(اداریہ) اُمَّتِ مُسلمہ: عظیم منصب، شاندار ماضی اور زوال کی داستان - رضا ء الحق

10 /

اداریہ


رضاء الحق


اُمَّتِ مُسلمہ: عظیم منصب، شاندار ماضی اور زوال کی داستان


اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام ؓ کا ایک عظیم سلسلہ قائم فرمایا، جس کی تکمیل خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت ِ مبارکہ پر ہوئی۔ آپ ﷺ کی بعثت کے نتیجے میں جو اُمَّت وجود میں آئی، وہ محض ایک نسلی، لسانی یا جغرافیائی اکائی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور دعوتی اُمَّت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا۔ یہی وہ اُمَّت ہے جس کے لیے حضرت ابراہیمؑ نے تعمیرِ کعبہ کے وقت دعا فرمائی تھی۔ ترجمہ: ’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی اُمَّت پیدا فرما جو تیری فرمانبردار ہو، اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔‘‘ (البقرۃ:128) حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا محض ایک صالح نسل کے لیے دعا نہ تھی بلکہ ایک ایسی اُمَّت کے ظہور کی تمنا تھی جو اللہ کی بندگی کو اپنا مقصد ِ وجود سمجھے، جو توحید کا علم بلند کرے، جو انسانیت کو ظلم و جبر سے نکال کر عدل و رحمت کے نظام کی طرف رہنمائی کرے۔ اسی دعا کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ایک ایسی اُمَّت تیار فرمائی جسے قرآنِ حکیم نے ’’اُمَّتِ وسط‘‘ اور ’’خیرِاُمَّت‘‘ کے معزز القابات عطا فرمائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی اُمَّت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔‘‘ (البقرۃ: 143) یہی وہ منصب ہے جسے قرآن کی اصطلاح میں ’’شہادت علی الناس‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی اُمَّتِ مُسلمہ کا وجود محض اپنی ذاتی نجات کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت تک اللہ کے پیغام کو پہنچانے اور زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی ہدایت کے مطابق نمونہ قائم کرنے کے لیے ہے۔
الغرض اُمَّتِ مُسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم ذمّہ داری سونپی ہے۔ یہ ذمّہ داری صرف بعض عقائد، انفرادی عبادات، چند مذہبی رسوم یا شخصی تقویٰ تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے پورے نظام کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔ قرآنِ حکیم نے اس مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘ (آل عمران: 104) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے، خواہ وہ خود تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء:135) گویا اُمَّتِ مُسلمہ کا مشن دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
1۔ شہادت علی الناس — یعنی اللہ کے دین کی گواہی اور انسانیت تک اس کا پیغام پہنچانا۔
2۔ اقامت ِ دین — کی جدوجہد یعنی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کی سعی۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اُمَّت تیار فرمائی، اس کا پہلا نمونہ صحابہ کرامj کی جماعت تھی۔ اُن کا امتیاز یہ تھا کہ قرآن اُن کے لیے محض ثواب کے حصول کی کتاب نہیں بلکہ مکمل دستورِ حیات تھا۔ انہوں نے قرآن کو سمجھا، اس پر ایمان لائے، اسے اپنی انفرادی زندگیوں میں نافذ کیا اور پھر اسی ہدایت کی بنیاد پر ایک عادلانہ اجتماعی نظام قائم کیا۔ یہ وہی جماعت تھی جس نے چند دہائیوں کے اندر دنیا کی دو عظیم سلطنتوں ایران اور روم کو شکست دی۔ یہ فتح محض عسکری قوت کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ایک ایسی اخلاقی، روحانی اور نظریاتی قوت کے ذریعے تھی جو دنیا کے انسانوں کو ظلم و استحصال سے نکال کر عدل و رحمت کے نظام کی طرف بلاتی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک اُمَّتِ مُسلمہ قرآن و سنت سے مضبوطی سے وابستہ رہی اسے اللہ تعالیٰ نے عزت، اقتدار اور قیادت عطا فرمائی۔ تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا کے بڑے حصّے میں مسلمانوں نے علم، تہذیب، عدل اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے قیادت کا کردار ادا کیا۔ یہ دراصل سنتِ الٰہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اُن لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اُس کے دین کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔‘‘ (سورۃ محمد:7)
اُمَّتِ مُسلمہ کے زوال کا آغاز کسی ایک بیرونی حملے سے نہیں ہوا بلکہ اس وقت ہوا جب مسلمانوں کا قرآنِ حکیم سے زندہ تعلق کمزور پڑنے لگا۔ جب دین کو زندگی کے مکمل نظام کے بجائے صرف بعض عقائد، چند عبادات اور رسوم تک محدود کر دیا گیا، جب سیاست، معیشت، معاشرت اور اجتماعی معاملات اللہ کی ہدایت سے آزاد سمجھے جانے لگے، تو وہ قوت جو مسلمانوں کو دنیا میں ممتاز کرتی تھی، رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چلی گئی۔ قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ زندگی کی رہنمائی کے لیے آیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس میں عبادت گاہ، عدالت، معیشت، سیاست اور معاشرت سب اللہ کی ہدایت کے تابع تھے۔ لیکن بعد کے ادوار میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کے اس ہمہ گیر تصور کو بھلا دیا۔ نتیجتاً: روحانی کمزوری پیدا ہوئی، فکری انتشار بڑھا؛ فرقہ وارانہ اور قومی تعصبات غالب آئے، دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت نے جگہ بنا لی، اجتماعی قوت منتشر ہوگئی۔
نبی اکرم ﷺ نے اسی کیفیت کی خبر فرمائی تھی: ’’قریب ہے کہ دوسری قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔‘‘ صحابہ کرامj نے پوچھا:’’کیا اُس وقت ہماری تعداد کم ہوگی؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ تم تعداد میں بہت زیادہ ہوگے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مانند ہو گے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’’وہن‘‘ ڈال دے گا۔‘‘ پوچھا گیا: ’’وَہن کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔‘‘ (سنن ابی داؤد) آج اُمَّتِ مُسلمہ کی حالت اس حدیثِ نبوی ﷺ کی عملی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
آج اُمَّتِ مُسلمہ جس کیفیت سے گزر رہی ہے، وہ تاریخ کے انتہائی تشویش ناک ادوار میں سے ایک ہے۔ جس اُمَّت کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی، عدل کے قیام اور حق کی گواہی کے لیے منتخب فرمایا تھا، وہ آج خود سیاسی، معاشی، فکری اور تہذیبی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ظلم و جبر، جنگوں، قبضوں اور استحصال کا شکار ہیں، مگر اُمَّت بحیثیت مجموعی اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ فلسطین بالخصوص غزہ کی صورت حال اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے کہ عالمی نظامِ طاقت میں کمزور اقوام کے ساتھ کس قدر بے رحمی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ دہائیوں سے جاری قبضہ، محاصرہ، جبری بے دخلی اور حالیہ جنگوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی طرح کشمیر، شام، افغانستان، عراق، لیبیا، لبنان اور دیگر مسلم خطے بھی عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی کشمکشوں اور داخلی کمزوریوں کا شکار رہے ہیں۔ یہ حالات محض سیاسی واقعات نہیں بلکہ اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے ایک عظیم تنبیہہ ہیں کہ اگر وہ اپنے حقیقی مقصد ِ وجود سے غافل رہے گی تو اس کی تعداد، وسائل اور جغرافیائی وسعت اُسے عزت و تحفظ فراہم نہیں کر سکیں گے۔ قرآنِ حکیم نے واضح فرما دیا: ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘ (الرعد: 11) لہٰذا اُمَّت کا مسئلہ صرف بیرونی دشمنوں کی سازشیں نہیں بلکہ اپنی داخلی کمزوریاں بھی ہیں۔ دشمن کی ریشہ دوانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال سب سے پہلے ان کے اپنے اعمال، ایمان اور کردار سے متعلق ہوتا ہے۔
