مکہ کی طرف اُٹھتی نظریں…
خالدنجیب خان
مکہ مکرمہ کے گرد اگر کبھی خطرے کا کوئی سایہ بھی منڈلانے لگے تو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن یکایک تیز ہوجاتی ہے۔ حرمین شریفین محض دو مقدس مقامات نہیں، ایک ایسی روحانی نسبت ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت کسی سرحد، پاسپورٹ یا سیاسی نقشے کی محتاج نہیں۔ اسی لیے جب سعودی عرب کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون بھیجا گیا جسے شہر کی حدود سے باہر روک لیا گیا، تو خبر نے معمول کی سفارتی تشویش سے کہیں بڑھ کر جذباتی اضطراب پیدا کیا۔ دوسری جانب حوثیوں نے اِس دعوے کی تردید کرتے ہوئے اپنے بیان میں سعودی عرب کے اندر دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں دفاعی تعاون کے معاہدے کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ معاہدے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ سوالات کی روشنائی پھیلنے لگی: اگر حرمین شریفین کی سلامتی خطرے میں پڑے تو اس دفاعی عہد کا عملی مفہوم کیا ہوگا؟ پاکستان کیا کرے گا؟ ترکیہ کیا کرے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا مسلمان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون صرف معاہدوں کے صفحات تک محدود رہے گا یا کسی نازک گھڑی میں اس کی کوئی عملی صورت بھی سامنے آئے گی؟
اسلام آباد کا مؤقف اس معاملے میں نسبتاً واضح رہا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور سعودی شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرچکا ہے۔ پاکستانی حکام کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دفاعی معاہدے کے تحت متعلقہ حالات میں معاہدے کی شرائط کے مطابق اقدام کیا جائے گا۔ یہ الفاظ سفارت کاری کی دنیا میں شاید مختصر دکھائی دیں، مگر ان کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود ہے کہ’’ دفاعی معاہدہ دراصل دفاع کب بنتا ہے؟‘‘
یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ معاہدہ جنگ کا اعلان نہیں ہوتا، بلکہ عموماً جنگ روکنے، خطرہ کم کرنے اور فریقین کو ایک دوسرے کی سلامتی سے جوڑنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی معاہدے کی اصل طاقت اِس بات میں نہیں ہوتی کہ اس پر کتنی بڑی تقریر کی گئی، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ بحران کے وقت اس کی شرائط کتنی واضح، ادارے کتنے مضبوط اور فیصلہ سازی کتنی مؤثر ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی طرف سے یہ اشارہ بھی سامنے آیا کہ اس وقت معاہدے کو مزید ممالک تک پھیلانے کے بجائے پہلے موجودہ تعاون کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے۔ شاید یہی وہ بات ہے جسے ہماری مسلم دنیا کو بہت پہلے سمجھ لینا چاہیے تھا۔ اتحاد صرف یہ نہیں کہ چند سربراہان ایک میز کے گرد بیٹھ جائیں، تصویریں بنوائیں، اعلامیہ جاری کریں اور پھر اپنے اپنے دارالحکومت واپس چلے جائیں۔ اتحاد تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب مشترکہ خطرے کے وقت مشترکہ معلومات، مشترکہ حکمتِ عملی، مشترکہ سفارتی مؤقف اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ دفاعی صلاحیت بھی موجود ہو۔
دنیا کی تاریخ میں دفاعی اتحادوں کی کمی نہیں۔ اقوام متحدہ کا قیام بھی عالمی امن کے لیے ہوا تھا، مگر بڑی طاقتوں کے مفادات، سلامتی کونسل میں اختیار کے عدم توازن اور ریاستی خود غرضیوں نے عالمی ادارے کی عملی قوت کو بارہا محدود کیا۔ اسی لیے مختلف ممالک نے اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی اور دفاعی اتحاد تشکیل دئیے۔
