اُمّت ِ مسلمہ کی تاریخ اور موجودہ زبوں حالی
ڈاکٹر اسرار احمد ؒ
بنی اسرائیل کی تاریخ کا آغاز اگرچہ ویسے تو لگ بھگ 1800قبل مسیح ؑمیں حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے حضرت یعقوب ؑ کے زمانے سے ہوتا ہے‘ لیکن ان کو اُمت ِ مسلمہ کی حیثیت تقریباً 1350 ق م میں حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں حاصل ہوئی جب انہیں تورات عطا ہوئی اور ان سے کتابِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے اور شریعت خداوندی پر کاربند رہنے کا وہ پختہ عہد لیا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں بار بار بہت شدو مد سے آتا ہے۔ بہرحال اُس وقت سے لے کر ساتویں صدی عیسوی کے آغاز تک، جب خاتم النبیین اور سید المرسلین محمدرسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی‘ گویا لگ بھگ دو ہزار برس تک بنی اسرائیل ہی کو اس دنیا میں کتاب ِالٰہی کی امین اور شریعت خداوندی کی حامل اُمت مسلمہ کی حیثیت حاصل رہی۔ تاآنکہ 624ء میں تحویل قبلہ کو بنی اسرائیل کی معزولی اور نئی اُمت یعنی اُمت محمدﷺ کے اس منصب پر فائز کیے جانے کی علامت بنا دیا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد سے تا قیامِ قیامت اُمت محمدﷺ ہی کتاب و شریعت کی حامل و امین اور روئے ارضی پر اللہ کی نمائندگی کی ذِمّہ دار ہے۔
قرآن حکیم میں دوبار یہ آیت مبارکہ سابقہ اُمت مسلمہ کے ضمن میں وارد ہوئی:’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا‘ اور میں نے تو تمہیں تمام جہانوں (یعنی تمام جہان والوں) پر فضیلت دے دی تھی!‘‘ (البقرۃ:47)
لیکن اُمت محمدﷺ کو ایک مزید درجۂ فضیلت اِس بنا پر حاصل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت تمام سابق انبیاء و رُسل ؑ کے مانند صرف اپنی اپنی قوموں کی جانب نہیں‘ بلکہ پوری نوعِ انسانی کی جانب ہوئی‘ جیسے سورۂ سبا کی آیت 28 میں فرمایا :’’اورہم نے نہیں بھیجاآپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر!‘‘ لہٰذا آپ ﷺ کی اُمت گویااجتماعی طو رپر تا قیامِ قیامت فریضہ ٔرسالت کی امین بھی ہے۔ اس لیے کہ یہی از روئے قرآن نبی اکرم ﷺ کا مقصد ِبعثت ہے۔ جیسے کہ قرآن حکیم میں تین بار فرمایا گیا:
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول (محمد ﷺ)
کو الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دین حق (اسلام) دے کر تاکہ غالب کریں اسے (دین حق کو) پورے کے پورے دین (نظامِ زندگی) پر۔‘‘(التوبۃ: 33‘ الفتح:28‘ الصّف:9)
یہی وجہ ہے کہ اُمت محمدﷺ کو ’’اُمت وسط‘‘ بھی قرار دیا گیا جس کا فرض پوری نوعِ انسانی پر اللہ اور رسول ﷺکی جانب سے شہادت یعنی اتمامِ حجت کا فریضہ ادا کرنا ہےاور’’خیر اُمت‘‘ یعنی بہترین اُمت کا خطاب بھی دیا گیا ’’جو پوری نوعِ انسانی کے لیے برپا کی گئی ہے۔‘‘
