(خصوصی پیغام) اُمَّت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل - ابو ابراہیم

10 /

اُمَّت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل

(سورۃ آل عمران کی آیات 102تا 104کی روشنی میں)

امیر ِتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کےایک اہم خطاب جمعہ کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
قرآن حکیم ایک ایک فرد کے لیے رہنمائی اور اُمَّت کو جوڑنے والی شے ہے ۔ اُمَّت کو جوڑ کر کرنا کیا ہے؟اِس کا جواب ہمیں قرآن مجید کی سورۃ آل عمران   کی آیات 102 تا 104 میں ملتا ہے ۔ تین آیات پر مشتمل یہ قرآن مجید کا بہت جامع مقام ہے جس کی تفہیم کے لیے بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا بہت سبق آموز خطاب ’’اُمَّت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل ‘‘کے عنوان سے بھی موجود ہے ۔ اب یہ اردو اور انگریزی زبان میں کتابچے کی شکل میں بھی موجود ہے ۔ تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر اِس کا مطالعہ کیا جا سکتاہے ۔ اس وقت جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں،سخت آزمائشوں کا معاملہ ہے، اِن حالات میں قرآن کے اِس جامع پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی بہت ضرورت ہے ۔ اسی تناظر میں آج ہم ان  آیات کا مطالعہ کریں گے ، ان شاء اللہ ! فرمایا :
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ  وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(102)} ’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جتنا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہےاور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
نبی کریم ﷺ جب بھی خطبہ ارشاد فرمایاکرتے تھے ، چاہے غم کا موقع ہو یا خوشی کا موقع ہو تو اس آیت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ، خاص طور پر خطبہ نکاح میں جو آیات آپ ﷺ تلاوت فرمایا کرتے تھے اُن میں سے ایک یہ لازمی طور پر شامل ہوتی تھی ۔ اس آیت میں براہ راست اہلِ ایمان سے خطاب ہے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم کلمہ گو مسلمان ہیں ، دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتی ، پھر بہت بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان نہیں  لاتے، دنیا میں اِس وقت کفر و الحاد کے فتنے بھی پھیل رہے ہیں ، ان حالات میں اللہ تعالیٰ اگر ہم سے خطاب کررہا ہے تو یہ کس قدر راحت اور خوش قسمتی کی بات ہے ۔ سیدنا علی ؄   فرماتے ہیں کہ جب میں اللہ سے کلام کرنا چاہتا ہوںتو  میں نماز میں کھڑا ہو جاتا ہوں لیکن جب میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کلام کرےتو میں قرآن حکیم کو کھولتا ہوں۔ ہمیں بھی اپنی خوش نصیبی کا ادراک ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست خطاب کر رہا ہے اور اس کے بعد ہمیں چوکسبھی ہوجانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے ۔ یہاں یہ بنیادی تقاضا کیا جارہا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔ تقویٰ کا ایک عام فہم اور سادہ مفہوم یہ بیان کیا جاتاہے کہ  مرنے کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے لہٰذا اللہ  سے ڈرو اور گناہوں سے بچو ۔ یعنی اللہ سے ڈرنا اور گناہوں سے بچنا تقویٰ کا سادہ مفہوم ہے ۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق ؄کے دور میںایک بار یہ سوال اُٹھا کہ تقویٰ کیا ہے تو حضرت ابی بن کعب ؄نے فرمایا:   اے امیر المومنین ! اگر آپ کا گزر کسی ایسےتنگ راستے سے ہو، جہاں دائیں بائیں کانٹے دار جھاڑیاں ہوں تو آپ کیسے گزریں گے ؟فرمایا : میں اپنے دامن کو سمیٹ کر اور بچتے بچاتے گزرنے کی کوشش کروں گا ۔ حضرت ابی بن کعب ؄نے فرمایا : یہی تقویٰ ہے ۔ یہ دنیا کی زندگی ایک امتحان ہے ۔ یہ وقتی اور عارضی گزرگاہ ہے مگر یہاں  طرح طرح کے فتنے ہیں ، مشکلات ہیں ، مصائب ہیں ، اِن تمام حالات میں اپنے دامن کو گناہوں سے ، اللہ کی نافرمانی سے بچا کر زندگی گزارنا تقویٰ ہے ۔ 