مملکت ِ خداداد کی بات کریں تو پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک عظیم جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس جدوجہد کے پس منظر میں یہ تصور نمایاں تھا کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزار سکیں گے۔ قراردادِ مقاصد اور آئین ِپاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اسلامی اصولوں کی بالادستی کا عہد شامل کیا گیا۔ لیکن سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان اپنی اصل منزل یعنی ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام سے ابھی دور ہے۔ آج پاکستان میں بحرانوں کا بسیرا ہے: سیاسی انتشار، •معاشی عدم استحکام، •سودی معاشی نظام اور سودی قرضوں کا بوجھ، عدل و انصاف کے مسائل ،تعلیمی اور اخلاقی بحران اورادارہ جاتی کمزوریاں۔
ہمارے نزدیک اِن تمام مسائل کا حل محض سیاسی نعروں، وقتی معاشی منصوبوں یا بیرونی امداد میں نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کے جواب میں ہے کہ پاکستان کا مقصد ِ وجود کیا ہے؟ اگر پاکستان کو محض ایک قومی ریاست سمجھا جائے تو وہ عالمی طاقتوں کے اسی نظام کا ایک کمزور حصّہ بن کر رہ جائے گا، لیکن اگر اسے اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کی تجربہ گاہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف خود ترقی و استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ پوری اُمّت ِ مُسلمہ کے لیے امید کا مرکز بن سکتا ہے۔
عالمِ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بات کریں تو اُمَّتِ مُسلمہ کے زوال کا آغاز جہاں سے ہوا، اس کا عروج بھی وہیں سے شروع ہوگا، یعنی قرآنِ حکیم سے زندہ تعلق، رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی اور دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنے کی مخلصانہ جدوجہد۔ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے: ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران: 103) احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مضبوط رسی قرآنِ مجید ہے۔ لہٰذا اُمَّت کی نجات اسی میں ہے کہ وہ دوبارہ قرآن سے جُڑے اور اسوۂ رسول ﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے۔
اِسی احساسِ ذمہ داری کے تحت تنظیم اسلامی کی جانب سے 31 جولائی 2026ء تا 21 اگست 2026ء ایک خصوصی مہم بعنوان: ’’اُمّتِ مُسلمہ کی حالتِ زار اور راہِ نجات‘‘ منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد اُمَّتِ مُسلمہ (بشمول پاکستان!) کو اِس کے حقیقی مقام، ذمہ داری اور موجودہ حالات کے اسباب سے آگاہ کرنا اور قرآن و سنت کی طرف اجتماعی رجوع کی دعوت دینا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اپنی اصل شناخت کو پہچانیں۔ اُمَّتِ مُسلمہ کی نجات نہ مغرب کی اندھی تقلید میں ہے، نہ محض سیاسی نعروں میں، نہ مادی ترقی کی دوڑ میں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ مبارک سے مضبوط وابستگی میں ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کو زندہ کرنا ہوگا، اپنی ذات کی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا، اپنے خاندان اور معاشرے کو اسلامی اقدار پر استوار کرنا ہوگا اور پھر اجتماعی سطح پر اقاُمَّتِ دین کی جدوجہد کو اپنا مقصدِ زندگی بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اُمَّت دوبارہ عزت، وقار اور قیادت حاصل کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: ’’اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور اُنہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ (العنکبوت: 69) لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان اس دعوت کو سمجھے، اس کا حصّہ بنے اور اُمَّتِ مُسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ قرآن سے تعلق، سنت کی پیروی، اقا متِ دین کی جدوجہد اور اللہ کی نصرت کا یقین — یہی اُمَّتِ مُسلمہ کی حقیقی راہِ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِس بنیادی دینی ذمہ داری کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!