بنی اسرائیل کی تاریخ کے اِس دو ہزار سالہ دَور کا وہ خلاصہ جو نئی اُمت مسلمہ یعنی اُمت محمدؐکی سبق آموزی اور عبرت پذیری کے لیے کافی تھا۔ کمالِ فصاحت اور غایت اختصار کے ساتھ قرآن حکیم میں سورۂ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع کی چھ (2تا7) اور آخری رکوع کی چار (101 تا104) یعنی کل دس آیات میں بیان کر دیا گیا ہے ۔
امام ترمذیؒ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص i سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
’’میری اُمت پر بھی لازماً وہ تمام حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر واقع ہوئے‘ ہو بہو بالکل ایسے جیسے (ایک جوڑے کی) ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔‘‘
اُمّت ِمسلمہ کے عروج و زوال کے تاریخی خاکے کے ضمن میں دو باتیں پیشگی سمجھ لینی چاہئیں: ایک یہ کہ‘ اپنی ہیئت تشکیلی کے اعتبار سے اُمت محمدؐکے دو حصے ہیں۔ پہلا ’’اُمیین‘‘ یعنی بنی اسماعیل پر مشتمل ہے اور اسے اس اُمت کے قلب یا مرکزکی حیثیت حاصل ہے‘ اور دوسرا ’’آخرین‘‘ یعنی دیگر اقوام پر مشتمل ہے ‘خواہ وہ کردہوں یا ترک‘ اہل ِفارس ہوں یا اہل ِ ہند‘ افغان ہوں یا مغل‘ اہل حبش ہوں یا بربر‘ شرقِ بعید یعنی ملایا اور انڈونیشیا سے تعلق رکھتے ہوں یا مغربِ بعید یعنی مراکو اور موریطانیہ سے۔
دوسرے یہ کہ جغرافیائی اعتبار سے بھی عالم اسلام کو تین حصوں میں منقسم سمجھنا چاہیے‘ یعنی ایک قلب‘ دوسرے میمنہ اور تیسرے میسرہ۔ اگر دنیا کے نقشے کو سامنے رکھ کر عالم اسلام پر نگاہ جمائی جائے تو وہ ایک ایسے عقاب کے مانند نظر آئے گا جو اپنے دونوں بازوئوں کو پوری طرح پھیلائے محو پروا زہو۔ جزیرہ نمائے عرب‘ عراق‘ فلسطین‘ شام اور ایشیائے کوچک جو عالم اسلام کے قلب کی حیثیت رکھتے ہیں‘ اس عقاب کے جسم کے مانند نظر آئیں گے جن میں سے ایشیائے کوچک کو اس کے سر اور چونچ سے مشابہت ہے اور جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصّے کو اس کے دُم کے پھیلے ہوئے پروں سے۔ اس عقاب کا دایاں بازو (میمنہ) ایران‘ ترکستان‘ افغانستان اور برصغیر پاک و ہندسے ہوتا ہوا ملایا اور انڈونیشیا تک پھیلا ہوا ہے ‘اور بایاں بازو (میسرہ) پورے شمالی افریقہ کو لپیٹ میں لیتا ہوا سپین تک چلا گیاہے۔
سن عیسوی کے حساب سے اُمت مسلمہ کی تاریخ کا آغاز ساتویں صدی سے ہوتا ہے‘ اس لیے کہ آنحضور ﷺ کی ولادت باسعادت 571ء میں ہوئی۔610ء میں آپؐنے اپنی دعوت کا آغاز فرمایا اور محتاط ترین حساب کے مطابق اپریل 632ء میں آپ ؐجزیرہ نمائے عرب کی حد تک اسلامی انقلاب کی تکمیل فرما کر’’رفیق اعلیٰ‘‘ سے جاملے۔
آٹھویں‘ نویں اور دسویں صدی عیسوی کا زمانہ عربوں کے عروج کا دَور ہے‘ جس کے دوران اسلام کی علمبرداری اور عالم ِ اسلام کی سیادت دونوں ’’اُمیین‘‘ کی دو اہم شاخوں یعنی بنو اُمیہ اور بنو عباس کے پاس رہیں‘ او ر روئے ارضی کے ایک بڑے حصے پر اُن کے دین و مذہب‘ ان کے تہذیب و تمدن‘ ان کے علوم و فنون اور اُن کی شان و شوکت کا سکہ رواں رہا۔ لیکن جیسے جیسے دُنیوی جاہ و جلال میں اضافہ ہوا‘ جذباتِ دینی اور حرارتِ ایمانی میں کمی آتی چلی گئی اور اس طرح یہ تناور درخت اندر سے کھوکھلا ہوتا چلا گیا۔ اس اندرونی اضمحلال کے اثرات کے ظاہر ہونے میں کچھ مدت ضرور صرف ہوئی‘ لیکن دسویں صدی عیسوی ہی کے دوران واضح ہو گیا تھا کہ عرب اپنے عالم ِ پیری میں قدم رکھ چکے ہیں۔ گیارہویں صدی عیسوی کے دوران ’’اُمیین‘‘ کا انحطاط اور زوال اپنی آخری حدوں کو پہنچ گیا اور اس طرح عالم اسلام کے قلب میں قوت کا ایک خلا پیدا ہو گیا۔
بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے دوران میں اُمّت ِمسلمہ پر گویا عذابِ خداوندی کے ’’وعدئہ اولیٰ‘‘ کا ظہور ہوا اور ہو بہو وہی نقشہ کھنچ گیا جس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 5 میں تاریخ بنی اسرائیل کے پہلے دورِ عذاب کے ضمن میں آیا ہے۔ چنانچہ پہلے شمال سے صلیبی طوفان کے ریلے آنے شروع ہوئے‘ اور1099ء میں نہ صرف یہ کہ مسجد اقصیٰ کے ناموس کا پردہ چاک ہوا‘ بلکہ بیت المقدس میں وہ قتل عام ہوا جس کا تذکرہ کرتے ہوئے مغربی مؤرخین بھی کانپ جاتے ہیں۔ پورے اٹھاسی برس تک بیت‘المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ رہا۔ اس لیے کہ دولت عباسی تو ’’مرنے والی اُمتوں کے عالم پیری‘‘ کا نقشہ پیش کر رہی تھی‘ گویا ’’اُمیین‘‘ میں تو سرے سے دم خم باقی ہی نہ رہا تھا۔ بالآخر ’’آخرین‘‘ کے تازہ و گرم خون نے مجاہد کبیر صلاح الدین ایوبیmکی سرکردگی میں 1187ء میں بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے نجات دلائی اور اس طوفان کا رُخ موڑا ---- اورپھر مشرق کی جانب سے آیا فتنۂ تاتار کا وہ طوفانِ عظیم جس نے پہلے افغانستان اور ایران کو پامال کیا اور ہر جگہ کشتوں کے پشتے لگا دئیے اور بالآخر 1258ء میں بغداد میں وہ تباہی مچائی کہ رہے نام اللہ کا۔ لاکھوں مسلمان تہ تیغ ہوئے‘ بغداد کی گلیاں خون کی ندیاں بن گئیں اور بعینہٖ وہ کیفیت پیدا ہو گئی جو کم و بیش دو ہزار سال قبل بخت نصر کے حملے سے بیت المقدس کی ہوئی تھی۔ نتیجتاً زوالِ ملک مستعصم امیر المؤمنین کے ساتھ ہی خلافت عباسی کا ٹمٹما تا ہوا چراغ بالکل گل ہو گیا ‘اور نہ صرف یہ کہ اُمت ِمسلمہ پر عذابِ خداوندی کا یہ پہلا دَور تکمیل کو پہنچا بلکہ کم از کم ’’اُمیین‘ ‘کی حد تک تو وہ وعید بھی پوری ہو گئی جو سورۂ محمد(ﷺ)‘ آیت38 میں وارد ہوئی تھی۔
بارہویں اور تیرھویں صدی عیسوی کے دوران عالم اسلام کا قلب بعینہٖ وہی نقشہ پیش کر رہا تھا جسے دیکھ کر کبھی حضرت عزیر d کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے تھے کہ: ’’کیسے زندہ کرے گا اللہ اسے اس کی موت کے بعد!‘‘(البقرۃ:259) لیکن پھر اُمّت ِمسلمہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی وہی شان ظاہر ہوئی جس کا ظہور بنی اسرائیل کے حق میں ہوا تھا ‘صرف اس فرق کے ساتھ کہ چونکہ سابقہ اُمت ِمسلمہ ایک ہی نسل پر مشتمل تھی لہٰذا اس کی نشاۃِ ثانیہ کا یہ عمل بھی لا محالہ اسی نسل کے اندر واقع ہوا‘ لیکن اُمت محمدؐ کے معاملے میں یہ مجبوری نہ تھی‘ لہٰذا یہاں تجدید ملت کا یہ کام ’’آخرین‘‘ کی مختلف اقوام سے لے لیا گیا۔ چنانچہ ؎
ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
کے مطابق نہ صرف یہ کہ خود انہی ترکانِ چنگیزی کا بڑا حصہ اسلام لے آیا جن کے ہاتھوں عالم اسلام پر ہولناک تباہی آئی تھی‘ بلکہ انہی کے قبیل کے وحشی قبائل میں سے دو قبیلوں کو یہ توفیق ارزانی ہوئی کہ وہ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور اُن میں سے ایک یعنی ترکانِ تیموری نے ہندوستان میں ایک عظیم الشان مسلم سلطنت کی بنیاد رکھ کر عالم اسلام کے دائیں بازو کی توسیع کی‘ اور دوسرے یعنی ترکانِ عثمانی نے ابتداء ً ایشیائے کوچک میں قدم جمائے اور پھر رفتہ رفتہ اس عظیم الشان مسلمان مملکت کی بنیاد رکھی ۔
یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ میں احیاء العلوم کا پورا عمل اسلام ہی کے زیر ِاثر شروع ہوا اور یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے یورپ کو مشرق و مغرب کے علوم و فنون سے روشناس کرایا۔ لیکن جیسے ہی یورپ میں بیداری ہوئی اور وہاں قوت کا دبائو بڑھا‘ گویا عالم ِاسلام کی شامت آگئی۔
یورپ مشرق و مغرب دونوں اطراف سے مسلمانوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا‘ لیکن مشرق میں عذاب کے وعدۂ اولیٰ کے بعد نشا ٔۃِ ثانیہ کا عمل ظاہر ہو چکا تھا اور عظیم سلطنت عثمانیہ عالم اسلام کے قلب کے محافظ سنتری کی حیثیت سے کھڑی تھی‘ البتہ مغرب میں اب دولت ہسپانیہ ’’مرنے والی اُمتوں کے عالم پیری‘‘ کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ لہٰذا ع
’’ہے جرمِ ضعیفی کی سز امرگِ مفاجات‘‘
کے مصداق یورپی استعمار کا اوّلین شکار وہی بنی اور پندرہویں صدی عیسوی کے دوران اس عظیم سلطنت کا قلع قمع ہو گیا۔ یہاں تک کہ1492ء میں سقوطِ غرناطہ کے بعد تو بعینہٖ وہ صورت پیدا ہو گئی جس کا نقشہ قرآن مجید میں عذابِ استیصال کا نوالہ بننے والی قوموں کے بیان میں کھینچا جاتا ہے‘ یعنی: ’’جیسے کہ وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔‘‘(ھود:68 ، 95) اور:’’اب ان کے ویران مسکنوں کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا!‘‘(الاحقاف:25)
1498ء میں واسکوڈی گاما نے نیا بحری راستہ تلاش کیا اور اس کے فوراً بعد یورپی استعمار کا سیلاب عالم اسلام کے میمنہ پر ٹوٹ پڑا اور انڈونیشیا‘ ملایا اور ہندوستان مختلف یورپی اقوام کے استبدادی پنجوں میں جکڑے گئے۔اور یہ عمل جس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی سے ہوا‘ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں عالم اسلام کے دائیں بازو کی حد تک اپنے عروج کو پہنچ گیا۔