آج ہم نے دنیوی مفادات کے تحت یا ڈاکٹرز کے کہنے پر چند حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دیا ۔ مثلاً کرونا وائرس کے دور میں ہم نے مسلمانوں بھائیوں سے مصافحہ کرنا ، معانقہ کرنا ، عید ملنا ، قریب بیٹھنا بھی چھوڑ دیاتھا ، حتیٰ کہ نماز میں بھی ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا شروع کرلیاتھا ،دنیا کے کہنے پر، SOPsکے نام پر حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دیا تھا، ذراسوچئے ! اللہ تعالیٰ کے کہنے پر ہم حرام چیزوں کو بھی چھوڑ نے پر تیا رہیں ؟ گناہوں اور برائیوں  سے بچنے کا اہتمام کر رہے ہیں ؟ ہمیں جسم تو عزیز ہے ، کیا ہمیں روح بھی عزیز ہے ؟ہمیں دنیوی لحاظ سے اپنی حفاظت تو عزیز ہے کیا جہنم کی آگ سے بچنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں ؟تقویٰ کا تقاضاتو یہ ہے کہ جس کا اللہ نے حکم دیا : 
{وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(102)} ’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ 
 یہ ہےحَقَّ تُقٰتِہٖکہ جو تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔اسی کی دعا ہم کسی مسلمان کے مرنے پر اس کی جنازے پر کرتے ہیں : 
((اَللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ)) ’’اے اللہ! جس کسی کو تو ہم میں سے زندہ رکھ اسلام کی حالت پر زندہ رکھ اور جس کسی کو تو ہم میں سے وفات دے اُسے ایمان کی حالت پر وفات دے۔ 
اس تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری انفرادی زندگی میں بھی اسلام غالب ہو ، گھر میں بھی اسلام نافذ ہو ، کاروبار ،  دفتر، معاملات ، رسومات ، عدالت ، سیاست ، معیشت اور معاشرت میں بھی اسلام کا نفاذ ہو ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :
{ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص} (البقرہ:208) ’’ اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ 
یہ پوری زندگی کا لائحہ عمل ہے جو اللہ کا قرآن ہمیں عطا کرتاہے لیکن بدقسمتی سے اِس کے برعکس ہمارے ہاں نعرے لگتے رہے :  میرا جسم میری مرضی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حالانکہ یہ زندگی اللہ کی دی ہوئی امانت ہے ، بندہ اس کا مالک نہیں ہے بلکہ اس کا امین ہے ۔ اس زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنا تقویٰ ہے جس کا اللہ تعالیٰ ہم سے تقاضا کر رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطافرمائے ۔  اس کے بعد اگلی آیت میںفرمایا : 
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص}  (آل عمران:103)’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
پہلی آیت میں ہر مسلمان سے تقاضا تھا کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرکے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرے ۔اس آیت میں اجتماعیت کا تقاضا ہے کیونکہ ہمارا دین صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں ہے بلکہ مکمل نظام زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام مسلمان اجتماعی سطح پر ایک نظام کے تحت جڑے رہیں ۔ یہاں اللہ کی رسی سے مراد قرآن ہے ۔ قرآن ہی مسلمانوں کو جوڑنے والی شے ہے ۔  انسان ایک ذی شعور ہستی ہے جو سوچتا ہے ، غوروفکر کرتاہے اور قرآن انسانوں کو وہ فکر اورشعور عطا کرتاہے جو ان کو اجتماعی سطح پر ایک نظام کے تحت زندگی گزارنےکے اصول سکھاتا ہے ۔ ایک مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں قرآن کی تلاوت کرتاہے ، اِس کے علاوہ بھی قرآن کا مطالعہ کرتاہے ،  چاہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہو ، کسی بھی رنگ ، نسل ، زبان سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ قرآن سے ملی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا پیغام حاصل کرتاہے ۔ بقول اقبال؎
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
جامع ترمذی میںاللہ کے رسول ﷺ کی حدیث کے الفاظ ہیں : 
((وَ ھُوَ حَبْلُ اللہِ الْمَتِیْنُ ))’’یہ (قرآن حکیم)   اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے۔ ‘‘
