(نقطۂ نظر) اے اللہ، پاکستان کی حفاظت فرما! - ابو موسیٰ

14 /

اے اللہ، پاکستان کی حفاظت فرما!

ابو موسیٰ

امریکہ، اسرائیل، ایران حالیہ جنگ کی وجہ سے اور خاص طور پر تیل کی ترسیل کے غیر یقینی ہونے سے دنیا کے ہر ملک اور قوم کو اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور دنیا بھر کی حکومتیں اور وہاں کی اپوزیشن تمام اختلافات کو کم از کم وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر نئی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے سر جوڑ کر مشورے کر رہی ہیں کہ اپنی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچانے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے جائیں۔
راقم کو اپنے علم کی محدویت کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہے، اُس کے باوجود اِس بات کا دعویٰ کرنے جا رہا ہوں کہ داخلی سطح پر جو کشیدگی جو کھینچا تانی اور جو باہمی جنگ و جدل پاکستان میں ہو رہا ہے وہ دنیا بھر میں کہیں اور نظر نہیں آتا۔ اللہ رب العزت سے دعا مانگیں اور خیر کی توقع بھی رکھیں لیکن جب ہم اپنی آواز میں مکمل طور پر فرعونیت بروئے کار لاکر یہ کہیں کہ "come what may" یہ تو ہوگا تو گویا لاشعوری طور پر نہ سہی لیکن ہم لا حول ولا قوۃ الا بالله کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ اگرچہ ہم کسی ایک فریق کو مکمل طور پر موردِ الزام نہیں ٹھہرا رہے لیکن یہ دعویٰ کوئی طاقتور ہی کر سکتا ہے اور ریاست سے زیادہ طاقتور کون ہو سکتا ہے اور ریاست نے بھی کبھی اظہارِ طاقت سے اجتناب یا گریز نہیں کیا۔ البتہ عدل کا تقاضا ہے کہ ہم قارئین کو بتائیں کہ اگرچہ ریاست اسلحہ کے حوالے سے انتہائی طاقتور ہے اور اُس کی پسپائی ممکن نظر نہیں آتی لیکن دوسری طرف بھی عوامی طاقت کا گھمنڈ ہے۔ لہٰذا مسئلہ اقتدار کو قائم رکھنے یا حصولِ اقتدار کا ہی نہیں اپنی برتری اور بالادستی کو قائم رکھنے کا ہی نہیں بلکہ دو طرفہ انا کا بھی ہے۔ میں یہ کہہ بیٹھا ہوں اب میں کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہوں میری کیا حیثیت رہ جائے گی۔ پھر یہ کہ میں پاکستان ہوں، پاکستان کی سلامتی میرے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ اِس سوچ میں حبُ الوطنی اور خلوص تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی اِدھر سے ہو یا اُدھر سے عقلِ کُل کوئی بھی نہیں ۔ انسان خطا کا پتلا ہے لیکن بعض خطائیں ملک و قوم کو صدیوں پیچھے لے جاتی ہیں۔ 1971ء میں انتخابات کے نتائج نہ ماننے اور عوامی فیصلے کو رد کرنے سے جتنے خوفناک نتائج پیدا ہوئے اُن کا ذکر کرتے ہوئے بھی لرزا طاری ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اِس دلیل میں وزن ہے کہ وہ سانحہ اِس لیے بھی ہوا کہ ملک دو حصوں میں تقسیم تھا اور درمیان میں ازلی دشمن بھارت تھا جس نے اُس سنہری موقعہ کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ اُس کے باوجود ماضی اور حال پر نگاہ ڈالیں تو بہت سے معاملات میں بڑی یکسانیت نظر آتی ہے دنیا میں یہ اصول کار فرما ہے کہ حالات یکساں ہوں تو نتائج بھی کم و بیش ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو قائم و دائم رکھے اور اُس کی سلامتی پر کبھی حرف نہ آئے۔ آمین!
لیکن اِس دعا کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تو اپنی ذِمّہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اگرچہ اِس بات کا ذکر شاید بلاوجہ اور بلاجواز سمجھا جائے لیکن قارئین تک اپنی یہ بات پہنچانا اپنا پہلا قومی فریضہ سمجھتا ہوں۔ یہ میرا عقیدہ ہے کہ پاکستان وقتی طور پر سیاسی، معاشی اور سماجی لحاظ سے کتنا ہی ڈاؤن کیوں نہ ہو جائے اور ہر ہر لحاظ سے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہو جائیں اور دیکھنے والے کو یہ لگنے لگے کہ پاکستان پر بُرا وقت آ چکا ہے آج گیا کہ کل گیا لیکن جب زوال پتال سے لگ جائے گا تو عروج کا آغاز ہوگا۔ اگرچہ راقم کے پاس اِس حوالے سے کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ لیکن یہ عقیدہ کا معاملہ ہے اور عقیدہ دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ تاریخی واقعات ہیں، شواہد ہیں اور ایسے اسباق ہیں جو اِس سوچ کو توانا کرتے ہیں۔
سب سے پہلے پاکستان کا وجود میں آجانا یہ معجزہ کیسے رونما ہوا جبکہ مسلمانوں کا دشمن ہندو پڑھا لکھا بھی تھا ، سیاسی طور پر باشعور بھی تھا اور کانگرس ایک منظم جماعت تھی۔ حقیقت میں ہندو ہند کی تقسیم کو گائوماتا کی تقسیم سمجھتا تھا۔ پھر یہ کہ اُسے تاریخ میں پہلی مرتبہ موقع مل رہا تھا کہ پورے برصغیر پر حکومت کرے۔ دوسری طرف مسلمان زیادہ پڑھا لکھا بھی نہ تھا، سیاسی شعور سے بھی کافی حد تک تہی دست تھا اور تعداد میں ہندو سے کم بھی تھا۔ پھر یہ کہ برطانیہ جو وقت کا حکمران تھا اُس کا وزیراعظم اٹیلی قائداعظم سے شدید نفرت کرتا تھا جس کا اظہار وہ گاہے بگاہے کرتا رہتا تھا۔
قصۂ مختصر پاکستان مہاتما گاندھی کی لاش کو روندتا ہوا وجود میں آگیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کو معاشی اور عسکری لحاظ سے مضبوط کس نے کیا جو شروع سے اُس کا دشمن تھا اور آج بھی ہےیہ سیاسی، عسکری اور جغرافیائی حالات کا تقاضا تھا تاریخ کا کوئی بھی ورق پلٹ لیں امریکہ اپنے اور مستقبل میں طاغوتی قوتوں کے دشمن بن جانے والے پاکستان کو مضبوط کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فطری قوتیں یہ امریکہ کی مجبوری بنا دیتی تھیں جن کی تفصیل طوالت اختیار کر لینے کی وجہ سے تحریر نہیں کی جا سکتیں۔ اِس لیے کہ نہ یہ کوئی افلاطونی فلسفہ ہے، نہ ارسطو کی منطق ، نہ رُسل کی دانشوری ہے بلکہ سادہ سی بات ہے جو ہر سیاسی شعور کے حامل پاکستانی پر واضح ہے کہ امریکہ پاکستان سے دشمنی پالنے کے باوجود تاریخ کے ہر موڑ پر نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کو مضبوط بناتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا صورتِ حال کو سمجھنے میں آسانی پیدا کر دے گا۔ تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے صدر تھے، اُس وقت خواجہ ناظم الدین پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ وہ لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے گورنر ہاؤس لاہور میں طلبہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ وہ جمعیت کے قائد کی حیثیت سے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس گئے۔ وزیراعظم نے طلبہ کو بہت نصیحتیں کیں اور مکمل طور پر تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا کہا۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ ریاست ِ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سیٹوسنٹو جیسے معاہدے کر لیے ہیں لیکن کل کلاں نئی قیادت یعنی ہم نوجوانوں کو یہ بھگتنا پڑیں گے۔ جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور ہمارا ازلی دشمن ہے۔ ہمارے پاس اِس کے سوا کیا آپشن ہے کہ ہم خود کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے معاہدے کرلیں۔ ظاہر ہے سوویت یونین سے دشمنی کی وجہ سے پاکستان کو عسکری اور معاشی لحاظ سے مضبوط کرنا امریکہ کی بھی مجبوری ہے۔
راقم کی رائے میں امریکہ پاکستان دوستانہ تعلقات یقیناً دو طرفہ مجبوری تھی۔ تاریخ کے اوراق پلٹتے چلے جائیں وقفہ وقفہ سے دونوں ممالک کی دوستی اُن کی مجبوری بن کر سامنے آتی رہی۔ 1979ء میں سوویت یونین حماقت عظمیٰ کا ارتکاب کرتا ہے اور افغانستان پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ امریکہ محسوس کرتا ہے کہ سوویت یونین جنوبی ایشیاء پر چھا جائے گا بلکہ مسلط ہو جائے گا۔ لہٰذا وہ یعنی امریکہ ایک طرف پاکستان میں اسلحہ کی ریل پیل کر دیتا ہے تو دوسری طرف اپنی تجوریوں کے منہ پاکستان کی جانب کرکے کھول دیتا ہے۔ یہ عاشقائی بھی ایک مجبوری تھی امریکہ کو یہ سارا خطہ اپنے ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اُس وقت کی ریاستِ پاکستان نے اگر ایک طرف مال و دولت سمیٹی تو دوسری طرف ایک شاندار کارنامہ بھی سرانجام دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے پاکستان کی حفاظت کا ذریعہ بنا دیا۔ یعنی اِس جنگ کی آڑ میں پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔ امریکہ پاکستان تعلقات کا یہ انتہائی مثبت پہلو ہے۔ عجب بات ہے کہ امریکہ حالات سے اُن دِنوں اتنا مجبور ہوا کہ ایوانِ صدر کانگرس کو یہ جھوٹا سرٹیفکیٹ دیتا رہا کہ پاکستان ہرگز ایٹم بم بنانے کی طرف نہیں بڑھ رہا۔ البتہ یہ بھی تاریخ کا افسوسناک ہی نہیں شرمناک حصہ بھی ہے کہ اُن دنوں میں تو پاکستانی سیٹو سنٹو کا رکن بننے کے باوجود پاکستان امریکہ کا دوست تھا، غلام نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ لیں کہ چھوٹا پارٹنر تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں نے دولت اور اقتدار کی ہوس میں امریکہ کی غلامی اختیار کرنا شروع کر دی۔ یہ غلامی ہر صورت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ امریکہ کی بہت بڑی کامیابی اور ہماری بہت بڑی ناکامی ہے۔

آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ نہ پاکستان اب اپنی مرضی اور حالات کے مطابق اپنا بجٹ بنا سکتا ہے اور نہ خارجہ پالیسی تشکیل دے سکتا ہے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حکومت میں اہم اور کلیدی وزارتیں اور عہدے امریکہ کے چنیدہ اور پسندیدہ بندوں کو ملتے ہیں اور جو حکمران انکار کرے، اُسے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ گویا عوام اب پاکستان میں اپنی مرضی اور رائے سے حکومتیں نہیں بنا سکتے۔ یقین کریں صحیح اور اصل صورتِ حال ہے کہ ہماری آزادی اب ظاہری ہے وگرنہ معاملات 1947ء سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ کی مثال لے لیں۔ ہم کس طرح امریکی مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی طور پر حکومت جس طرح معاملات چلا رہی ہے، عوام اور حکومت میں خلیج برھتی چلی جا رہی ہے۔ صورتِ حال کا اندازہ کریں کہ اِس وقت تین احتجاج اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کسانوں کا احتجاج جو حکومت کی زرعی پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا احتجاج جو پیٹرول کی قیمتوں میں لیوی کا اضافہ کرنےاورIPPsکے ساتھ معائدوں پر ہے اور تیسرا تحریک انصاف کا احتجاج جسے مرکز اور طاقتور قوتیں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہونے کے باوجود کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں اور ظلم و ستم کا ایسا دور دورہ ہے جو ختم ہونے کو نہیں آرہا۔
بہرحال تازہ اطلاعات کے مطابق کسانوں سے تو حکومت نے شاید کچھ معاملات طے کر لیے ہیں۔ جماعت اسلامی سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف کے پاکستان پہنچنے پر ہوگی۔گویااصل مسئلہ تحریک انصاف کے احتجاج کا ہے جو دھرنا دینے کے لیے پہلے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کر رہے تھے، اب 4 اکتوبر کو اُنہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلے تو خیال یہ تھا کہ یہ تحریک انصاف کی پسپائی اور یوٹرن ہے لیکن حکومت اِس التوا سے جس طرح گھبرائی بلکہ بھاگی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو تھکا دینے کی پالیسی کا معاملہ ہے۔
تحریک انصاف نے اپنی تحریک کا جو شیڈول میڈیا کو بتایا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام آباد پہنچنے میں دس روز لیں گے گویا ہاتھیوں کی اس لڑائی میں گھاس تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ فریقین میں راہنمائوں کی اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے لہٰذا نقصان صرف پاکستان اور عوام کا ہو گا۔ لیکن اِس میں غیر جانبدار ہو کر دیکھنا ہو گا کہ اصل اور بڑا قصور وار کون ہے؟
مختصراً عرض یہ ہے کہ 8 فروری2024ء کے انتخابات میں بھی اگر عوام کی رائے کو تسلیم کر لیا جاتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میںآج تک کوئی ایسے انتخابات نہیں ہوئے جن میں دھاندلی نہ ہوئی ہو۔ کسی میں 5فیصد،کسی میں10 فیصد، راقم نہیں سمجھتا کہ کسی انتخابات میں اِس سے زیادہ دھاندلی ہوئی ہو۔ حقیقت میں2024ء میں تو ہوا یہ کہ 8 فروری کے انتخابات کو الیکشن کمیشن نے ایک طرف رکھ کر9 فروری کو مکمل طور پر من گھڑت اور فیک نتائج شائع کر دئیے ۔ یہاں تک کہ راولپنڈی کا اسسٹنٹ کمشنر خودچیخ اٹھا کہ ہم نے50،50ہزار ووٹوں سے جیتنے والوں کو ہرا دیا۔ وہ بیچارہ غائب کر دیا گیا۔ آج تک معلوم نہیں کہاں ہے ایک مرتبہ اُس کو میڈیا پر لا کر اُس سے تردید کروائی گئی۔ بےچارہ اس وقت قابل ِ رحم حالت میں تھا لہٰذا احتیاطاً اُسے دوبارہ غائب کر دیا گیا۔ آج تک معلوم نہیں کہاں ہے زندہ ہے بھی یا نہیں۔ قصہ کوتاہ راقم کا عرض کرنے کا مطلب ہے کہ ہم کسی صورت تاریخ سے سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے۔ کیونکہ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، وہ تاریخ سے غائب ہو جاتی ہیں۔ بہرحال ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعاکریں گے کہ وہ اہل پاکستان کی غلطیوں سے اعراض فرمائے اور پاکستان کو محفوظ و مامون بنائے اورہمارے ساتھ معاملہ ہماری کرتوتوں کی بجائے اپنی رحمت کی بنیاد پر کرے ۔بے شک اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور ہم خطا کار ہیں۔ اے اللہ! ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور پاکستان کی حفاظت فرما۔ آمین یا رب العالمین!