فلاح ِاُمت کے لیے قرآنی منشور
محمد ثاقب عباسیحلقہ لاہور غربی
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا(30)} ( سورۃ الفرقان)
’’اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔‘‘
آگے فرمایا:
{وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّہَا وَرُسُلِہٖ فَحَاسَبْنٰـہَا حِسَابًا شَدِیْدًالا وَّعَذَّبْنٰـہَا عَذَابًا نُّکْرًا (8)} (سورۃ الطلاق)
’’اور بہت سی بستیوں(کے رہنے والوں)نےاپنے رب اوراس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا اور ان پر (ایسا )عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔‘‘
گزشتہ دنوں تنظیم اسلامی کےزیر اہتمام ملک گیر مہم بعنوان’’ اُمّت ِمُسلمہ کی حالت ِ زار اور راہِ نجات‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس دوران سیمینارز، دعوتی اجتماعات، کارنر میٹنگز، انفرادی ملاقاتوں، رہائشی و کمرشل علاقوں میں ہینڈبلنگ، بینرز و پول ہینگرز اور سوشل میڈیا کے ذریعہ خاص و عام حتیٰ کہ اہم شخصیات ، حکمرانوں اور دیگر مسلم ممالک کے سفراء تک بھی اس اہم موضوع سے متعلق پیغام پہنچایا گیا تاکہ عوام الناس وخواص کی رائے ہموار کی جاسکے اور مسلمان اُمّت ِ مُسلمہ اپنے حالیہ زوال کو دیکھتے ہوئے عروج یعنی اپنے اصل ہدف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف بڑھنے کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر سکے ۔
استاد محترم ڈاکٹر اسرار احمد m اپنی کئی تقاریر میں اُمّت ِمُسلمہ کے ممالک کا نقشہ بیان کرتے ہوئے اسے ایک شاہین سے تشبیہہ دیتے تھے۔ اگر پورے عرب کو اس کا جسم سمجھ لیا جائے جس میں پاکستان، ایران ا ور سنٹرل ایشیا سے ہوتا ہوا ملائشیا اور انڈونیشیا تک کے سلسلے کو اس کا دایاں پر اور مصر، سوڈان، لیبیا، تیونس، الجزائر سے مراکش تک کو اس کا بایاں پر ۔ اتنی عظیم الشان تاریخ رکھنے والی امت جس کا دایاں پر کئی سو سال تک مسلمانوں کے زیر اثر رہا۔ دوسری طرف عرب یعنی اس شاہین کا جسم اور اس کا بایاں پر ایک وقت میں سلطنت عثمانیہ کا ایک عالی شان مرکز تھا۔ ایک وقت تھا کہ مغلیہ سلطنت دنیا کی تیس فیصد دولت کی مالک تھی، دنیا کی25 فیصد تجارت اسی خطے میں ہوا کرتی تھی، دنیا کی بہترین کاٹن، بہترین ریشم اور مصالحہ جات یہاں پائے جاتے تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی ڈائمنڈ مائنز یہاں ہوا کرتی تھیں ۔مگر دوسری طرف یہ وہ سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے دربان کا کمر بند سپین اور فرانس کی ریشم سے بنا آتا اور خوشبو مصر اور مراکش سے آیا کرتی۔ ایک وقت تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ کی ایک للکار سے پورا یورپ لرز جایا کرتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا بادشاہ جیل میں بھوکا مر رہا ہے اور ادھر سلطنت عثمانیہ چوبیس ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی اور قبلہ ٔ اوّل بیت المقدس یہود و نصاریٰ کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔
اس کی ایک ہی وجہ ہے ۔’’ اللہ کا قانون‘‘۔جو بھی انسان اللہ تعالیٰ کے حکموں سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے تو اللہ کا قانون یہی ہے کہ اُسے دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب کا مزا چکھنا ہو گا۔ اور اگر فرماں بردار ہوں تو دنیا کی بڑی بڑی بادشاہتیں اُن کے قدموں میں گر جائیں گی۔
آج مسلمانوں کی سیاست، معیشت، کلچر، لائف سٹائل، انٹرنیشنل پالیٹکس، انٹرنیشنل ریلیشنز، میڈیا اور تعلیمی نظام سے لے کر کوئی چیز بھی نہ ہمارے کنٹرول میں ہے اور نہ ہم آزادی سے اپنے فیصلے کر سکتے ہیں حتیٰ کہ کرونا وائرس کے دنوں میں ہم نے یہاں تک دیکھ لیا کہ ہم اپنی نماز تک اپنے نبیﷺ کے طریقے پر نہ پڑھ سکے ۔ یہ اسی دور کی تصویر ہے جس کے بارے میں سیدنا علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اسلام کے نام کے سوا اس میں کچھ نہیں بچے گا اور قرآن میں اس کے الفاظ کے سوا کچھ نہیں باقی رہے گا۔ (بیہقی)
آج اُمّت کی کامیابی اور ترقی کے لیے کوئی روڈ میپ چاہیے یا منصوبہ، قران مجید کے سوا کونسی ایسی کتاب ہے جو اُمّت کو کامیابی کا منشور پیش کر سکے۔ ہم میں سے کوئی فرد ہو یا ادارہ یا حکومت یا پوری اُمّت، قران مجید اس کے سامنے پانچ نکاتی منشور پیش کرتا ہے جس پر عمل کئے بغیر دنیا میں ذلت و فساد اور بربادی و بدحالی ختم نہیں ہو سکتی۔