اس کو تھامنے سے مراد یہ ہے کہ آپ قرآن کوکتابِ ہدایت کے طور پر لیں ،طلبِ ہدایت کے ساتھ اس کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں ، اس میں غوروفکر کریں تو اللہ تعالیٰ ہدایت بھی عطا فرمائے گا ، نور بھی عطا فرمائے گا ، شفاء اور رحمت بھی عطا فرمائے گا ، اتحاد و اتفاق بھی عطافرمائے ۔ بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے  مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق کے عنوان سے بہت جامع خطاب موجود ہیں جو اب اُردو اور انگریزی کتابچوں   کی صورت میں شائع بھی ہورہے ہیں ۔ اس میں انہوں  نے قرآن مجید کے 5 حقوق گنوائے ہیں :
1۔ قرآن پر زبان سے بھی اور دل کی گہرائیوں سے  بھی ایمان لایا جائے ۔
 2۔ قرآن کی باقاعدہ تلاوت کی جائے ۔
 3۔ قرآن کے پیغام کو طلب ہدایت کے ساتھ سمجھنے   کی کوشش کی جائے ۔ 
4۔ قرآن کے احکام پر انفرادی سطح پر بھی عمل کیا جائے اور اجتماعی سطح پر ان کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ۔
 5۔ قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔
یہ قرآن مجید کے ہر مسلمان پر حقوق ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ 99 فیصد مسلمان شاید زندگی بھر قرآن کو ترجمے کے ساتھ مکمل طور پر پڑھنے کی سعادت حاصل نہیں کرتے ۔  لہٰذا تفرقے میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو فراموش کر رکھا ہے ۔ شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کے الفاظ مفتی شفیع عثمانی صاحبؒ نے اپنے کتابچے وحدت اُمّت ِمیں نقل کیے ہیں کہ جب میں مالٹا میں انگریزوں کی قید میں تھا تو میں نے مسلمانوں کے زوال کے متعلق بہت غوروفکر کیا ۔ مجھے دو بنیادی وجوہات نظر آئیں:
 1۔ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا ۔
 2۔ تفرقوں میں پڑ گئے ۔ 
میرا ارادہ ہے کہ رہائی کے بعد میں قرآن کی تعلیم کو عام کروں ، بچوں کے لیے تجوید کے مکاتب کھولے جائیں  اور بڑوں کے لیے عوامی سطح پر دروس قرآن کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ مفتی شفیع عثمانی صاحب ؒ نے لکھا کہ بنیاد ی طور پر مسلمانوں کے زوال کا سبب ایک ہی ہے ، انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا ، اسی وجہ سے تفرقہ میں پڑ گئے ۔ اگر ہم نے واقعی قرآن کو تھاما ہوتا تو آج ہم تفرقوں میں نہ پڑے ہوتے ۔ مولانا محمودحسن ؒ کے اس خواب کو ڈاکٹر اسراراحمدؒ  نے پورا کیا جنہوںنے عوامی سطح پر دروس قرآن کا سلسلہ شروع کیا ، رجوع الی القرآن کے کورسز شروع کیے اور رمضان میں تراویح کے دوران دورہ ترجمہ قرآن شروع کیا ۔  آج یہ سلسلہ پورے پاکستان میں اور بیرون ملک بھی پھیل رہا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق عطا فرمائی اور علم فاؤنڈیشن کے ذریعے قرآن مجید کا ایک متفقہ نصاب بمع مختصر تشریح تیار کیا ۔ 2017ء میں وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے تمام مکاتب فکر کے علماء کودعوت دی کہ قرآن کے اِس متفقہ ترجمہ اور نصاب کو سکولوں میں رائج کرنے کے لیے اپنی آراء دیں ۔ تمام مکاتب فکر کے علماء ، پانچوں وفاقوں کی نمائندہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان نے اس سے اتفاق کیا اور آج الحمد للہ پاکستان میں کروڑوں طلبہ و طالبات اس متفقہ ترجمہ قرآن اور نصاب کو پڑھ رہے ہیں ۔ جب پاکستان کے کروڑوں طلبہ و طالبات ایک جیسا نصاب اور ایک جیسا ترجمہ قرآن و تشریح  پڑھیں گے تو ان میں فکری ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ پچھلی آیت میں تقویٰ کا تقاضا کیا گیا اور تقویٰ کا ایک بہت بڑا حاصل کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : 
{وَمَنْ یَّــتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّـہٗ مَخْرَجًا(2)}(الطلاق ) ’’اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔‘‘
دوسری آیت کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو تفرقے میں نہیں پڑو گے ۔ حدیث کے الفاظ ہیں کہ قرآن اللہ کی رسی ہے ، اس کو تھامے رہو گے تو کبھی ہلاک نہیں ہوگے اور نہ کبھی گمراہ ہو گے ۔ یہ قرآن مجید کی ہی برکات تھیں کہ وہ عرب جو گھوڑے دوڑانے اور پانی پلانے جیسی معمولی باتوں پر جھگڑے اور قتل و غارت پر تُل جاتے تھے، وہی عرب اس قرآن کی بدولت متحد و منظم ہو کر ایک ایسی انقلابی جماعت بن گئے کہ جس نے دنیا کی سپرپاورز اور پوری دنیا کے نظام کو بدل ڈالا ۔ اسی بات کو زیر مطالعہ آیت میں آگے بیان کیا گیا : 
{وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج}(آل عمران )  ’’اور ذرا یاد کرو اللہ کا جو انعام تم پر ہوا جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘تو اللہ نے تمہارے دلوں کے اندر اُلفت پیدا کر دی‘پس تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن‘گئے۔‘‘ 
یہ تو وہ برکات تھیں جو دنیا میں قرآن کو تھامنے سے حاصل ہوئیں لیکن اس کے اُخروی فوائد بھی ہیں ۔ فرمایا: {وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْہَاط کَذٰلِکَ یُـبَـیِّنُ اللہُ لَـکُمْ اٰیٰتِہٖ لَـعَلَّـکُمْ تَہْتَدُوْنَ(103)} ’’اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے (بس اس میں گرنے ہی والے تھے ) تو اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کررہا ہے تاکہ تم راہ پائو (اور صحیح راہ پر قائم رہو)۔‘‘ 
اگر قرآن ذریعۂ ہدایت نہ بنتا تو گمراہی اور جہالت جہنم میں لے جاتی مگر اللہ نے احسان کیا اور قرآن کے ذریعے جہاں ہدایت ، شعور ، اتفاق اور اجتماعی طاقت ملی، وہاں آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی عطا ہوئی ۔ 
آج ہمارا حال کیا ہے؟سڑکوں پر سرعام لوٹ مار ، قتل اور ڈاکہ زنی جاری ہے ، ایک طبقہ سر ِعام ذخیرہ اندوزی اور اشیاء کو مہنگا کرکے لوگوں کو لوٹ رہا ہے ، عام آدمی سے لے کر ریاست کی سطح تک کرپشن اور لوٹ مار جاری ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، افراتفری اور انتشار ہے ۔ اگر ہم نے واقعی قرآن کو تھاما ہوتا تو آج ہمارا یہ حال ہرگز نہ ہوتا ۔ کیونکہ جو قرآن کو تھامے ہوتے ہیں اُن کی صفات اللہ بیان کرتاہے : {وَیُـؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَـوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط}(الحشر:9) ’’اور وہ تو خود پر ترجیح دیتے ہیں دوسروں کو خواہ اُن کے اپنے اوپر تنگی ہو۔‘‘
آج ہمارے جو حالات ہیں ، ان حالات میں بہت ضروری ہے کہ ہم قرآن کو اُس طرح تھام لیں جس طرح قرآن چاہتاہے ، اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یہ انتشار اور افراتفری ، لوٹ مار ، قتل و غارت گری ختم کردے گا اور ہمیں قومی سطح پر اتفاق ، اتحاد اور یکجہتی عطافرمائے ۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہماری آخرت بھی سنوار دے گا ۔ اگلی آیت میں فرمایا : 
{وَلْـتَـکُنْ مِّنکُمْ اُمَّـۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَـاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط} (آل عمران )’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔‘‘ 
پہلی آیت میں فرمایا کہ ہر بندہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے ۔ جب ہر بندہ تقویٰ اختیار کرے گا ، گناہوں سے بچے گا اور اللہ سے تعلق مضبوط کرے گا تو وہ شعوری طور پر ایک مضبوط انسان بن جائے گا ۔ ایسے تمام انسان جب قرآن کو تھام لیں گے تو وہ آپس میں جڑ کر چٹان کی طرح  مضبوط انقلابی جماعت بن جائیں گے ۔ پھر اس جماعت کا کوئی مقصد بھی ہوگا ۔ وہی مقصد یہاں بیان ہورہا ہے کہ تم برائی کے خلاف کھڑے ہوگے اور نیکی کا حکم دو گے ۔ اسی سورت میں آگے فرمایا : {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ ط}(آل عمران:110) ’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے‘اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘ 
اس کو کھڑا کرنے کا مقصد بہت عظیم اور بڑا ہے۔ جب اُمَّت اس مقصد کے لیے کھڑی ہوگی تو دنیا میں برائی کا خاتمہ ہو جائے گااور ہر طرف نیکی ، عدل ، انصاف اور خیروبرکت کا معاملہ ہوگا ۔ بدقسمتی سے آج اُمَّت کا بڑا حصہ اس عظیم مقصد کو فراموش کر چکا ہے ، اسی وجہ سے اُمَّت خود بھی زوال کا شکا رہے اور پوری دنیا میں ظلم اور ناانصافی کا راج ہے ۔ 
اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زندگی میں اس مشن کو پورا کرکے دکھایا اور اُمَّت کے لیے ایک نمونہ چھوڑا۔ 
{یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ} (الاعراف:157) ’’وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے ‘تمام برائیوں سے روکیں گے۔‘‘
