(سیمینار) سیمینار - وقار احمد

8 /

نام نہاد ٹرانس جینڈر قانون پاکستان کے معاشرتی نظام

اور نظریاتی تشخص کے خلاف ایک خوفناک سازش

ہے:محترم شجاع الدین شیخ

ٹرانس جینڈر قانون مغربی اور اسلامی تہذیبوں کی

کشمکش کا ایک مظہر ہے :سینیٹر مشتاق احمد خان محض

چہروں کی تبدیلی بے سود ہے، انقلابی جدوجہد کے ذریعے

اللہ کا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے :علامہ سید جواد نقوی

اس وقت اسلامی تہذیب کے خلاف عالمی سطح پر ایک

جنگ برپا ہے ۔ مذہبی جماعتوں کو مل کر طاغوت کا

مقابلہ کرنا ہوگا: ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

ٹرانس جینڈر قانون ہمارے خاندانی نظام پر حملہ اور آبادی

 

کم کرنے کی عالمی سازش کا حصہ ہے : اوریا مقبول جان

 

’’ٹرانس جینڈر قانون: اسلام کے معاشرتی نظام پر حملہ‘‘ (تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار)

مرتب : وقار احمد

تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام ’’ ٹرانس جینڈر قانون: اسلام کے معاشرتی نظام پر حملہ ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم سیمینار 21 اکتوبر 2022ء کو امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کی زیر صدارت قرآن آڈیٹوریم 191 اتاترک بلاک نیوگارڈن ٹاون لاہورمیںمنعقد ہوا جس میں رفقاء و احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام رات 8بجے شروع ہوا ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض شعبہ سمع و بصر کے مرکزی ناظم محترم آصف حمید نے ادا کیے ۔ تلاوت قرآن مجید اور ترجمہ کی سعادت امیر حلقہ لاہور شرقی محترم نور الوریٰ نے حاصل کی۔ اس کے بعد محترم حافظ غلام رسول ضیاء نے نعت رسول مقبول پیش کی۔اس کے بعد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :
شجاع الدین شیخ ( صدر مجلس ): نام نہاد ٹرانس جینڈر قانون پاکستان کے معاشرتی نظام اور نظریاتی تشخص کے خلاف ایک خوفناک سازش ہے ۔ مغربی نظام کے تحت پروان چڑھنے والی دجالی تہذیب کے عَلم بردار اور نمائندگان اگر اسلام کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں تو دینی جماعتیں اور دینی طبقات اسلام ، پاکستان اور ہماری معاشرت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد کیوں نہیں ہو سکتے ہیں ۔ ریاست پاکستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے لیے اب سنجیدہ ہو جانا چاہیے کہ نفاذ اسلام کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے ۔اس میں کوئی شک نہیںکہ شیطنت پر مبنی اس قانون کے خلاف سینیٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں کی جانے والی قانونی جدوجہد اہم ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام منکرات کے خاتمے کے لیے بھرپوراورپُرامن عوامی انقلابی تحریک کا راستہ اختیار کیا جائے۔ دینی طبقات کو غیروں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جانا چاہیے۔
سینیٹرمشتاق احمد خان ( سینئر راہنما جماعت اسلامی): ٹرانس جینڈر قانون مغربی اور اسلامی تہذیبوں کی کشمکش کا ایک مظہر ہے ۔ ثقافتی دہشت گردی کا یہ حملہ اس مکروہ سازش کا حصہ ہے جس کے ذریعے پاکستان کو De-Islamize کرنے کی کوشش جاری ہے۔ مغرب شیطانی ایجنڈے کے تحت LGBTQ+کو پروموٹ کررہا ہے ۔ دینی طبقوں کو ہر قسم کے منکرات اور استعماری نظام کے خلاف متحد ہو کر نکلنا ہوگا۔ ٹرانس جینڈر قانون اب صرف پاکستان کامسئلہ نہیںرہا یہ ایک گلوبل ایشو ہے جس کےحوالے سے مسلم امہ کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ مغرب مسلمانوں کا خاندانی نظام تباہ کرنے کے درپے ہے۔ درحقیقت یہ ’’جنس‘‘ اور ’’صِنف‘‘ کی مصنوعی اور غیراسلامی تقسیم کو بنیاد بنا کر گھڑا کیا گیا شیطانی منصوبہ ہے۔ اس غیرشرعی قانون کے مطابق اس بات کا فیصلہ کوئی بھی شخص خود کرے گا کہ وہ عورت ہے یا مرد۔ ٹرانس جینڈر کی تعریف میں طبی ساخت کے برعکس بڑی عیاری کے ساتھ ذاتی احساسات، خواہشات اور میلانِ طبع کا عذر تراش کر مردوں اور عورتوں کو صنف کی خود ساختہ شناخت کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ۔ سینیٹ میں اس غیر شرعی بل کے خاتمے اور حقیقی مظلوم طبقہ یعنی انٹرسیکس کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے۔
سیّد جواد نقوی (معروف مذہبی سکالر) : لبرل ازم کی کوکھ سے جنم لینے والے جمہوری نظام میں ٹرانس جینڈر جیسے خلافِ اسلام قانون کو بنانے سے کیسے روکا جا سکتاہے جب نظام میں جمہور کی رائے کوحتمی درجہ دے دیا جائے۔ جمہوریت کی اتباع سے نظام میں تبدیلی نہیں آسکتی ۔ پاکستان میںمغربی ایجنڈے کو پروموٹ کرنے والوں کو فائدے پہنچائے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں مغرب اپنے مطالبات پورے کرواتا ہے ۔ ہمیں مسلک اور فروعی مسائل سے بالاتر ہوکرپاکستان کی اسلامی اساس پر پہرہ دینا ہوگا ورنہ اس طرح کے خلافِ اسلام قانون بنتے رہیں گے۔ریاست پاکستان میں لبرل ازم کی جڑیں بہت مضبوط ہوچکی ہیںعوام کو اس کا رد کرنا ہوگا۔ اقتدار کی ہوس میں مبتلا لوگ ریاست کے امور میں مذہب کی مداخلت پسند نہیں کرتے ۔لہٰذا مذہبی طبقوں کو مل کر لبرل ازم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اوریا مقبول جان ( معروف صحافی اور کالم نگار): ٹرانس جینڈر قانون ہمارے خاندانی نظام پر حملہ اور آبادی کم کرنے کی عالمی سازش کا حصہ ہے۔ مغرب کا خاندانی نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے اور طاغوتی قوتوں کی مکمل کوشش ہے کہ مسلمان ممالک کے معاشرتی اور خاندانی نظام کو ملیامیٹ کر دیا جائے۔ عورت کو مظلوم ظاہر کرکے اس کی آڑ میں سیکولر طبقہ عورت کو معاشرے میں کھلی آزادی دینے کی بات کر رہاہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ اسلام کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک میں ایسا قانون بن جاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کو کالعدم قرار دینے کے لیے پٹیشن پر سماعت جاری ہے۔ عوام کو اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (نائب امیر جماعت اسلامی) : اس وقت اسلامی تہذیب کے خلاف عالمی سطح پر ایک جنگ برپا ہے ۔ مذہبی جماعتوں کو مل کر طاغوت کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ ہمارے گھریلو نظام اور معاشرے کو تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ پاکستان کو صرف اسلامی معاشرتی نظام کے نفاذ سے سربلندی مل سکتی ہے۔ اسلام نے عورت کو حقیقی آزادی دی ہے جبکہ مغرب نے آزادی کے نام پر عورت کی تذلیل کی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام مغرب کے گھناؤنی سازشوں کا مقابلہ کریں ۔