عدلیہ: چیف جسٹس عبدالرشید سے 13 جنوری کے فیصلہ تکایوب بیگ مرزا
تقسیم ہند سے پاکستان معرض ِ وجود میں آیا۔ اِس نوزائیدہ ریاست کو انتہائی خوفناک مسائل کا سامنا تھا۔ بددیانت ہندو نےپاکستان کو اِس کے حصے کے اثاثے دینے سے انکار کردیا۔پھر ہندوستان میں جومسلم کُش فسادات کا سلسلہ شروع ہوا تو مہاجرین سیلاب کی صورت میں پاکستان میں داخل ہوتے چلے گئے۔ متعصب اور بددیانت ہندو کو عیار انگریز کی سرپرستی حاصل تھی۔ بعض کانگرسی لیڈروں کا یہ بیان کہ پاکستان اپنی آزادی قائم نہیں رکھ سکے گااوربہت جلد ختم ہو جائے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ یہ نا انصافی اورظلم وستم ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت کر رہے تھے۔ اُن کا اپنا لیڈر مہاتما گاندھی ا ِسی گندی ذہنیت کا شکار ہوا اور اُسے قتل کردیا گیا۔ قائد اعظم جو سیدھی اور سچی بات کہنے کے عادی تھے اُن کا خیال تھا کہ جب ہندوؤں اور مسلمانوں کا الگ الگ ملک بن جائے گا تو ہندو مسلم جھگڑا ختم ہو جائے گا اِسی وجہ سے اُنہوں نے تقسیم ہند سے پہلے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے ایسے ہی دوستانہ تعلقات ہوں گے جیسے امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔اِس خوفناک صورت حال کو دیکھ کر ہی اُن سے یہ فقرہ منسوب ہے کہ اگر اِس قتل و غارت گری کا کوئی تصور مجھے ہوتا تو میں کبھی تقسیم کی بات نہ کرتا۔ واللہ اعلم۔ لیکن اور یہ بہت بڑا لیکن ہے کہ آزادی کے فوراً بعد پاکستان کے اکثر محکمہ جات کے اہلکاروں اورافسروں نےا یسی جان سوزی اور دیانت داری سے کام کیا کہ دشمن کی خواہشات ملیا میٹ ہوگئیں۔ کاش اے کاش! یہ جذبہ قائم رہتاتو پاکستان آج ایک عالمی قوت ہوتا۔ اِس تحریر میں راقم آپ کو پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ پیش کرے گا کہ کہاں سے بات شروع ہوئی تھی اور کہاں تک پہنچی۔ گویا کبھی عروج کا کمال تھا آج زوال کمال کو پہنچا ہے ۔ لیکن اِس سے پہلے انتظامیہ کے حوالے سے ایک بات عرض کرنی ضروری سمجھوں گا تا کہ آج کا نوجوان جان سکے کہ کبھی ہماری بیوروکریسی ایسی بھی ہوتی تھی۔وہ یوں کہ کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ دفتروں میں کاغذات کو جوڑنے کے لیے پِن نہ ملتی تھیںتو ہمارے یہ افسر کراچی شہر سے دور دراز علاقوں کی طرف نکل جاتے تھے اور کانٹے اکٹھے کرکے لاتے تھے اور اُن سے کاغذات کو جوڑتے تھے وہ بیوروکریٹس بھی انسان تھے۔آج کا بیوروکریٹ عوام کی راہ میں کانٹے بچھا کر بھی شرمندہ نہیں۔ بہر حال عدلیہ کی تاریخ جو اِس وقت کا موضوع ہے اُس کی طرف چلتے ہیں۔
جسٹس عبدالرشید پاکستان کے پہلے چیف جسٹس تھے۔ اُس وقت لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان تھے۔ اُنہوں نے سرکاری سطح پر چائے کی دعوت کا پروگرام بنایا، جس میں اعلیٰ حکومتی عہدداروں کو مدعو کیا گیا۔ جس کے جواب میں چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو خط لکھا کہ آپ نے مجھے چائے کی دعوت میں بطور مہمان شرکت کی دعوت دی ہے۔ مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہ ہوتا لیکن اِس وقت آپ کی حکومت کا ایک مقدمہ میری عدالت میں زیرِ سماعت ہے لہٰذا اِس دوران آپ کی طرف سے کسی دعوت کو قبول کرناعدل کے تقاضوںکے خلاف ہوگا اور اگلی بات ایسی ہے کہ قارئین دانتوں میں انگلیاں دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جس دن وہ ریٹائر ہوئے تو اپنے پین کی سیاہی دوات میں انڈیل دی کہ یہ سیاہی سرکاری پیسوں سے آئی تھی میں اِسے گھر نہیں لے جا سکتا۔ پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس منیر نے جو عدلیہ میں نظریہ ضرورت کے حوالے سے بڑے بدنام ہوئےا ور بالکل صحیح بدنام ہوئے اگرچہ کم از کم راقم کے علم میں اُن کی کسی نوع کی کرپشن نہیں۔ بہرحال اُنہوں نے نے مولوی تمیز الدین کیس میں حکومت کے حق میں فیصلہ دے کر نظریۂ ضرورت کی بنیاد رکھی۔ اِس فیصلے نے پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو کھو کھلا کردیا۔حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات انسان وقتی حالات اور ملکی مفاد کے حوالے سے دلائل سے قائل ہو کر ایک غلط کام کر گزرتا ہے لہٰذایہاں تک بات رہتی تو بھی ہم جسٹس منیر کا کچھ نہ کچھ دفاع کرتے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایوب خان کے مارشل لاء کے وقت بھی موصوف ہی چیف جسٹس تھے۔لہٰذا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جسٹس منیر کے اِس نظریۂ ضرورت نے عدلیہ میں خرابی کی داغ بیل ڈال دی ۔ گویایہ اُن کی ذہنی اور فکری کجی کا نتیجہ تھا۔ پھر عدلیہ کے لیے کوئی اچھا دن نہیں آیا۔ یقیناً بعض ججز حضرات نے انفرادی سطح پر عدل کا اعلیٰ معیار قائم کیا ہوگا لیکن فرد ہو یا ادارہ تاریخ یوں جائزہ لیتی ہے کہ اُس سے برائی کتنی پھوٹی اور اچھائی کتنی سامنے آئی۔ راقم کی رائے میں بحیثیت ِمجموعی عدلیہ کی تاریخ شرمناک حدتک داغدار ہے۔ کون نہیں جانتا کہ 1956ء کا آئین بڑی مشکل اور کاوشِ سے بنا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ اب پاکستان کم از کم جمہوریت کی پٹڑی پرچڑھ جائے گا لیکن ایوب خان نے اُسے بُری طرح کچل دیا۔
راقم کی یاداشت کے مطابق جسٹس رستم کیانی واحد جج تھے جنہوں نے ایوب خان کو کسی حد تک کاؤنٹر کرنے کی کوشش تھی۔ پھر ایوب خان نے جب اپنے بنائے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یحییٰ خان کو اقتدار منتقل کر دیا، تب بھی ہمارے نظام عدل پر قبرستان کی سی خاموشی چھائی رہی۔ ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو انوارالحق چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ اُن کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور شرمناک واقعہ مشہور ہے ۔ ضیا ء الحق کے مارشل لاء کے خلاف سپریم کورٹ میںرِ ٹ دائر ہوئی۔ جس روز اِس کیس کا فیصلہ سنایا جانا تھا، اُس سے ایک روز قبل ضیاء الحق اور چیف جسٹس شادی کے ایک ہی فنکشن میں مدعو تھے۔ ضیاء الحق نے اپنے ایک نمائندے کو چیف جسٹس کے پاس بھیجا کہ کل صبح آپ کیا فیصلہ سنارہے ہیں۔ ضیاءالحق کا نمائندہ یہ جواب لے کر واپس آیا کہ آپ کے اقتدار کو جائز قانونی حیثیت دے دی جائے گی۔ ضیاءالحق ذرا تلخ لہجے میں بولے وہ تو مجھے معلوم ہے کہ مارشل لاء قانونی قرار دے دیا جائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ معلوم کرو کہ مجھے بطور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ میں آئین میں من چاہی ترمیم کرسکوں، جس کا جواب نفی میں ملا، تو ضیاءالحق نے بڑی برہمی کا اظہار کیا ۔راوی کہتا ہے چیف جسٹس شادی کے فنکشن سے اپنے گھر جانے کی بجاےاپنے آفس گئے اور فیصلہ میں مطلوبہ اضافہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی خواہش کے مطابق کردیا۔’’حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں‘‘پرویز مشرف نے بڑی چالاکی کے ساتھ بلکہ جعل سازی کے ساتھ نواز شریف کو دھوکہ دیتے ہوئے مارشل لاء لگایا۔ سعید زمان صدیقی اس وقت جو چیف جسٹس تھے۔ اُنہوں نے تو مشرف کے تحتPCO کا حلف نہ اٹھایا البتہ ارشاد حسن جو اُن کی جگہ چیف جسٹس بنے، اُنہوں نے مارشل لاء کو جی آیاں نوں کہا۔
گویاہماری عدلیہ ڈھلوان پر لڑھکتی رہی اور تباہی کی طرف اُس کا سفر جاری رہا۔ طوالت سے بچنے کے لیے عدلیہ کے زوال کی کئی داستانیں چھوڑتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال تک آجاتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بدیانت یا کرپٹ تو ہر گز نہیں تھے البتہ انتہا درجہ کے بزدل انسان تھے۔ اپنے کئے ہوئے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کراسکے۔ اُن کے دور میں پہلی مرتبہ یہ ہو ا کہ سویلین حکومت نے دو صوبائی اسمبلیوں کے 90 دن میں الیکشن نہ کروا کر آئین کو پاش پاش کردیا اور وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے(اِ س سے پہلےآئین صرف مارشل لاءمیں ٹوٹتا تھا اور اگر کوئی سویلین حکومت آئین کی خلاف ورزی کرتی تھی تو سپریم کورٹ فوری طور پر اُس کی تلافی کردیتا تھا۔ کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی سویلین حکومت نے آئین شکنی کی طرف قدم بڑھایا ہوا اور سپریم کورٹ نے جلد از جلد اُن قدموں کوروک نہ دیا ہو۔)
موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر سیاسی ہونے کے بے شمار الزامات سامنے آئے ہیں۔ جب فیض آباد دھرنا ہوا تو اُنہوں نے اِسے اسٹیبلشمنٹ کی واردات قرار دے کراینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی حیثیت سے خوب نام کمایا۔ اِس لیے کہ وہ اُس وقت کی سیاسی حکومت کے خلاف تھا۔راقم کی رائے میں قاضی صاحب نے بالکل ٹھیک کیا۔لیکن موجودہ سویلین حکومت توخالصتاً اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سے کھڑی ہے اور سب کچھ اُنہی کا چلتا ہے۔ لہٰذا فیصلے آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی عین منشا کے مطابق آرہے ہیں۔ گویا وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے لیے بڑے مثبت جذبات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر 13 جنوری کے فیصلے جس میں ایک پارٹی کو انتخابی نشان سے ہی محروم کردیا گیا۔بڑی آسانی اورپورے یقین سے کہاجا سکتا ہے کہ آج پاکستان جس سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، یہ اِسی فیصلےکا نتیجہ ہے۔ ملکی سلامتی کے حوالے سے یہ ملک میں بدترین فساد کا موجب بنا اور مستقبل میں خدانخواستہ اس ملک کی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچا تو اِس تباہی میں اِس فیصلے کا کلیدی رول ہوگا۔ انتخابات جو عوام کی رائے کو جانچنے کا ایک ذریعہ ہےاس فیصلہ نے اِس ذریعےہی کو تباہ و برباد کرکے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
اب تو عدلیہ کا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ ایک کیس کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا تین رکنی بنچ 1-2 سے ناقابلِ سماعت قرار دیتا ہے اور اِس کے ناقابل سماعت ہونے کے فیصلہ کو ویب سائٹ پر چڑھا دیا جاتا ہے، لیکن بڑوں کو یہ فیصلہ پسند نہیں آتا تو چیف جسٹس اُس فیصلہ کو ویب سائٹ سے اتروا دیتے ہیں اور اِس مقدمہ کے لیے نیا بنچ بنا دیتے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ! اِس وقت خصوصی نشستوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جو پسندیدہ جماعتوں میں ریوڑیوں کی طرح بانٹ دی گئیں تھیں یہ سمجھ کر سماعت کے لیے فل کورٹ بنا دیا گیا کہ ججز کی اکثریت اِس بندر بانٹ پر مہر تصدیق ثبت کر دے گی لیکن آئینی اور قانونی معاملات اِس کے بالکل مخالف ہیں لہٰذا جو سماعت دو دن میں ختم کرنے کا ارادہ تھا اُسے طویل کیا جا رہا ہے شاید خلائی مخلوق کوئی کارنامہ سرانجام دے لے پاکستان کی تباہی کی یہ ایک نامکمل داستان ہے اِس لیے کہ جس ملک میں عدل یوں کیچڑ میں لت پت ہو جائے کہ وہ خواتین کے مخصوص ایام کے بارے میں فیصلے کرنا شروع کر دے جس کی مثال نہ اسلام کی تاریخ میں ہے اور نہ شاید غیر مسلموں کی تاریخ میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پاکستان پر رحم فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2025