ختم نبوت کے بعد اب اُمَّت مسلمہ کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی اور باطل نظام کے خلاف کھڑی ہو اور نیکی اور عدل کا نظام قائم کرے ۔آج اگر اُمَّت کی بڑی تعدادسو رہی ہے تو جن کو احساس ہے وہ تو جاگیں اور دوسروں کو بھی جگائیں۔اکثریت کا اگر قرآن سے دوری کا معاملہ ہے تو جو قرآن کو پڑھتے ہیں وہ تو اس پر غور کریں اور دوسروں تک بھی اس کا پیغام پہنچائیں ، دوسروں کو بھی قرآن سے جوڑنے کی کوشش کریں ۔ پھریہ سب بیدار لوگ مل کر ایک جماعت کی شکل اختیار کریں اور پھر اجتماعی طور پر برائی اور باطل نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں ۔ اسی مقصد کے لیے اس اُمَّت کو کھڑا کیا گیا ہے ۔ 
برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کا آغاز اپنی ذات سے ہوگا ، پھر اپنے گھر ، اپنے دائرہ اختیار اور پھر معاشرے میں اس کے نفاذ کے لیے اجتماعی جدوجہد ہوگی۔ سب سے بڑھ کر اختیار ریاست اور حکمرانوں کے پاس ہوتا ہے تو اُن کی بھی اس حوالے سے ذمہ داری ہے ۔ قرآن میں فرمایا :
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِطوَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(41)}(الحج ) 
’’وہ لوگ کہ اگر انہیں ہم زمین میں تمکن ّعطا کر دیں تو‘وہ نماز قائم کریں گے‘اور زکوٰۃ ادا کریں گے‘اور وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام امور کا انجام تو اللہ ہی کے قبضہ ٔقدرت میں ہے۔‘‘ 
ہر ہر سطح پر یہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اللہ ہم سے راضی نہیں ہوگا ۔ جامع ترمذی کی روایت ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : تم لازماً نیکی کا حکم دو گے اور تم لازماً بدی سے روکو گے اور اگر تم ایسا نہیں کروگے تواندیشہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آجائے اور پھر تم اللہ تعالیٰ سے دعائیںمانگو گے مگر اللہ تمہاری دعائیں  قبول نہ فرمائے گا ۔ 
آج انفرادی سطح پر بھی ہم دعائیں مانگ رہے ہیں، حج اور عمرہ میں بھی رو روکر دعائیں مانگتے ہیں مگر ہمارے حالات بدل نہیں رہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے بحیثیت اُمَّتی اپنے بنیادی اور اہم ترین فریضہ کو چھوڑ دیا ہے ۔ امام ابن کثیر ؒ نے ماضی کے واقعات نقل کیے ہیں کہ کئی مرتبہ اُمَّت میں وبائیں پھیل گئیں ، مسلم حکمرانوں کو احساس دلایاگیا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کی ریاستی سطح پراہتمام کیا جائے اور عوام میں بھی اس کا حکم جاری کیا جائے ۔ جب ایسا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور آئی ہوئی بلائیں بھی ٹل گئیں ۔ ہمارے ہاں جب کرونا وباء پھیلی تھی تو حکومت نے آرڈر جاری کرکے مسجدیں بند کروادیں ، کئی خیر کے کاموں کو بند کروادیا لیکن شراب خانے ، کلب ، سود، جوئے اور فحاشی کے اڈے کھلے رہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ! اس کے بعد بھی ہم کہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہو رہیں ؟ اُمَّت کے حالات بدل کیوں نہیں رہے ؟ 
یہ قرآن زندہ کلام ہے ،اس میں ہمارے لیے رہنمائی اور ہدایت ہے اور ہمارے تمام مسائل کا حل بھی موجود ہے ۔جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور قرآن کو مضبوطی سے تھامیں گے ، برائی سے روکیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے وہی لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے ۔ جیسا کہ آخر میں فرمایا : 
{وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (104)} ’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ 
آج ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر جن مسائل اور مصائب کا شکار ہیں، ان سے نکلنے کا پورا لائحہ عمل قرآن ہمیں دے رہا ہے ۔ اس لائحہ عمل کے مطابق ہم اپنی زندگیوں کو ڈھال کر ہر طرح مسائل اور مصائب سے نجات پا سکتے ہیں اور اُخروی کامیابی اور فلاح کے بھی حقدار بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اِس لائحہ عمل پر چلنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین!