(منبرو محراب) خدمت ِ خلق کا حقیقی تصور اور مغربیت کا تضاد - ابو ابراہیم

14 /

خدمت ِ خلق کا حقیقی تصور اور مغربیت کا تضاد


(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر ِتنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے25ستمبر2026ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اسلام دین ِ فطرت ہے جو انسانیت کی فلاح ، خدمت اور بھلائی کی جس قدر تعلیم دیتاہے اور جس قدر خیر کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے ، کسی اور مذہب یا انسانی عقل کی بنیاد پر بنائے گئے نظاموں میں اس کا تصور بھی نہیں مل سکتا ۔  مگر آج مغرب سے مرعوبیت اور غلامانہ ذہنیت اس قدر پروان چڑھ چکی ہے کہ ہماری عظیم اکثریت اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ سوشل ویلفیئر یا خدمتِ خلق کا تصور مغرب سے آیا ہے ۔ اسی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے آج یہ سلوگن بھی ہمارے معاشرے میں عام ہورہا ہے کہ : 
"Humanity is my religion."
آج ہم بھی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مخلوق کے کام آنا ، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ، انسانوں سے اچھا برتاؤ کرنا ، انسانوں کی خدمت کرنا ہی اصل دین ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گویا کہ اسلام کو دین ماننے میں ہمیں  شرم آتی ہے ۔ وہ رب جو تمام جہانوں کا خالق اور مالک ہے ، جس نے انسان کو پیدا کیا ، اُسی نے انسانوں کے لیے دین اسلام عطا کیا ، اُس سے بہتر کون جانتا ہے کہ انسانوں کے لیے بھلائی کس میں ہےاور دین کے تقاضے کیا ہیں ؟ اللہ کے آخری رسول ﷺ ، جورحمت اللعالمین ہیں ، آپ ﷺ سے بڑھ کر کون انسانوں کا خیر خواہ ہو سکتاہے ، آپ ﷺ نے جس دین کی تعلیم دی ، اُس سے بڑھ کر کونسادین انسانوں کے لیے بہتر ہو سکتاہے ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتایا ہے کہ انسان کو اللہ نے اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے ، انسان کی اصل فلاح اُخروی کامیابی میں ہے ۔ آخرت کی تیاری کے لیے اسے زمین پر بھیجا گیا ہے ۔(گویا دنیا کی زندگی ایک امتحان ہے) لہٰذا وہ حقوق جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائے ہیں وہی انسانیت کی فلاح اور حقیقی کامیابی کے ضامن ہیں ۔ مادر پدر آزادی والے حقوق جن کا تصور مغرب سے آتا ہے ،کبھی انسانیت کی فلاح کے ضامن نہیں ہو سکتے ۔ ان تصورات کی وضاحت کے لیے آج ہم ان شاء اللہ دو احادیث مبارکہ کا مطالعہ کریں گے ۔ پہلی حدیث جامع ترمذی سمیت حدیث کی کئی کتب میں موجود ہے ۔ اس کے راوی حضرت ابوہریرہ ؄ ہیں ۔ ان کے بقول نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : 
((أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟))’’اے میرے صحابہؓ   کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟‘‘
 صحابہؓ نے حضورؐ کے سامنے بات رکھی:
(( الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ)) ’’اے اللہ کے رسولﷺ! ہم تو مفلس اس کو سمجھتے ہیں جس کے پاس درہم نہ ہو، مال و دولت، ساز و سامان نہ ہو۔‘‘
(( فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا))’’فرمایا: میری اُمت کا مفلس وہ ہو گا جو روز قیامت اس حالت میں آئے گا کہ اس نے بہت سی نمازیں ادا کی ہوں گی ، روزے رکھے ہوں گے ، زکوٰۃ ادا کی ہوگی مگر اُس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا ۔ 
