الہدیٰ
رحمت ِ الٰہی کی قدر کیجیے!
آیت 49 {وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ(49)} ’’ اگرچہ اِس سے پہلے کہ وہ اُن پربرستی‘وہ لوگ بالکل
نا امید تھے۔‘‘
اکثر اوقات بارانی علاقوں میں جب کسانوں کی مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اچانک موسم کروٹ لیتا ہے‘ہوائیں اپنا رخ بدلتی ہیں‘فضا میں گھٹائیں نمودار ہوتی ہیں‘دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین سیراب ہو جاتی ہے اور کسان ‘مزدور ‘چرند‘پرند‘حشرات الارض وغیرہ سب نہال ہو جاتے ہیں۔
آیت 50 {فَانْظُرْ اِلٰٓی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط} ’’تو دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف ‘وہ کس طرح
زندہ کر دیتا ہے زمین کو اس کے ُمردہ ہو جانے کے بعد!‘‘
{اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(50)}’’یقیناً وہی زندہ کرنے والا ہے مردوں کو بھی ‘اور یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
آیت 51 {وَلَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْہُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْم بَعْدِہٖ یَکْفُرُوْنَ(51)} ’’اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں کہ (جس کے اثر ات سے) وہ اسے زرد دیکھیں تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگتے ہیں۔‘‘
اگر کسی جھکڑ یا طوفان سے کھیتی تباہ ہو جائےتو یہ لوگ اللہ کی نا شکری کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ ہماری قسمت تو ہمیشہ ہی پھوٹ جاتی ہے‘ ہمیں تو کبھی بھی اچھے دن دیکھنے کو نہیں ملے‘ہمارے حصے میں تو کبھی کوئی خوشی آئی ہی نہیں۔
درس حدیث
روزہ چھوڑنے کا نقصان
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ: ((مَنْ اَفْطَرَ یَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ رُخْصَۃٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ صَوْمُ الدَّ ھْرِ کُلِّہٖ وَ اِنْ صَامَہٗ))(جامع ترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو آدمی (سفر وغیرہ کی شرعی) رخصت کے بغیر اور بیماری (جیسے کسی عذر) کے بغیر رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑ دے وہ اگر اس کے بجائے عمر بھر بھی روزے رکھے تو جو چیز فوت ہو گئی وہ پوری ادا نہیں ہو سکتی۔‘‘
تشریح:حدیث کا مدعا اور مطلب یہ ہے کہ شرعی عذر اور رخصت کے بغیر رمضان کا ایک روزہ دانستہ چھوڑنے سے رمضان مبارک کی خاص برکتوں اور اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رحمتوں سے جو محرومی ہوتی ہے، عمر بھر نفل روزے رکھنے سے بھی اس محرومی اور خُسران کی تلافی نہیں ہو سکتی، اگرچہ ایک روزے کی قانونی قضا ایک ہی دن کا روزہ ہے، لیکن اس سے وہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جو روزہ چھوڑنے سے کھو گیا… پس جو لوگ بے پروائی کے ساتھ رمضان کے روزے چھوڑتے ہیں وہ سوچیں کہ اپنے آپ کو وہ کتنا بڑا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