(گوشۂ اطفال) عقل مند بادشاہ - یاسر محمود

14 /
عقل مند بادشاہ
 
 یاسر محمود
 
پیارے بچّو! آج ہم آپ کو ایسے ملک کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں حکمران بنانے کا طریقہ بہت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل لیتے تھے۔ سال کے پہلے دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا تو اُسے نیا بادشاہ بنا لیتے تھے اور موجودہ بادشاہ کو ’’علاقہ غیر‘‘ یعنی ایسی جگہ چھوڑآتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی نہ کسی طرح بچ جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس ’’ علاقہ غیر‘‘ میں جا کر مر کھپ گئے۔چنانچہ جب سال ختم ہوا اور نئے سال کے پہلے دن دُور دَرَاز کے علاقے سے ایک نوجوان اس ملک میں داخل ہوا، لوگوں نے اسے دیکھا تو بادشاہ سلامت ،بادشاہ سلامت کے نعرے لگاتے ہوئے اسے ملک میں لے گئے اور بادشاہ کی کُرسی پر بٹھادیا۔وہ حیران ہوا اور خوش بھی۔ نوجوان کو جب کچھ سکون ملا تو اس نے پوچھا: مجھ سے پہلے جو بادشاہ تھا اُس کا کیا ہوا؟درباریوں نے بتایا کہ اس ملک کا قانون ہے کہ سال کےآخرمیں اس ملک میں پہلی مرتبہ داخل ہونےوالے اجنبی انسان کو ہم صرف ایک سال کے لیے بادشاہ بناتے ہیں اور سال گزرنے کے بعد یہاں سے دور ایسے جنگل میں چھوڑ آتے ہیں جہاں وہ اگر بھوک سے نہ بھی مرے تو وہاں کے سانپ، بچھو اور درندے اُسے مار ڈالتے ہیں اور اس طرح وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔
نوجوان نے جب یہ سنا تو بہت خوف زَدَہ ہوا لیکن پھر خود کو سنبھالتے ہوئے کہا: مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں پر آپ ہر بادشاہ کو ایک سال بعد چھوڑ کر آتے ہیں چنانچہ لوگ اسے وہاں لے گئے اس جگہ کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد اس نے اپنی ایک سال کی بادشاہت میں اس ملک میں بہت اچھے اچھے کام کئے۔ لوگوں کو ہر طرح کا آرام پہنچایا اور شہر سے لے کر اسی جنگل تک ایک خوب صورت شاہراہ( سڑک) تیار کرائی اوراس کے کناروں پر بہت ساری کھانے پینے کی دکانیں بنوائیں اور دور دراز سے لوگوں کو لاکر یہاں بسادیا۔جنگل کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت محل بھی تعمیر کروایا۔ اردگرد مضبوط فیصل بنائی۔ وہ جنگل جسے دیکھ کر لوگوں کو ڈر لگتا تھا اب ایک خوب صورت شہر بن چکا تھا جسے دیکھنے کے لیے لوگ دُور دور سے آنے لگے۔
جب اس کی بادشاہت کا ایک سال مکمل ہوا تو اس نے کہا : مجھے بھی وہاں چھوڑ آؤ جہاں تم لوگ دوسرے بادشاہوں کو چھوڑ کر آتے تھے۔ تو لوگوں نے کہا: آج سے آپ ہمارے مستقل بادشاہ ہیں۔ ہم وہاں ان بادشاہوں کو چھوڑ کر آتے تھے جو اپنی ایک سال کی بادشاہت کی    خوش حال زندگی پاکر بعد کی زندگی کو بھول جاتے تھے کہ انہیں وہاں بھی جانا ہے جہاں کوئی انسان نہیں ہے، صرف سانپ بچھوؤں اور درندوں کا ٹھکانہ ہے۔ جبکہ آپ اپنی ایک سالہ بادشاہت میں بعد کی زندگی کو نہیں بُھولے اور اس کے لیے پہلے ہی سے سارے انتظامات کر لیے ہیں۔ آپ عقل مند اور دُور اَندیش انسان ہیں۔ اس لیے اب آپ ہی ہمارے بادشاہ رہیں گے۔
پیارے بچو!اس انوکھے ملک کا نام دنیا ہے۔ اور نیا بادشاہ ہم ہیں۔ علاقہ غیر قبر ہے۔ دنیا والے ہمیں قبر تک چھوڑ آئیں گے۔ کیا ہم نے وہاں کے لیے محل، باغات تیار کر لیے ہیں۔ یا دنیا کی چند روزہ زندگی کی عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔ دنیا کی زندگی کی مدت چند سال ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ آخرت کی زندگی اُسی شخص کی اچھی رہے گی جو یہاں نیک عمل کرے گا اس کا فائدہ اُسے قبر میں، میدانِ محشر میں، جنّت میں ہرجگہ نظر آئے گا اور اگر دنیا کی زندگی کو اچھا نہ بنایا نیک کام نہ کئے تو اس کے نقصانات قبر، میدانِ محشر، دوزخ ہر جگہ تکلیف وعذاب کی صورت میں برداشت کرنے ہوں گے۔عقل مند   وہ ہے جو اس تھوڑی سی زندگی کو اچھے کاموں میں گزارے تاکہ بعد کی زندگی جو ہمیشہ کے لیے ہے وہ اچھی اور عمدہ رہے۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی کی تیاری کرنے کی توفیق  عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!