(خصوصی کالم) اخبار اسلام - خالد نجیب خان

11 /

اخبارِ اسلام

غزہ، اصل صور تِ حال کیا ہے؟ (بشکریہ: فرینڈز آف فلسطین)

تحقیق: خالد نجیب خان (معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت)

l برازیل کے صدر لوئس إيناسيو لولا دا سيلفا نے کہا ہے کہ فلسطینی قیادت کی شمولیت کے بغیر کسی امن کونسل یا امن منصوبے کا قیام ایک ’’عجیب امر‘‘ ہے۔
l عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئندہ چند مہینوں میں مقبوضہ شہر الخلیل کی اراضی پر قائم غیرقانونی یہودی بستی ’’کریات أربع‘‘ میں نیا استیطانی محلہ تعمیر کیے جانے کا امکان ہے، جس میں 156 رہائشی یونٹس شامل ہوں گے۔
l غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سکیورٹی کے فیلڈ ونگ فورس ’رادع‘ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایجنٹ گروہوں کی جانب سے کی جانے والی متعدد تخریبی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ان تخریبی کارروائیوں کا نشانہ یلو لائن کے نام سے معروف حدود کے قریبی علاقے تھے۔یاد رہے کہ7اکتوبر 2023ء سے اسرائیلی فوج نے امریکہ اور یورپ کی بھرپور حمایت کے ساتھ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا بازار گرم کر رکھا ہے، جس میں قتل عام، فاقہ کشی، تباہی، جبری بے دخلی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شامل ہیں، جبکہ اِس دوران عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے جنگ بندی کے احکامات کو بھی مسترد کر دیا گیا ۔
l اوہائیو میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد الترعانی نے اوہائیو کی ریاستی سینیٹ کی جوڈیشل کمیٹی کے سامنے ایک سیشن کے دوران انکشاف کیا ہے کہ غاصب اسرائیل کے پاس دنیا کا سب سے بڑا انسانی کھال کا بینک موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اُن کے پاس یہ تمام کھالیں کہاں سے آئیں؟ ان کے پاس چین اور بھارت سے بھی زیادہ انسانی کھال موجود ہے۔واضح رہے کہ ایسے کئی کیسز سامنے آئے تھے جہاں غاصب اسرائیل نے فلسطینیوں کے جسدِ خاکی حوالے کیے تو ان کے اندرونی اعضاء غائب تھے۔
l قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں الجزیرہ چینل کے دفتر کو بند رکھنے کے حکم میں مزید 90 دنوں کی توسیع کا اعلان کیا ہے، یہ بارہواں موقع ہے کہ اِس ظالمانہ فیصلے کی تجدید کی گئی ہے۔
l غزہ انسانی حقوق مرکز نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب اسرائیل مسلسل 134 ویں دن بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ خلاف ورزیاں ایک منظم پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں جس میں دانستہ قتل، براہ راست فائرنگ، فضائی و توپ خانے کی بمباری اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے جیسی سفاکیت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کرتے ہوئے امدادی سامان اور ایندھن کی فراہمی میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ فلسطینی تخمینوں کے مطابق نظام صحت کی مکمل تباہی کے باعث 22 ہزار سے زائد زخمی اور بیمار ایسے ہیں جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر غزہ کی پٹی سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
l اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے اندر گنجان آباد خیمہ بستیوں میں مقیم پناہ گزین فلسطینی خاندانوں کو آتشزدگی کے شدید خطرات کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے خطرات بھی سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔

مسلم دنیا سے متعلق دیگر ممالک کی اہم خبریں


l بنگلہ دیش:انتخابات کے بعد اعلیٰ سطحی تعیناتیاں: 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی نے 77 نشستیں حاصل کیں۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال چکے ہیں جبکہ امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔آرمی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد معین الرحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کر دیا گیا ہے۔ میجر جنرل قیصر رشید چودھری کو ڈائریکٹر جنرل آف فورسز انٹیلی جنس تعینات کیا گیا ہے جبکہ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو وزارت خارجہ میں سفیر لگا دیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان کو آرمڈ فورسز ڈویژن میں پرنسپل اسٹاف آفیسر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ ان سے پہلے پی ایس او رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن کی خدمات وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کاکہناہے کہ بنگلہ دیش اب خارجہ پالیسی کے معاملے میں کسی کا تابعدار نہیں رہا اور تمام ممالک کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور قومی مفاد کی بنیاد پر استوار کیے جائیں گے۔
l ایران:ہر دھمکی یا دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: صدرمسعود پزشکیان: پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکہا کہ عالمی طاقتیں ایران کو سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم قوم مشکلات کے سامنے کبھی نہیں جھکے گی۔ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا اور ہردھمکی یا دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اُن سے سوال کیا کہ اتنے دباؤ اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا ہےکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری افواج کی موجودگی پر تشویش ہے۔سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کیے جائیں۔
l اسرائیل: امریکی سفیرکے بیان کی مذمت: پاکستان سمیت 14 اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان ’’اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی ، عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل نے بھی دستخط کیے۔ وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