اب دیکھئے یہاں جو بات آرہی ہے ، اس میں دین کا ویژن کلیئر ہو جاتاہے کہ یہ کس طرح کا تصورِ حیات دیتا ہے اور انسانی زندگی میں ترجیحات کیا ہونی چاہیں۔ مادہ پرستانہ سوچ رکھنے والا یہی کہتا ہےکہ مال و دولت ، جائیداد وغیرہ ہے تو عزت ہے ، اگر یہ نہیں ہے تو مفلس ہے ۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ فرمارہے ہیں کہ اصل مفلس وہ ہوگا جو روز قیامت اس حالت میں اُٹھایا جائے گا کہ اس نے بہت سی عبادات کی ہوں گی مگر ساتھ حقوق العباد کا خیال نہ رکھا ہوگا ۔ کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کا دل دکھایا ہوگا ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، بہتان لگایا ہوگا ، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا۔ آج ہم دیندار اُس شخص کو کہتے ہیں جو نماز ، روزہ کا اہتمام کرتاہے ،  چاہے وہ شراب بھی پیتا ہو، جوا بھی کھیلتا ہو، رقص و سرور کی محفلوں میں بھی جاتا ہو، سود خوری بھی کرتا ہو، رشوت خوری بھی کرتا ہولیکن نماز پڑھتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ نمازی ہے ۔ حالانکہ نماز عبادات میں سے ایک اہم ترین عبادت ضرور ہے لیکن اللہ کی عبادت یعنی بندگی، مسجد کے باہر بھی اُتنی ہی لازم ہے جتنی مسجد کے اندر لازم ہے ۔ آج ہم نے عبادت کو صرف مسجد تک محدود سمجھ لیا ہے ۔ باہر نکل کر ہم کتنے لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں ، کتنی گالیاں دی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر کتنے لوگوں کی عزتیں اُچھالی جاتی ہیں ، کتنے لوگوں پر بہتان لگائے جاتے ہیں ۔ کتنے لوگوں کا مال ہڑپ کیا جاتاہے ۔ اور تو اور ہمارے ملک میں کرپشن کو روکنے کی ذِمّہ داری جس ادارے (FBR)کو سونپی گئی ہے ، اُسی کے چیئرمین کہتے ہیں کہ 13سوارب روپے کی کرپشن اس ادارے میں ہوئی ہے ۔باقی لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ اعلیٰ سطح پر گویا لوٹ مار کی ریس لگی ہے ، دین دشمنوں کے ساتھ ڈیلز ہورہی ہیں ، قوم کو بیچ کر پیسہ کمایا جارہا ہے ۔ عام عوام کا کیا حال ہوگا ۔ یہی وجہ ہے ،چوری، ڈاکے ، ذخیرہ اندوزی ، زمینوں پر قبضے اور ہر طرح کا ظلم اور ناانصافی ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ اگر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج بھی ہورہا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمادیا کہ ایسا شخص روز قیامت حقیقی معنوں میں مفلس ہوگا ۔ آگے فرمایا : 
(( وَسَفَكَ دَمَ هَذَا)) اور کسی کا خون بہایا ہوگا۔
آج ہمارے شہروں میں کتنی لاشیں گررہی ہیں ۔ یہاں تک کہ سو سو قتل کا اقرار کرنے والے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں ۔ ایک ادارے نے کہا ہم نے 6 ہزار ٹارگٹ کلر پکڑے مگر ایک کو بھی سزا نہیں ہوئی ۔ خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک ایک بندے کی جان کتنی قیمتی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے خانہ کعبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : اے کعبہ !تو اللہ کی نگاہوں میں کس قدر محترم ہے لیکن اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی جان تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نگاہوں میں محترم ہے۔ زیر مطالعہ حدیث میں آگے فرمایا : 
(( وَضَرَبَ هَذَا))  یا مار پیٹ کی ہوگی ۔ 
آج مارپیٹ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،کرائے کے غنڈے اور بدمعاش گھروں میں گھس کر مار پیٹ کر رہے ہیں ، پیچھے کہیں قبضہ مافیا ہوتاہے ، کہیں بگڑے ہوئے نواب زادے معمولی بات پر کسی راہ گیر پر گولی چلا دیتے ہیں ۔ اللہ کے دین نے ایسے جرائم کے سدباب کے لیے شرعی سزائیں مقرر کی تھیںتاکہ لوگوں کی جان ، مال ، عزت اور آبرو محفوظ ہو ۔ آج یہ سزائیں نافذ نہیں ہیں تو جان ، مال ،  عزت اور آبرو کچھ بھی محفوظ نہیں ہے ۔ آگے فرمایا : 
(( فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، )) تو (اُس کا بدلہ )اس کی نیکیوں میں سے (ہر ) اُس شخص کو دیا جائے (جس کا حق مارا گیا ہوگا)۔ 
روزِ قیامت جب پیشی ہوگی تو ایسے شخص کے نماز ، روزہ ، زکوٰۃ سمیت جتنی بھی عبادات کی ہوں گی ، جتنی بھی نیکیاں کی ہوں گی، ان میں سے ہر اس شخص کو بدلا دیا جائے گا جس کو گالی دی ہوگی ، جس پر بہتان لگایا ہوگا ، نا حق مارپیٹ کی ہوگی ، جس کا مال کھایا ہوگا یا کسی کے ساتھ جو  بھی ظلم کیا ہوگا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ وہاں درہم اور دینار بندے کے کام نہیں آئیں گے۔ کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی ۔ نہ باپ مدد کے لیے آئے گا ، نہ ماں نہ اولاد اور نہ ہی کوئی دوسرا عزیز ۔ ہر بندے نے اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا(95)}(مریم) ’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
وہاں روپیہ پیسہ کام نہیں آئے گا ، صرف اعمال کی کرنسی ہی کام آئے گی اور جس کے ساتھ ظلم کیا ہوگا اُس کا بدلہ اپنے اعمال سے دینا ہوگا ۔ آگے فرمایا : 
((فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ)) ’’اور اگر اس پر جو ذِمّہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا۔ ‘‘
یہ دنیا دارالامتحان ہے ۔ دارالجزاء آخرت ہے۔ ہر ایک کے کیے کا بدلہ وہاں ملے گا ۔ مظلوموں کی دادرسی کے لیے اللہ تعالیٰ ظالم کے نیک اعمال میں بدلہ دلوائے گا اور جب اُن کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہوں کا بوجھ ظالموں پر ڈال دیا جائے گا ۔ اس طرح اُس بندے کے کھاتے میں سوائے گناہوں کے کچھ نہ بچے گا جس کے دنیا میں نماز ،ر وزہ تو بہت ہوں گے لیکن ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالا ہوگا ، اس طرح وہ حقیقی معنوں میں مفلس ترین آدمی بن جائے گا ۔ آگے فرمایا : 
(( ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّار)) ’’پھر اس کو اٹھا کر جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ‘‘
یہاں اللہ کا دین ہمیں بتا رہا ہے کہ اللہ کی عبادت بھی ضروری ہے لیکن ساتھ بندوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ورنہ صرف عبادات کام نہیں آئیں گی اور روزِ قیامت اُس کے تمام نیک اعمال بندوں کے حقوق کے بدلے میں دے دئیے جائیں ، پھر بھی اگر ازالہ نہ ہوا تو لوگوں کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈالے جائیں گے اور اس کا انجام درد ناک عذاب ہوگا ۔ آج ہم مغرب سے انسانی حقوق کا سبق لیتے ہیں حالانکہ اللہ کے دین میں جو تعلیم موجود ہے اس سے بڑھ کر نیکی اور بندوں کے حقوق کا تصور کہیں بھی نہیں مل سکتا ہے ۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اللہ کے حقوق کوہلکا سمجھ لیں ۔ یہ سارے احکامات اللہ کے ہیں۔بندوں کا حق ادا کرنا اللہ کا حکم ہے، یہ مخلوق کی وجہ سے نہیں خالق کی وجہ سے کرنا ہے۔روز ِقیامت اللہ کے سامنے ہی پیش ہونا ہے اور تمام حقوق کے بارے میں جواب دہ ہونا ہے ۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے حق کے بارے میں ہی پوچھے گا ۔ قیامت کے دن پہلا سوال    نماز کے بارے میں ہوگا ۔ بعض لوگ حقوق اللہ کو      بائی پاس کرکے صرف حقوق العباد کی بات کرتے ہیں، یہ بھی غلط تصور ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اصلاح کی توفیق    عطا فرمائے اس سے پہلے کہ کل اللہ کے سامنے کھڑے    ہوں اور ندامت و شرم ساری ہو،اللہ اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ 
