوبی سمجھ آجاتی ہے کہ ایسی جنگوں اور جھڑپوں میں دونوں اطراف میں مسلمان ہی فتح یاب ہورہے ہیں اور مسلمان ہی شکست کھا رہے ہیں۔ اب تو خطے کے کئی مسلم ممالک پاکستان اور افغانستان دونوں کو عقل اور ہوش کے ناخن لینے کا کہہ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اسلامی برادری و ہمسائیگی کے حقوق کو پیش نظر رکھ کر افغانستان کے خلاف عسکری کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرے۔ ماضی کی تلخ باتوں کو فراموش کر کے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ ابھی پانی سر سے نہیں گزرا!
’’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘‘ کو بھی چاہیے کہ صحیح معنوں میں اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت پیش کرے جو اُن کے کردار اور دیگر افعال سے کُھل کر سامنے آئے۔ دوحہ معاہدے میں جن شرائط پر دستخط کیے تھے اور اُن پر عمل درآمد کا وعدہ کیا تھا،اُن سےپہلو تہی نہ کی جائے۔ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اِس وقت افغانستان کے اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بگڑتے جا رہے ہیں لہٰذا اُنہیں اِس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر خود معاہدے کی اِس خلاف ورزی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،تو ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ مل کر شرپسندوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔اسلامی برادری اور ہمسائیگی کے حقوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان سے بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش کریں۔ دونوں ممالک کی قیادتیں اور ذمہ داران اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب کریں۔ اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے ابلیسی اتحادِ ثلاثہ کی اسلام دشمنی سے چوکنا رہا جائے۔ بھارت جیسے اسلام اور مسلمان دشمن ملک کی طرف جھکاؤ سے اجتناب کیا جائے۔ دہشت گردی میں ملوث افراد اور جتھوں سے اعلانیہ برأت کی پالیسی کو اختیار کیا جائے۔ماضی کی تلخ باتوں کو فراموش کر کے وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ ابھی پانی سر سے گزرا نہیں!
مستقبل کے منظر نامہ میں خراسان کے خطہ کا اہم کردار ہے۔اِس خطہ کا اصل جوہر افغانستان ہے۔ جس خراسان کا ذکر احادیث ِ مبارکہ میں آیا ہے اُس میں پورے افغانستان کے ساتھ کچھ حصّہ ایران اور پاکستان کا اور کچھ علاقے ترکمانستان، تاجکستان اور اُزبکستان کے بھی شامل ہیں۔ افغانستان اِن ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔ قرآن پاک ہمیں حکم دیتا ہے کہ مسلمان آپس میں بھائیوں جیسا سلوک کریں (الحجرات:10)۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی قیادتوں کو فہم و فراست اور دوربینی عطا فرمائے۔ مسلم ممالک اپنے اختلافات کو پسِ پُشت ڈال کر متحد ہوں تاکہ اپنے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے سکیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو متحد ہونے اور دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے اور پھر اِن کو بھرپور طور پر جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026