…راکھ کا ڈھیر
عامرہ احسان
اسلام آباد میں 28 تا 30 ستمبر شنگھائی کو آپریشن تنظیم کی میٹنگ ہوئی۔ اس سے وقتی طور پر لانگ مارچ سے اسلام آباد راولپنڈی جو ’کنٹینرستان‘ بنا ہوا تھا ، کھل گیا۔ چین، روس، کرغستان،قزاقستان ،تاجکستان کی آمد مبارک کہ ہم ناحق ہمہ وقت پاکستان کا نام ہی گویا بگاڑ بیٹھے۔ دار الحکومت کنٹینروں کا شہر بن گیا۔ یہ معیشت اور عوام پر کتنا گراں ہے ، کہ کاروبارِ زندگی ، آمد و رفت، تجارت، دفاتر، تعلیم سبھی معطل ۔مال سے بھرے کنٹینروں پر قبضہ صرف مالکان کا نقصان نہیں۔ اموالِ تجارت کی زد میں بالآ خر عوام ہی آتے ہیں۔ان کنٹینروں کا کرایہ اور پولیس کی بھاری نفری پر روزانہ کروڑوں روپے عوام کے ٹیکسوں سے ادا ہو رہے ہیں! ایک نسل ’دھرنوں کے دھرنے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں‘کے نتیجے میں تعلیم، جس میں توجہ، محنت ، دل سوزی پہلے ہی عنقا ہے ، مزید تباہ ہوئی جاتی ہے۔
احتجاج عوام کا حق ضرور ہے مگر افہام و تفہیم سے معاملات کو بہتر نہج پر سلجھایا جائے۔ چھین کر ، کرسی لینے کے رویے درست کیے جائیں۔ 43200 پولیس نفری کی تعیناتی ، اٹک، پنڈی ، جہلم، مری، چکوال میں تعینات۔ کالج، سکول خالی کروا کر ، وہاں اب ان کے کھانے پانی کا انتظام مزید۔ پنڈی پانی کی کمی کا شکار ، شہری شدید نالاں۔ پرائیوٹ ٹینکر کم یاب اور مہنگے ہیں۔ عالمی سطح پر پٹرول کے ہاتھوں ستائے عوام تمام اشیائے ضروریہ کی مہنگائی بھگتتے پہلے ہی اُلجھے پڑے تھے۔ ایران کے بعد حوثیوں کی یمن سے تیل کی ترسیل کی راہ میں باب المندب پر پہرہ نجانے کیا دن دکھائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کو ان کے بہت بڑے یہودی پیشوا یہ ’مژدہ‘ سنا چکے ہیں کہ ان کا یہودی مسیحا، ( جو عین جنگی مجرم وزیراعظم اور ان کی ظالم کابینہ کے مطابق ہے) انہی کی قیادت کے دوران آئے گا۔ سو دجال کے ظہور سے پہلے جو حالات (احادیث میں مذکور ، جسے یہودی ،صہیونی پڑھ کر تیاری کرتے آئے ہیں) مطلوب ہیں ، نیتن یا ہو بلکہ اسرائیل اور امریکہ مل کر انہیں پیدا کرنے میں تندہی سے دن رات ایک کر رہے ہیں۔یہودیوں کی یک جائی، گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلا جا رہا ہے۔ ایک بہت بڑی ہولناک جنگ ہونا بھی اس کی آمد کی اہم علامات میں سے ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کا (نعوذ باللہ) انہدام اور ہیکل کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ سو تینوں اہداف پر کام جاری ہے۔ مسجد اقصیٰ پر زیر زمین کھدائیاں 1967 ء سے جاری ہیں۔ اس سال جس جوش و جذبے ، کف آلود دیوانگی کے ساتھ یہودیت کے مقدس ترین دن یوم کپور پر نیتن یا ہو اور اس کی بیوی نے وہاں کا دورہ کیا۔ سینکڑوں اسرائیلیوں کے ساتھ متعصب ترین وزیر گویر بن اتمار نے اقصیٰ پر دھاوا بولا ، وہ بہ زبان حال ان کے خطرناک عزائم کا اظہار ہے۔
یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور دھواں دھار تقریر کے ارادے سے نیتن یاہو نیویارک گیا۔پلان تو یہودیوں کی بڑی آبادی کے شہر نیویارک اور دیگر ریاستوں میں بھی جانے کا تھا۔ مگر نیو یارک میں نیتن یاہو کے لیے کھلے منفی جذبات کا اظہار کرتامیئر نیو یارک زہران ممدانی ، راہ کی رکاوٹ بن گیا۔ اپنی را جدھانی میں ڈرے سہمے چند گھنٹوں کا چکر لگا کر لوٹ جانا ’گریٹر اسرائیل‘ کے معمار کو نہایت گراں گزرا۔ ممدانی پر چنگھاڑنے ، برا بھلا کہنے کے سوا وہ کچھ نہ کر سکا۔ رہی سہی کسر اسے آئینہ دکھانے کو جنرل اسمبلی میں دنیا بھر کے ممالک کے سفارت کاروں نے نکال دی۔ جو نہی تقریر کرنے نیتن یا ہو رونما ہوئے مسکراتے ہوئے ساٹھ، ستر ممالک کے نمائندے بآواز بلند احتجاج کرتے باہر نکل گئے۔ بھاری تعداد میں خالی کرسیاں دجال کے چیف سیکرٹری کا منہ چڑاتی خطاب سنتی رہیں۔ ٹرمپ نے بھی ملاقات کا وقت نہ دیا(چینی صدر کی آمد اہم تر تھی)۔ یہ ضرور ہوا کہ موصوف کا آنا امریکہ میں( بقول صدر ٹرمپ) ’تاریخی طوفان‘ ہمراہ لایا۔ درجنوں ریاستوں میں ہنگامی حالات (’آفت‘)کے نفاذ، ’ Disaster‘ کا اعلان کرنا پڑا۔ ملک بھر میں جابجا شدید تند و تیز ہوائیں ، بگولے ، برفباری ، ژالہ باری ، اچانک شدید سردی بلا بن کر ٹوٹ پڑی ، علاقے بجلی سے محروم ، جہازوں کی پروازیں منسوخ ہوئیں۔
انہی طوفانوں کی زد میں فلسطینیوں کے لیے امریکی گوئیے میکلمور(جو ان کے حق میں پامردی دکھاتے نہایت مقبول ہوا۔) کے ساتھی شیران، جو اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا، کے سارے پروگرام بھی منسوخ ہو گئے۔ ان طوفانوں کو شیران کے لیے اس کے مؤقف کی بنا پر بد شگونی جانا گیا۔ مظلوم فلسطینی قوم کا زبردست حامی میکلمور’ فلسطین آزاد کرو ‘ ( Palestine Free) ٹور پر اب نہ صرف لندن، پیرس ، ڈبلن میں پروگرام کرے گا بلکہ ان سے حاصل شدہ رقوم فلاحی فلسطینی تنظیموں کو دے گا۔ اگرچہ یہ گانے بجانے والوں کی کہانی ہے۔ مگر ان کا تذکرہ نہ صرف ہوا کا رخ بتاتا ہے ، بلکہ دو ارب مسلمانوں کو آئینہ بھی دکھاتا ہے۔ ہمارا جذبۂ اخوت ہمارے سوئے ہوئے ایمان کو اُن کے حق میں اٹھا کھڑا کرنے کو ناکافی ثابت ہوا۔
اسی طرح شدید جذباتی امریکی اینکر Ana Kasparian کو نیتن یا ہو ، اسرائیل، ٹرمپ اور اس کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف گرجتا برستا سن لیں تو حیران رہ جائیں۔ ایسے بے شمار پروگرام مغربی چینلوں پر چلتے ، اخباروں میں تجزیے چھپتے دیکھ کر ہم اسرائیل پر انہیں شدید بر افروختہ پاتے ہیں۔ اللہ ان کے ضمیروں کی زندگی کے یہ ثبوت قبول فرما کر انہیں ایمان کی توفیق عطا فرمائے۔ شاید اُمّت میں تازہ خون کی آمد، فلسطینی شہداء کے مبارک خون کی برکت، اسے حیات ِنو بخش دے۔ شہداء کا خون تو یوں بھی بظاہر زمین پر گرتا ہے ، مگر جیتے جاگتے مسلمانوں کی رگوں میں بھی اُتر جایا کرتا ہے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے!
