خاتم الانبیاء کی پانچ شانیں اورختمِ نبوت کے بعد ہماری ذمہ داریاں
(سورۃ الاحزاب کی آیات45اور46 کی روشنی میں )
مسجد جامع القرآن، قرآن اکیڈمی ڈیفنس ،کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفیظ اللہ کے30اگست 2024ء کے خطابِ جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد!
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے قادیانیت کے متعلق تازہ فیصلہ پریشان حال اُمت اور خاص طور پر مسلمانان پاکستان کے لیے تازہ ہوا کے ایک جھونکے کی مانند ہے ۔ سچ بات تو یہ ہےکہ عقیدہِ ختمِ نبوت پر کوئی بھی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے دفاع میں عام پاکستانی مسلمان سے لے کر پارلیمنٹ کے اراکین تک ہر طبقہ اور ہر سطح کے مسلمان نے اپنا کردار ادا کیا ، خاص طور پرعلماء کرام ، دینی طبقات اور مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی رہنمائی میں اہم ترین کردار ادا کیا ۔ ختم ِنبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس لیے اس حوالے سے ہر مسلمان کے اندر حساسیت ہونی بھی چاہیے۔ البتہ عقیدہ ختم ِنبوت کاجہاں تحفظ اہم ہے وہیں اس کے کچھ لازمی نتائج اور تقاضے بھی ہیں۔ وہ بھی ہمارے سامنے رہنے چاہئیں۔ ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حضور ﷺکے بعد اب کوئی کتاب نازل ہوگی اور نہ ہی پیغمبر آئیں گے۔ اب قیامت تک کے لیے قرآن ہی ہدایت کا ذریعہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات ہی اُسوۂ حسنہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب انسانوں تک یہ ہدایت اوررہنمائی پہنچے گی کیسے ؟ پہلے انبیاء آتے تھے، رسول آتے تھے اوراللہ کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے تھے۔ ختمِ نبوت کے بعد لوگوں تک حق کاپیغام پہنچانا ، اللہ کے دین کی دعوت دینا ، اللہ کے دین کی گواہی پیش کرنا ، اللہ کے دین کو قائم کرکے دنیا کے سامنے بہترین نظام کا نمونہ پیش کرنا قیامت تک کے لیے اس امت کے ذمہ ہے ۔ یہ ہے ختمِ نبوت کے عقیدے کا عملی پہلو جس کی طرف ہماری توجہ کم ہے۔ یعنی ختمِ نبوت کے عقیدے کا عملی تقاضا یہ ہے کہ وہ اُمت جو نبی اکرم ﷺ کو اللہ کا آخری رسول مانتی ہے وہ اب آپ ﷺ کے مشن کو لے کر آگے بڑھے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرے جو آپ ﷺ کے ذمہ تھیں۔ آج اسی حوالے سے ہم سورۃ الاحزاب کی آیات 45 اور 46 کا مطالعہ کریں گے جن میں آپ ﷺ کی پانچ اہم ترین ذمہ داریوں کا ذکر آتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون کون سی ذمہ داریاں ہیں ۔ سب سے پہلے فرمایا:
{یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا (45)}(الاحزاب)’’اے نبیؐ !یقیناً ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔‘‘
گواہ بنا کر بھیجا گیا
سب سے پہلی بات یہ سمجھ لیجئے کہ گواہی کیا ہے ۔ ہم کلمہ شہادت میں یہ گواہی دیتے ہیں :
(اشھد ان لا الٰہ الا اللہ)’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
اسی طرح ختمِ نبوت کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ کے دین کی بھی گواہی دیں ۔ اس معنی میں حضورﷺ کے لیے شہید کا لفظ بھی قرآن میں آتا ہے اور اس اُمت کو شہداء اسی معنی میں کہا گیا:
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط}(البقرہ 143)’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت ِوسط بنایا ہے‘تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺنے اللہ کے دین کو قائم کرکے اس امت پر گواہی پیش کر دی ۔ ختم ِ نبوت کے بعد اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کر کے دوسرے لوگوں پر گواہی پیش کرے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے کئی اعتبارات سے یہ گواہی (شہادت) پیش کی ۔ مثال کے طور پر :