عالم ِاسلام کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے اس دوسرے دَور کا آغاز بیسویں صدی کے شروع میں ہو گیا تھا۔ چنانچہ پہلی عالمگیر جنگ کے خاتمے پر جب دنیا کا نیا نقشہ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ عظیم دولت عثمانیہ سمٹ کر ایشیائے کوچک میں محدود ہو گئی اور شمالی افریقہ سمیت پورا عالم عرب چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں منقسم ہو کر مختلف یورپی اقوام کے براہِ راست زیر نگیں ہو گیا یا بالواسطہ محکومی میں آ گیا اور ہو بہو وہی کیفیت پیدا ہو گئی جس کی خبر مخبر صادق ﷺنے ان الفاظ میں دی تھی کہ : ’’ایک زمانہ آئے گا کہ اقوامِ عالم ایک دوسرے کو تم پر ٹوٹ پڑنے کی اس طرح دعوت دیں گی جیسے (کسی دعوتِ طعام میں) کھانے والے ایک دوسرے کو دسترخوان کی طرف بلاتے ہیں۔‘‘
اس طرح بحیثیت مجموعی اُمت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا دَورِ ثانی گزشتہ صدی کے رُبع اوّل میں اپنے نقطہ ٔ عروج کو پہنچ گیا تھا جب کہ پورا عالم اسلام مغربی استعمار کے ناپاک شکنجے میں جکڑا گیا‘ اگرچہ خاص ’’اُمّیین‘‘ کے حق میں ’’وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ‘‘ کی وہ مکمل صورت جو سورۂ بنی اسرائیل کی آیت7 میں بیان ہوئی تھی‘ تقریباً نصف صدی بعد1967ء میں ظاہر ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ایک مغضوب وملعون قوم کے ہاتھوں ایک شرمناک اور ذلت‘آمیز شکست دلوائی ‘اور عربوں کے عہد تولیت کے دوران ایک بار پھر مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال ہوئی اوربیت المقدس ان کے ہاتھوں سے نکل کر یہود کے قبضے میں چلا گیا ‘اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس بار یہ قبضہ کتنا طویل ہو گا۔ اس داستان کا المناک ترین باب یہ ہے کہ مغربی استعمار نے اُمت مسلمہ کی وحدتِ ملی کو پارہ پارہ کر دیا‘ اور نسلی اور علاقائی عصبیتوں کے وہ بیج مسلمان اقوام کے دلوں میں بودئیے جو ابھی تک برگ و بارلا رہے ہیں۔ چنانچہ پہلے انہوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف ابھارا‘ نتیجتاً عالم اسلام کا قلب دو لخت ہو گیا اور وحدتِ ملی کی علامت یعنی خلافت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ پھر عالم عرب کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اس طرح تقسیم کیا کہ نسلی اور لسانی اشتراک کے باوجود عالم عرب کے کامل اتحاد کا امکان تا حال دُور دُور تک نظر نہیں آتا۔
اسی نسلی تعصب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کا مزہ بھی اُمت ِمسلمہ کو چکھنا پڑا جو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ: ’’تمہیں (اللہ تعالیٰ) گروہوں میں تقسیم کر دے اور پھر چکھائے ایک کو دوسرے کی جنگی قوت کا مزہ‘‘۔ (الانعام:65)
چنانچہ اس صدی کے آغاز میں عربوں کے ہاتھوں ترکوں کا خون بہا اور پھر 1971ء میں بنگالی مسلمان کے ہاتھوں غیر بنگالی مسلمان کے خون کی ہولی اور جان و مال اور عزت و آبرو کی دھجیاں بکھرنے کا منظر چشم فلک نے دیکھا۔ فَاعْتَبِرُوْا یَا اُوْلِی الْاَبْصَارِo
سورۂ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع کی آیت 8سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے موقع پر اللہ نے آپ ؐکی رحمتٌ للعالمینی کے صدقے یہود کو بھی ایک موقع توبہ کا عنایت فرمایا تھا‘ یعنی ’’تمہارا ربّ اب بھی تم پر رحم فرمانے کے لیے آمادہ ہے‘ لیکن اگر تم نے سابقہ روش برقرار رکھی تو ہم بھی وہی کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں!‘‘ یہ گویا جدید عدالتی اصطلاح میں ایک رحم کی اپیل کا آخری موقع تھا جو یہودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث گنوا دیا‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آخری فیصلہ صادر فرما دیا: ’’اورجب اعلان کر دیا تیرے ربّ نے کہ وہ قیامت کے دن تک ان پر لازماً ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو انہیں بدترین عذاب دیتے رہیں گے۔‘‘ (الاعراف : 167)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا سب سے نمایاں مظہر اس بیسویں صدی کے وسط میں سامنے آیا جب ہٹلر نے نہ صرف جرمنی بلکہ مشرقی یورپ کے تقریباً تمام ممالک کے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو ایسے سپیشل گیس چیمبرز اور ایکسٹر مینیشن پلانٹس کے ذریعے نیست و نابود کیا جن کی نظیر غالباً پوری انسانی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ لیکن دوسری جانب یہ معجزہ بھی اسی بیسویں صدی میں ظاہر ہوا کہ جو ملعون ومغضوب قوم دو ہزار برس سے در بدر بھٹک رہی تھی اور کہیں اَمان نہیں پا رہی تھی اُسے دوبارہ اپنے خوابوں کی سرزمین یعنی فلسطین میں پائوں جما نے کا موقع ملا۔ چنانچہ پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے عربوں سے جو بغاوت ترکوں کے خلاف کرائی تھی‘ اس کا ’’انعام‘‘ انہیں حکومت برطانیہ کی جانب سے 2 نومبر 1917ء کے ’’اعلان بالفور‘‘ کی صورت میں ملا‘ جس کے نتیجے میں پہلے سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری ہوئی اور بالآخر 1948ء میں اسرائیل کا خنجر اُن کے سینے میں پیوست کر دیا گیا۔ گویا کہ یورپی استعمار کی صورت میں موجودہ اُمت مسلمہ پر اللہ کی جو سزا گزشتہ تین صدیوں سے تدریجاً بڑھ رہی تھی اس کے آخری اور شدید ترین دَور کا ’’آغاز‘‘ ہو گیا۔ یعنی اُمت مسلمہ کے افضل ترین حصّے یعنی عربوں پر اللہ کی ایک مغضوب اور ملعون قوم کے ہاتھوں ذلت آمیز شکستوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ‘جس کی پہلی قسط تو 1948ء ہی میں مل گئی تھی جب انگریزی فوج کے فلسطین سے نکلتے ہی عربوں اور یہودیوں میں جنگ شروع ہو گئی‘ جس کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ یہودیوں کو کوئی نقصان پہنچتا ‘وہ اس رقبے سے بھی زیادہ پر قابض ہو گئے جو انہیں تقسیم کے فیصلے کے تحت ملا تھا۔
’’اُمّیین‘‘ پر اللہ کے عذاب کا دوسرا اور شدید تر کوڑا لگ بھگ بیس برس بعد1967ء کی چھ روزہ جنگ میں نہایت ذلت آمیز ہی نہیں‘ حد درجہ شرمناک شکست کی صورت میں پڑا‘ جس کے نتیجے میں 1948ء میں قائم ہونے والے اسرائیل نے ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کی جانب مزید پیش قدمی کر لی اور مصر و شام اور اردن سے اضافی علاقے ہتھیا لیے …اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے مذہبی مرکز یروشلم پر بھی قبضہ حاصل کر لیا۔ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!‘‘
