امریکی مصنفہ کا مسلم خواتین کے نام خط
جوانا فرانسس
ترجمہ و تلخیص: محمد مصطفیٰ ناصر
امریکی مصنفہ اور دائیں بازو کی مشہور کیتھولک صحافی جوانا فرانسس (Joanna Francis) نے مسلمان خواتین کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔ جو ایک جہاں دیدہ خاتون کے درد دل کی ترجمانی اور چشم کشا حقائق پر مبنی ہے۔ خط میں ایک عیسائی خاتون نے مسلمان عورتوں سے مخاطب ہوکر مغربی معاشرے کے اُن تاریک پہلوؤں کو طشت ازبام کیا ہے، جنہیں ترقی، عورت کی آزادی اور خوش حالی کے خوشنما ناموں کے ساتھ پیش کرکے مسلم خواتین کو دھوکہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی مغربی عورت کی طرح اپنی سب سے قیمتی متاع، اپنی حیا، پاکیزگی، خاندان اور نسوانی وقار کو جدیدیت کے نام پر قربان نہ کریں۔خط بہت مفصل ہے، ہم اس کے اہم نکات پر بات کرتے ہیں:
’’وہ آپ کو بھی بہکانے کی کوشش کریں گے ‘‘
لکھتی ہیں:’’وہ آپ کو ایسی فلموں، ڈراموں، موسیقی اور تفریح کے ذریعے لبھانے کی کوشش کریں گے جو آپ کے جذبات اور خواہشات کو بھڑکاتی ہیں۔ وہ ہم امریکی عورتوں کی ایک ایسی جھوٹی تصویر پیش کریں گے، جس میں ہم خود کو بے حد خوش، مطمئن اور اپنی زندگی پر فخر کرنے والی دکھائی دیتی ہیں۔ ہمیں ایسے لباس میں دکھایا جائے گا جس سے ہمارے جسم کی نمائش ہو اور یہ باور کرایا جائے گا کہ خاندان کے بغیر بھی عورت مکمل اور خوش حال زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری اکثریت خوش نہیں ہے۔
یقین کیجیے!ہم میں سے لاکھوں خواتین ذہنی دباؤ اور افسردگی کی ادویات استعمال کرتی ہیں۔ بہت سی اپنی ملازمتوں سے خوش نہیں۔ ہم راتوں کو اُن مردوں کے لیے روتی ہیں جنہوں نے کبھی کہا تھا کہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں، پھر اپنی غرض کے لیے ہمارا استحصال کیا اور ہمیں تنہا چھوڑ دیا۔ جب محبت کے وعدے کے پیچھے کوئی مستقل عہد نہ ہو تو انسان کو بعد میں احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایسی چیز دے دی جس کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔ بعض اوقات وہ شخص چلا جاتا ہے اور عورت کے پاس صرف یادیں، آنسو اور پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو رومانوی فلموں میں نہیں دکھائی جاتی۔
وہ آپ کے خاندانوں کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ بچے کم سے کم ہونے چاہئیں۔ وہ شادی کو غلامی کی ایک شکل بنا کر پیش کرتے ہیں، مادری زندگی کو ایک مصیبت قرار دیتے ہیں اور حیا و پاکیزگی کو فرسودہ خیالات بتاتے ہیں۔
یہاں تک کہ یورپی عورتوں کو بھی ایک طرح کی ذہنی تربیت دی گئی ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگیں کہ مسلمان عورتیں مظلوم ہیں۔
لیکن حقیقت میں مظلوم تو ہم خود ہیں!