دوسری حدیث مبارک
یہ حدیث قدسی ہےجس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور ایک بندے کے درمیان ہونے والے مکالمہ کو نقل فرمایا ہے ۔یہ روایت صحیح مسلم سمیت دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہے ۔ اس کے راوی بھی حضرت ابوہریرہ ؄ہیں ۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : 
((  إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي،))’’بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: اے آدمؑ کے بیٹے! میں بیمار ہو گیا تھاتو نے میری عیادت نہیں کی۔ ‘‘
بندہ عرض کرے گا: ((يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ )) ’’اے رب! میں تیری عیادت کیسے کر سکتا ہوں؟تو تو رب العالمین ہے۔ ‘‘
(( قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟))’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھے پتہ ہے میرا فلاں بندہ بیمار ہو گیا تھا اور تو نے اُس کی عیادت نہیں کی۔کیا تجھے خبر ہے، اگر تو نے اُس بیمار بندے کی عیادت کی ہوتی تو مجھے اُس کے پاس پا لیتا!‘‘
مرادیہ ہے کہ اگر وہ شخص بیمار بندے کی عیادت کرتا تو اللہ کی رضااور خوشنودی اُس کو مل جاتی ۔ پھر اللہ فرمائے گا:
(( يَا ابْنَ آدَمَ،اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي،))
’’اے ابن آدمؑمیں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔‘‘
 بندہ عرض کرے گا:
(( وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟)) ’’میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ تو تو رب العالمین ہے۔ ‘‘
(( قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟))’’رب فرمائے گا :تجھے خبر ہے میرے بندے اگر تو نے اس میرے بندے کو کھلایا ہوتا تو مجھے اُس کے پاس پا لیتا۔‘‘ 
معلوم ہوا کہ بیمار کی عیادت کرنا یا بھوکے کو کھانا کھلانا اللہ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو تو نہ بھوک کی حاجت ہے اور نہ ہی کوئی بیماری یا نیند آسکتی ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی شان یوں بیان فرماتا ہے : 
{وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ ط}(الانعام:16)  ’’ اوروہ کھانا کھلاتا ہے‘ اُسے کھلایا نہیں جاتا۔‘‘
نصاریٰ کا عقیدہ تھاکہ حضرت عیسیٰ ؈خدا ہیں اور خدا کے بیٹے ہیں ۔ اللہ نے اس باطل عقیدے کا رد  تین الفاظ میںکردیا ۔ فرمایا:
{کَانَا یَاکُلٰنِ الطَّعَامَ ط} (المائدہ:75) ’’ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔‘‘
حضرت عیسیٰ ؑ اور بی بی مریمؑ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ یعنی کھانا ، پینا ، سونااور دیگر حاجات بندے کو لاحق ہوتی ہیں ۔ اللہ ان چیزوں سے پاک ہے ۔ زیر مطالعہ حدیث میں اللہ تعالیٰ اپنی خوشنودی اور رضا کو بندوں  کے حقوق کی ادائیگی سے جوڑ رہا ہے ۔ حدیث میں آگے فرمایا : 
(( يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، قَالَ يَا رَبِّ: كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ، فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟))
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اے آدم ؑ کے بیٹے! مجھے پیاس لگی تھی، تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ عرض کرے گا: اللہ!    میں تجھے کیسے پلاتا؟ تو رب العالمین ہے، تجھے پانی کی، پیاس کی کیا حاجت؟ اللہ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو نے اس کو پانی نہیں پلایا، اگر تو نے اسے پانی پلایا ہوتا تو اُسے میرے پاس پا لیتا۔ ‘‘
ایک اور روایت میں چوتھی بات بھی ہےکہ     اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’اے میرے بندے! میں بے لباس تھا ، تو نے مجھے لباس نہ پہنایا۔ بندہ عرض کرے گا: مالک! تو تو رب ہے، تجھے لباس کی کیا حاجت؟ اللہ فرمائے گا: میرے فلاں بندے کو لباس کی حاجت تھی، اگر تو نے اُسے لباس پہنایا ہوتا تو مجھے پا لیتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو تو لباس کی حاجت نہیں ہے لیکن اللہ کے بعض بندوں کو لباس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ غریب ، مسکین ، یتیم جن کے پاس ذریعہ روزگار نہیں ہوتا ۔ وہ محتاج ہوتے ہیں ۔ ان کے لباس کا بندوست کرنا اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوا کرتاہے ۔ 
یہ ساری تعلیمات ہمارا دین عطا کرتاہے ۔ ان سے بڑھ کر خدمت ِخلق کا تصور کہاں سے ملے گا ؟ اس کے بعد ہمیں مغرب کا ذہنی غلام بننے کی کیا ضرورت ہے ۔ ان احادیث میں کس قدر موٹیویشن ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بھوکوں کو کھانا کھلانے ، پیاسوں کو پانی پلانے ، بیماروں کی عیادت کرنے ، محتاجوں اور مسکینوں کے لیے لباس کا انتظام کرنے اور اسی طرح اللہ کے بندوں کے دیگر حقوق کو ادا کرنے کو براہ راست اللہ کی خوشنودی اور رضا سے جوڑ دیا ۔ اس میں ایک بڑی تعلیم یہ بھی ہے کہ خدمت ِخلق کا جذبہ اچھی بات ہے لیکن اس کا واحد مقصد رب کی رضا ہونی چاہیے ۔آج تو سوشل میڈیا پر خوب پزیرائی حاصل کرنے، لائکس اور فالورز حاصل کرنے کے لیے ’خدمت ِ خلق‘ کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی جاتی ہیں۔ دنیا کو پتہ کیسے چلے گا، ہم خدمت خلق کر رہے ہیں ۔ یہ سوچ اور نیت اگر ہو تو اس کا آخرت میں کوئی صلہ نہیں ملے گا ۔ مغرب کے خدمت ِخلق کے تصور میں یہ سب خرابیاں موجود ہیں ۔ وہاں اس جذبے کی کوئی پائیدار اور ٹھوس بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اسلام خدمت ِخلق کی جو تعلیم دیتاہے ، اس میں دکھاوا نہیں ہے ، ریا کاری نہیں ہے ۔ اسلام کہتاہے کہ اگر کسی کو ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے ۔ یعنی نیت صرف’’ رب کی رضا ہو‘‘ ۔اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں اور خلافت ِراشدہ کے دور میں خدمت ِخلق کی جو مثالیں قائم ہوئیں ، کیا پوری دنیا کی تاریخ میں ان کی مثال کہیں مل سکتی ہے ؟ یہاں تک کہ خلیفۂ وقت رات کو گشت کیا کرتے تھے کہ کوئی بھوکا تونہیں سویا ، کوئی کسی تکلیف میں تو مبتلا نہیں ہے ۔ پھر اپنے کندھوں پر کھانے پینے کا سامان اُٹھا کر ضرورت مندوں کو پہنچاتے ۔ آج ہمارے بعض لوگ مغرب سے مرعوب ہو کر کہتے ہیں بل گیٹس وغیرہ کی مثالیں  دیتے ہیں جبکہ ہم بھول جاتے ہیں پچھلے 100 برسوں   میں دنیا میں سب سے زیادہ خون بھی مغرب نے ہی بہایا ہے ، دنیا کے وسائل پر ، زمینوں ، جاگیروں اور ملکوں پر قبضے مغرب نے کیے ہیں ، دوسروںکا مال ناجائز طور پر مغرب نے لوٹا ہے ۔ مسلمانوں کا سب سے زیادہ خون مغرب نے بہایا ہے ۔ عراق ، شام ، لبنان ، افغانستان ، لیبیا ، سوڈان ، کشمیر ، برما ، فلسطین میں مسلمانوں کی نسل کشی مغرب نے کی ہے ۔ یہ کونسی خدمت ِخلق ہے ؟ اس سب کے باوجود ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہےکہ ہم مغرب کو خدمت ِخلق کے تصور سے جوڑیں ۔ اللہ تعالیٰ  ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین یا رب العالمین !