(خصوصی مہم) اُمّت ِمسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات - تنظیم اسلامی

10 /

اُمّت ِمسلمہ کی حالت ِزار اور راہِ نجات

تنظیم اسلامی

 

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
اُمّت ِمسلمہ 
اُمّت ِ مسلمہ وہ برگزیدہ جماعت ہے جس کے لیے سیدنا ابراہیم d نے تعمیر ِکعبہ کے وقت یہ دعا فرمائی تھی: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی اُمّت پیدا فرما جو تیری فرماں بردار ہو۔‘‘  (البقرۃ:128)۔ گویا اُمّت کی جڑ اور بنیاد میں توحید اور بندگی ٔ رب کا تصور موجود ہے۔ آپdنے اسی امت کی فکری و روحانی تربیت کے لیے رسولِ اکرمﷺ کی بعثت کی بھی التجا فرمائی تھی۔ (البقرۃ:129)
چنانچہ نبی رحمتﷺ کی بعثت ِمبارکہ کے نتیجے میں وہ عالمگیر اُمّت وجود میں آئی جسے بارگاہِ الٰہی سے ’’اُمّت ِوسط‘‘ اور ’’خیر ِاُمّت‘‘ کا شرف عطا کیا گیا۔
اُمت مسلمہ کی ذمہ داری 
یہ وہ اُمّت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت، رہنمائی اور دینِ حق کی گواہی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس منصب کو ’’شہادتِ علی الناس‘‘ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے (الحج:78)، اور اس کا عملی مظہر ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کے فریضے کو قرار دیا گیا ہے (آلِ عمران: 104، 110)۔ مزید برآں، اُمّت ِ مسلمہ سے اقامت ِ دین کی مخلصانہ جدوجہد (الشورٰی: 13) اور قیامِ عدل کا بھی  مطالبہ ہے (النساء: 135)۔  اس امت کا عروج قرآنِ کریم سے مخلصانہ وابستگی اور اس کے احکام کے نفاذ سے مشروط ہے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ بہت سی قوموں کو بلندی عطا فرماتا ہے اور اسی کے ذریعے دوسروں کو پست کر دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
اُمّت ِ مسلمہ کا ابتدائی عروج 
نبی اکرمﷺ نے اس اُمّت کو جو عظیم مشن عطا فرمایا، اس کا مثالی نمونہ صحابہ کرامj کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے قرآنِ حکیم کو محض پڑھا ہی نہیں، بلکہ اسے اپنا دستورِ حیات بنایا اور شریعتِ اسلامی کو بالفعل نافذ کر کے دکھایا۔ نتیجتاً، اللہ تعالیٰ نے چند ہی دہائیوں میں عالمِ انسانیت کی قیادت اُن کے سپرد کر دی۔ اسی کی برکت تھی کہ ایران اور روم جیسی بڑی سلطنتیں بھی اسلام کے عادلانہ نظام کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اُمّت ِ مُسلمہ نے قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا محور بنایا اور قرآن کریم کے عطا کردہ دستور حیات نافذ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے رفعت، عزت اور غلبہ عطا فرمایا اور تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا کی رہنمائی کا فریضہ اِسی اُمّت نے ادا کیا۔
زوال کا آغاز اور موجودہ صورتِ حال  
جب اُمّت کا قرآنِ مجید سے تعلق کمزور پڑا، اس کے معانی و مقاصد سے دوری بڑھی اور عمل کی روح رخصت ہوئی، تو اسلام کا ہمہ گیر اور حرکی تصور ذہنوں سے اوجھل ہو گیا۔ دین محض چند عبادات اور روایتی رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا اور حیاتِ اجتماعی  - معاشرت، معیشت اور سیاست  - سے اس کی آفاقی تعلیمات کو فراموش کر دیا گیا؛ یہی اُمّت کے زوال کا نقطۂ آغاز تھا۔ آج اُمّت ِمسلمہ تعداد میں تو کثیر ہے، مگر وزن اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے انتہائی نحیف۔ نبی اکرمﷺ نے اسی کیفیت کی ہو بہو پیش گوئی فرمائی تھی: ’’قریب ہے کہ دوسری قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے دسترخوان پر کھانے کے لیے لوگ ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔‘‘ صحابہ کرامj نے عرض کیا: ’’کیا اُس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟‘‘آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ تم کثرت میں ہو گے مگر ’وہن‘ کا شکار ہو جاؤ گے۔‘‘ دریافت کیا گیا: ’’وہن کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔‘‘ (سنن ابی داؤد)۔ یہی المیہ آج  عالمِ اسلام پر طاری ہے۔ اُمّت کا بیشتر حصہ اپنی اصل  ذمہ داری یعنی ’’شہادتِ علی الناس‘‘ کو فراموش کر کے محض مادی مفادات اور باہمی تنازعات میں اُلجھ چکا ہے۔ نتیجہ یہ کہ مسلم معاشرے داخلی طور پر کمزور اور خارجی طور پر بیرونی جارحیت کا آسان ہدف بن چکے ہیں۔ آج مسلمان ایک ایک کر کے مٹائے جا رہے ہیں اور باقی اُمّت نہ تو ان کی نصرت کے لیے تیار ہے، اور نہ ہی بظاہر اس کی ہمت و سکت رکھتی ہے۔
