شہادتِ حق کی ذِمّہ داری
حافظ عاکف سعید حفظ اللہ سابق امیر تنظیم اسلامی پاکستان
انفرادی طور پر تقویٰ اور اطاعت کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک قدم اور بھی اٹھاناہو گا،اور وہ ہے دین حق کے غلبے کی جدوجہد۔اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ہم غیراللہ کی حاکمیت پر مبنی اس نظام کے خاتمے کے لیے مربوط اور پیہم کوشش کریںجو باطل کے ایجنڈے پر چل رہا ہے اورجس کے تحت عدالتوںمیں فیصلے ہو رہے ہیں۔تاکہ اجتماعی اور ریاستی سطح پر اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے اصول پر اسلام کا مکمل عادلانہ نظام قائم ہو۔اقامت ِدین کی یہ جدوجہد نبی اکرم ﷺپر ایمان کا بھی تقاضا ہے۔ چنانچہ سورۃالاعراف میںمومنوں کے اوصاف کے تذکرے میں فرمایا:
{فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٓٗلااُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (157)} ’’تو جو لوگ آپ (ﷺ )پر ایمان لائیں گےاور آپ (ﷺ) کی تعظیم کریں گے اور آپ (ﷺ) کی مدد کریں گے اور پیروی کریں گے اُس نور کی جو آپ(ﷺ) کے ساتھ نازل کیا جائے گا وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘
نبی اکرمﷺ کا مشن دین ِحق کا غلبہ تھا۔ آپﷺ نے جزیرہ نما عرب کی حد تک دین کوعملاً غالب کرکے دکھا دیا۔اس عظیم مشن میںآپ ؐکے جاںنثار صحابہ کرام؇ نے آپ ﷺکا بھر پور ساتھ دیا۔اس راہ میں ہر طرح کی قربانیاں دیں۔چنانچہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر دین غالب ہو گیا۔اب اس دین کو پورے روئے ارضی پر غالب ہوناہے۔آپﷺ کی نصرت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مشن کے لیے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں وقف کر دیں۔اِس کے بغیر ہماری بندگی بھی مکمل نہیں۔یہ جدوجہد ہر مسلمان پر واجب ہے۔امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور شہادت علیٰ الناس اس اُمّت کی ذِمّہ داری ہے۔ سورۃ البقرہ میںفرمایا:
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًالِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط} ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘
رسول اکرمﷺ نے شہادت علی الناس کی ذِمّہ داری ادا فرمادی۔آپﷺ نے اپنے قول سے بھی گواہی دے دی۔چنانچہ آپﷺ پر اللہ کی طرف سے جو وحی آئی،آپﷺصبح وشام اس کو بیان کرتے اور اُس کی وضاحت فرماتے رہے،دین کو لوگوں تک پہنچاتے رہے۔آپ ﷺنے اس نظام کو بھی قائم کر کے دکھا دیا۔ لہٰذا آپﷺ کی طرف سے ہم پر گواہی پوری ہو گئی۔ آپﷺ نے دین ِ حق کا نقشہ دکھا کر حجت تمام کر دی۔دنیا نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے عہد نبوی اور دورِخلافت راشدہ میںاسلام کے نظام عدل وقسط کا حسین منظر دیکھ لیا۔اس کی برکات وثمرات مشاہدہ کر لیے۔اب کون ہے جو اس امر سے ناواقف ہو کہ اُس نظام میںعدل اجتماعی کس بلند سطح پر تھا،انسانی حقوق کا تصور کس قدر عظیم الشان تھا۔اس تاریخی حقیقت سے خود عیسائی اوریہودی بھی آگاہ ہیں۔ ان کے عوام الناس اس سے آگاہ ہوں نہ ہوں،اُن کے اہل علم اس کو خوب جانتے ہیں۔ یہاں اُمّت ِمسلمہ کو اُمّت وسط کہا گیا ہے۔ اُمّت ِوسط (درمیانی اُمّت)کا ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ اُمّت اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان لنک ہے۔نبوت ورسالت کا دروازہ ابدالآباد تک آپؐپرآکر بند ہو گیا ۔اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔تو پھرنوع انسانی تک دین کو پہنچانے کی ذِمّہ داری کس کی ہے؟لوگوں کو ایمانی حقائق سے روشناس کون کرائے گا؟انہیں شیطان کے ہتھکنڈوںسے کون آگاہ کرے گا؟ بندگان خداکو آخرت کے انجام کے حوالے سے انذار اور تبشیر کی ذِمّہ داری کس کے کندھوں پر ہو گی؟یہ ذِمّہ داری اس اُمّت پر ڈالی گئی ہے۔ اب یہ اس اُمت کی ذِمّہ داری ہے کہ پوری دنیا کے سامنے دین کی شہادت دے۔ شہادت حق کا تقاضا یہ بھی ہے کہ دین کو قائم کر کے دکھائیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دین کے خلاف خود گواہی دے رہے ہیں۔ ہمارا عملی رویہ دنیا والوں کو یہ بتا رہا ہے کہ ہمارے رسول کریم ﷺ کو جو دین حق دیا گیا تھا، (نعوذ باللہ) وہ محض ساڑھے چودہ سو سال پہلے کے لیے تھا، آج کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ وہ صرف کتابوں میں لکھنے کے لیے، قصیدے پڑھنے کے لیے ہے۔ دنیا والو، ہم تمہیں اسلامی نظام سے کیونکر روشناس کرائیں ہم تو خود تم سے نظام کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ گویا ہم اس معاملے میں قلاش ہیں۔ آج روئے ارضی کے دو ارب اور58 اسلامی ممالک اپنے عمل سے پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ چودہ سوسال پہلے کا نظام قابل عمل نہیں، اگر ہوتا تو سب سے پہلے خود ہم نے اُسے اپنے ہاں قائم کیا ہوتا۔
