(اداریہ) تنظیم اسلامی اور ملکی سیاست - رضا ء الحق

14 /
 اداریہ

رضاالحق
 
تنظیم اسلامی اور ملکی سیاست
 
تنظیم اسلامی حکومت سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، ریاستی اداروں اور عوام کے عمومی مزاج و فیصلوں پر تبصرہ کرتی ہے اور نصح و خیر خواہی کے جذبہ کے تحت مشورہ بھی دیتی ہے۔ سیاست ہمارے دین کا حصّہ ہے۔ اسلام دین ہے، مذہب (religion) نہیں۔ دینِ متین میں جہاں انفرادی سطح کے معاملات پر رہنمائی دی گئی ہے وہیں اجتماعی سطح کے معاملات بشمول سیاست کے حوالے سے بھی رہنمائی موجود ہے۔ باطل نظام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور اُس کی جگہ اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے قیام کی پُرامن اور غیر مسلح انقلابی جدوجہد کے قائل ہونے اور اُس کی کوشش کرنے کے ناطے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ  تنظیم ِاسلامی کے سیاسی تبصروں اور عام سیاسی تجزیہ کاروں میں واضح فرق رہے۔ ہم جذبات میں گم نہ ہو جائیں، ہم اپنے تجزیوں میں سطحی باتوں میں نہ کھو جائیں۔ باطل نظام سے فائدہ اُٹھانے اور اُس کے  زیرِ سایہ پروان چڑھنے، دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے، کبھی مار کھانے تو کبھی خود مارنے اور نظام کو بدلنے کی بجائے اُسے چلانے کی داعی سیاسی جماعتوں کی کنویسنگ(canvassing) نہ کریں۔ ہمارے سیاسی تبصروں میں وقار اور مقصدیت ہر حال میں پیش نظر رہے۔ ہم عدل کے پیمانے کو بھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور ملکی و ملی مفاد کے حوالے سے بھی تبصرہ کریں۔ ہم حتیٰ الامکان اصولی، عادلانہ اور     حق بات کہنے کی سعی کریں۔ ہر قسم کے تعصب اور طرف داری سے اجتناب کریں۔ حق بات ضرور کہی جائے لیکن اِس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ نیت و ارادہ بھی برحق ہو اور بات کا انداز بھی شائستہ و برموقع ہو۔ دوسری طرف ہر غلط قدم یا فیصلہ پر تنقید کی جائے لیکن تنقید میں بھی انداز تعمیری ہو اور کسی کی طرف داری نہ کی جائے۔ سب کے غلط فیصلوں پر تنقید کی جائے۔ تنقید میں بھی دینی وقار و اخلاق      کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔ بدکلامی، اشتعال انگیز رویہ اور خواہ مخواہ کی محاذ آرائی کا رویہ انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ہمارے سیاسی تبصروں میں مفاد پرست سیاست دانوں کی سر پھٹول کا عکس نظر نہ آئے اور نہ ہی یہ ہمارا مطمحِ نظر ہے۔ بقول بانیٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ ہر ذی شعور انسان سیاسی بصیرت ضرور رکھتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے جرائد میں مختلف زاویوں سے تحریر کی گئی سیاسی آراء کو بھی شامل کرتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ادارہ اُن آراء سے متفق ہو۔ سنجیدہ اور باشعور (mature) معاشروں میں اختلافِ رائے، تفرقہ تک نہیں پہنچا کرتا! ہمارے تبصروں میں یہ بات خاص طور پر پیش نظر رہے کہ غلبۂ دین کی جدوجہد ہمارا ہدف ہے اور قیامِ پاکستان درحقیقت اس منزل کا پہلا نشان ہے۔ پھر یہ کہ اقامتِ دین کی جدوجہد بھی ہمارا ہدف تو ہے نصب العین نہیں۔ نصب العین تو ہر مسلمان کا یہی ہونا چاہیے کہ اللہ راضی ہو جائے اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے نجات حاصل ہو جائے۔ یہی اصل کامیابی ہے۔ مختصر یہ کہ تنظیم اسلامی ’نظری سیاست‘ اور عملی میدان میں ’غیرمسلح، پُرامن انقلابی جدوجہد‘ کی قائل ہے۔ پاکستان میں نظام کی تبدیلی کے لیے عملی میدان میں بیلٹ اور بُلٹ کے ہم قائل نہیں۔ ہمارے نزدیک بیلٹ کا راستہ (انتخابی سیاست) سے تو صرف چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں، اور بُلٹ کا راستہ پاکستان کے معروضی حالات اور مسلمانوں کے ملک ہونے کے باعث قابلِ عمل نہیں بلکہ فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ جب تک اسلامی انقلاب برپا نہیں ہو جاتا، حکومت اور ریاست تو بہرحال چلے گی اور چلانے کے راستے جمہوریت، آمریت یا بادشاہت ہیں۔ ہمارے نزدیک اسلامی انقلاب آنے سے قبل آمریت اور بادشاہت دونوں کے مقابلے میں (لنگڑی لولی ہی سہی) جمہوریت بہرحال کم تر برائی (lesser evil) ہے۔ اگلی بات یہ ہے کہ عوام کے حقوق کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے اور کسی سیاسی جماعت یا اُس کے حامیوں اور ووٹرز، سپورٹرز پر جبر نہ ہو۔ ہم ہر فورم پر ہر ایسے جبر کے خلاف آواز اُٹھاتے رہے ہیں اور اُٹھاتےرہیں گے۔ ان شاء اللہ! آئین و قانون کے مطابق صاف، شفاف اور غیر جانب دار انتخابات کا انعقاد ہو اور انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ تنظیم اسلامی پُرامن، غیر مُسلح اسلامی انقلاب کو برپا کرنے کے لیے اپنے اصولی مؤقف اور منہج پر قائم ہے اور رہے گی۔ اِس حوالے سے کسی اور موقع پر بات کریں گے۔ ان شاء اللہ!
قصہ کوتاہ موجودہ فرسودہ نظام کی بربادی اور تباہی بالکل واضح ہوچکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی سے پہلے جب ہم مکمل طور پر انگریزوں کے غلام تھے ۔ اُس وقت سیاسی لحاظ سے مسلمان ایسے شکنجے میں تھے کہ دم نہیں مار سکتے تھے۔  لیکن ’آزادی‘ کے 79 برس بعد بھی ہم سیاسی حوالے سے اپنے قیام کی بنیاد یعنی اسلام کو بحیثیت نظام نافذ نہیں کر پائے۔ مغرب کا سیکولر جمہوری طرزِ حکومت آج سکہ رائج الوقت ہے، لیکن دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے حالات، ماحول، جغرافیائی ہیئت اور اپنی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرزِ حکومت کو اپنی ضروریات کے تحت ڈھال کر اپنایا ہے۔ برطانیہ میں پارلیمانی نظام ہے۔ یورپ میں کہیں متناسب نمائندگی ہے، کہیں صدر اور وزیراعظم دونوں موجود ہیں اور اختیارات کی ایک خاص تقسیم ہے اور کہیں امریکہ کی طرح خالص صدارتی نظام ہے۔ چین اور روس بھی جمہوریت کے دعوےدارہیں، اگرچہ وہاں پر شہری حکومت سازی کے لیے ووٹ نہیں دے سکتے، صرف پارٹی کے ارکان ووٹ ڈالتے ہیں۔ لہٰذاروس کے صدر ولادیمیرپیوٹن 2036ء تک صدر رہیں گے اور چین کے صدر  شی جِن پنگ تا حیات صدر ہیں۔ 
ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد نہ آئو دیکھا نہ تائو اپنے سابق حکمرانوں کی طرح پارلیمانی جمہوری طرزِ حکومت کا ڈول ڈال دیا۔ اگرچہ یہی غلطی بھارت نے بھی کی لیکن بعض وجوہات کی بناء پر اُنہیں یہ غلطی ابتدا میں اتنی مہنگی نہ پڑی۔ اولاً اس لیے کہ اُنہوں نے آزادی کے فوراً بعد جمہوریت دشمن جاگیرداری نظام کی جڑکاٹ دی۔ ثانیاً یہ کہ جس طرزِ حکومت کو اُنہوں نے اپنایا یعنی جمہوریت وہ کسی حد تک اس کے ساتھ مخلص رہے۔ پھر یہ کہ بھارت کے سیاست دان بھاگ بھاگ کر جی ایچ کیو نہیں جاتے کہ مخالف سیاست دانوں کی شکایتیں لگائیں اور نہ ہی اُن کی فوج ’’پیارے ہم وطنو‘‘ کہنے کے لیے تیار بیٹھی ہوتی ہے۔ ثالثاً یہ کہ ہندو کے پاس اپنا کوئی نظام نہیں تھا، اُسے کہیں نہ کہیں سے تو نظام مستعار لینا ہی تھا، لہٰذا سکہ رائج الوقت کو اپنے ہاں نافذ کرلیا جس سے اُنہیں دنیا کی مدد بھی دستیاب ہوگئی۔ تاہم بھارت بھی اب بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھ آچکا ہے۔ بہرحال ہمارا معاملہ یہ ہوا کہ ہم نے اُن کی بھی نہ سنی جنہیں ہم مصورِ پاکستان کہتے ہیں۔ جو اس دارِفانی سے کوچ کرنے سے پہلے کہہ گئے۔ ع 
’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ‘‘
مزے کی بات یہ ہے کہ جمہوریت پر ایمان کے جتنے نعرے ہمارے سیاست دانوں نے لگائے، یورپ اور امریکہ میں کسی نے نہیں لگائے ہوں گے۔ ’’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘‘، ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘، ’’صاف چلی، شفاف چلی‘‘۔ ہمارے ہاں کسی چور ڈاکو بلکہ زانی اور قاتل کو اتنا قابلِ مذمت نہیں سمجھا جاتا جتنا جمہوریت کی شان میں گستاخی کرنے والے کو سمجھا جاتا ہے۔ اور اب جمہوریت کے نام پر مملکتِ خداداد پاکستان پر ہائبرڈ نظام نافذ ہے اور اپوزیشن جس کی ایک صوبہ میں حکومت بھی ہے کسی سے کم نہیں۔ ہرطرف جبر اور افراتفری کی فضا ہے۔ اللہ رحم کرے! 
آہ! یہ اس قوم کا حال ہے جسے قرآن اور سنتِ رسول ﷺ کی صورت میں مکمل نظام حیات عطا کیا گیا۔ بلاتشبیہہ عرض کئے دیتے ہیں اُس شخص کو کیا کہیے گا جو اپنے ہیرے ، جواہرات کی کان کو تالا لگا دے، جو اپنے گھر کے نیچے بہتی دودھ اور شہد کی نہروں سے منہ پھیرلے اور کشکول پکڑے، گداگری کے لیے دوسروں کے در پر رُسوا ہوتا رہے۔ کیا کہیں گے اُس شخص کوجو روشنی کے مینار کی طرف پشت کرلے اور تاریکیوں میں ٹھوکریں کھا رہا ہو۔ دریا کے کنارے اگر کوئی پیاسا رہے تو کوئی اسے کیسے سیراب کرے گا؟ کب تک ہم حالات کا رونا روئیں گے، کب تک ہم نوحے پڑھتے رہیں گے، کب تک محض لعن طعن پر گزارا کریں گے، کب تک محض خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ کب تک ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہیں گے۔ کب تک آسائشیں ہمارا دامن تھام کر ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے سے روکتی رہیں گی۔ کب تک ہم اس دقیانوسی نظام تلے پستے رہیں گے۔ کب تک ہم دینِ متین کے قیام کے لیے میدان میں اترنے سے کتراتے رہیں گے۔ اور کب تک ہماری غیرت و حمیت پر چرکے لگتے رہیں گے۔ کب تک سودی قرض کے نشے میں ہم مدہوش رہیں گے۔ کب تک قدرت صَرفِ نظر کرتی رہے گی، کب تک بکرے کی ماں خیر منائے گی! 
اللہ تعالیٰ پاکستان کی حکومت، ریاستی اداروں، اپوزیشن، علماء، عوام سب کو، ہر پاکستانی کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!