اُمّت ِ مُسلمہ کی حالتِ زار 
  آج اُمّت ِ مسلمہ  - جس کے سپرد ’شہادتِ علی الناس‘ کا عظیم فریضہ تھا  - کی اکثریت اس ذِمّہ داری کو فراموش کر کے مادی منفعت اور دنیا پرستی کی اندھی دوڑ میں مگن ہے۔ 1924ء میں خلافتِ عثمانیہ شکست و ریخت کا شکار ہوئی تو اُمت ِ مُسلمہ بالفعل قائم ہی نہ رہی اور اور    عالمِ اسلام جغرافیائی طور پر چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں (Nation States) میں تقسیم ہو گیا۔ آج 57 کے قریب مسلم ممالک کے حکمران اور عوام کی اکثریت اللہ سے نہیں، بلکہ دین دشمن یہود، ہنود اور نصارٰی سے     ڈرتی ہے۔ گویا ان کی بقا کا پروانہ خالق کے نہیں بلکہ مخلوق کے ہاتھ میں ہو۔ یہی نفسیاتی شکست ہے کہ دشمن ہم پر مسلسل غالب ہیں؛ کبھی فلسطین، کشمیر، افغانستان اور شام، تو کبھی لیبیا، غزہ، لبنان اور ایران پر یلغار ہوتی ہے، جہاں بستیاں اجاڑ کر لاکھوں معصوم جانوں کا خون بہایا جاتا ہے، لیکن ”اُمت“ میں اتنی جرأت اور ہمت نہیں کہ 57 مسلم ممالک اکٹھے ہو کر اِن حملہ آور طاغوتی قوتوں کے خلاف کوئی مؤثر آواز ہی بلند کر سکیں۔
دشمن کی ریشہ دوانیوں کے باوجود، اُمّت ِ مسلمہ کی موجودہ زبوں حالی، سیاسی و معاشی محکومی، فکری انتشار اور اخلاقی تنزلی کا اصل سبب وسائل کی کمی یا عددی قلت نہیں، بلکہ قرآنِ حکیم سے ہمارا عملی و شعوری تعلق ٹوٹ جانا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک اس اُمّت نے قرآن و سنت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنائے رکھا، اللہ تعالیٰ نے اسے عزت، غلبہ اور جہان بانی عطا فرمائی؛ اور جیسے ہی کتابِ ہدایت اور اسوۂ نبویﷺ سے روگردانی کی، ذلت و مغلوبیت اس کا مقدر بن گئی۔ بقول شاعر:؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
راہِ نجات
  قرآنِ حکیم فلاح و کامیابی کا واحد راستہ دکھاتے ہوئے اعلان کرتا ہے: ’’اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ (آلِ عمران: 103)۔ احادیثِ مبارکہ کی رو سے اللہ کی یہ مضبوط رسی ”قرآنِ کریم“ ہے (جامع ترمذی)۔ دراصل یہی وہ کتاب ہے جو انسانیت کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’یقیناً یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ (بنی اسرائیل: 9)۔ لہٰذا، اُمّت ِ مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز بھی اسی نقطے سے ہوگا جہاں سے اس کا عروج شروع ہوا تھا؛ یعنی تجدیدِ ایمان، قرآنِ حکیم سے زندہ تعلق کی بحالی اور اسوۂ حسنہﷺ کی عملی پیروی۔ اس عظیم مقصد کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم:
* قرآنِ حکیم کی تلاوت کے ساتھ اس کے فہم کے حصول اور اس پر عمل پیرا ہونے کا مستقل اہتمام کریں۔
* اپنی انفرادی زندگی اور گھر کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی کامل اطاعت کے تابع بنائیں۔
* امت کے مابین اتحاد، اخوت اور مقصدِ حیات کے شعور کو فروغ دیں۔
* ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کو اپنی بنیادی اجتماعی ذِمّہ داری سمجھیں۔
* ’’شہادتِ علی الناس‘‘ اور ’’اقامتِ دین‘‘ کی مخلصانہ جدوجہد میں اپنی بہترین صلاحیتیں وقف کریں۔
خلاصہ کلام 
  اُمّت ِ مسلمہ کی تنزلی کی بنیادی وجہ شعوری ایمان کی کمزوری ہے، جس کے حصول کا اہم ترین ذریعہ قرآنِ حکیم ہے۔ اس زوال سے نکلنے کے لیے اصحابِ فکر و دانش سمیت عوام الناس کا قرآن کے ساتھ فکری اور زندہ تعلق پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ تاریخ اور سنت ِ الٰہی گواہ ہے کہ مادی وسائل کی کثرت نہیں بلکہ ہمیشہ ایمانی قوت ہی امتِ مسلمہ کا مقدر بدلتی ہے۔ 
اُمّت کی کھوئی ہوئی منزل کے حصول کے لیے قرآنِ حکیم سے تعلق بحال کرنا اور اسوۂ حسنہﷺ کی روشنی میں بالترتیب اپنی ذات، خاندان، معاشرہ اور پاکستان میں دین ِ حق کے غلبہ کے لیے تن من دھن لگانا لازم ہے۔ اس داخلی استحکام کے بعد، دنیا بھر کے مسلمانوں کو اُمّت کے  مقصد ِ حقیقی سے جوڑنا ضروری ہے، تاکہ پہلے پاکستان اور پھر پوری دنیا میں عادلانہ نظامِ خلافت قائم ہو سکے۔ 
مسلمانوں کی نجات دنیا پرستی چھوڑنے، حقیقی ایمان بیدار کرنے اور اخوت قائم کرنے میں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اُمّت معاشی و عسکری میدانوں میں بھی متحد ہو اور اسلام کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کرے۔اسی جدوجہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی طرف سے ثابت قدمی عطا کرنے کا وعدہ ہے۔(سورۂ محمد : 7)