ہمارا سیاسی اور معاشی نظام تو مکمل طور پر مغرب کے شکنجے میں ہے ،
اب معاشرتی نظام پر بھی مغربی حملے بڑھ رہے ہیں ، مدرز مِلک بینک کا
قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے : خورشید انجم
پاکستان کو استحکام کسی فوجی آپریشن کے ذریعے نہیں ملے گا بلکہ حقیقی
معنوں میں اگر ہم استحکام چاہتے تو ہمیں مذاکرات کی طرف آنا چاہیے اور
اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اسلام کی طرف لوٹنا ہوگا: رضاء الحق
مغرب ہماری معاشرت کو اس لیے بدلنا چاہتا ہے کیونکہ ہماری
تہذیب و روایات سے مغرب کو خطرہ ہے : ڈاکٹر محمد عارف صدیقی
پاکستان کے خاندانی نظام پر دجالی حملہ اور آپریشن عزم استحکام کے موضوعات پر
حالات حاضرہ کے منفرد پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا اظہار خیال
میز بان :وسیم احمد
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: حال ہی میں کراچی میں سندھ حکومت کے تعاون سے ایک مدرز ملک بینک کے قیام کا اعلان ہوا جس پر عوام نے بھی شدید تنقید کی اور علمائے کرام نے بھی ایسے کسی بھی عمل کو خلاف شریعت قراردیا۔ اس پر حکومت نے اس اقدام کومنسوخ کرکے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا۔ اس پروجیکٹ کے پیچھے کون تھا ،اس کے کیا مقاصد تھے اوراس کی فنڈنگ کون کر رہا تھا؟
خورشید انجم: بنیادی طور پریہ اقوام متحدہ کا ایک منصوبہ تھا اور یہ ان کا کوئی پہلا منصوبہ نہیں تھا بلکہ تسلسل کے ساتھ وہ ہماری معاشرت پر حملے کر رہے ہیں ۔ سیاسی اور معاشی طور پر تو وہ ہمیں اپنی مکمل گرفت میں لے چکے ہیں ۔ سیاسی طور پر وہ غیر اللہ کی حاکمیت پر مشتمل اپنا نظام کہیں جمہوریت کی آڑ میں اور کہیں آمریت کی آڑ میں ہم پر مسلط کر چکے ہیں اور اس حوالے سے جو ان کے مقاصد تھے وہ پورے ہور ہے ہیں ۔ ان کی کوشش ہے کہ قرآن و سنت کا اس نظام میں کہیں دور دور سےبھی گزر نہ ہو۔ ہمارے معاشی نظام کو بھی انہوں نے سود کے ذریعے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ اقبال نےکہا تھا کہ ’’فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے‘‘ لیکن اب یوں کہنا چاہیے کہ پورے عالم کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے ۔ ہمارا معاشرتی نظام کافی حد تک بچا ہوا تھا جس میں ہم ابھی تک اپنی اقدار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اور کچھ دینی اور مشرقی روایات کی پاسداری بھی تھی لیکن اب ہمارے معاشرتی نظام میں بھی نقب لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے بلکہ نوآبادیاتی دور سے وہ ہماری معاشرتی اقدار کو تلپٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن گزشتہ نصف صدی سے ان کی کوششوں میں بہت تیزی آگئی ہے ۔ قاہرہ کانفرنس ، بیجنگ پلس فایئو کانفرنس اوراس طرح کی دیگر کانفرنسز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ کبھی ویلنٹائن ڈے کو ابھارا گیا ، کبھی کسی اور ذریعے سے بے حیائی اور فحاشی کو ہوا دی گئی ۔ بنیادی طور پر اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان کے ذریعے ہماری نبض چیک کرتے ہیں کہ ہم میں غیرت و حمیت نام کی کوئی چیز باقی ہے یا نہیں ۔ جہاں مزاحمت نہیںہوتی وہاں وہ اپنا ایجنڈا نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ مِلک بینک کے خلاف عوام نے بھی احتجاج کیا ، مفتی تقی عثمانی صاحب نے خاص طور پر اس کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کو روک دیا گیا ۔ جہاں سخت مزاحمت کی جاتی ہے تو وہاں کچھ عرصہ بعدوہ کوئی دوسرا پروجیکٹ لے آتے ہیں ۔ یہ ان کی مسلسل کوشش ہے کہ جس طرح مغربی معاشرہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے ، خاندانی نظام ختم ہو چکا ہے ،شرم و حیا کا جنازہ نکل چکا ہے ، یہاں تک کہ محرم اور غیر محرم کی تمیز بھی وہاں نہیں رہی ، اسی طرح وہ ہمارے معاشرے کو بھی تباہی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں ۔
سوال: اس پروجیکٹ کے حامی لوگ کہہ رہے ہیں کہ بچوں کی نگہداشت ٹھیک طرح سے نہیں ہورہی تھی لہٰذا ہم بچوں کو ماں کے دودھ کی طرف لارہے تھے اور مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں، ماں کا دودھ پئیں گے تو بچوں کی پرورش اچھی ہوگی ۔ دوسری طرف علماء کا موقف ہے کہ رضاعی بہن بھائی کا جو تصور دین نے دیا ہے وہ اس طرح کے اقدامات سے سبوتاژ ہو جائے گا ۔آپ کے خیال میں اس پروجیکٹ کی شروعات کرنے والے کون لوگ ہیں ؟
رضاء الحق : پہلی با ت تو یہ ہے کہ ایسی کونسی ریسرچ کی گئی کہ یہاں مدرز ملک بینک کی ضرورت پیش آگئی ، یہاں ابھی تو صرف ملک بینک کی بات ہو رہی ہے مغرب میں تو سپرم بینکس بھی ہوتے ہیں ، کیا ہم مغرب کا وہی بدبودار نظام یہاں بھی رائج کرنا چاہ رہے ہیں ؟پرویز مشرف کے دور میں حقوق نسواں کے نام پر جو کچھ ہوا اور پھر روشن خیالی کے نام پر جو کام ہوئے ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ کسی طرح عورت کو گھر سے نکال کر اور اس کی چادر اور چاردیواری چھین کر حیا سے عاری کر دیا جائے۔ دجالی فتنہ میں دوچیزیں خاص طور پر ظاہر ہو کر سامنے آتی ہیں ایک مال کا فتنہ اور دوسرا معاشرتی اور خاندانی نظام کو تباہ کرنا ۔ مدرز ملک بینک کے حوالے سے علمائے کرام نے کھل کر فقہی مسائل کو بیان کر دیا ہے ۔ اس سے قبل بھی ایک مرتبہ جب گھریلو تشدد کے نام پر ایک بل پارلیمنٹ میں متعارف کرایا گیا تھا تو علمائے کرام نے اس کے خلاف آواز بلند کی تھی کہ آپ لوگ جذباتی اور نفسیاتی تشدد کو بنیاد بنا کر یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح خاندانی نظام ، نکاح کے مقدس بندھن اور گھر کے تصور کو ملیا میٹ کر دیا جائے ۔ اس پر وہ بل واپس لے لیا گیا ۔ اسی طرح ٹرانسجینڈر کے نام پر بھی ایک بل پاس ہوا اور بعد ازاں اس پر بھی تنازعہ کھڑا ہوا اور وہ معاملہ عدالت میں ہے ۔ مغرب کا خاندانی نظام تو بالکل تباہ ہو چکا ہے ، اب یہی تباہی وہ مسلم ممالک میں بھی لانا چاہتے ہیں کیونکہ جب حیا جاتی ہے تو ساتھ ایمان بھی جاتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم ممالک گہری کھائی میں گرتے چلے جارہے ہیں۔ تاجکستان میں حجاب پر پابندی لگا دی گئی ہے ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں جن میں سے ایک مدرز ملک بینک کی کوشش بھی تھی۔ حالانکہ پاکستان میں ابھی تک خاندانی نظام قائم ہے اور اگر کہیں ماں موجود نہ ہو تو رضاعت کا تصور بھی ہمارے ہاں موجود ہے۔ یعنی یہاں مدرز ملک بینک کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بیرونی ایجنڈے کے تحت جو بھی پروجیکٹ آتے ہیں ہماری حکومتیں آنکھیں بند کرکے ان پر عمل درآمد شروع کر دیتی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں’’ ڈانس فار ایجوکیشن‘‘ کے نام سے ایک پروجیکٹ لانچ کیا گیا اور ہماری حکومت نے اسے بھی مسلط کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح امریکہ سے ہم جنس پرستوں کا ایک میوزک بینڈ ہماری یونیورسٹیز کے لیے لانچ کیا گیا تو ہماری حکومت نے پورے پاکستان کادورہ کروایا اور ہماری طالبات اور خواتین اساتذہ کو سامنے بٹھا کر انہوں نے لیکچرز بھی دیے۔ ایبٹ آباد میں ایک شخص نے Gay کلب کھولنے کے لیے درخواست دی ، عوامی سطح پر اس کے خلاف جب احتجاج ہو ا تو معاملہ رک گیا ورنہ ہماری انتظامیہ نے اسی بیرونی ایجنڈے کے تحت اس پر عمل درآمد شروع کردیا تھا ۔اسی طرح پنجاب حکومت کے تعلیمی اداروں میں موسیقی کے مقابلے کا پروگرام متعارف کروایا گیا۔ یعنی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کوشش کی جارہی ہے کہ یہاں سے شرم و حیا ، عفت و عصمت اور خاندانی نظام کا تصور اُٹھ جائے اور مادر پدر آزاد معاشرہ اُمت مسلمہ کی تباہی کا باعث بن جائے ۔ اس حوالے سے یونیسف کی جانب سے فنڈنگ کی بات بھی سامنے آئی اور مختلف این جی اوز جو ان گھناؤنے مقاصد کے لیے کام کررہی ہیں ان کو امریکہ اور یورپ کی طرف سے ملنے والی امدادکا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے ۔
سوال: مغرب ایک عرصے سے مسلما ن ممالک کے معاشرتی اور خاندانی نظام کے در پے ہے۔ آزادی، خود ارادیت اورخود مختاری کا نعرہ لگانے والا مغرب مسلمان ممالک کے معاشروں کو کیوں بدلنا چاہتا ہے؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: مغرب کے نزدیک سچائی وہ فکر ہے جو ان کے نظام کی برتری کو ثابت کرے۔ اگر وہ فکر وفلسفہ ان کےنظام کی برتری کو ثابت نہیں کرتا توان کے نزدیک وہ باطل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہی بتائے ہوئے فلسفے سے کسی بھی وقت یو ٹرن لے سکتےہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال غزہ کے معاملے میں ان کا طرزعمل ہے ۔ آپ دیکھ لیں مغرب کی تمام انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تناظیم غزہ کے معاملے میں خاموش ہیں۔ یعنی جس حق خود ارادیت ، حریت پسندی ، انسانی حقوق کا وہ پرچار کر رہے تھے آج خود ہی اس کے منکر ہو گئے ۔ اس لیے کہ غزہ کے معاملے میں حق بات کہنا خود ان کے نظام کی برتری کے لیے چیلنج تھا۔ مغرب ہماری معاشرت اور ہمارے طرز فکر کوکیوں بدلنا چاہتا ہے ؟اس کا سادہ سا جواب بھی یہی ہے کہ ہماری معاشرت ، ہمارے طرز فکر اور ہماری تہذیب و روایات سے مغربی نظام کو خطرہ لاحق ہے ۔ ہماری تہذیب کا عروج مغرب کازوال ثابت ہوگا اور مغرب کی تہذیب کا عروج ہمارا زوال ثابت ہوگا۔ اس بات کو ہمیں سمجھ لینا چاہیے۔ اب آپ یہ دیکھیے کہ فرد اگر خاندان کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو ایک مضبوط معاشرتی اکائی پیدا ہوتی ہے ، یہ مضبوط اکائی مضبوط قوم پیدا کرتی ہے ۔ مضبوط قوم مضبوط ملت پیدا کرتی ہے۔ لیکن جب آپ نے فرد کو خاندان سے توڑ دیاتو نتیجتاً آپ نے پورے کے پورے نظام کو توڑ دیا۔ اسی خطرے کی نشاندہی علامہ اقبال نے بھی کی تھی کہ ؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
اور اب مغرب ہمیں ہر سطح پر تنہا کرنا چاہتا ہے ۔ کبھی وہ اپنے دہشت گردوں کے ذریعے ہماری مذہبی روایات پر سوال اُٹھاتاہے ، کبھی احکامات الٰہی کو مشتبہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی ہمارے رول ماڈلز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتا ہےتاکہ ہمارا پورے کا پورا معاشرہ انتشار کا شکار ہو جائے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ہمارے تعلیمی اور تدریسی ادارے اپنا کردار ادا کرتے، ذہن سازی کرتے کیونکہ یہ قلب و نظر کی جنگ ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے اکثر تعلیمی اور تدریسی ادارے بھی بین الاقوامی فنڈنگ پر چلتے ہیں لہٰذا وہ یقینی طور پر انہی کے مفادات کا خیال رکھیں گے ۔ اسی طرح یہاں اسلام مخالف نظریات اور فیمنزم کی تحریکیں بھی نظر آرہی ہیں کیونکہ ان اداروں کی بھی باہر سے فنڈنگ ہورہی ہے اور اس فنڈنگ کے نتیجہ میں ہماری اقدار کو کچل کر مغربی نظریات کو پروان چڑھانے کی کوشش جاری ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ کوشش ثمر آور ہو رہی ہےکیونکہ ہماری حکومتیں اور ہمارے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ۔ لہٰذا عوام کو خود اس سنگین مسئلہ کے حل کے لیے کھڑے ہونا ہوگا ورنہ پھر’’ تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔‘‘
سوال: مسلم ممالک میں ہر طرف مغرب کو خوش کرنے کے لیے قانون سازی ہوتی دکھائی دے رہی ہے ،ایسے اقدامات کسی جبر کے تحت کیے جاتے ہیں یا ان کے پیچھے دنیاوی خواہشات کا شیطانی جال ہے؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:میں کہنا چاہوں گا کہ یہ مسلم ممالک نہیں بلکہ مسلم اکثریتی عوام رکھنے والے ممالک ہیں کیونکہ ایسے ممالک میں عوام کی اکثریت تو مسلمان ہے مگر حکمران یا تو عبداللہ بن ابی کی معنوی پیداوار ہیں یاپھر وہ لارنس آف عریبیہ کادوسرا ،تیسرا یا چوتھا بہروپ ہیں۔ ہمارےجتنے بھی مسلم ممالک ہیں ان کےحکمرانوں کی اکثریت ہمارے اوپر بطور وائسرائے مسلط کی گئی ہے۔ جس طرح برطانوی وائسرائے ہم پر حکمران ہوتا تھا اسی طرح یہ لوگ ڈیپورٹیشن کے ذریعے ہم پر مسلط کیے جاتے ہیں اور طاغوت کی اطاعت کرتے ہیں۔ چند صدیاں قبل تک یہ رواج تھا کہ ایک طاقتور ملک کمزور ملک کے حکمران کے بیٹے یا بیٹی کو اپنے پاس بطور ضمانت گروی رکھتا تھا تاکہ کمزور ملک طاقتور ملک کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی کا حصہ نہ بنے ۔ اب وقت بدلا تو طریقۂ واردات بھی بدل گیا۔ آج مسلم ممالک کی اشرافیہ کی اولادوں کو سکالر شپ کے نام پر بیرون ملک بلوایا جاتاہے ، انہیں مغربی اداروں میں تعلیم دی جاتی ہے، ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے، پھر ان کے والدین انہیں ملنے آتے ہیں، ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے، اس کے بعد انہیں نائٹ کلبوں اور کسینوز میں لے جایا جاتا ہے، ان کی راتوں کو فلم بند کیا جاتا ہے۔ اب یہ لوگ ان کے ہاتھوں بلیک میل بھی ہوتے ہیں، طاغوت کی چالوں میں چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ان کےسہولت کار بھی بنتے ہیں۔ اسی طرح اپنی کرپشن کو، اپنی لوٹ مار کو اور اپنی غیر قانونی حرکتوں کو چھپانے کے لیے کچھ لوگ ان کےہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ یہ ڈیموکریسی کا شوشہ مسلم ممالک میں رائج ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ان حکمرانوں کو بلیک میل کیا جائے ۔ کبھی انہیں عوامی بغاوت سے ڈرایا جائے، کبھی انہیں جمہوریت یاجمہوری حقوق کی پاسداری نہ کرنے کے جرم میں عالمی سطح پر تنہا کرنے کی دھمکی دی جائے۔ اس طرح ان حکمرانوں کو استعمال کیا گیا ۔ اب یہ طاغوت کے آلہ کار، غلام بھی بنتے ہیں اور ان کے لیے کام بھی کرتے ہیں ۔ مگر یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں بھی ان کے یہ اللّے تلّلے نہیں رہیں گے اور ان کی آخرت بھی بگڑ جائے گی۔ ہم اتنی بُری طرح جکڑے گئے ہیں ، ہمارے معاشرتی اور خاندانی نظام اور ہماری تہذیب کو کچلنے کی کوشش ہورہی ہے ، ہماری مذہبی اقدار و روایات کو مٹایا جارہا ہے ، ہمارے اوپر غیر ملکی ذہنیت رکھنے والے حکمران مسلط کیے گئے ، ہمارے ذہنوں کو شکوک سے آلودہ کیا گیا، ہمارے اثاثے لوٹ کر بیرون ملک شفٹ کیے گئے ، ہمیں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا کریں؟ سیدھی سی بات ہے کہ جب تک ہم نظامِ باطل کو چھوڑ کر نظامِ حق کی طرف نہیں لوٹیں گےاس وقت تک ذلت اور خواری ہمارا مقدر رہے گی۔ اسی نظام کی وجہ سے ہمیں سود کو قبول کرنا پڑتا ہے، اسی نظام کی وجہ سے ہمیں صلیبی افواج کی مدد کرنی پڑتی ہے ، اسی نظام کی وجہ سےہمیں طاغوتی، صلیبی اور صہیونی اداروں کی اطاعت کرنا پڑتی ہے ۔ اگر ہم اپنے اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے تو پھر ایسی ذلت و خواری ہمارا مقدر رہے گی ۔ ہم سب کو انفرادی سطح پر اپنے اپنے گھروں میں بچوں کی نظریاتی تربیت کرنی چاہیے تاکہ دشمن کا یہ قلب و نظر پروار ناکام ہو جائے۔
سوال: معاشرے میں شرم و حیا ،عصمت و عفت اور رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے ہمارے علماء کرام ، ہماری دینی جماعتیں اور ہمارے والدین کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
خورشید انجم:وہ جو کہا گیا کہ’’ تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں ‘‘ بے حیائی اور فحاشی کا ایک طوفان ہے جو اُمڈا چلا آرہا ہے ۔ اس طوفان کے آگے ہم نے خود ہی بند باندھنا ہے ۔ اگرچہ سب سے بڑا کردار حکومت کا ہونا چاہیے لیکن ہماری حکومتیں اس قدر مجبور ہیں کہ خود طاغوت کی آلہ ٔکار بن رہی ہیں ۔ لہٰذا اب جو بھی کرنا ہے ، ہم نے خود ہی کرنا ہے ۔ سب سے زیادہ ذمہ داری والدین پرعائد ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے والدین خود اپنی زندگیوں میں ایمان اور تقویٰ پیدا کریں کیونکہ والدین کا جو کردار ہوگا وہی اولاد میں بھی منتقل ہوگا ۔ اس کے بعد گھر کے اندر اللہ کے دین کو نافذ کریں ، پردہ ، چادر اور چاردیواری ، حیا اور عفت کی پاسداری کا اہتمام گھر کی سطح پر ہو ۔ بچوں کے لباس ، ان کی مصروفیات و مشغولیات پر خاص طور پر نظر رکھی جائے کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہوتاہے جب ان کی ایک شخصیت بننا شروع ہوتی ہے۔ گھروں میں واہیات قسم کے ڈرامے ، فلمیں ، کارٹون اور بے حیائی پر مبنی چیزیںدیکھنے کی نوبت نہ آئے ۔ گھر کا ماحول بہتر ہوگا تو باہر کے بُرے اثرات زیادہ اثر نہیں کریں گے ۔ ایک حدیث ہے : ’’جب تم میں حیا نہ رہےتو جو چاہے کرو۔ ‘‘
حیا ایک رکاوٹ ہے جو گناہ کے راستے میں حائل ہوتی ہے ۔ جب حیا نہ رہے تو پھر بندہ ہر قسم کے گناہ اور برائی میں ملوث ہو سکتا ہے ۔ والدین کے بعد دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کارکنان کی بھی تربیت کریں اور پھر عوام الناس کی تربیت کا اہتمام بھی اس طور پر کریں کہ حیا کی ضرورت ، اہمیت اور اس کے ثمرات کا احساس ان میں اُجاگر ہو ۔ اسی طرح بے حیائی اور فحاشی کے نقصانات اور معاشرے پر اس کے اثرات سے بھی عوام الناس کو آگاہ کیا جائے ۔ علماء کے پاس منبر و محراب کی صورت میں بہترین پلیٹ فارم موجود ہے جہاں سے وہ عوام الناس کی اس حوالے سے ذہن سازی کر سکتے ہیں ۔ آج سے پچاس سال پہلے کا معاشرہ کیسا تھا اور اب کس حد تک بگڑ چکا ہے ، مغربی تہذیب کے منفی اثرات کس تیزی سے پھیل رہے ہیں ، عوام الناس میں اس احساس کو اجاگر کرنے کے لیے منبر و محراب بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
سوال: پاکستان میں ایک عرصہ سے دہشت گردی جاری ہےاور اس کی وجہ سے پاکستان کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کی روک تھام کے لیے ایپکس کمیٹی نے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ اپوزیشن اس معاملے پر شدید مخالفت کررہی ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس آپریشن کے حق میں نہیں ہیں ۔ جبکہ حکومت اور ہمارے عسکری ادارے یہ آپریشن کرنے پر تلے ہوئےہیں ۔ کیا یہ آپریشن واقعتاً پاکستان میں استحکام کا موجب بن سکے گا؟
رضاء الحق :پہلی بات یہ ہے کہ یہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ پاکستان میں دہشت گردی اس وقت شروع ہوئی جب پرویز مشرف کے دور میں پاکستان نے امریکی جنگ کا باقاعدہ حصہ بن کر اپنے ہوائی اڈے ، فضائی حدود اور زمینی راستے افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی ۔ پھر شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کے کچھ ایئر بیسز بھی امریکہ کے حوالے کر دیے جہاں سے امریکہ نے لوگوں پر بے دریغ ڈرون حملے اور بمباریاں کیں۔ خاص طور ڈمہ ڈولہ پر بمباری کرکے مدرسے کے بچوں کو شہید کیا گیا اور پھر ان کے جنازوں پر بھی بمباری کی گئی ، پھر لال مسجد کا سانحہ ہوا۔ ان واقعات کے بعد دہشت گردی نے ملک میں جڑ پکڑ لی ۔ دہشت گردی اپنی جگہ بہت بڑا جرم ہے مگر اس کو پروان چڑھنے کا موقع امریکہ نوازی نے فراہم کیا ۔ جبکہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت تو پاکستان کے ازلی دشمن ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہی اسرائیل کے ایک سابق سفیر ڈینیل کارمن کا بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت غزہ میں اسرائیل کی مدد اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اسرائیل نے کارگل میں بھارت کی مدد کی تھی ۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آچکی ہیں کہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی میں بھی اسرائیل بھارت کی مدد کررہا ہے ۔ ابھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بھی بیان دیا ہے کہ TTP اور BLAکے پیچھے بھارت ہے ۔ پاکستان کو یہ سمجھنےکی ضرورت ہے کہ ہماری طرف سے بھی غلطیاں اور زیادتیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردی کو فروغ ملا ہے ۔ جب تک ایک Truth and Reconciliationکمیشن نہیں بنتا جس میں ہر کوئی اپنی کوتاہی تسلیم کرے اور اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے ، اس وقت تک دہشت گردی ختم نہیں ہوگی ۔ اس کا خاتمہ اس صور ت میں ممکن ہے کہ مفاہمت کے ذریعے دہشت گرد عناصر کو تنہا کر دیا جائے ۔ اس سے پہلے نیشنل ایکشن پلان بھی بنایا گیا اس میں بھی بہت ساری ایسی خامیاں تھیں جن کی نشاندہی مفتی منیب الرحمان صاحب نے اپنی تقریر میں کی تھی اور انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا ۔ ان کا یہی کہنا تھا کہ ان خامیوں کی بناء پر نیشنل ایکشن پلان ملک میں انتشار کا باعث ہوگا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی تو یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں انتشار پیدا ہو ۔ اس لیے حکومت کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے ۔ ٹھیک ہے جہاں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے وہ کریں لیکن فوجی آپریشن موجودہ حالات میں نقصان دہ ہوگا کیونکہ ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے منفی اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں سے نفرتیں نہیں گئیں ۔
سوال: ایک رائے یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان میں جتنے بھی فوجی آپریشنز ہوئے ہیں یہ بڑی طاقتوں کے کہنے پر ہوئے ہیں اور ابھی جو عزم استحکام آپریشن لانچ کیا جارہا ہے اس کی تائید بھی امریکہ کی طرف سے آ گئی ہے ۔ آپ کے خیال میں امریکی تائید میں کیے گئے آپریشنز وسیع تر ملکی مفاد میں ہو سکتے ہیں؟
خورشید انجم:جب سے ہم امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی بنے ہیں تب سے ہم نے صرف نقصان ہی اُٹھایا ہے ، پرویز مشرف نے تو واضح طور پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس نے فی کس پانچ ہزار ڈالرز کے عوض مسلمان بچوں اور بچیوں کو امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ظلم بھی اسی کا نتیجہ تھا ۔ ایک موقع پر یہ بات آئی تھی کہ اگر پاکستانی وزیر اعظم امریکی صدر کو خط لکھ دیں توڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے مگر ہمارےحکمرانوں نے اتنی ہمت نہیں کی کہ ایک خط ہی لکھ دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کا بینک بیلنس بڑھ گیا ہوگا ، کچھ دیگر لوگوں نے بھی فوائد اٹھائے ہوں گے لیکن اجتماعی سطح پر ایسے آپریشنز کے جو نقصانات تھے ان کو قوم آج تک بھگت رہی ہے ۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پنجاب اور فوج کے خلاف نفرت بڑھی ہے ۔ بلوچستان میں تو شناختی کارڈ چیک کرکے پنجابیوں کو قتل کر دیا جاتارہا ۔ یہ آپریشن کے منفی اثرات ہیں ۔ بجائے اس کے آپ انٹیلی جنس آپریشن کریں ، جو قصوروار ہے اس کو سزا دیں ، بے گناہ عوام کو تو سزا نہ دیں ، اس سے نفرتیں مزید بڑھیں گی کم نہیں ہوں گی ۔ آج تک خیبر پختونخوا میں وہ لوگ مکمل طور پر دوبارہ آباد نہیں ہوسکے جن کو آپریشنز کے نام پر ان کی بستیوں سے نکالا گیا تھا اور نہ ہی ان سے کیے گئے وعدے پورے ہو سکے ۔ ان کے گھر بھی تباہ ہو گئے ، کھیت بھی تباہ ہو گئے ۔ آپ نے آپریشن کرنا ہے تو کچے میں کریں ، جہاں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے ، پورے ملک سے لوگوں کو اغواء کرتے ہیں اور قتل کردیتے ہیں ۔ کیا کچے کا علاقہ ہماری ایجنسیوں اور اداروں کے کنٹرول میں نہیں ہے ؟ حالانکہ وہ میدانی علاقہ ہے جبکہ آپ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں آپریشن کرنا چاہتے ہیں جہاں پہلے ہی غیر ملکی ایجنسیاں اپنے جال بچھائے بیٹھی ہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہماری حکومت کیوں پاکستان کے دشمنوں کو موقع فراہم کرنا چاہتی ہے کہ وہ یہاں اپنا کھیل کھیلیں ۔
سوال: پاکستان پہلے ہی سیاسی اور معاشی طور پر ایک خلفشار کا شکار ہے جبکہ بیرونی طور پر امریکہ اور بھارت بھی پاکستان پر نظریں گاڑھے ہوئے ہیں ۔ان حالات میں کیا ہماری سیاسی اور دینی جماعتوں کو مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا کر اس پرآگے نہیں بڑھنا چاہیے ؟
رضاء الحق :اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے ، اندرونی طور پر بھی حالات خراب ہیں اورچاروں طرف سے دشمنوںمیں گھرا ہوا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج ضروری ہے ۔ دنیا کی سپرپاورز کے اپنے مفادات ہیں ، ہمیں بھی اپنے ملکی مفاد کو دیکھنا چاہیے ۔ اگر ہمارے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات ہوں گے تو اس کے مثبت اثرات ہماری معیشت اور سیاست پر بھی پڑیں گے ۔ پھر یہ کہ دہشت گردی بھی کنٹرول ہو سکے گی ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی فوائد حاصل ہوں گے۔ لہٰذا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ افغانستان سے مذاکرات کیے جائیں اور مل بیٹھ کر حالات کو معمول پر لایا جائے۔ مذاکرات کے ذریعے بہت سارے معاملات حل ہو سکتے ہیں ۔ آئر لینڈ اور برطانیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ، پوری ایک صدی وہاں دہشت گردی بھی ہوتی رہی اور سرد جنگ بھی جاری رہی ۔ آخر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کر لیا گیا ۔ یہاں بھی حل نکل سکتاہے مگر مسئلہ یہ ہےکہ ہم ایک بار مذاکرات شروع کرتے ہیں تو پھر یو ٹرن لے لیتے ہیں ، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی پاکستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی مگر ہم نے اس سے فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ افغانستان سے بھی تعلقات خراب کر لیے ۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں استحکام کسی فوجی آپریشن کے ذریعے نہیں ملے گا بلکہ اگر ہم واقعی استحکام چاہتے تو ہمیں مذاکرات کی طرف آنا چاہیے اور اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا چاہیے ۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ اگر ہم یہاں اسلام کو نافذ کریں گے تو سارے اختلافات ختم ہو جائیں گے اور ہم دوبارہ ایک قوم بن جائیں گے اور بیرونی دنیا کے لیے بھی پاکستان روشنی کا ایک مینارہو گا ۔ جب تک ہم صحیح معنوں میں پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست نہیں بناتے تو ہمیں طالبانائزیشن کا بھی خطرہ رہے گا اور عدم استحکام اور انتشار کا بھی سامنا رہے گا ۔ لہٰذا اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اسلامائزیشن کی طرف بڑھیں ،اس نظریہ کو نافذ کریں جس کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا تو باقی تمام معاملات خود بخود درست ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ
tanzeemdigitallibrary.com © 2025