(زمانہ گواہ ہے) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں سربراہی اجلاس اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی - محمد رفیق چودھری

14 /

امریکہ اور اسرائیل کوئی بھی فالس فلیگ حملہ کرکے ایران

اور عربوں کے مابین جنگ شروع کر واسکتے ہیں :رضاء الحق

وزیر اعظم پاکستان نے فلسطین اور کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی

خبریں اقوام متحدہ کے اجلاس میں سنائیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ اسرائیل اور انڈیا کے

مظالم کے خلاف پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا : بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد

افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دینی جماعتوں کے رہنماؤں 

کو بھیجا جائے: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں سربراہی اجلاس اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال

میز بان : وسیم احمد

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:  اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں امن کے قیام کے لیے وجود میں آیا تھا لیکن اپنے قیام کے 81 سال بعد بھی دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام ہے ۔چاہے یوکرین اور روس کی جنگ ہو ، چاہے ایران اور امریکہ کی جنگ ہو، اگر اقوام متحدہ ان کو رکوانے میں کامیاب نہیں ہوپارہا تو پھر دنیامیں امن کیسے قائم ہو گا؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: جنگ عظیم دوم کے بعد جب یہ ادارہ قائم ہوا تو اُمیدیں بہت لگائی گئی تھیں لیکن جیسے کہا جاتا ہے کہ’’ میری تعمیر میں مضمر ہےایک صورت خرابی کی‘‘ تو شروع سے اس کی بعض خرابیاں کھل کر سامنے آنا شروع ہو چکی تھیں ۔سب سے بڑی اور پہلی خرابی یہ تھی کہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو ویٹو پاور دے دی گئی جس سے اس ادارے میں جمہوریت کی نفی ہوگئی ۔جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق پانچ ممالک نے گویا پوری دنیا کو یرغمال بنا لیا۔جون 2025ء میں سلامتی کونسل کے 14 ممالک نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد پاس کی لیکن امریکہ نے ویٹو کر دیا۔ حالانکہ دنیا میں لاکھوں  لوگ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل چکے تھے ، یونیورسٹیز میں مظاہرے ہو رہے تھے ، ایک بہت بڑی اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ اہل غزہ کو انصاف ملے گا لیکن امریکہ کے ایک ووٹ نے امن کے خواب کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اپنی کوئی فوج نہیں ہے ۔جب کسی ملک میں قیام امن کے لیے قرارداد پاس ہو بھی جائے تو اقوام متحدہ مانگے تانگے کی فوجوں کو امن قائم کرنے کے لیے بھیجتا ہے ۔اسی طرح اس کی اپنی کوئی معاشی قوت بھی نہیں ہے ۔ادارے کے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی یہ امریکہ اور دوسری طاقتوں کا محتاج ہوتاہے ۔ ظاہر ہے جس کا محتاج ہوگا ، اُسی کے مفادات پورے کرے گا ۔ پھر یہ کہ یہ صرف مرثیہ گوئی کا پلیٹ فارم بن کر رہ گیا ہے ۔ یعنی جب کوئی سانحہ رونما ہورہا ہوتاہے تو اس کو روکنے کے لیے اس کے پاس کوئی ضابطہ یا فورس نہیں ہوتی اور جب سانحہ رونما ہو جاتاہے تو پھر صرف واویلا کرنے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال ہوتا ہے ۔ ایک دہرا معیار بھی اس ادارے کا ثابت ہو چکا ہے کہ جب مسلمانوں کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو اس پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ، لیکن جب غیر مسلموں کا کوئی مسئلہ ہو تو اس پر فوراً ایکشن لیا جاتاہے ۔ جیسا کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے معاملے میں ہوا ۔ جبکہ فلسطین ، کشمیر وغیرہ کے معاملے پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ یہ سب وہ خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں امن قائم نہیں ہورہا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا جیسے دہشت گرد ملک جو دنیا میں امن کے دشمن ہیں، کے ہاتھوں  یہ ادارہ یرغمال بنا ہوا ہے ۔ اقوام متحدہ کے جتنے بھی سیکرٹری جنرل آئے وہ بیچارے چیختے چلاتے رہے، لیکن وہ بڑی طاقتوں کےسامنے بے بس رہے ۔ لہٰذا اس ادارے کے قیام کا جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے ۔ 
سوال:اقوام متحدہ کے 81 ویں اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی تقریر کی اورانتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ غزہ میں ہونے والے مظالم اور نسل کشی کو جھوٹ قرار دیا ۔ آپ اس پر کیا کہیں گے ؟
بریگیڈیئر(ر)جاویداحمد: ہمارے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کوئی شخص اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ اتنے بڑے پلیٹ فارم پر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے۔وہاں پاکستان سمیت اتنے مسلم ممالک کے سربراہان موجود تھے ، کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اسرائیل ایک قاتل ملک ہے اور ہم اس کا حساب لینے آئے ہیں ۔ اس کے برعکس انہوں نے صرف مذمت کے الفاظ کا ہی اعادہ کیا ۔ قاتل کو اگر آپ قاتل نہ کہیں اور ڈھکے چھپے الفاظ میں اس کی مذمت کریںتو اس نے کیوں اپناجرم تسلیم کرنا ہے؟ وہ تو قتل کا دفاع کرے گا ۔ مسلم ممالک کو چاہیے تھا کہ وہاں اپنا کوئی نظریہ پیش کرتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے :
’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم جنگ نہیں کرنا چاہتے ایسی قوم سے جنہوں نے اپنے قول و قرار توڑ دئیے اور رسولؐ کو جلاوطن کرنے کا قصد کیا‘اور انہوں نے ہی آغاز کیا تھا تمہارے ساتھ پہلی مرتبہ۔‘کیا تم ان سے ڈر رہے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔‘‘(التوبہ:13)
اسرائیل نے باربار معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو ان کی زمین سے نکال دیا ، ان کے شہر تباہ کردئیے ، ان کے گھر مسمار کردئیے ، لاکھوں مسلمان بچوں ، عورتوں اور مردوں کو شہید کردیا ۔ ایسی حالت میں تو اللہ ظالموں کے خلاف جنگ کا حکم دے رہا ہے :
’’تم ان سے جنگ کرو‘اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں‘اور ان کو رسوا کرے گا‘اور تمہاری مدد کرے گا ان کے مقابلے میں اور بہت سے اہل ِایمان کے سینوںکو ٹھنڈک عطافرمائے گا۔‘‘(التوبہ:13)
یعنی اللہ تعالیٰ نے تو صاف صاف ہمیں بتایا کہ اگر تم میرے حکم کے مطابق مظلوموں کی امداد کو نکلو گے تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ان حالات میں اللہ کا حکم ماننے کی بجائے اگر ہم ایسے الفاظ ڈھونڈتے رہیں جن سے دشمن ناراض بھی نہ ہو تو پھر بتائیے کہ دشمن اپنے ظلم کو ظلم کیوں کہے گا ؟اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جب کہا کہ تم غزہ میں نسل کشی کے مرتکب ہورہے ہوتو اسرائیل کے سفیر نے کہا کہ تم استعفیٰ دے کر گھر چلے جاؤ ، تم کون ہوتے ہو ہم سے پوچھنے والے ۔ اسرائیل نے یہاں تک کہا ہے کہ اس نے غزہ ، لبنان اور شام کے جن علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے ان کو وہ کسی صورت چھوڑنے والا نہیں ہے ۔ اسرائیل کو یہ حوصلہ ہم نے خود دیا ہے ۔ اگر مسلم ممالک سے کوئی ایک ملک بھی اس کا ہاتھ جھٹکنے والا ہوتا تو آج وہ اتنی دیدہ دلیری سے ایسے نہ بول رہا ہوتا ۔  
سوال: نیتن یاہو کی تقاریر کے دوران77 ممالک کے سربراہان نے واک آؤٹ کیا ۔ لیکن یہی ممالک فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دنیا میں کوئی مشترکہ آواز کیوں نہیں بلند کرتے؟