شمالی بحرِ اوقیانوس معاہدے کی تنظیم، جسے دنیا اختصار سے نیٹو کہتی ہے، اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بوسنیا، کوسوو، افغانستان اور لیبیا کے بحرانوں میں اس اتحاد نے مختلف نوعیت کے فوجی کردار ادا کیے۔ البتہ عراق کے معاملے میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ نیٹو نے جنگی حملے کی قیادت کرنے کے بجائے بعد کے برسوں میں تربیتی معاون کا کردار ادا کیا۔ تاریخ میں معمولی سی درستی بھی کبھی کبھی پورے استدلال کو زیادہ معتبر بنا دیتی ہے۔
دوسری طرف مسلم دنیا کے پاس تنظیموں کی کمی نہیں۔ اسلامی تعاون کی تنظیم موجود ہے، علاقائی تعاون کی تنظیمیں موجود ہیں، جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم بھی قانونی طور پر قائم ہے۔ اجلاس ہوتے ہیں، اعلامیے جاری ہوتے ہیں، عہدے دار موجود ہیں، دفاتر کھلے ہیں اور فائلیں بھی یقیناً اپنی پوری صحت کے ساتھ زندہ ہیں۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ عام آدمی کو ان اداروں کی زندگی کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
اتحاد اگر صرف اجلاس کا نام ہے تو پھردنیا میں اجلاس بہت ہیںاوراگر اتحاد مشترکہ قوت کا نام ہے تو پھر سوال کچھ مشکل ہوجاتا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ تین مختلف جغرافیائی حدود، مختلف سیاسی تجربات اور مختلف قومی ترجیحات رکھنے والی ریاستیں ہیں۔ اگر ان کے درمیان دفاعی تعاون محض کسی وقتی بحران کا ردِعمل نہ ہو بلکہ مستقل ادارہ جاتی شکل اختیار کرے، تو اس کے اثرات صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہ سکتے بشرطیکہ جذبات کو اداروں میں اور نعروں کو حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا ہوگا۔
گزشتہ ربع صدی کی عالمی سیاست نے ہمیں بہت کچھ دکھایا ہے۔ 11ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز کیا۔ افغانستان پر امریکی قیادت میں کارروائی ہوئی، بعد ازاں عراق پر حملہ ہوا، اور پھر لیبیا، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے تنازعات نے پورے خطے کو عدم استحکام کی ایک طویل زنجیر میں جکڑ دیا۔ عراق کے خلاف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے بعد میں شدید سوالات کی زد میں آئے اور وہ جنگ آج بھی خارجہ پالیسی کی تاریخ کے بڑے متنازع ابواب میں شمار ہوتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ ان تمام واقعات کو ایک ہی سازش کی ایک ہی لکیر سے جوڑ دینا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ ہر جنگ کے اپنے محرکات، اپنے فریق، اپنے مفادات اور اپنے پیچیدہ علاقائی حالات ہوتے ہیں۔ تاہم یہ سوال ضرور باقی رہتا ہے کہ گزشتہ ربع صدی میں مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا میں ہونے والی مسلسل جنگوں، مداخلتوں اور داخلی تصادموں سے فائدہ آخر کس کو پہنچا؟
یہ سوال شاید کسی ایک ملک کے خلاف نعرے سے زیادہ اہم ہے۔کیونکہ مسئلہ صرف امریکہ یا اسرائیل کی پالیسیوں کا نہیں؛ مسئلہ مسلم ممالک کی اپنی باہمی کمزوری کا بھی ہے۔جس دنیا میں ریاستیں اپنے دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی، خوراک اور سفارت کاری میں ایک دوسرے کی محتاج ہوتی جارہی ہوں، وہاں مسلم ممالک اگر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو بیرونی قوتوں کو مداخلت کے مواقع خود بخود ملتے رہیں گے۔
آج ایران اور بعض عرب ممالک کے درمیان کشیدگی ہو، یمن کا بحران ہو، غزہ کی تباہی ہو، لبنان کی بے یقینی ہو یا فلسطینی مسئلہ؛ ہر جگہ ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلم دنیا کے پاس آبادی ہے، وسائل ہیں، جغرافیہ ہے، توانائی ہے، بندرگاہیں ہیں، منڈیاں ہیں، افواج ہیں اور سفارتی وزن بھی ہے، مگر ان تمام قوتوں کو ایک مربوط حکمت ِ عملی میں ڈھالنے کی صلاحیت اب بھی سوالیہ نشان ہے۔
غزہ اس سوال کی سب سے دردناک مثال ہے۔
ایک طرف انسانی تباہی کی خبریں آتی ہیں، دوسری طرف مسلم دنیا کے دارالحکومتوں سے مذمتی بیانات جاری ہوتےہیں۔ اعلامیے آتے ہیں، قراردادیں آتی ہیں، اجلاس ہوتے ہیں، تصاویر بنتی ہیں، پھر دنیا اپنے معمول پر لوٹ جاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مذمت نہیں ہونی چاہیے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ’’مذمت کے بعد کیا ہونا چاہیے؟‘‘
اگر کسی ظلم کے خلاف صرف بیان جاری کرنا ہی پوری حکمتِ عملی ہے تو پھر سفارت کاری کی پوری لغت کاکام ایک ہی لفظ سے چل سکتا ہے:’’مذمت‘‘
لیکن ریاستیں صرف الفاظ سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ انہیں مضبوط معیشت، جدید دفاعی صنعت، مشترکہ انٹیلی جنس، باہمی تجارت، توانائی کے مشترکہ منصوبے، سفارتی ہم آہنگی اور ایسی سیاسی بصیرت درکار ہوتی ہے جو جذبات سے بلند ہوکر طویل مدت کو دیکھ سکے۔اسی لیے مکہ دفاعی معاہدے کو بھی محض ایک جذباتی عنوان کے طور پر دیکھنا شاید اس کی اصل اہمیت کو کم کردے۔ اگر یہ معاہدہ واقعی دیرپا بننا ہے تو اسے شخصیات سے زیادہ اداروں، تقریروں سے زیادہ عملی منصوبوں اور وقتی بحرانوں سے زیادہ مستقل حکمت ِ عملی سے وابستہ ہونا ہوگا۔اور حرمین شریفین کے معاملے میں تو احتیاط کی ایک اور وجہ ہے۔
مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس کسی سیاسی جماعت، کسی حکومت یا کسی ایک ملک کے مذہبی اثاثے نہیں؛ دنیا بھر کے مسلمانوں کے قلب و نظر سے وابستہ مقدس مقامات ہیں۔ ان کی سلامتی پر کوئی خطرہ ہو تو اختلافات اپنی جگہ، مگر اصولی تشویش مشترک ہونی چاہیے۔ البتہ کسی بھی حملے کے دعوے کی تصدیق اور ذِمّہ دار فریق کا تعین جذبات نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شواہد سے ہونا چاہیے، کیونکہ جنگ کے زمانے میں خبر بھی کبھی کبھی میزائل کی طرح استعمال ہوتی ہے۔اور شاید یہی آج کے مسلمان حکمرانوں کے لیے اصل امتحان ہے۔انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف ایک دوسرے کے خلاف شکایتوں کی فہرست بناتے رہیں گے یا اپنی مشترکہ قوت کو واقعی ایک سیاسی، معاشی اور دفاعی قوت میں تبدیل بھی کریں گے۔
اتحاد کا مطلب یہ ہرگزنہیں ہےکہ تمام مسلم ممالک ایک جیسی حکومتیں قائم کرلیں۔ اتحاد کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر ملک اپنی قومی ترجیحات قربان کردے۔ اتحاد کا مطلب اتنا ضرور ہے کہ جب کسی ایک کی سلامتی خطرے میں ہو تو باقی اُسے تنہا نہ چھوڑیں؛ جب کسی کے خلاف معاشی دباؤ ہو تو دوسرے متبادل پیدا کریں؛ جب کسی قوم پر سفارتی دباؤ آئے تو باقی اُس کے ساتھ کھڑے ہوں اور جب جنگ کا خطرہ منڈلائے تو جذباتی نعروں کے بجائے پہلے سے تیار مشترکہ حکمتِ عملی سامنے ہو۔
ورنہ ہر بحران کے بعد ہم وہی سوال پوچھتے رہیں گے:’’اتحاد کہاں ہے؟‘‘اور جواب میں ایک اور اجلاس بلا لیا جائے گا،ایک نیا اعلامیہ جاری ہوگا،ایک اور تصویر بنے گی اور کسی فائل میں درج ہوجائے گا کہ مسلم دنیا نے ایک بار پھر’’اتحاد پر مکمل اتفاقِ رائے‘‘ کا اظہار کردیا ہے۔
درحقیقت مسئلہ مسلمانوں کی تعداد، وسائل یا نعروں کی کمی کا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اتحاد کو ایک جذبہ سمجھ لیا ہے، حالانکہ دنیا اسے ایک ادارہ، ایک حکمت ِ عملی اور ایک ذِمّہ داری سمجھ کر چلاتی ہے۔مکہ کی طرف اُٹھتی ہوئی دنیا بھر کے مسلمانوں کی نظریں شاید اسی دن مطمئن ہوں گی جب انہیں صرف معاہدوں کے الفاظ نہیں، ان الفاظ کے پیچھے کھڑی ہوئی عملی قوت بھی دکھائی دے گی۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026