1۔ آپ ﷺنے اپنے قول سے اللہ کے دین کی گواہی پیش کی ۔قرآن حکیم کی ہزاروں آیات آپﷺ پر نازل ہوئیں اور ہزاروں مرتبہ جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور قرآن حکیم کے علاوہ بھی رسول اللہ ﷺ پر وحی آتی رہی۔ یہ حق کی گواہی اپنی زبان مبارک سے بھی آپﷺ نے پیش کی، خواہ اس میں ایمانیات کی دعوت ہو، عبادات کی دعوت ہو یا اخلاقیات کی دعوت ہو۔دنیا اگر کفر و شرک کے راستے پر تھی تو آپ ﷺ نے توحید کی بات کی، دنیا اگر باطل کے راستے پر بھی تھی تو آپ ﷺ نے حق بات بیان کی ۔ دنیا اگر بے حیائی کی دعوت پر جارہی تھی تو آپ ﷺ نے حیا کی دعوت دی ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ہر معاملہ میں اور ہر سطح پر اپنی زبان مبارک سے بھی حق کی گواہی پیش کی ۔
2۔ جوگواہی آپﷺ نے اپنی زبان مبارک سے پیش کی اس کا عملاً ثبوت بھی پیش کیا ۔ خواہ وہ عبادات کا اہتمام ہو، خواہ وہ اخلاقی رویوں کا مظاہرہ ہو، خواہ وہ معاملات کی درستگی کا معاملہ ہو، لین دین کے معاملات ہوں،خوشی غمی کے مواقع ہوں ۔ یعنی جو بھی اللہ کے دین کے تقاضے تھےوہ آپ ﷺنے عملی طور پر پورے کرکے امت کے سامنے شہادت پیش کردی ۔ یعنی آپ ﷺ کی ذات دین کا عملی نمونہ تھی۔ اس لیے قرآن میں یہ حکم دیا گیا :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘( احزاب: 21 )
بہت مشہور حدیث ہے۔ اللہ کے پیغمبر ﷺ تہجد کی نماز میں ایک تہائی رات، آدھی رات اور بعض اوقات دو تہائی رات قیام اللیل کا اہتمام فرماتے۔یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پیر سوج جاتے۔ عرض کی جاتی اے اللہ کے رسول ﷺ !آپ توخطاؤں سے پاک ہیں اور بخشے بخشائے ہیں ۔ آپﷺ اتنی محنت کیوں فرماتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:
(( افلااکون عبداشکورا))’’کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ ‘‘
یہ ہے اللہ کے ساتھ تعلق کی مثال ۔ غزوہ احزاب میں ایک صحابی آکر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺبھوک کی شدت ہے، میں نے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے۔ حضورﷺ نے اپنی قمیض مبارک ہٹا کر دکھائی تووہاں دو پتھر باندھے ہوئے تھے ۔ یعنی آپ ﷺ نے اپنے کردار سے بھی ایک مثالی نمونہ پیش کیا ۔
3۔ اللہ کے پیغمبرﷺ نے فقط ذاتی کردار میں دین کو پیش نہیں کیا بلکہ ایک انقلابی جماعت تیار کر کے اس کو مشقتوں اور مصائب کے مراحل سے گزار کرکندن بنایا (مکہ مکرمہ کے 13 برس ذہن میں رکھیے)، پھر اس کو غزوۂ بدر کے میدان میں اللہ کے حکم سےاتارا۔ 23 برس کی جدوجہد ، قربانیوں اور شہادتوں کے بعد اللہ کے دین کو بالفعل قائم و نافذ کرکے دکھایا ۔ یعنی یہ گواہی حضورﷺ نے ایک اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ایک عادلانہ نظام قائم کر کے بھی پیش کی ہے۔ختمِ نبوت کے بعد اس اُمت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی ان تینوں اعتبارات سے اللہ کے دین کی گواہی پیش کرے ۔
بشارت دینے والااور ڈرانے والا بنا کربھیجا
فرمایا:{ وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا (45)}(الاحزاب) ’’اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔‘‘
یہ تمام پیغمبروں کی بھی بنیادی ذمہ داری تھی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط} (النساء:165) ’’یہ رسول( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر‘تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجتّ( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد۔‘‘
جو لوگ پیغمبر کی دعوت کوقبول کریں ،اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی روش پر آجائیں،انہیں اللہ کی رضا، اللہ کی جنت کی بشارت دینا اور جو لوگ حق کا انکار کریں، پیغمبر کی دعوت کو رد کریں ،اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے فرار اختیار کریں، انہیں اللہ کے غضب اور جہنم کے عذاب سے ڈرانا بھی اللہ کے پیغمبروں کی ذمہ داری میں شامل تھا ۔ ختمِ نبوت کے بعد یہ ذمہ داری بھی اس امت کے کندھوں پر ہے ۔ اس کا اولین ذریعہ خود قرآن کریم ہے۔ سورہ مریم کے آخر میںبیان ہے :
{فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا(97)}(مریم) ’’تو ہم نے آسان کر دیا ہے اس (قرآن) کو آپؐ کی زبان میں‘تا کہ آپؐ بشارت دیں اس کے ساتھ متقین کو اور خبردار کریں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺنے بشارت اور انذار کی یہ ذمہ داری قرآن مجید کے ذریعے ادا کی ۔ ختمِ نبوت کے بعد اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو قرآن کے ذریعے تعلیم دے ۔ قرآن میں بشارت اور انذار کے پہلو ، جنت اور جہنم کا تذکرہ بار بار آرہا ہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ کی احادیث مبارکہ میں یہ تعلیم بار بار آتی ہے ۔ لہٰذا اگر ہماری دعوت میں قرآن و حدیث شامل ہوں گے تو بشارت اور انذار کی ذمہ داری ادا کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ۔
اللہ کے اذن سے دعوت دینے والا
اگلی آیت میں فرمایا :{وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا(46)} ’’اوراللہ کی طرف بلانے والا اُس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر۔‘‘(سورۃ الاحزاب)
پہلی بات تو یہ ہے اللہ کےپیغمبر اللہ کے نمائندے تھے ، اللہ کی طرف سے بھیجے گئے اور اللہ نے ہی ان کو دعوت الی اللہ کا منصب سونپا تھا ۔ لہٰذا پیغمبر کی دعوت کوئی عام دعوت نہیں تھی ۔ جیسے کسی فنکشن کی دعوت ہوتی ہے یا شادی بیاہ کی دعوت ہوتی ہے کہ دل کیا تو چلے گئے ورنہ کوئی طوفان نہیں آجائے گا ۔ اللہ کے پیغمبر کی دعوت پر لبیک نہ کہنے کا مطلب ہمیشہ ہمیش کی بربادی اور دائمی جہنم ہے ۔
ختم ِنبوت کے بعد دعوت الی اللہ کی ذمہ داری اس امت کے کندھوں پر ہے۔ یہ صرف علماء اور دینی جماعتوں کا کام نہیں ہےبلکہ امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ خود بھی دین پر عمل پیرا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے ۔ ویسے بھی ہر شخص اپنے عمل سے کوئی نہ کوئی دعوت دے رہا ہے ۔گزشتہ جمعہ کو بھی ایک مثال بیان ہوئی تھی کہ چار دوست کسی کام میں مشغول ہیں ۔ اذان کی آواز آگئی ۔ ایک اُٹھ کر نماز کے لیے چلا گیا ، باقی تین بیٹھے رہے ۔ ایک نے نماز کی اہمیت کی دعوت اپنے عمل سے پیش کردی جبکہ باقی تین نے نماز پر دنیوی کام کو ترجیح دینے کی دعوت پیش کردی ۔ اسی طرح ہر شخص اپنے عمل سے خاموش دعوت پیش کررہا ہے لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنے باطن میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے عمل سے کس قسم کی دعوت پیش کر رہے ہیں ۔ روزانہ کئی گھنٹے ہم سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اور جو کچھ شیئر کرتے ہیں ، اس سے ہم لوگوں کو کیا دعوت دے رہے ہیں اور روز قیامت کیا جواب دیں گے ۔
دعوت کے حوالے سے دینی طبقات میں بھی کئی مسائل اور مشکلات ہیں ۔ کہیں اپنے فرقے کی دعوت ہے ، کہیں اپنے شیخ کی دعوت ہے ، کہیں پیر صاحب کی دعوت ہے ۔ پھر کہیںدین کے نام پر مناظرے کرنا ، لغو زبان استعمال کرنا ، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا اور سلف صالحین پر تنقید کرنا بھی ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگ متنفر ہورہے ہیں۔ لہٰذا برائے مہربانی دین کی دعوت دیں، اپنے فرقے کی دعوت نہ دیں ۔ آپ لوگوں کو نماز کی دعوت دیں اور پڑھنے والوں کو بشارت دیں اور چھوڑنے والوں کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں انذار کریں ۔ پھر جن باتوں پر امت کا اتفاق ہے ان کی دعوت کو ترجیح دیں ۔ اگر آپ اختلافی اور فروعی مسائل چھیڑیں گے تو دعوت کا عمل متاثر ہو جائے گا ۔ مثال کے طور پر سچ بولنا ، نماز پڑھنا ، والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، حرام سے بچنا ، غیبت سے بچنا ، وعدہ پورا کرنا ، پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اس طرح کے دیگر دینی امور ہیں جن میں کسی کو اختلاف نہیں ہے ، ان کی دعوت دیں۔ اسی طرح آپ جب دعوت دیں تو اچھی اور پسندیدہ بات کریں ۔ قرآن پاک میں فرمایا :
{وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ}(حٰمٰ السجدہ:33) ’’اور اُس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف‘‘
