حکومت کے لیے اصل مسئلہ!
ایوب بیگ مرزا
ریاستِ پاکستان کو اِس وقت جو خوفناک مسائل در پیش ہیں اُن میں ایک دہشت گردی ہے جو چند سال پہلے دم توڑتی نظر آتی تھی اب وہ دوبارہ پلٹ کر حملہ آور ہے اور اُس نے تمام قوتوں کی رِٹ پر سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا اور سرٹیجک حوالے سے انتہائی اہم صوبہ بلوچستان خون میں نہا رہا ہے۔ معیشت بُری طرح ڈانواں ڈول ہے بجلی کے نرخوں میں غیر منطقی ہوشرباء اضافہ نے ایک طرف انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور دوسری طرف غریب عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ کوئی بچوں کی ماں بجلی کا بل دیکھ کر نہر میں کود رہی ہے اور کوئی باپ زہر کھا کر خود کشی کر رہا ہے۔ ایک مستند اطلاع کے مطابق فیصل آباد جہاں صرف 3 یا 4 سال پہلے پروڈکشن اور برآمدی آڈرز کو پورا کرنے کے لیے لیبر کم پڑ رہی تھی وہاں ایک صد کے قریب فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور ایک لاکھ سے زائد مزدور بے روز گار ہو چکے ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کے سرمایہ دار بیرون ملک انڈسٹری منتقل کر رہے ہیں صرف گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان کے 3968 سرمایہ دار اپنی کمپنیاں دوبئی میں رجسٹر کرا چکے ہیں اور 8 لاکھ افراد نے پاسپورٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ بدترین بیروزگاری نے پاکستان کو جکڑ لیا ہے۔ برین ڈرین ہو رہا ہے جس سے پاکستان اعلیٰ ذہانت رکھنے والے شہریوں اور ماہرین سے محروم ہو رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان 4 ارب روپے روزانہ قرض لے رہی ہے جو ایک آل ٹائم ریکارڈ ہے۔ اس معاشی بدحالی میں حکومت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے 37ارب روپے سے فائر وال لگا رہی ہے تاکہ عوام کی تنقید سے بچ سکے۔ سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفت بدترین ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن حکومت اپنا سارا زور اس مسئلے پر لگا رہی ہے کہ عمران خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر نہیں بننے دینا۔ مرکزی کابینہ کے اکثر وزرا اور پنجاب کے صوبائی وزیر بھی اس مسئلہ پر دن رات بول رہے ہیں۔ وزیراعظم کے قانونی مشیر بیرسٹر عقیل نے ستائیس (27) منٹ کی ایک پریس کانفرنس کی ہے جو ٹیلی ویژن سکرینوں پر لائیو (Live) دکھائی گئی ہے کہ عمران جیسے نااہل اور کرپٹ انسان کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ پہلے یہ کوشش کی گئی کہ عمران خان کا نام امیدواروں کی فہرست سے نکلوا دیا جائے وہ نہ ہو سکا تو اب ہر روز بڑھ چڑھ کر میڈیا کو بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان کا چانسلر بن جانا کتنا خطرناک ہوگا۔ سوشل میڈیا کی اطلاع کے مطابق برطانیہ میں پاکستان کے سفارت خانہ کو سختی سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے پورے زوروشور کے ساتھ مہم چلائے وہاں کے اخبارات سے رابطہ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کے خطرناک ہونے کی بات عام کی جائے البتہ فائر وال لگاتے ہوئے جو انٹرنیٹ سست ہوگیا ہے وہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ وہ تمام فری لانسرز جن کا کام ہی انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے وہ بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی کمائی فارن کرنسی میں تھی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچ رہا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ کام چھوڑنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
مغرب کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان تو طالبان خان ہے یہ افغان طالبان کی حمایت کرتا ہے جو سارے مغرب کے نزدیک صرف دہشت گرد ہیں۔ پھر یہ کہ وہ عورتوں کے عریاں لباس پہننے کے خلاف ہے اور اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فلاں وقت اِس نے سلمان رُشدی کے ساتھ ایک سٹیج پر بیٹھنے سے اور ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا یعنی عمران دشمنی میں لعنتی سلمان رُشدی سے محبت پیدا ہوگئی ہے۔ راقم کی رائے میں اِس طرح کے حملے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہاں تمام طالبان کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں عورتوں کے لباس اور سلمان رُشدی سے نفرت مذہبی انتہا پسندی ہے۔ یہ کمال کے نکات اُٹھائے گئے ہیں راقم بھی سمجھتا ہے کہ یہ عمران کی نظر آتی جیت کو ہار میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ بہرحال آپ حکومت اور اُن کے کارپردازوں کی ذہنی پستی کی انتہا دیکھیں کہ وہ سارے ملکی اور قومی مسائل کو ایک طرف رکھ کر کس کام میں دن رات لگے ہوئے ہیں کہ ایک پاکستانی کو ہم یہ اعزاز حاصل نہیں کرنے دیں گے کہ وہ ایشیائی ہو کر مغرب کی بڑی اور سب سے دیرینہ یونیورسٹی کا چانسلر بن جائے۔ اعلیٰ ظرفی کا تقاضا تھا کہ حکومت پاکستان یہ رویہ اختیار کرتی کہ سیاسی رقابت اپنی جگہ اگر پاکستان کے ایک شہری کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے تو نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ پاکستان کا برطانیہ میں سفارت خانہ بھی تعاون کرے گا۔ کیا جیولین تھرو کا کھلاڑی ارشد ندیم کوئی کارنامہ دیکھاتا ہے تو یہ صرف اُس کا اعزاز ہے یقیناً یہ پاکستان کا اعزاز ہے لیکن یہاں تو حالت یہ ہے کہ بھرپور کوشش کی گئی کہ 1992ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے کے حوالے سے عمران خان کو مائنس کیا جائے (PTV) نے اِس حوالے سے باقاعدہ ایک کوشش کی۔ عمران خان نے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا صرف اُس صورت میں قبول کیا تھا کہ پاکستان میں اِس حوالے سے کوئی ایسی شاخ قائم کی جائے جس سے پاکستانیوں کو بھی علم حاصل کرنے میں کچھ سہولت حاصل ہو۔ لہٰذا نمل یونیورسٹی قائم ہوئی۔ اب طالبان خان کے کامیاب پراپیگنڈے سے عمران خان کے چانسلر منتخب ہونے کے امکانات شاید کم ہوگئے ہیں لیکن اگر وہ ان تمام حکومتی جدوجہد کے علی الرغم چانسلر منتخب ہوگیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس حوالے سے پاکستان میں کوئی علمی سرگرمیوں کا بندوبست نہ کرے۔ پاکستان کے سب سے بڑے کینسر ہسپتال پر تو ایک عرصہ سے حملے ہو رہے ہیں۔ راقم کی رائے میں آج جو اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو عزت بخشی ہے خاص طور پر اِس حوالے سے کہ اس وقت کم از کم 80 بلکہ 85 فیصد عوام کے دل میں وہ بس رہا ہے تو یہ کسی ایسے یا کچھ ایسے کینسر کے مریضوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے جن کے گھروں میں کھانے کو روٹی نہ تھی لیکن شوکت خانم میں اُن کا (VIP) علاج ہوا اور وہ شفایاب ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے شرفِ قبولیت بخشا۔
صاف اور سچی بات ہے کہ ایسی اعلیٰ ظرفی کہ اپنے سیاسی حریف کی کسی عالمی سطح پر اعزاز حاصل کرنے میں باقاعدہ مدد کی جائے یہ تو راقم کو بلا استثناء کسی ایک سیاسی جماعت کی بھی نظر نہیں آتی البتہ جو کیا جا سکتا تھا اور بعض سیاسی جماعتیں اور اُن کے سربراہ یقیناً کرتے کہ اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی اور اگر سیاسی حریف کوئی عالمی اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اُسے رسمی سی مبارک باد دے کر پاکستان کی کامیابی قرار دیا جاتا۔ یہاں رک کر قارئین اللہ تعالیٰ کی شان ملاحظہ فرمائیں یہ جو کرپٹ مافیا اور اُن کے چیلے ایک عرصہ سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ ثابت کرنے میں دن رات کوشاں تھے اللہ اُن ہی کی زبانوں سے آج یہ کہلوا رہا ہے کہ عمران خان تو بڑا پکا مسلمان بلکہ شدت پسند مسلمان ہے اللہ تعالیٰ نے اب اُن ہی کی ذمہ داری لگا دی ہے کہ اپنے غلیظ الزام کو خود اپنی زبانوں سے چاٹو اور اپنے منہ سے یہ گواہی دو کہ عمران خان تو بڑا پکا مسلمان ہے اللہ تعالیٰ کی شان نرالی ہے وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ اللہ اکبر!
حاصل تحریر یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم آج اگر بُری طرح زوال پذیر ہیں تو یہ بلاوجہ نہیں۔ ہمارا حال اِس وقت اُس عیسائی ریاست کی طرح ہے کہ جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اُس کے پیشوا کن بحثوں میں الجھے ہوئے تھے اور جب بغداد ڈوب رہا تھا تو مسلمان رہنماؤں کے کرتوت کیا تھے۔ راقم نے آغاز میں پاکستان کو درپیش جن مسائل کا ذکر کیا ہے وہ پاکستان کی سیکورٹی کے لیے انتہائی اہم اور سنجیدہ ہیں لیکن حکومت اُنہیں انتہائی سرسری انداز سے ڈیل کر رہی ہے البتہ عمران خان کو سیاسی طور پر ختم کرنا زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ یہ ایک لحاظ سے درست اس لیے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب اگر عمران خان برسر اقتدار آگیا تو اُنہیں 40سال کی لوٹ مار اور غیر ممالک میں جمع شدہ تمام سرمایہ اور جائیدادوں کا حساب دینا پڑے گا۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے پچھلے دنوں جس طرح کی دہشت گردی بلوچستان میں ہوئی ہے اتنی زوردار انداز میں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن حکومت نے اپیکس کا اجلاس بلایا جس میں سب بڑے اکٹھے ہوئے اور آئی جی بلوچستان کو تبدیل کر دیا اور پھر وہی روٹین کے جملے ہم دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیں گے اور اُنہیں عبرتناک سزائیں دیں گے سننے میں آئے اور معاملہ ختم۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا علاج محکمے ضم کرکے اور ختم کرکے نہیں ہو سکتا بلکہ اِس سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان سے برین ڈرین کے بارے میں ایک حکومتی عہدہ دار نے کمال کی بات کی ہے۔ فرماتے ہیں ٹھیک ہے جو پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں چھوڑ دیں۔ معاشی بدحالی کا کوئی مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی۔حکومت اپنے عہدہ داروں کی مراعات کم کرنے کی بجائے اُس میں اضافہ کر رہی ہے۔ ماہرِ اقتصادیات قیصر بنگالی نے اپنا حکومتی عہدہ سے استعفیٰ دینے کی یہی وجہ بیان کی ہے کہ حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں۔ انٹر نیٹ سست ہونے سے فری لانسرز کی چیخ و پکار کوئی اثر نہیں دکھا رہی۔ قصہ مختصر اس وقت حکومت کے لیے اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر نہ بن جائے۔ اسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے حکومت تن من دھن لگا رہی ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2025