قصہ مختصر‘ بیسویں صدی عیسوی میں ایک جانب سابقہ اور معزول شدہ اُمّت مسلمہ یعنی یہودیوں پر اللہ کے آخری عذابِ استیصال کا ریہرسل یا ٹریلر بھی ’’ہالوکاسٹ‘‘ کی صورت میں سامنے آ گیا‘ اور دوسری طرف ان کے اس آخری عروج کی جانب بھی نمایاں پیش قدمی ہو گئی جس کا کوئی گمان بھی ایک صدی قبل نہیں ہو سکتا تھا۔
یہی معاملہ موجودہ اُمت مسلمہ کے ساتھ پیش آیا کہ جہاں ایک جانب اس صدی کے آغازمیں سلطنت عثمانیہ اور خلافت اسلامی کے خاتمے‘ اور پھر1967ء میں عربوں کی عبرتناک ہزیمت اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور 1971ء میں ’’آخرین‘‘ کے اہم ترین اور عظیم ترین ملک یعنی پاکستان کی شکست و ریخت اور ان ہندوئوں کے ہاتھوں شرمناک ہزیمت کی صورت میں عذابِ الٰہی کے سائے مزید گہرے ہو گئے جن پر مسلمانوں نے سینکڑوں برس حکومت کی تھی۔
رحمت ِ خداوندی میں جوش آ چکا تھا اور تاریخ بالقوہ ایک کروٹ لے چکی تھی ‘جس کے نتیجے میں پورے عالم اسلام میں ایک احیائی عمل شروع ہو گیا۔
اس احیائی عمل کے بارے میں بعض بنیادی حقائق ذہن نشین رہنے چاہئیں۔ مثلاً یہ کہ یہ کوئی سادہ اور بسیط عمل نہیں ہے ‘بلکہ اس کے متعدد گوشے ہیں‘ جن میں سے ہرایک میں اولوالعزم افراد اور جماعتیں برسرکار ہیں‘ اور جو بظاہر ایک دوسرے سے جدااورمختلف بلکہ بعض پہلوئوں کے اعتبار سے متضاد ہونے کے باوجود اس وسیع تر احیائی عمل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے لیے باعث تقویت ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ اورملت اسلامی کی تجدید کا یہ کام دس بیس برس میں مکمل ہونے والا نہیں‘ بلکہ سورۃ الانشقاق کی آیت19: ’’تم لازماً چڑھو گے درجہ بدرجہ‘‘ کے مصداق تدریجاً بہت سے مراتب و مراحل سے گزر کر ہی پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ لہٰذا اس ارتقائی عمل کا ہر درجہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے‘ اور چاہے بعد کے مراحل میں پہلوں کا کام بہت حقیر بلکہ کسی قدر غلط بھی نظر آئے‘ اپنے اپنے دَور کے اعتبار سے اس کی اہمیت وو قعت سے بالکلیہ انکار ممکن نہیں۔ تیسرے یہ کہ اس ہمہ گیر تجدیدی جدوجہد میں اگرچہ افراد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے‘ بقول علامہ اقبال: ؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
تاہم جماعتوں اور تنظیموں کے مقابلے میں کم تر ہے۔ پھر جماعتیں بھی تحریکوں کی وسعت میں گم ہو جاتی ہیں اور بالآخر تمام تحریکیں بھی اس وسیع احیائی عمل کی پنہائیوں میں گم ہوجاتی ہیں جو ان سب کو محیط ہے۔