ہم ایسے فیشن کی غلام بن چکی ہیں جو ہماری عزت اور وقار کو گھٹاتا ہے۔ ہم اپنے جسم کے وزن کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ہم محبت حاصل کرنے کے لیے مردوں کے سامنے التجا کرتی ہیں، جبکہ بہت سے مرد خود بڑے ہونے اور ذِمّہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔
اور ہم اپنے دل کی گہرائیوں میں خوب جانتی ہیں کہ ہمیں دھوکا دیا گیا ہے۔ اسی لیے ہم آپ مسلمان خواتین سے متاثر ہوتی ہیں اور آپ سے حسد بھی کرتی ہیں اور آپ پر رشک بھی۔ اگرچہ ہم میں سے بعض اس اعتراف کے لیے تیار نہیں۔
براہِ کرم ہمیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ ہم اپنی موجودہ حالت سے خوش ہیں یا ہمیں یہ سب کچھ پسند ہے۔ ہماری اس حالت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم چھوٹی تھیں تو ہماری حفاظت اور رہنمائی کے لیے مضبوط خاندان موجود نہیں رہے تھے، کیونکہ ہمارے خاندان پہلے ہی تباہ کیے جا چکے تھے۔
اور آپ جانتی ہیں کہ اس سب کے پیچھے کون ہے؟
میری بہنو! دھوکا نہ کھائیں۔ ان بھیڑیوں کو موقع مت دیں کہ وہ آپ کو بھی دھوکا دیں۔ اپنی پاکیزگی، حیا اور عفت کو برقرار رکھیں۔ ہم عیسائی عورتوں کو بھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی زندگی حقیقت میں کیسی ہونی چاہیے۔ ہمیں آپ کی ضرورت ہے کہ آپ ہمارے لیے ایک مثال قائم کریں، کیونکہ ہم راستہ بھٹک چکی ہیں۔
لہٰذا اپنی پاکیزگی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور یاد رکھیں کہ جو چیز ایک بار ہاتھ سے نکل جائے، اسے ہمیشہ پہلے جیسی حالت میں واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی پاکیزگی کی حفاظت پوری احتیاط سے کریں۔‘‘
’’ہمیں آپ سے سیکھنے کی ضرورت ہے‘‘
جوانا فرانسس کے اس اعتراف کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ مغربی دنیا نے عورت کی آزادی کا جو تصور پیش کیا، وہ لازماً عورت کو خوشی، سکون اور تحفظ تک نہیں پہنچاتا۔ وہ مسلمان خواتین کو خبردار کرتی ہے کہ انہیں بھی اسی راستے پر چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس راستے نے مغربی عورت کو تباہ کردیا۔
ان کے بقول پہلے حیا کو ’’پسماندگی‘‘ کہا جائے گا، پھر پردے کو ’’قید‘‘ قرار دیا جائے گا، خاندان کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بتایا جائے گا اور ماں بننے کو عورت کی آزادی کے خلاف سمجھایا جائے گا۔ آہستہ آہستہ عورت کو یہ یقین دلایا جائے گا کہ اس کی اصل قدر اس کے لباس، جسم، حسن اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت میں ہے۔
وہ مسلمان خواتین سے کہتی ہیں کہ اس فریب سے بچیں۔
’’آپ کی اصل قدر کیا ہے؟‘‘
خط میں جوانا فرانسس مسلمان عورت کے حجاب، حیا اور خاندانی زندگی کو محض مذہبی رسوم نہیں بلکہ عورت کے وقار اور عزت کی علامت کے طور پر دیکھتی ہیں۔
وہ لکھتی ہیں کہ مغربی دنیا میں عورت کو آزادی کے نام پر بہت کچھ ملا، لیکن اس کے ساتھ تنہائی، خاندانی کمزوری، رشتوں کا عدم تحفظ اور جسمانی حسن کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے کا رجحان بھی بڑھا۔ ان کے نزدیک عورت کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں بلکہ محبت، وفاداری، ماں ہونے، بیوی ہونے اور خاندان کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک مکمل شخصیت ہے۔
وہ مسلمان خواتین سے کہتی ہیں کہ اگر دنیا آپ سے پوچھے کہ حجاب کیوں؟ حیا کیوں؟ خاندان کیوں؟ نکاح کیوں؟ بچوں کی پرورش کیوں؟ تو آپ کو اپنی تہذیب اور اقدار پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
’’ہم سے وہ غلطی نہ دہرائیں‘‘
اس خط کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جوانا فرانسس مسلمان خواتین کو اپنے معاشرے کی ظاہری چمک سے متاثر ہونے کے بجائے اس کے اندر جھانکنے کا مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اندر سے کس قدر کھوکھلا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ہم نے آزادی کے نام پر بعض ایسی چیزیں قبول کرلیں جنہوں نے ہمارے خاندان کمزور کیے، رشتوں کو غیر محفوظ بنایا اور عورت کو اس کے اصل وقار سے دور کیا۔ اس لیے مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ وہی غلطی نہ دہرائیں۔
وہ انہیں مخاطب کرکے کہتی ہیں:
’’ہم عیسائی عورتوں کو آپ کی ضرورت ہے کہ آپ ہمارے لیے ایک مثال بنیں، کیونکہ ہم راستہ بھٹک چکی ہیں۔‘‘
یہ دراصل ایک ایسے معاشرے کی انتہائی تعلیم یافتہ خاتون کا اعتراف ہے، جسے دنیا طویل عرصے سے جدیدیت، آزادی اور ترقی کی علامت سمجھتی رہی ہے، مگر جس کے اندر سے ایک آواز اُٹھ کر کہتی ہے کہ عورت کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی حیا، اپنی عزت، اپنے خاندان اور اپنے جذبات کی حفاظت سے دست بردار ہوجائے۔
خط کے اختتام پر وہ مسلمان خواتین کو ایک نہایت معنی خیز مثال دیتی ہیں کہ پاکیزگی ایک ایسی نعمت ہے جسے ضائع ہوجانے کے بعد پہلے جیسی حالت میں واپس لانا آسان نہیں۔ اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی پاکیزگی اور عفت کی حفاظت پوری احتیاط سے کرے۔
اور یہی اس پورے خط کا خلاصہ ہے:
اپنی شناخت سے شرمندہ نہ ہوں۔ اپنے پردے کو قید اور حیا کو بوجھ نہ سمجھیں۔ اپنے خاندان کو قید نہ سمجھیں اور آزادی کے ہر دعوے کو اس وقت تک قبول نہ کریں جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ وہ آپ سے کیا چھین رہا ہے۔ کیونکہ مغربی عورتیں جس راستے پر چلیں، ضروری نہیں کہ مسلمان عورتیں بھی اُسی راستے پر چلیں۔
وہ آخر میں مسلمان خواتین سے یہی کہتی ہیں:
’’اپنی پاکیزگی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، کیونکہ جو چیز ایک بار ضائع ہوجائے، اُسے پہلے جیسا واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔‘‘
میں امید کرتی ہوں کہ میری یہ باتیں اسی جذبے کے ساتھ قبول کی جائیں گی جس جذبے سے میں انہیں لکھ رہی ہوں:
دوستی، احترام اور تحسین کے جذبے کے ساتھ
آپ کی عیسائی بہن کی طرف سے
(نوٹ: خط 7 مارچ 2007ء کو تحریر کیا گیا تھا۔ عنوان تھا: A Letter from a Christian to Muslim Women جس وقت دجالی ریاست اسرائیل لبنان پر حملہ آور تھی اور محترمہ جوانا فرانسس اس جنگ کی کوریج کر رہی تھیں۔ وہ لبنانی خواتین کو زخمی ہونے کے باوجود پردے کا خیال کرتے ہوئے دیکھ کر بہت متاثر ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے خط کی ابتدا میں انہی خواتین کا ذکر کیا ہے۔ مکمل خط پڑھنے کے لیے لنک حاضر ہے:
https://islamcompass.com/
message-from-the-american-
feminist-journalist-
joanna-francis-to-muslim-women/
#gsc.tab=0