رضاء الحق:اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مکمل لائحہ عمل اُمت مسلمہ کودے دیا ہے ۔ سب سے پہلا کام جو اُمت کو کرنا چاہیے اس کے بارے میں فرمایا :
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص}(آل عمران:103) ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ 
لیکن ہم نے اللہ کا حکم ماننے کی بجائے خود کو 57 ٹکڑوں میں تقسیم کرلیا اور اُمت کی بجائے نیشن سٹیٹس بن گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب 77 ممالک نے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران واک آؤٹ کیاتو UAE، بحرین ، مراکش اور آزر بائیجان کے نمائندگان وہاں بیٹھے رہے ۔ ہمارے اسی تفرقے کی وجہ سے دشمن کو حوصلہ ملا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب77 ممالک واک آوٹ کرکے جا رہے تھے تو اس نے کہا کہ یہ سب بزدل ہیں ، جنہوں نے جانا ہے تو جائے۔ یعنی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔  اقوام متحدہ بھی صہیونی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم ہوئی تھی ۔ اس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اور اب اس کی لاش کو کھڑا کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ 2003ء میں سلامتی کونسل نے عراق پر حملے کے خلاف فیصلہ دیا مگر امریکہ اور برطانیہ نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور مل کر عراق پر حملہ کر دیا ۔ اس ادارے کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس کی جنرل اسمبلی سے زیادہ اُن ملاقاتوں کو اہمیت دی جاتی ہے جو اس کے باہر ہوتی ہیں ۔ خاص طو رپر چینی صدر کے دورہ امریکہ کو اس کے اجلاس سے زیادہ اہمیت دی گئی ۔ اسی طرح پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کی میٹنگ کو بھی اہمیت حاصل رہی ۔ نیتن یاہو نے جو تقریر کی اس سے ظاہرہوتا ہے کہ اسرائیل اپنے منصوبوں میں مزید آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہوسکتا ہے مستقبل قریب میں کوئی اور فالس فلیگ حملہ کرکے جنگ کو پھیلایا جائے۔ خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کی چنگاری بھڑکانا اس کے مذموم عزائم میں شامل ہے تاکہ      عرب ممالک مزید امریکہ اور اسرائیل کے چنگل میں پھنس جائیں۔ 77 ممالک جنہوں نے واک آؤٹ کیا وہ بھی فلسطین کے حق میں کوئی متفقہ موقف نہیں رکھتے۔ جیسا کہ اٹلی کی وزیر اعظم ایک طرف فلسطین کا جھنڈا لہراتے ہوئے پھر رہی تھی اور یہاں تک کہہ رہی تھی کہ جو بچوں کا قاتل ہے اس کے ساتھ میں ملاقات نہیں کروں گی لیکن دوسری طرف جب نتین یاہو تقریر کر رہا تھا تو اس نے واک آؤٹ نہیں کیا بلکہ وہاں بیٹھی رہی ۔ جب تک مسلم ممالک خوداللہ کے حکم  کی پیروی کرتے ہوئے تفرقہ ختم نہیں کریں گے اور سب مل کر کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہیں کریں گے تب تک کوئی بھی ان کے لیے آواز انہیں اُٹھائے گا ۔
سوال: وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران جس طرح مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو اُٹھایا ہے اس پر مقبوضہ کشمیر سے حریت کانفرنس اور غزہ سے حماس کے لوگوں نے بھی سوشل میڈیا پر پزیرائی دی ہے ۔ کیا وزیراعظم پاکستان کا یہ خطاب پاکستانی قوم اور اُمت کے دلوں کی آواز تھی ؟
بریگیڈیئر(ر)جاویداحمد:وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں ایک تو ٹرمپ ، چین کے صدر ،   فیلڈ مارشل صاحب اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے لیے تعریفی کلمات ادا کیے ۔ دوسرا انہو ںنے فلسطین اور کشمیر کے متعلق چند خبروں پر اکتفا کیا مثلاً انہوں نے غزہ کی اس معصوم بچی کا دوبارہ ذکر کیا جس کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور فلسطینی بچی کی شہادت کا بھی ذکر کیا جس کا سکول کا پہلا دن اس کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ اسی طرح انہو ں نے کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بھی تذکرہ کیا ، سہارن پور کی 150 سالہ مسجد کی شہادت کا بھی انہوں نے ذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ انڈیا اور اسرائیل کے ان مظالم کے خلاف پاکستان کا کیا ردعمل ہوگا۔ یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ ہم غزہ بورڈ آف پیس میں کیوں شامل ہوئے۔ ان کے وزراء نے تو بڑے دلائل دئیے تھے کہ اگر ہم غزہ بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوں گے تو اہل غزہ کی مدد کیسے  کر پائیں گے ؟پاکستان عالم اسلام کا سب سے طاقتور ملک ہے ، ایٹمی طاقت ہے ، گزشتہ سال بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ، اگر اسرائیل کو دھمکی بھی دے دے تو وہ ظلم کرنے سے پہلے سوچے گا ۔ مگر ہمارا حال یہ ہے ، بقول شاعر ؎
عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
اگر ہم کسی کو ناراض ہی نہیں کرنا چاہتے تو ظاہر ہے پھر جو ظالم ہے وہ اپنا ہاتھ کیوں روکے گا۔ اسی طرح کشمیر کے معاملے میں بھی ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جاکر بتا رہے ہیں کہ کشمیر کے لیے ہماری ہمدردی صرف سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی ہے ۔ گویا وہاں بھی ہم ظالم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارا فوجی لحاظ سے مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اس وقت مدد کرتاہے جب کوئی ظالم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا تو اللہ نے پاکستان کو عزت دی ۔ اگر وہاں بھی ہم صرف مذمت کر لیتے تو پھر دب کر بیٹھے رہنا تھا ۔ 
رضاء الحق: سورۃ المائدہ کی آیت نمبر51 میں اللہ تعالیٰ  واضح حکم دیتا ہے کہ یہودو نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ اور خبردار کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ یہ دوستی کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت نہیں ہوئی ۔  پھر یہ کہ یہودو نصاریٰ تو اپنے طور پر اپنے اپنے مذہبی مشن پر گامزن ہیں ۔ جیسا کہ نیتن یاہو اپنے مشن کو روحانی اور تاریخی مشن قرار دیتا ہے اور تورات اور تلمود سے حوالے بھی اپنی تقریروں میں پیش کرتاہے جبکہ دوسری طرف     مسلم ممالک نے مذہبی مشن کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ نیتن یاہو واضح کہتا ہے کہ ہم نے پورے خطے پر قبضہ کرنا ہے اور  تھرڈ ٹیمپل کو تعمیر کرنا ہے ، اس کے باوجود مسلم ممالک کے حکمران سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ قرآن میں واضح حکم ہے کہ طاغوت کے خلاف لڑو ۔ لیکن ہمارے حکمران لڑنے کے نام سے خوف کھاتے ہیں۔ حدیث میں اس کی وجہ بیان ہوئی ہے : ((حب الدنیا وکراہیۃ الموت )) ’’دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔‘‘ جب تک اس مرض سے نہیں نکلیں گے تو ہم دنیا میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ 
سوال:نائن الیون کے بعد امریکہ نے 20 سال تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ، پاکستان اس کا فرنٹ لائن اتحادی بنا ۔ 5 سال قبل امریکہ افغانستان سے چلا گیا لیکن پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ابھی بھی ہورہے ہیں بلکہ کچھ عرصہ سے ہمارے دو صوبے اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔ یہ دہشت گردی ختم  نہ ہونے کی اصل وجوہات کیا ہیں ؟
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ: ایک تو یہ کہ امریکہ جاتے ہوئے وہاں اسلحہ چھوڑ کر گیا جو آج دہشت گردوں کے استعمال میں ہے ۔ یہی اسلحہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کرکے دہشت گرد سرمایہ حاصل کرتے ہیں ۔ وہ جدید ترین اسلحہ ہےجو ہمارے سکیورٹی اداروں کے پاس بھی نہیں ہے۔ انڈیا بھی موجودہ افغان حکومت کے قریب آچکا ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق TTPکے اس وقت 6ہزارتربیت یافتہ جنگجو ہیں ۔ اسی طرح بلوچستان میں انڈین پراکسیز موجود ہیں۔اگر دہشت گردی میں ملوث کلبھوشن یادیو جیسا حاضر سروس آفیسرپاکستان کا پکڑا جاتا تو کیا انڈیا اس طرح اس معاملے کو دبا دیتا ؟ وہ تو پوری دنیا میں شور مچاتا ۔ لیکن ہم نے اس معاملے کو دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔ پھر یہ کہ امن قائم کرنے کے لیے سیاسی سطح پر جو فیصلے ہوتے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا ۔ ماضی میں قومی اسمبلی کی جانب سے جو امن کمیٹی بنائی گئی تھی ، اس کا میں بھی رکن تھا ، پہلے اجلاس میں جو ایکشن پلان بنایا گیا تھا، دوسرے اجلاس میں پتہ چلا کہ اس پر عمل ہی نہیں ہوا ۔ ہر شہر میںاگر پانچ ہزار سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں تو ان میں سے اڑھائی ہزار کام نہیں کر رہے ہوتے ۔ یہ کرپشن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اسی طرح سپیشل فورسز بھی بنائی گئیں ، ریپڈ فورسز بھی بنائی گئیں لیکن ان سے اس طرح کام نہیں لیا گیا جس طرح لیا جانا چاہیے تھا ۔ پولیس کا نظام بھی درست نہیں ہے۔ جب کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو جاتاہے تو اس وقت ہمیں پتہ چلتا ، پہلے ضروری اقدامات نہیں کیے جاتے۔ بلوچستان میں خاص طور پر بے روزگاری کی وجہ سے بھی نوجوان دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے جو فیصلے ہوئے تھے ان پر عمل نہیں ہوا ۔ 
سوال:پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سینکڑوں نہیں ہزاروں انٹیلی جنس بیسٹ آپریشنز ہوتے ہیں ،بارڈر مینجمنٹ سسٹم ہے ، آہنی باڑھ کئی کلومیٹرز تک لگائی گئی ہے ، اس کے باوجود دہشت گرد پاکستان میں داخل کیسے ہو رہے ہیں؟
رضاء الحق: کوئی بھی شخص پیدائشی دہشت گرد نہیں ہوتا۔ جب کہیں عوام کو اُن کا حق نہیں ملتا تو پھر ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ جہاں 60 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہوں ، وہاں جب باہر سے ڈالرز آئیں تو اس کی کشش بھی بے روزگاروں کو کھینچتی ہے ۔ کہیں پر نظریاتی کشمکش لوگوں کو اس طرف لے جاتی ہے ۔ یہ سارے اسباب حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی اور کمزوریوں  کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ہماری حکومتوں نے 20 سال تک امریکہ کا ساتھ دیا ، اپنے لوگوں پر ڈرون حملے کروائے ، آپریشن کی وجہ سے لوگ بے گھر ہوئے ۔ پھر ان ناراض لوگوں کو دہشت گردی کی طرف لانے کے لیے انڈیا کے بھی 18 قونصل خانے افغانستان میں موجود تھے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارا 2640کلو میٹر اور ایران کے ساتھ 909کلومیٹر بارڈر لگتاہے ، اتنی طویل سرحد پر  فینسنگ اور پٹرولنگ بھی آسان نہیں ہے ۔ BLAاور BNAکے دہشت گرد سرحد کے دونوں جانب متحرک ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ہم نے کیپسٹی بلڈنگ نہیں کی۔ہم نے جن علاقوں کو کلیئر کیا تھا وہاں  سویلین ایڈمنسٹریشن کو بھی انسٹال نہیں کیا۔ دہشت گردوں  کے پاس جدید اسلحہ ہے جبکہ پولیس جدید سہولیا ت سے محروم ہے ۔ دوسری طرف موجودہ افغان حکومت ابھی غیر مستحکم ہے ۔ 50 ہزار افغان طالبان کیسے اتنے بڑے ملک کو سنبھالیں گے اور سرحدپر بھی مکمل نگرانی کر سکیں گے لیکن انہیں بھی ذمہ داری سے کام لینا ہوگا ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ملاعمر ؒ کے دور میں پاک افغان تعلقات جس سطح پر تھے ، اسی طرح کا بھائی چارا دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مغربی بارڈر سے ہمیں کوئی خطرہ نہ ہو ۔ چین نے اس سمت میں کوشش کی تھی ، ایسی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ 
سوال: بیرونی حملہ آاور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اصل قوت، طاقت اور صلاحیت کہاں سے حاصل کر رہے ہیں؟
بریگیڈیئر(ر)جاویداحمد: آج تک پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ، ان کا سراغ افغانستان اور انڈیا تک جاتاہے۔ بھارتی وزیراعظم اور دیگر عہدیداران کے بیانات میں بھی اکثر یہ انکشاف ہوتا رہا ہے ۔ بعض اوقات تو دہشت گردی کا کوئی واقعہ بعد میں ہوتا تھا ، بھارتی میڈیا پر خبر پہلے چل پڑتی تھی۔اب تو پاکستان نے دہشت گردی کا نام ’’فتنۃ الہندوستان‘‘  رکھ دیا ہے ۔ ان دہشت گردوں کو اسلحہ، ڈالرز اور تربیت دینے میں بڑی طاقتیں بھی ملوث ہیں ۔ افغانستان کی سرزمین ان کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن افغان حکومت ان کو کنٹرول نہیں کر رہی ۔ اس حوالے سے ہمارے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہماری حکومت نے مذاکرات میں زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے ہم کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں لیکن افغانستان کےساتھ ہمارے صرف 8 دن مذاکرات ہوئے ہیں ۔ اس کے    بعد 8 ماہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ۔ اس دوران ہم   نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباریاں بھی کیں ،  انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھی کیے ، اس کے باوجود اگر   دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے تو پھر ہمیں  مذاکرات کے حوالے سے بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ دراندازی صرف افغانستان سے نہیں ہورہی بلکہ ایران اور سمندر کے راستے بھی ہو سکتی ہے ، اتنے بڑے ایریا میں آپ دراندازی کو نہیں روک سکتے جب تک کہ اس کی جڑ کو نہ پکڑیں۔ جب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ اس کے پیچھے ہندوستان ہے تو پھر ہم ہندوستان سے پوچھ کیوں نہیں رہے کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو ؟جیسے کینیڈا نے کیا تھا کہ ایک سکھ لیڈر جب وہاں قتل ہوا تو کینیڈین وزیراعظم نےکسی دہشت گردتنظیم ، ایجنسی یا ملک کا نام لینے کی بجائے براہ راست نریندر مودی کو مورد الزام ٹھہرایاجس پر انڈیا بہت تلملایا مگر کینیڈا ڈٹا رہا ، اس کے بعد وہاں کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔ پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے ۔ 
سوال:پاکستان کے خلاف جوبھی متحارب قوتیں ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کا آپشن کیا اب بھی کارگر ہو سکتاہے ؟ 
رضاء الحق:مذاکرات کا دروازہ تو کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں ، صلح حدیبیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آج جس طرح بھارت اور پاکستان کے درمیان دشمنی ہے کسی زمانے میں برطانیہ اور آئر لینڈ بھی دشمن تھے ، مذاکرات کے ذریعے ان کی دشمنی ختم ہوئی ۔ ہم نے دہشت گردی کی اصل جڑ تو پکڑ لی ہے لیکن اس جڑ کو کاٹنے کا مناسب طریقہ بھی ڈھونڈنا چاہیے۔ علیحدگی پسند گروہوں  کے ساتھ بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔ ناراض گروہوںکو بھی مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس مقصد کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا ، اس کے حصول کی طرف پیش رفت کی جدوجہد ہو تو پاکستان میں استحکام آئے گا اور TTPسمیت جو نظریاتی انتشار ہے وہ بھی ختم ہوگا ۔ 
اپنی ملت پر قیاس ہے قوم مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
 طالبنائزیشن کا اصل رد اسلامائزیشن میں ہے۔جب اسلام نافذ ہوگاتو ان کے پاس دہشت گردی کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