آگے یہ بھی فرمایا :{وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(33)} ’’اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوںمیں سے ہوں۔‘‘
یعنی اپنا تعارف اسلام والا کروائے فرقہ واریت والا نہ کروائے ۔ دعوت کا مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلانا ہو ، فرقہ کی طرف یا کسی اور شخصیت کی طرف بلانا نہ ہو ۔
دعوت کے حوالے سے ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان عالم ، مفتی ، خطیب ، امام نہیں بن سکتا مگر داعی بننا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور یہ عقیدہ ختمِ نبوت کا عملی تقاضا ہے کیونکہ اس امت کو کھڑاہی اسی لیے کیا گیا ہے ۔ فرمایا:
’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘اور تم روکتے ہو بدی سے‘اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘ ( آل عمران : 110 )
جو بھی شخص یہ فریضہ سرانجام دے گا تو وہ امتی ہے ورنہ امتی نہیں ہے ۔ بخاری شریف میں حدیث ہے : اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : ((بلغوا عنی ولوآیۃ)) میری طرف سے لوگوں کو پہنچاؤ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی جس قدر کسی کو دین کا علم ہے وہ اس کو آگے پہنچائے۔والد ہے تو گھر والوں کو دین سکھائے ، بھائی ہے تو بہن کو ،ماں ہے تو وہ اپنی استطاعت اور استعداد کے مطابق بچوں کو سکھائے، بیوی ہے تو شوہر کو ، بہن ہے تو بھائی کو توجہ دلائے۔ حضرت عمر کے قبول اسلام کا واقعہ یاد کیجئے ۔ جب معلوم ہوا کہ بہن اور بہنوئی دونوں اسلام لا چکے ہیں تو جاکر دونوں پر سختی کی ۔ بہن نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور کہا عمر! چاہے جان سے ماردو لیکن ہم اللہ کا دین نہیں چھوڑیں گے ۔ حضرت عمر کا دل نرم پڑ گیا۔ کہا اچھا جو کچھ تم پڑھ رہے تھے مجھے بھی سناؤ۔ بہرحال انہیں سورہ طٰہٰ سنائی گئی تو ان کی زندگی بدل گئی ۔ دیکھئے کہ مسلمانوں کے عظیم خلیفہ کے قبول اسلام کا ذریعہ ان کی بہن بن رہی ہے ۔ اس لیے دعوتِ دین کے لحاظ سے ہر مسلمان کا کردار اہم ہے، یہ ہر مسلمان کے ذمہ بھی ہے اور خود اس کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اللہ کے پیغمبر ﷺنےدعا فرمائی کہ اللہ اس بندے کو خوش و خرم اور تر و تازہ رکھے جس نے مجھ سے دین کی کوئی بات سنی اور پھر اس کو ایسے ہی دوسروں تک پہنچایا ۔ اندازہ کیجئے کہ جس کو حضورﷺ کی دعا ہوکیا وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب نہ ہو گا ؟
آج ہم دنیا جہاں کا گند سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہوتے ہیں ۔ ذرا سوچئے ہم کس چیز کی دعوت دے رہیں ؟ کیا ہم سچے اُمتی ہیں ؟ جبکہ بحیثیت اُمتی ہماری ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم دین کی دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں ۔ اللہ نے اس دور میں اتنی آسانیاں دے رکھی ہیں ۔ مسلم معاشرہ ہے ، مساجد اور مدارس ہیں ، دروس قرآن ہیں ، رجو ع الی القرآن کورسز ہیں ۔ ہم دین سیکھ سکتے ہیں اور بڑی آسانی سے لوگوں تک پہنچا بھی سکتے ہیں ۔ اگر یہ کام ہم کریں گے تو سچے اُمتی کہلائیں گے اور اگر یہ کام نہیں کر رہے تو ہم اُمتی قرار نہیں پائیں گے ۔ ذرا سوچئے روزِ محشر ہم کیسے حضور ﷺ کی شفاعت کے طالب ہوں گے ؟
دعوت الی اللہ کے موضوع پر ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا بہت مشہور کتابچہ اسی عنوان سے ہے ۔ اس میں انہوں نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ آج امت اپنے سب سے بڑے مشن کو بھول کر چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں الجھی ہوئی ہے ۔ کوئی کہتا ہے ہاتھ سینے پر باندھو ، کوئی کہتا ہے ناف پر باندھو ، کوئی کہتا ہے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کر لو نماز ہو تو جائے گی ۔ کبھی ایک عمل حضورﷺ نے کیا اور بعد میں نہیں کیا ۔ مثال کے طور پر حضور ﷺ جناز ہ کے ساتھ جاتے تھے ۔ بعد میں رُک گئے کہ امت فرض نہ سمجھ لے ۔ اسی طرح حضور ﷺ کی بعض سنتیں متواتر ہیں بعض نہیں ہیں ۔ لیکن حضور ﷺکی 23 برس کی سب سے بڑی اور سب سے متواتر سنت اقامت دین کی جدوجہد ہے ، اس کی دعوت لوگوں کو کیوں نہیں دیتے جس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
سراجاًمنیرا
آپ ﷺ کی نبوت روشن چراغ کی مانند ہے جو قیامت تک روشن رہے گا ۔ آپؐ کی رسالت سے قیامت تک نورِہدایت پھیلتا رہے گا ۔ آسمان کے سورج کی حرات سے بعض لوگوں کو راحت ملتی ہے اور بعض کے لیے معاملہ پریشان کن بھی ہو جاتا ہے کیونکہ کہیں گرمی اور کہیں سردی ہے مگر حضور ﷺکی رسالت اور اُسوہ میں ہر کسی کے لیے راحت ہی راحت ہے ، فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ آپﷺکو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ فرمایا :
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107)}(الانبیاء ) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔‘‘
ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرمایا کرتے تھے اس رحمت کا صدوق (قرآن و حدیث کی شکل میں ) مسلم امت کے پا س ہے مگر آج اُمت نہ تو خود اس سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور نہ دنیا کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔ جیسے ہیرے جواہرات کے صندوق پر سانپ کنڈلی مار کر بیٹھا ہو ۔ نہ تو خود ہیرے جواہرات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسروں کو اٹھانے دیتا ہے ۔ اسی طرح اللہ کے رسولﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی کسٹوڈین یہ اُمت ہے لیکن آج دنیا کے سامنے اس کو ہم presentنہیں کر پارہے ۔ اسی وجہ سے ذلت اور رسوائی ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے ۔ بقول اقبال ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
بہرحال ان پانچ باتوں کی شہادت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے قول سے بھی دی اور اپنے عمل اور کردار سے بھی ان کی شہادت پیش کی ۔ انقلابی جدوجہد برپا کر کے اللہ کے دین کو قائم کر کے بھی گواہی دی اور ایک گواہی آخرت میں آپﷺ نے دینی ہے۔جہاں اللہ تمام رسولوں سے بھی پوچھے گا اور تمام امتوں سے بھی پوچھے گا :
’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘(الاعراف:6 )
اللہ کے رسول تو دنیا میں گواہی دے کربھی گئے اورگواہی لے کربھی گئے اور اللہ کو گواہ بنا کر گئے ۔یاد کیجئے! حجۃ الوداع کے موقع پر حضورﷺ نے کیا فرمایا تھا:
((الاھل بلغت))’’کیامیں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ ‘‘
تمام صحابہ کرام ؇ نے یک زبان ہوکرگواہی دی: یا رسول اللہﷺ! آپ ؐنے حق نصیحت، حق وصیت، حق امانت ادا فرما دیا۔ تب حضورﷺ نے اپنےدائیں ہاتھ مبارک کی انگشت ِ شہادت کو آسمان کی طرف بلند کرتین مرتبہ کے فرمایا :
((اللھم اشھد))’’ اے اللہ! تو گواہ ر ہ، یہ گواہی دے رہے ہیں کہ میں نے پہنچا دیا ۔‘‘
اس طرح حضورﷺ تو گواہی دے بھی گئے ،لے بھی گئےاور اللہ کو بھی گواہ بنا گئے ۔ کل اگر آپ ﷺ اللہ کے حضور فرما دیں کہ اے اللہ! میں نے تو اپنا فرض پورا کیا، اب امت کے لوگوں سے پوچھئے ، کیا انہوں نے اپنا فرض ادا کیا ؟ذرا سوچئے ! اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟ ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ جمعہ کی دو رکعت پڑھ لیں ، پنج وقتہ نماز پڑھ لی ، رمضان کے روزے رکھ لیے ، حج اور عمرہ ادا کرلیے تو بس دین پورا ہوگیااور حضور ﷺ کی سنت کے تقاضے پورے ہوگئے ۔ حضور ﷺ کی 23 برس کی سب سے بڑی اور سب سے متواتر سنت پر ہمارا کتنا عمل ہے؟ کیا ختمِ نبوت کے بعد یہ ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی ؟ کیا اقامت دین کی جدوجہد حضور ﷺ کی زندگی کی سب سے بڑا سنت نہیں ہے ؟اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور ﷺ کا سچا امتی بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !