(الہدیٰ) قیامت کی وحشت سے بچائو کا سامان کرو اور دھوکے میں نہ پڑو - ادارہ

14 /
الہدیٰ
 
قیامت کی وحشت سے بچائو کا سامان کرو اور دھوکے میں نہ پڑو
 
آیت 33 {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ وَاخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ ز} ’’اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اور ڈرو اُس دن سے جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام نہیں آئے گا‘‘
{وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَیْئًاط} ’’اور نہ ہی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آسکے گا۔‘‘
باپ اور بیٹے کے حوالے سے قریب ترین رشتے کا ذکر کر کے گویا اس سے نچلے درجوں کے تمام رشتوں اور تعلقات کے بارے میں واضح کر دیا گیا کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آ سکے گا۔
{اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ} ’’یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘تو (دیکھو!) 
تمہیںدھوکے میں نہ ڈال دے دُنیا کی زندگی۔‘‘ 
ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کی زندگی کی زیب و زینت پرریجھ کر اصل زندگی کو بھول جائو۔
{وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ(33)}’’اور( دیکھنا !)تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔‘‘ 
اللہ کے بارے میں انسان کو دھوکے میں ڈالنے کے لیے شیطان طرح طرح کے حربے آزماتا ہے۔ بعض اوقات وہ انسان سے کہتاہے کہ اللہ بڑا غفّار ہے‘ اس کی رحمت اور مغفرت بہت وسیع ہے ‘تم خواہ مخواہ گھبرا رہے ہو‘ کا ہے کو توبہ کا سوچتے ہو؟ اگر آج تمہیں موقع ملا ہے تو جی بھر کرعیش کرلو‘ پھر یہ وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ رہا بخشش کا مسئلہ تو اس کی فکر نہ کرو‘ اللہ بڑے بڑے گنہگاروں کو بھی بخش دے گا۔
 
درس حدیث
 
جنت کی ضمانت
 
عَنْ عِبَادَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ : (( اَضْمِنُوْا لِیْ سِتًّا مِنْ أَنْفُسِکُمْ اَضْمَنُ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اُصْدُ قُوْا ِاذَا حَدَّثْتُمْ وَاَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا اِذَا ائْتَمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغَضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ)) (رواہ ابن حبان والحاکم)
حضرت عبادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (1)جب بات کرو تو سچ بولو (2) جب وعدہ کرو تو پورا کرو (3) جب تمہیں امین بنایا جائے تو اس (امانت) کا حق ادا کرو (4) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو (5) اپنی نظریں نیچی رکھا کرو (6) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔‘‘
 
تشریح: یہ سب ایمان کی خوبیاں ہیں جو بندئہ مومن میں پیدا ہونی چاہئیں اور یہ اُن صفات میں سے بعض ہیں جن کو قرآن مجید عملِ صالح قرار دیتا ہے جو اللہ کے ہاں ایمان کے ساتھ مل کر نجات کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