ہمیں یہ بات دل میں بٹھا لینی چاہیے کہ اللہ کی مدد اور نصرت حقیقتاً تب آئے گی جب اسلام سے بے وفائی کی اِس روش کے برعکس ہم غلبۂ دین کے لیے کام کریں گے۔ جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں، یہ نوے فیصد مسلمانوں کا معاشرہ ہے۔ دین کو قائم کرنے کی ذِمّہ داری ہر مسلمان پر ہے۔ اور اس معاملے میں سب سے بڑھ کر ذِمّہ دار وہ لوگ ہیں جو ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں، کہ اُن کے پاس طاقت و اختیار ہے۔ اگر وہ یہ کام نہیں کرتے تو قیامت کے دن سب سے بڑے مجرم وہ ہوں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ جن کو بھی اس ذِمّہ داری کا شعور ہے لیکن اِسے ادا نہیں کر رہے، وہ بھی مجرم ہیں۔
اِس ذِمّہ داری سے پہلو تہی کا نتیجہ ہے کہ ہم پر ذلت و رسوائی مسلط ہے۔ اللہ کی رحمت ہم سے روٹھ چکی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اے مسلمانو! تم لازمًا نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے۔ (زبان سے بھی اور قوت سے بھی۔) اور اگر تم نے یہ کام چھوڑ دیا تو اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر ایک عذاب مسلط کر دے گا۔ پھر تم دعائیں کرتے رہو گے اور وہ تمہاری کچھ نہیں سنے گا۔‘‘ رسول اللہﷺ نے یہاں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اگر تم نے یہ کام چھوڑ دیا اور اللہ سے وفاداری کا تقاضا فراموش کر دیا تو پھر اللہ تمہاری دعائیں نہیں سنے گا۔ ہاں اگر ہم یہ کام کریں گے تو اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ جیسا کہ فرمایا گیا:{وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ } (الحج:40) ’’جو کوئی اللہ کی مدد کرے (یعنی اللہ کی زمین پر، اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے) تو اللہ یقیناًاُس کی مدد کرے گا۔‘‘ اگر بندے اس کو بھول کر اپنے پیٹ کے دھندوں میں دنیا داری کے چکر میں پڑے ہوئے ہوں، تو پھر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دے گا۔ اس وقت ہماری یہی صورتحال ہے۔ ہم زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ہمیں اللہ کی نصرت کی بڑی شدید ضرورت ہے۔ اِس لیے کہ ہمارے سر پر اس وقت ظاہراً مادی اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی طاقت یعنی امریکہ مسلط ہے۔ اس نے پاکستان کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے۔ امریکا کا ایجنڈا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے۔ اِسی ابلیسی ایجنڈے کو
کبھی نام نہاد’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کبھی غزہ پر حملوں کی صورت میں، فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کرکے تو کبھی ایران پر حملوں کی صورت میں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس عنوان کے پیچھے ان کے جو اصل عزائم ہیں وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ امریکہ اور اُس کے حلیف اس شیطانی کام میں ہم پاکستانیوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ہم نے آج تک یہی کہا ہے کہ زمینی حقائق دیکھنے چاہئیں۔
بہرحال اِس وقت ضرورت اِس امر کی ہے کہ پوری قوم اپنا قبلہ درست کرے، تاکہ اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہو،ورنہ صرف چہرے بدلنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ شیطانی قوتوں کی ڈکٹیشن سے بچنے کا بڑا آسان راستہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی، اُس کے رسولﷺ کی اور اس کے دین کی وفاداری اختیار کریں۔ اس راستے پر آئیں گے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ ہمیں سربلندی عطا فرمائے گا۔ فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (7)} (سورۃمحمد) ’’اے اہل ایمان! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘ سورۃ الحج میں فرمایا: {وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ} (آیت:40) ’’اور اللہ لازمًا مدد کرتا ہے اُن کی جو اللہ کی مدد کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں دین کے غلبے کے لیے اپنا تن من دھن لگانے کی ہمت اور توفیق فرمائے۔ (آمین)