زخم خوردہ قلم سے جواب …
عامرہ احسان
رمضان المبارک پوری دنیا کے مسلمانوں کو یک جا کرتا، اخوت کے رشتے میں پرو دیتا ہے۔ مسجد الحرام، عمرہ ادا کرنے دنیا کے ہر کونے سے کھنچ کر آنے والوں سے بھری ہوتی ہے۔ مگر وہ رمضان جو نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کے رمضان سے سب سے زیادہ مشابہ ہو، سدا سے اہل ِفلسطین کے حصے آیا! پابندیوں، محاصروں، سختیوں، فاقہ کشیوں سے گھرا رمضان! مسجد اقصیٰ پہنچ کر نماز، تراویح ادا کرناایمان کی بھاری قیمت وصول کرتا ہے۔ہم سیرتِ نبوی ﷺ میں رمضان اور جہاد ساتھ ساتھ چلتے پائیں گے۔ غزوۂ بدر اور فتحِ مکہ تو بالخصوص۔ ہمارے ہاں گیارہ ماہ بھولے بسرے ایمان کے ساتھ گزار کر،جب رمضان آتا ہے تو رب تعالیٰ کے حضور خوش نصیب غسلِ روحانی کے لیے عمرہ، اعتکاف، غرباء کے لیے دسترخوان اور بحمد للہ قرآن پاک، مساجد سے تعلق استوار کرکے روحانی سکینت اور مغفرت کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور پھر وہی روز و شب منتظر ہوتے ہیں!
اگر چہ سبھی عبادات ہمارا تعلق باللہ، مسلم اجتماعیت مضبوط کرتی ہیں۔اللہ کے دربار میں حاضری، فرد فرد کی روح میں قربِ الٰہی، ہر خلیے میں رب تعالیٰ کی عظمت و کبریائی، اپنی کمزوری، کوتاہی پر عفو طلبی اتارتی ہے۔ ساتھ ہی اخوت، محبت، اجتماعیت، دکھ درد میں شراکت، خود پرستی، خود پسندی، نرگسیت کی بیماریوں سے شفایاب کر کے عجز و عاجزی، ایثار و قربانی کے جذبے بیدار کرتی ہے۔ یہ ہمہ نوع تربیت تمام عبادات کی روح ہے۔ کیونکہ ہمیں دنیا کی قیادت کے لیے پیدا کیا گیا۔ ایپسٹین، ٹرمپ کو نہیں! بندۂ مومن کو اعلیٰ سیرت و کردار کا اہل بنا دیتی ہے۔ یہ ہم مسلمانوں کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ مسابقت فی الخیرات، فی الحسنات!
مگر اہل ِفلسطین سے مقابلہ ناممکن ہے! ہماری گھروں کے قریب کی مساجد میں بھی حاضری بڑھ جاتی ہے مگر اقصیٰ کو تو دیکھئے: یہود کی پابندیاں یہ ہیں کہ مرد 55 برس سے اوپر کے ہوں، خواتین 50 برس سے زیادہ، بچے 12 سال سے کم عمر ہوں۔ روزانہ پر مٹ بھی درکار ہوتے ہیں۔ پہلے جمعے کو 10ہزار سے زائد کی اجازت نہ تھی جو پہلے لاکھوں میں ہوتی تھی۔ چیک پوائنٹس پر طویل انتظار، اوقات پر مزید پابندیاں، افطار سے روکا جانا۔ اہلِ غزہ پر تو مکمل ممانعت ہے یروشلم کا رخ بھی نہیں کر سکتے۔ پھر بھی نجانے کیسے 60 ہزار جیسے تیسے تراویح میں شریک ہوئے ! ہچکیوں آہوں سسکیوں کے ساتھ دعاگو ہیں کہ : ایک دن تو آئے گا جب ہم اقصیٰ میں نماز پڑھیں گے بلا چیک پوائنٹ، بلا( اسرائیلی)فوجی، بڑی عمر کے لوگ رو رو کر یا اللہ! یا اللہ کی فریادوں کے ساتھ گریہ کناں ہیں۔
ہمارے مردوں، نوجوانوں کے لیے مساجد کے کھلے دروازے کتنی عظیم نعمت ہے، فلسطینیوںسے پوچھئے! عین اسی وقت امریکہ میں ٹرمپ اہلِ غزہ کا مستقبل طے کرنے، بورڈ آف پیس، بھرے رمضان میں بلائے بیٹھا ہے۔ جبکہ ادھر یہودی آباد کاروں نے غزہ پر حملہ کیا۔ایک نمایاں ممبر پارلیمنٹ لیمور کے بیٹے ہر ملیچھ (Har-Melech) نے غزہ میں پہلے قدم کے طور پر درخت لگائے ،یہ کہہ کر کہ یہاں ’صرف یہودی‘ علاقہ قائم ہوگا فلسطینی نسل کشی کے بعد۔ یہ اہتمام انتہا پسند اسرائیلی آباد کار گروپ نے کیا جو(مغربی کنارے میں) نئی غیر قانونی آبادیاں بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔یہ شخص اسم با مسمیٰ ہے کہ’ ملیچھ ‘کے AI کے مطابق معنی، بدیسی، غیر ملکی، غیر تہذیب یافتہ، ناپاک کے ہیں۔ اللہ رمضان کی دعاؤں سے ابنیاء کی یہ سر زمین پاک و مہذب رکھے۔( آمین)
اسی دوران جب نام نہاد امن بورڈ کا ڈرامہ چل رہا ہے،ٹکر کار لسن، ایک معروف پوڈ کاسٹ میزبان کی امریکی سفیر برائے اسرائیل ہکابی سے گفتگو سامنے آگئی۔ (ٹرمپ کے نمائندے)Hackabeeکا کہنا تھا کہ: ’’ اگر اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلے تو وہ ٹھیک کرے گا۔ یہ بائیبل کا عطا کردہ حق ہے اسرائیل کو۔‘‘ (مصر میں دریائے نیل سے لے کر، فرات کے علاقے تک شام اور عراق میں) اس پر پہلے تو میزبان کارلسن نے اس نرالی،اُپج ، پخ پر اسے آڑے ہاتھوں لیا کہ:’ خود نتین یاہو کا خاندان پولینڈ سے ہے ۔وہ با عمل یہودی بھی نہیں۔ اس بارے بھی کوئی شہادت نہیں کہ اس کے آباء واجداد کبھی اسرائیل میں رہے ہوں۔ وہ یہاں کی زبان بھی نہ بولتے تھے۔ کس بنیاد پر یہاں اس کا حق قائم ہے؟‘ جب پھنس گیا تو ہکابی، ہکلاتے ہوئے بولا، ہکا بکا! ’جو بات تم
کہہ رہے ہو وہ میں سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں!‘ تاہم پہلی مرتبہ شدید رد عمل اس گفتگو پر پورے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر مسلم ممالک، او آئی سی، عرب لیگ اور گلف کو آپریشن کو نسل سے آیا۔ متحدہ عرب امارات کے بیان پر سبھی ممالک نے دستخط کیے کہ یہ خطے کے ممالک کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ علاقائی استحکام اور امن کے لیے دھمکی ہے۔بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیری ہیں۔
ہکابی نے پتھر مار کر جو پانی کی لہریں چیک کرنا چاہیں تو ہنگامہ ہو گیا۔ بڑے عرصے بعد مسلم غیرت نے اکٹھا، سخت رد عمل دیا۔ شکر ہے کہ فی الحال پاکستان ISF کا حصہ نہیں بنا۔ نہ ہی یہ اسے زیبا ہے۔ مسلم دنیا میں پاکستان اہم مقام کا حامل ہے۔ سبھی مسلم ممالک بخوبی واقف ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ میں نہ نسل کشی سے باز آیا ،نہ سہولیات فراہم کیں۔ امریکہ اسرائیل کے عزائم غزہ، مغربی کنارے، اقصیٰ کے حوالے سے بدترین ہیں۔ بلکہ گریٹر اسرائیل، تیسری عالمی جنگ کی تیاری میں ایران کے نام پر مشرقِ وسطیٰ کے گردبھاری جنگی بحری بیڑوں سے گھیراؤ، پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام سے ازلی دشمنی طے شدہ امور ہیں۔ حکمران کاسہ لیسی، خوشامد ٹرمپ کی کر بھی لیں تو یہ حقائق عوام کے لیے ناقابل قبول اور عیاںہیں۔ اللہ کی ناراضی کا مظہر، رحمت کے عشرے میں مردان کے ایپی سنٹر سے نہایت کم گہرائی سے اٹھنے والا زلزلہ ہے۔ اگر ہمیں رمضان میں بھی اللہ کا خوف، دنیا میں بحیثیت مسلم اپنا مقام، ذمہ داریاں، اقصیٰ اور مظلوم غزہ مستحضر نہ ہوا تو ہم کج فہمی کے کس درجے پر ہوں گئے؟ دنیا کا کون سا ظلم ہے جو باقی ہے۔ خالد تورانی،امریکی مسلم حقوق تنظیم CAIR کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسرائیل کے پاس دنیا کا سب سے بڑا انسانی کھال (Skin) بینک ہے۔ یہ اعضاء چرانے کی سب سے بڑی صنعت چلا رہا ہے۔ وہ ہمارے مسلم فلسطینی بھائی بہنوں کے مردہ اجساد سے کھال کھینچ رہے ہیں۔ پورا غزہ تہہ در تہہ تباہ حال رہائشی بلڈنگوں میں دبے انسانی ڈھانچوں کا ملبہ امریکی ، اسرائیل اوریورپی اسلحے نے بنایا۔ اب امن بورڈ تعمیر نو کے ٹھیکے میں سارے مسلم امیر ممالک کا پیسہ نچوڑے گا اور ساحل سمندر پر ٹرمپ کے تفریحی سیاحتی مراکز بنیں گے! کچھ تو سوچئے!
اس پرمستزاد یہ کہ25فروری کو مودی کے اعلیٰ سطحی اسرائیلی دورے پر آمد کا نیتن یاہو نے کابینہ میں اعلان کیا۔مقصود راسخ العقیدہ مسلمانوںکے خلاف، بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کرمعاشی،سفارتی،سکیورٹی پر مبنی وسیع تر اتحاد کی بنیاد رکھنا ہے۔(ٹائمز آف اسرائیل:22 فروری)
ہماری سینٹ نے بجا طور پر اسے علاقائی اور بین الاقوامی خطرے کا باعث قرار دےکراسرائیلی،بھارتی عزائم کے خلاف جامع قراردادمنظور کی ہے۔
بنگلہ دیش میں بی این پی کے طارق رحمان نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ عوامی لیگ جس پر عبوری حکومت نے مکمل پابندی عائد کی تھی، ملک بھر میں جابجا اس کے دفاتر کھل رہے ہیں۔ اگر چہ سرکاری طور پر بقول سیکرٹری جنرل بی این پی فخر الاسلام، ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ انتخابات میں بی این پی کے لیے عوامی لیگ کی درپردہ حمایت کے خدشات کو تقویت ملتی ہے۔ نیز بھارتی غیر معمولی گر مجوشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ بنگلہ دیش ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بی این پی کے 70 فی صد ممبران پارلیمنٹ مالدار بزنس مین ہیں۔الیکشن میں کالے دھن کی کار فرمائی بھی رہی۔ وزراء، ممبران کی ماضی کی کرپشن کے پول بھی کھل رہے ہیں۔ اللہ بنگلہ دیش کو سیاسی، معاشی استحکام عطا فرمائے۔ بھارتی شکنجے سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
عُدو کے خنجرِ براّنِ جارحیت کا
میں زخم خوردہ قلم سے جواب پیش کروں