خالص اصولی و نظریاتی اور تصوریت پسندانہ نقطہ ٔ نظر سے تو ’’مسلمان اقوام‘‘ کی اصطلاح ہی قطعاً غلط ہے‘ اس لیے کہ ازروئے قرآن و حدیث مسلمانوں کی حیثیت ایک جماعت یا اُمت یا حزب کی ہے نہ کہ قوم کی‘ لیکن واقعیت پسندانہ نقطہ ٔ نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک جماعت یا اُمت یا حزب کا کردار تو بہت پہلے ترک کر دیا تھا اور بالفعل ایک قوم ہی کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ البتہ وحدتِ ملی کا تصور گزشتہ صدی کے آغاز تک برقرار تھا‘ لیکن اس صدی کے رُبع اوّل کے دوران مغربی استعمار کے ہتھکنڈوں نے اسے بھی ختم کر کے رکھ دیا تھا ‘ اور اِس وقت فی الواقع روئے ارضی پر کوئی ایک اُمت مسلمہ آباد نہیں ہے‘ بلکہ بہت سی مسلمان اقوام آباد ہیں۔
اس ضمن میں ایک اور حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اگرچہ مختلف مسلمان ممالک میں حصولِ آزادی کی تحریکوں کی تقویت کے لیے جن علاقائی یا نسلی عصبیتوں کو استعمال کیا گیا انہیں بھی خاص اصولی اور نظری اعتبار سے اسلام کے نظامِ فکر کے ساتھ سوائے تضاد کے کوئی نسبت حاصل نہیں ہے‘ لیکن عالم واقعہ میں اس کے سوا کوئی چارۂ کار موجود نہ تھا‘ اس لیے کہ اسلام کے ساتھ مسلمانوں کا ذہنی و قلبی رشتہ اتنا قوی نہ رہا تھا کہ اسے کسی جاندار اور فعال تحریک کی اساس بنایا جا سکتا۔ اور حصولِ استقلال کے لیے جس مؤثر مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے اس کی بنیاد خیالی یا جذباتی نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی اساسات ہی پر رکھی جا سکتی ہے۔ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ اگر ترک نیشنلزم کا جذبہ فوری طور پر بیدار نہ ہو گیا ہوتا تو شاید آج ترکی کا نام و نشان بھی صفحۂ ارضی پر موجود نہ ہوتا۔ اسی طرح اسلام سے جتنا کچھ حقیقی اور واقعی تعلق اِس وقت مسلمانانِ عرب کو ہے وہ کسے معلوم نہیں! اندریں حالات عرب نیشنلزم ہی یورپی سامراج کے چنگل سے نکلنے کی جدوجہد کے لیے واحد ممکن بنیاد بن سکتا تھا‘ اور ایک وقتی ضرورت اور دفاعی تدبیر کی حد تک اس کے استعمال میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے‘ بشرطیکہ اسے نظامِ فکر کی مستقل اساس کے طور پر قبول نہ کر لیا جائے اور حصولِ آزادی کے عبوری مقصد کی تکمیل کے بعد صحیح اسلامی فکر اور وحدتِ ملی کے شعور و احساس کو اجاگر کیا جائے۔
الغرض‘ بیسویں صدی عیسوی میں ایک جانب تو سابقہ اور معزول شدہ اُمت مسلمہ یعنی یہود اور موجودہ اُمت مسلمہ یعنی مسلمانوں پر عذابِ الٰہی کے کوڑے بھی برستے رہے‘ لیکن دوسری جانب یہود کی بھی دو ہزار سالہ باسی کڑھی میں اُبال آیا اور وہ صہیونی تحریک کی زیر قیادت ’’ارضِ موعود‘‘ میں قدم جما کر عظیم تر اسرائیل کے قیام اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کی جانب پیش قدمی کے لیے پرتول رہے ہیں‘ اور خود مسلمان بھی مغربی استعمار کی کم از کم براہِ راست غلامی سے نجات پا کر (اس لیے کہ ابھی ریموٹ کنٹرول غلامی بتمام و کمال موجود ہے) اپنے دین کے احیاء اور اسلامی نظامِ حیات کے بہمہ وجوہ قیام ہی نہیں‘ عالمی غلبہ ٔ دین کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ (اقتباس:مسلمان امتوں کا ماضی حال اور مستقبل)