1. سورۃ آل عمران کی آیت 110 کے مطابق اس اُمّت کی بنیادی ذِمّہ داری یہ ہے کہ یہ انسانوں کو خیر کی طرف بلائے اور برائیوں اور اللہ کی نا فرمانیوں سے روکے۔ اگر یہ اُمّت اس کام کے لیے تیار ہو جاتی ہے تو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو گی ورنہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں سے نہیں روکو گے تو تم پر عذاب مسلط کر دیا جائے حتیٰ کہ تم دعائیں کرو گے مگر تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
2. دوسرا نکتہ یہ کہ اللہ اس کائنات کا مالک و خالق ہے تو مخلوق میں سے کون ہے جو اس کے مقابلے پر آئے اور اُس کی مخالفت کرے۔ مراکش سے انڈونیشیا تک پوری اُمّت اس سودی نظام کا حصّہ بن کر اللہ اور اس کے رسول ؐ کے مخالف کھڑی ہے۔ آج سورۃ البقرہ کی آیت 279 ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ سودی معیشت کو چھوڑ دو ورنہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کا اُس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ سورۃ المجادلہ کی آیت 22 پوری اُمّت کو خبردار کر رہی ہے کہ کیا کوئی اللہ کا مخالف ہو کر دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ آج اُمّت کو جان لینا چاہیے کہ اللہ کا واضح اعلان ہے کہ سودی معیشت کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔اللہ کو ناراض کر کے ہمارے معاملات بالخصوص ہماری معیشت میں کبھی بھی بہتری نہ آ سکے گی بلکہ حالات بد سے بد تر ہونے کا خدشہ ہے۔
3. منشور کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ اُمّت اتحاد کے بغیر دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہود و ہنود و نصاریٰ جی سیون ، جی ایٹ اور جی ٹونٹی جیسے سیاسی اور نیٹو جیسے عسکری اتحاد قائم کر کے اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن سورۃ الانفال کی آیت 73 اُمّت کو پکار پکار کر کہہ رہی ہے’’ اے مسلمانوں ان کے مقابلے میں تم بھی اپنا اتحاد قائم کرو ورنہ دنیا میں فتنہ و فساد ختم نہیں ہو سکتا۔ ‘‘
4. اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں مسلمانوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ یہود و نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ ان کا آپس میں ایک اتحادبن چکا ہے اور جو بھی اس صہیونی اتحاد کا حصّہ بنے گا یا اس اتحاد کا ساتھ دے گا یا اس کا اتحادی بنے گا یا اس سے خوف رکھے گا یا اس سے امیدیں وابستہ کرے گا یا اُن کی خوشنودی کے لیے بے قرار ہو گا وہ اللہ کی عدالت میں انہی میں شامل کر دیا جائے گا۔ آج کے مسلم حکمران اللہ سے زیادہ اُن سے خوف کھائیں، یا امیدیں رکھیں یا ان سے محبت کریں تو دنیا میں ان کی ذلت و بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
5. اس منشور کا پانچواں نکتہ سب باتوں کا خلاصہ بھی ہے اور حرفِ آخر بھی۔ سورۃ الصف کی آخری آیت کے مطابق اللہ کے دین کی مدد کے لیے ایک پکار سیدنا عیسیٰ ؑ نے لگائی تو دوسری سورۃ محمد کی آیت7 میں نبی کامل ﷺ کی طرف سے لگائی گئی ہے کہ جو اللہ کے دین کی مدد کرے گا ،اللہ تعالیٰ اُس کی مدد ضرور کرے گا، اُس پر کوئی غالب نہیں آسکے گا اور اس کے قدم مضبوطی سے جمائے رکھے گا۔ اگر معیشت مضبوط کرنی ہے، دنیا میں رسوائی سے بچ کر اپنا کھویا مقام واپس لینا ہے، امن و امان اور عدل و انصاف کا نظام تیار کرنا ہے تو قران سے جڑنا ہو گا، دین کی دعوت دینی ہو گی اور اسی قرآن کے ذریعے جہاد کرنا ہو گا۔ اور اگر اُمّت نے یہ کام کر لیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابی کی گارنٹی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اُمّت ِ مُسلمہ کو دینی ذِمّہ داریوں کا شعور عطا فرمائے ، نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی توبہ کی بھی توفیق عطا فرمائے اور دنیاوی مفادات کو پیچھے رکھتے ہوئے اللہ کے دین کے وفادار بن کر نبی کریم ﷺ کے غلبہ دین کے مشن کو بذریعہ فریضہ شہادت علی الناس ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!