حماس کے سیاسی بیورو کے ممبر خالد مشعل نے انتباہ کیا کہ اقصیٰ کے نواح میں اسرائیل اقصیٰ پر مکمل کنٹرول کی کارروائیاں کر رہا ہے۔ اقصیٰ ایک دوراہے پر ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے مزاحمت اور جہاد کے اقدامات درکار ہوں گے۔ انتہا پسند یہودی مکمل قبضے کے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اکثریتی مسلم ممالک سے اقصیٰ کی پشت پناہی کی درخواست کی۔ مشعل نے یوم کپور پر نیتن یا ہو اور اسرائیلیوں کے مقدس مقامات پر دھاوے کے ایک ہفتے بعد یہ بات کی۔ انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ اقصیٰ میں اپنی مستقل موجودگی یقینی بنائیں۔
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے ان اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی برادری اسے روکے۔ مسجد ِاقصیٰ کی قانونی حیثیت کو مجروح کرکے قانون شکنی کی جا رہی ہے۔
سمجھ لیجیے کہ بین الاقوامی انتظام اقصیٰ کے لیے یوں طے شدہ ہے کہ: یہ علاقہ کلیتاً مسلم عبادت کا مقام ہے۔ پورے 14,400 مربع کلومیٹر کا کمپلیکس۔بشمول قبۃ الصخرۃ، قبلی مسجد، ارد گرد کے صحن ، گیٹ اور مذہبی عمارات۔ یہ اسلامی وقف ہے جو مذہبی امور ، اردن کی زیر نگرانی ہے۔ غیر مسلم، متعین اوقات میں آ تو سکتے ہیں مگر عبادت کے حقوق صرف مسلمانوں کے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے یہودیوں کو بار بار گھسا لانے کی جسارت سے وقف کی اتھارٹی، قوتِ نافذہ کو کمزور کیا ہے۔ وہ اقصیٰ کی بے حرمتی کے مرتکب ہیں۔
امینہ شریف ’مڈل ایسٹ آئی‘،( 20 اگست) میں لکھتی ہیں کہ کیا غزہ کے بعد مسلمان ، الا قصیٰ کا تحفظ کر سکیں گے ؟ طویل عرصے سے جس کا خدشہ تھا، وہ وقت قریب آلگا ہے۔ الاقصیٰ (قبلۂ اول ، مقامِ معراجِ نبیؐ) کی حیثیت بدلنے کی باتیں اب بلند آہنگ ہو رہی ہیں۔ کیا مسلم اُمّت اس کے لیے تیار ہے ؟ 3 سال سے دنیا ، 2 ارب امت غزہ کو دن رات تباہ ہوتے دیکھتی رہی۔ سیاسی خود مختاری بھی ختم ہوگئی۔ پوری اُمّت کا ردِ عمل فیصلہ کن نہ بن سکا۔ غزہ نے مسلمانوں کی کمزوری کا راز فاش کر دیا۔ جب وہ غزہ کی آبادی،( ننھے جان جگر بچے بھی) نہ بچا سکے تو اقصیٰ کو کیو نکر بچائیں گے ؟
اُمّت روحانی سیاسی سطح پر کھوکھلی ہو چکی۔ قربانی دینے سے خود کو بچاتے رہے۔ کیریئر، بزنس، ذاتی خواب ، خواہشات آڑے آتی رہیں۔ فرمانِ نبویؐ کی روشنی میں اُمّت مفلوج ہو چکی ، حب الدنیا ،کراہیت ِ الموت کے ہاتھوں !
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے