(منبرو محراب)  امیر تنظیم اسلامی کا اختتامی خطاب - ابو ابراہیم

10 /

سالانہ اجتماع 2024ء میں امیر تنظیم اسلامی کا اختتامی خطاب


کل پاکستان سالانہ اجتماع2024ء  میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کےاختتامی خطاب کی تلخیص

مرتب: ابو ابراہیم

 

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 2024 ء کا سالانہ اجتماع پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ہم سب پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ اس کی نعمت اور فضل کے طفیل ہی نیکیاں پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ حدیث مبارکہ ہے کہ جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہوتا۔ ہمارے تمام وہ ذمہ داران( مرکز سے لے کر مقامی امراء ، نقباء ، معاونین اوردیگر تمام ذمہ داران و رضاکاران) جنہوں نےاجتماع کے لیے مہینوں محنت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے بہت سے رفقاء رضاکارانہ طور پر اجتماع سے پہلےیہاں پہنچے اورانتظامات میں حصہ لیا ، اسی طرح جن ذمہ داران کو مختلف ذمہ داریاں دی گئیں اور انہوں نے احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ، ان سب کی محنت اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے خیر و عافیت کے ساتھ آج اجتماع پایۂ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ہزاروں کا مجمع ہے، اونچ نیچ تو ہوتی ہےلیکن ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس اجتماع کے انتظامات پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوئے ہیں ۔ بالخصوص ملتان اور بہاولپور کے شہروں اور قرب و جوار کے علاقوں کے جو رفقاء ہیں انہوں نے بھر پور محنت کی اور دیگر بہت سے رفقاء نے بھی ان کی معاونت کی، بہاولپور کی مقامی انتظامیہ اور ریاستی اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا ۔ ہم تہہ دل سے ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے ۔ بہت سے رفقاء جو کسی معذوری ، بیماری یا کسی دوسرے شرعی عذر کی وجہ سے اجتماع میں شریک نہیں ہوسکے ، مگر ان کی دعائیں ہمارے ساتھ رہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔ اسی طرح گھروں میں خواتین اور بچوں نےبھی قربانی دی ہے ۔ وہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔ آپ سب کو میری طرف سے سلام اور شکریہ کے کلمات پہنچیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔  قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے :
’’وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیںوہ سب تسبیح کرتے رہتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیںاور اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے،پس بخش دے ُتو اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‘‘(المومن:7)
زمین پر اللہ کے بندے ایمان کے راستے پر ہوں ، ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہوں ، اپنی اصلاح کرنےوالے ہوں ، توبہ شرائط کے ساتھ پوری کرنے والے ہوں، اللہ کی بندگی میں لگے ہوں تو آسمانوں پر ان کے حق میں دعائیں ہوتی ہیں ۔ 
اس اڑھائی روزہ اجتماع میں ہماری یہی تو کوشش ہوتی ہے کہ ایمان اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کریں ، اپنی غلطیوں کا ادراک حاصل کرنے اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں ۔ توبہ استغفار کی طرف آئیں ، بحیثیت مسلمان اپنی ذمہ داریوں کا ادراک حاصل کرنے اور پھر واپس جاکر انہیںبھرپور طریقے سے اد ا کرنے کی کوشش کریں ۔ شرکاء کی غیر موجودگی میں ان کے گھروالوں نے قربانی دی ۔ یہ ساری محنت اور کوشش اللہ کی رضا اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے ہے۔ اللہ فرماتاہے کہ جو اس محنت اور کوشش میں لگے ہوئے ہیں، ان کے لیے فرشتے آسمان میں دعا کرتے ہیں ۔ اسی طرح اگلی آیت میں فرمایا :
’’ پروردگار! اور انہیں داخل فرما نااُن رہنے والے باغات میں جن کاتو نے ان سے وعدہ کیاہےاور (ان کو بھی) جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔تو یقیناً زبردست ہے کمالِ حکمت والا ہے۔‘‘(المومن:8)
ہم سب کی آرزو یہی ہے کہ دائمی زندگی میں ہمیں جنت نصیب ہو جائے تو اس کے لیے یہ ساری محنت کرنی پڑے گی اور جو یہ محنت کرے گا اس کے لیے یہ سب رحمتیں اور نعمتیں ہیں ۔ اللہ کی جنتوں میں اللہ کی میزبانی کا تصور اس دنیا میں رہتے ہوئے ہم کر ہی نہیں سکتے ۔ حدیث مبارکہ میں جنت کے بارے میں ہے کہ اس میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا ،نہ کسی کے دل میںاس کا تصور ہی آیا ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے لیے بھی اس کی کوشش کریں اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی ۔ آگے فرمایا :
 ’’اور انہیں بچا لے برائیوں سے۔ اور جسے تو نے اس دن برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا۔اور یقیناً یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘(المومن:9)
جو دنیا میں برائیوں سے بچ گیا اور اپنی اصلاح کر لی تو اس کے لیے آخرت کی کامیابی ہے لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ روز محشر اللہ تعالیٰ بڑے عذاب سے بچا لے ۔ وہی اصل اور حقیقی کامیابی ہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
’’تو جو کوئی بچا لیا گیا جہنم سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘ (آل عمران: 185) 
یہ دنیا امتحان اور عمل کی جگہ ہے، نتیجہ وہاں ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کے بُرے نتیجے سے بچائے اور اس دنیا میں اپنی اصلاح اور دین کے لیے محنت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ ہمارا یہ اجتماع اسی کوشش کی ایک کڑی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہ دعائیں ہم سب کے حق میں قبول فرمائے آمین۔ ہم یہاں سے یہ خیر لے کر اپنے گھر جائیں، دین کے لیے جذبہ اور ایمان کی دولت میں اضافے کے ساتھ جائیں ۔ آمین ! 
اُمت مسلمہ کا حال 
اس وقت اُمت جس زوال سے دوچار ہے اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اُمت نے اُمت والا کام چھوڑا ہوا ہے اور بتمام و کمال اللہ کا دین کہیں نافذ اور غالب نہیںہے ۔ اللہ تعالیٰ امارت اسلامی افغانستان کو توفیق دے مگر ابھی بہت ساری محنت باقی ہے ۔ افغان طالبان نے ملاعمر ؒ کے دور سے شریعت کے نفاذ کے لیے جو جدوجہد کی ہے، اس سے ہمارا جذبہ بھی بلند ہوا ہے ۔ البتہ اُمت کی مجموعی صورتحال یہ ہے کہ کتاب و سنت پر مبنی عہد حاضر کی اسلامی فلاحی ریاست اب ایک خواب بن چکی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو اسی عظیم مقصد کے لیے منتخب کیا تھا جو امام الانبیاء ﷺکی زندگی کا مقصد اور مشن تھا ۔ آج اُمت نے اس مقصد کو ترک کردیا ہے ، اسی وجہ سے ہم دنیا میں ذلیل و خوار ہیں ۔ سابقہ اُمت مسلمہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا:
’’انہوںنے کہا اے موسیٰ!ہم تو ہرگز اس شہر میں داخل نہیں ہوں گے‘جب تک کہ وہ اس میں موجود ہیں ‘بس تم اور تمہارا رب دونوں جائو اور جا کر قتال کرو‘ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘(المائدہ؛24)
بنی اسرائیل نے اقامت دین کی جدوجہد سے، اللہ کے پیغمبر؈ کے مشن سے راہِ فرار اختیار کی ، آج اُمت مسلمہ بھی اسی جرم کی مرتکب ہورہی ہے ۔ یہ مملکت خداداد پاکستان جس کو اسلام کے نام پر لیا گیا مگر 77 برس ہوگئےہم اللہ کے دین سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ کی مدد کیسے آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
’’اے ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے‘ اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔‘‘(محمد:7)
 آج ہم مغلوب ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ کی مدد شامل ِ حال نہیں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں دوبارہ ہمیں عزت اور غلبہ حاصل ہو تو ہمیں اللہ کے دین کے لیے دوبارہ کھڑا ہونا ہوگا۔یہی بات سورۃ آل عمران میں بیان ہوئی :
’’اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھراس کے بعد کون تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ اور مسلمانوں کواللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔‘‘(آل عمران:160)
آج ہمارا اصل مسئلہ یہی ہے ۔ اللہ ہمیں پکار رہا ہے ، حالانکہ اللہ کو حاجت نہیں ہے ۔ وہ بے نیاز ہے، وہ ہماری بھلائی کے لیے ہمیں پکارتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
{یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ} (الصف : 14 ) ’’اے اہل ایمان! تم اللہ کے مددگار بن جائو‘‘
اسی آیت میں آگے وضاحت ہے کہ نصرت الٰہی سے مراد پیغمبر ؈کے مشن میں شامل ہوناہے ۔ یہ پکار تو لگی ہوئی ہےاور پھر یہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے کہ ہم اللہ کے دین پر عمل پیرا ہوں ، اس کی دعوت بھی دیں اور اقامت دین کی جدوجہد میں شریک بھی ہوں ۔ نماز بھی فرض ہے ۔ اگر نماز قضا ہو جائے تو ہمیں افسوس ہوتاہے۔ اقامت دین کی جدوجہد کے فریضہ میں شامل نہیں ہیں تو ہمیں افسوس ہوتاہے ؟حالانکہ ہماری نجات اسی فریضہ کی ادائیگی سے جُڑی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ سورۃ العصر میں دائمی خسارہ سے بچنے کا بیان ہے ۔  اسی طرح اُمت کا عروج و زوال بھی اسی فریضہ کی ادائیگی سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ کوئی اختیاری معاملہ نہیں ہے کہ دل چاہے گا تواس فریضہ کو ادا کریں گے نہیں چاہے گا تو کوئی مسئلہ نہیں ‘بلکہ اس فریضہ کی ادائیگی ہر اُمتی کے ذمہ لازم ہے ۔ یہ وہ اہم فریضہ ہے جس کے لیے اس اُمت کو کھڑا کیا گیا اور اسی فریضہ کی ادائیگی اللہ کے آخری رسول ﷺکی زندگی کا مشن تھا۔ اللہ نے ہمارے لیے اپنے رسول ﷺکی زندگی کو نمونہ بنایا ہے :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (احزاب:21)’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول؈میں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘
نماز فرض ہے اس کا طریقہ ہم اُسوۂ رسول ﷺ سے لیتے ہیں۔ اسی طرح ہر دینی فریضہ کا طریقہ اُسوۂ رسول ﷺ سے لیتے ہیں لیکن جو سب سے اہم فریضہ ہے جس کو نبی اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی کا مشن بنایا اس فریضہ کو ہم اہمیت ہی نہ دیں تو پھر ہم کیسے اُمتی اور کیسے مسلمان ہیں ؟اگر اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے طریقہ آپ ﷺ کی زندگی سے نہ لیںتو یہ بھی ناقدری ہوگی۔ اس حوالے سے بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے’’منہج انقلاب نبوی ﷺ ‘‘اور’’ رسول انقلاب ﷺ کا طریق انقلاب‘‘ کے عنوان سے تفصیل کے ساتھ ہمیں سمجھایا ہے۔ ان کتب سے استفادہ کرلیں تو اقامت دین کی جدوجہد کا پورا نقشہ ہمارے سامنے آجاتاہے ۔ 
اہداف:
 
تنظیم اسلامی کی سطح پرہر سال کچھ اہداف کا تعین کیا جاتاہے ۔ تاہم سال 2025 ءکےلیے میں نے ساتھیوں کی مشاورت سے کچھ تبدیلیاں کی ہیں ۔ ہم نے کچھ نیا کام نہیں کرنا ۔ صرف کچھ چیزوں پر فوکس ہو کر کام کرنا ہے ۔ تنظیم ہم سب سے مل کر بنی ہے ۔ لہٰذا ہم سب نے ایک دوسرے کی معاونت کرنی ہے ۔ 
 دعوتی امور کی نگرانی: 
برسوں سے تقاضا تھا کہ دعوتی امور کے حوالے سے مرکزی سطح پر بھی کچھ کیا جائے ۔ بہتری کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے ۔ ہم نے ناظم اعلیٰ کے ساتھ خبیب عبدالقادر صاحب کا تقرر بطور مرکزی معاون دعوت کیا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ ملک بھر میں دعوتی سرگرمیوں کی نگرانی اور معاونت کریں ۔ 
 تربیتی امور میں حلقوں کی معاونت: 
سال بھر پورے پاکستان میں مبتدی، ملتزم، مدرسین اور نقبا وامرا تربیتی کورسز کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ہمارا مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت اس ضمن میں نگرانی اور معاونت کرتاہے اور اس شعبہ کے ذمہ داران پورا سال سفر میں رہتے ہیں ۔مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ حلقے اپنے اپنے مقامات پر اجتماعات میں ذمہ داران کی تربیت کا اہتمام کریں گے اور مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت حلقوں کی اس کام میں معاونت کرے گا ۔ 
 2025 کے نصف ثانی کی ملک گیر مہم:
 
ہرسال جولائی سے لے کر دسمبر تک ہم ششماہی مہم چلاتے ہیں ۔ گزشتہ سال غزہ کے حوالے سے ہم نے یہ مہم جاری رکھی ۔ اس سال ارادہ ہے کہ ہم اس مہم میں تنظیم اسلامی کی دعوت اور تعارف کو بھی شامل رکھیں گےتاکہ تنظیم کی دعوت عام ہو ۔ 
حلقے کی سطح پر توسیع دعوت کا معاملہ :
 
تنظیم میں ایک روزہ، دو روزہ اور تین روزہ دعوتی مہم کا تصور پہلے بھی رہا ہے ۔ اب ارادہ ہے کہ اس سلسلہ کو مزید بڑھایا جائے اور حلقہ جات کی سطح پر اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ جہاں جہاں تنظیم اسلامی کا تعارف اور دعوت نہیں ہے وہاں جاکر تنظیم کی دعوت اور تعارف کو پھیلایا جائے ۔ 
نئے رفقا سے رابطے کی نگرانی: 
الحمدللہ اس وقت ہمارے اس اجتماع میں ایک بڑی تعداد ان احباب کی ہے جو ابھی باقاعدہ تنظیم اسلامی میں شامل نہیں ہوئے مگر ان میں سے کئی ایک کا ارادہ ہےکہ وہ بیعت کریں گے ۔ نئے رفقاء سے رابطہ تو نقیب نے کرناہے مگر اس کی نگرانی امیر حلقہ نے کرنی ہے ۔ 
مقامی تنظیم کی سطح پر:
 
مقامی تناظیم کی سطح پر اُسرہ کے اجتماعات ،حلقہ جات قرآنی ، دعوتی اور تربیتی اجتماعات اب نظام العمل کے مطابق ہو رہے ہیں ۔ اس پر مقامی اُمراء نے مزید فوکس کرنا ہے ۔ ان شاء اللہ ۔ 
 شخصی جائزہ:
مقامی امیر کو نقیب کے ساتھ بیٹھ کر اُسرہ میں شامل رفقاء کے حوالے سے بات کرنا ہوتی ہے اور کہیں رہنمائی اور مشورہ کی ضرورت ہوتو اس میں معاونت کرنا ہوتی ہے ۔ یہ تعلق جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی رفقاء کی کارکردگی بہتر ہوگی ۔ اس پر ان شاء اللہ پہلے سے زیادہ فوکس کرنا ہے ۔ 
 سلسلہ مواخات کا تسلسل:
اُسرہ میں شامل دو دو رفقاء کی باہمی مواخات قائم کرنے کا سلسلہ پانچ ہزار رفقاء تک بڑھ چکا ہے ۔ اس سلسلہ کو تمام رفقاء تک بڑھانا ہے ۔یہ مواخات کا معاملہ مستقل کرنے والا کام ہے ۔ مقامی تناظیم کی سطح پر اس پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔
نقیب کی ذمہ داریاں:
ہر نقیب کے لیےدعوت و تربیت سمیت بہت سے کرنے کے کام ہیں ۔ ایک اہم گوشہ جس میں بہتری کی خاصی گنجائش ہے وہ ذاتی ملاقات اور رابطہ ہے۔ ذاتی ملاقات کا اپنا اثر ہوتا ہے، پھر اپنے رفیق کے ذاتی احوال سے واقف ہونابھی ضروری ہے تبھی علمی، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے تربیت بھی دی جاسکے گی اور اگر رفیق کو کچھ مسائل درپیش ہوں تو ان کے اعتبارسے بھی رہنمائی دی جا سکے گی ۔ ہر نقیب کو اس پربھی فوکس کرنا ہے ۔ 
 مدرسین کی سطح پر:
مدرسین کے حوالے سےکرنے کے کاموں میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے تکبر اورریا سے محفوظ فرمائے اور سمع وطاعت کی پابندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مدرسین کے لیےجو نصاب متعین کیا گیا ہے اس کو انہوں نے لازماً مکمل کرنا ہے ۔ مدرسین اس پر توجہ دیں اور ذمہ داران بھی اس کام کی نگرانی کریں ۔ مدرسین کے لیے ہر سال ریفریشر کورس بھی ہوتاہے ۔ اس سے بھی مدرسین کو بہت فائدہ ہوسکتاہے ۔ مدرسین ان کورسز میں لازماً شرکت کریں ۔ 
ملتزم رفقا کی سطح پر:
ملتزم تربیتی کورسز میں بہتری کی ابھی کافی گنجائش موجود ہے ۔ ملتزم رفقاء ان تربیتی کورسز میں لازماً شرکت کریں اور امرائے حلقہ جات بھی اس بات کا اہتمام کریں کہ زیادہ سے زیادہ ملتزم رفقاء تربیتی کورسز میں شامل ہوں ۔ اس کے علاوہ اپنی فکر کی مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے کہ معین نصاب کا مطالعہ کیا جائے ۔ کچھ کتب کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ ملتزم رفقاء اس پر توجہ کریں۔
 گھریلو اُسرہ:
دعوت دین میں اگر میں سارے جہاں کی فکر کر رہا ہوں مگر اپنے گھر والوں کی فکر نہیں ہے ، گھر میںمقدور بھر دین کا نفاذ نہیں کر رہا تو یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ گھریلو اُسرہ اس حوالے سے بہترین ماحول فراہم کرتاہے کہ گھر والوں کو دین کی دعوت دی جائے اور انہیں دین پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی جائے ۔ تمام رفقاء گھریلو اُسرہ کالازماً اہتمام کریں ۔ 
مبتدی رفقاءکے لیے :
دنیوی امور میں ہم چاہتے ہیں کہ آگے سے آگے بڑھیں ۔ دینی معاملات میں ہم کیوں پیچھے رہنا چاہتے ہیں ۔ اگر کوئی مبتدی رفیق ہے تو اس کو کوشش کرکے ملتزم بننا چاہیے تاکہ دین میں اس کی ترقی ہو اور اجر میں بھی اضافہ ہو ۔ 
تعلق مع اللہ:
اگر ہم اللہ کے دین کے کام کے لیے نکلے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بغیر یہ کیسے ہو سکتاہے ؟سابق امیر تنظیم اسلامی حاکف عاکف سعید اس حوالے سے مستقل توجہ دلاتے تھے کہ اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کیا جائے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تلاوت قرآن ، نوافل اور دعاؤں کا مسلسل اہتمام کریں ۔ 
 فکرِ آخرت :
آخرت کی فکر قرآن سے ملے گی ۔دو تہائی قرآن مکہ میں نازل ہوا ۔ اس قرآن کو پڑھ کر صحابہ کرام؇ کسی اورہی عالم کی سیر کر رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلال ؄جان دینے کے لیے تیار تھے لیکن ایمان دینے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ حضرت خباب ؄انگاروںپر لیٹنے کے لیے تیار تھے لیکن کلمہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں  تھے ۔ حضرت سمیہ و یاسر؆ شہید ہونے کو تیار تھے لیکن محمد مصطفیﷺ کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیںتھے۔کیا شے تھی جس نے ان کو اتنا مضبوط کیا ہوا تھا ؟ وہ فکر آخرت تھی جو انہیں قرآن سے ملی ۔ اس کے بعد حضور ﷺکی احادیث سے ملے گی ۔ صحابہ؇ کے واقعات سے ملے گی ۔ رسول اللہﷺ نے آل یاسر؇  کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:(( اصبروا یا آل یاسر فان موعدکم الجنۃ))’’اے آل یاسر! صبر کرو ، بے شک تمہارے لیے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔ ‘‘
صحابہ ؇کا آخرت پر اتنا یقین تھا۔ آج ہم تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں ۔ ابھی موت آجائے تو ہم اللہ کے سامنے جانے کے لیے تیار ہیں ؟کیا ہمارے معاملات ماں باپ اور دیگر بندوں کے ساتھ ٹھیک ہیں ۔ بحیثیت رفیق ہم بیعت کیے بیٹھے ہیں کیا سمع و طاعت کے حوالے سے میرے معاملات ٹھیک ہیں۔  اللہ مجھے اور آپ کو یقین عطا فرمائے۔ 
 کردار کی گواہی: 
ہم خلافت کا نظام قائم کرنے کھڑے ہوئے ہیں لیکن کیا ہمارا ساڑھے پانچ چھ فٹ کا وجود اس بات کی گواہی دے رہا ہے ؟ اگر یہ ساڑھے پانچ چھ فٹ کا وجود گواہی نہ دے کہ مومن وہ ہے جس کو دیکھ کر اللہ یاد آئے (ترمذی)یعنی امتی وہ ہوگا جس کو دیکھ کر محمد رسول اللہﷺ یاد آئیں تو پھر یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ اللہ کی مدد باغیوں، سرکشوں اور نافرمانوں کے لیے نہیں آتی ۔  سورۃ النحل کے آخر میں فرمایا:
{اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ(18)} ’’یقیناً اللہ اہل ِتقویٰ اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ 
ڈاکٹر اسراراحمدؒ منافقین کی چار نشانیوں والی حدیث اکثر سنایا کرتے تھے ۔ آج ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ جب بات کریں تو جھوٹ بولیں ، وعدہ کریں تو پورا نہ کریں ، امانت میں خیانت ، جھگڑا ہو جائے تو گالم گلوچ پر اُتر آئیں ۔ کیا منافقین کا مزاج رکھنے والوں کے لیے اللہ کی مدد آسکتی ہے اور کیا اللہ کے دین کے غلبے کی جدوجہد ان کاموں کے ساتھ ہوگی؟ فجر میں سوتا رہوں اور بات کروں میں اقامت دین کی ، فرائض کو پامال کروں ، حرام کا ارتکاب کروں ، خدانخواستہ گناہوں میں ملوث ہوں اور بات کروں اقامت دین کی تو یہ بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ غلطی ہو جانا الگ بات ہے ، توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ مگرگناہ پر اڑے رہنا خطرناک عمل ہے ۔ اڑے ہوئے لوگوں کے لیے اللہ کی مدد کا وعدہ نہیں ہے ۔ 
داعی الی اللہ بننا: 
ہر بندہ معلم نہیں بنے گا، مدرس نہیں بنے گا لیکن داعی ہر بندہ بن سکتاہے ۔ یہ مستقل کرنے کا کام ہے ۔ اسی کام کے لیے اس اُمت کو کھڑا کیا گیا ۔ ہر رفیق تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ داعی بنے ۔ حضور ﷺ نے دعا دی ہے کہ اللہ اس بندے کوتروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی بات سنے اور اسی طرح دوسروں تک پہنچائے ۔ (جامع ترمذی) اللہ ہمیں اس دعا کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ! 
 قران حکیم سے جوڑنا: 
کتنے لوگ ہیں جو بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒکے دروسِ قرآن یا دورہ ترجمہ قرآن سن کر یا تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام دروسِ قرآن یادورہ ترجمہ قرآن یا خلاصہ مضامین قرآن سن کرتنظیم اسلامی میں آئے ہیں یا اجتماع میں آئے ہیں ، اب ان کو اس خزانے کو آگے بھی پہچانا چاہیے ۔ قارون سے اللہ نے کہا تھا :
(وَ اَحْسِنْ كَمَااَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ)’’اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا ۔ ‘‘
بقول ڈاکٹر اسراراحمدؒ خزانے پر سانپ بن کر نہ بیٹھ جائیں  بلکہ جو سنا ہے اس کو دوسروں تک بھی پہنچائیں ۔ یہ بھی اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ لوگوں کو قرآن سے جوڑیں تاکہ مزید لوگ اقامت دین کی جدوجہد میں ہمارے دست و بازو بنیں ۔ اس تعلق سےگزشتہ سال میں نے ذکر کیا تھا کہ ہر مبتدی رفیق دو احباب پر محنت کرے ، ہر ملتزم رفیق چار پر محنت کرے ۔ آسان ہدف ہے اپنے گھر والوں پر محنت کریں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو توفیق عطا فرمائے ۔
 ترجیح دین و اجتماعیت :
 
بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی یہ سبق ہمیں اچھی طرح سمجھایا کہ دین کو ترجیحِ اول بنائیں ۔ میں  دل سے عرض کرتا ہوں کہ جب دین میری اور آپ کی ترجیح بنے گا تو دنیا جو مجھے اور آپ کو پریشان کرتی ہے اللہ ذلیل کر کے میرے اور آپ کے قدموں میں ڈال دے گا۔ آج جو اُمت ذلیل و رسوا ہے اگر یہ دین کو ترجیح بنا لے تو کل یہی عروج پر ہوگی ۔ قرآن میں ارشاد ہے :
’’بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔‘‘(التوبۃ:۱۱۱)
اللہ کو کسی سودے کی حاجت نہیںہے ، وہ ہمیں ترغیب دلا رہا ہے۔ امام زین العابدینؒ نے فرمایا: یہ میری جان کوئی حقیر شے نہیں ہے کہ کسی گھٹیا کام میں لگاؤں، حالانکہ اس کے بدلے میں جنت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ قرآن میںاللہ نے فرمایا:
{وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ(99)} (الحجر) ’’اور اپنے رب کی بندگی میں لگے رہیں یہاں تک کہ یقینی شے وقوع پذیر ہو جائے۔‘‘
 بندگی کے تقاضوں میں اللہ کی بندگی کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد بھی شامل ہے اور اس کے لیے جماعت سے جڑنا لازم ہے۔ لہٰذا میرے باس کا آرڈر بعد میں ، میرے گھر کی پکار بعد میں ، پہلے اجتماعیت کی پکار ہے ۔ اگر اس پرہم لیبک کہتے ہیں تو واقعتاً ہم آخرت کے معاملے میں سنجیدہ ہیں ۔ اللہ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
 عزیمت کا راستہ:
اسلامی انقلاب A.C والے کمروں میں بیٹھ کر نہیں آسکتا ۔اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں اس کائنات کی عظیم ترین شخصیت محمد مصطفی ﷺ کاخونِ اطہر بہا ہے۔ صحابہ کرام ؇ نے اپنی جانیں دی ہیں ۔ جنت کوئی اتنی ارزاں چیز نہیں ہے ۔اس کے لیےتوسخت آزمائشوں  سے گزرنا پڑے گا :
’’اورہم تمہیں ضرورآزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنادیجئے صبرکرنے والوں کو ۔‘‘ (البقرہ:155)
اللہ تعالیٰ اس عزیمت کے راستے پر ہمیں آگے بڑھائے ۔
 یقین اور توکل:
50 ممالک کی افواج اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہمراہ افغانستان پر چڑھائی کرنےو الا امریکہ ذلیل ہو کر نکل گیا ، افغان طالبان کا یقین اور توکل اللہ تعالیٰ پر تھا وہ آج بھی شان سے حکومت کررہے ہیں ۔ یہی یقین اور توکل حماس کے پاس ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا کی نفرتیں اور لعنتیں اسرائیل سمیٹ رہا ہے ۔ امریکہ کا مکروہ چہرہ جتنا اب کھل کر سامنے آیا ہے اتنا پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس میں ہمارے لیے بھی سبق اور ترغیب و تشویق کے پہلو  ہیں ۔ 
 جہاد مسلسل :
سورۃ العنکبوت میں فرمایا:
’’اور جنہوں نے ہمارے لیےجہاد کیا ہم ضرور اپنی راہوں کی طرف ان کی رہنمائی کریں گے اور بے شک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔‘‘(آیت:69)
جن کا توکل اور یقین اللہ پر ہوتاہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہمیں اُٹھا لیاگیا ، جیلیں بھردی گئیں ، قیادت کو گرفتار کرلیا گیا تو کام کیسے ہوگا ؟باطل قوتوں کی جنگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے ،اللہ اس جنگ میں کسی کا محتاج نہیں ہے ، آزمائش صرف ہماری ہے کہ ہم باطل کے خلاف اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں یا نہیں ، ہم اس کے مکلف ہیں جو ہمارے بس میں ہے ۔ اللہ علی کل شی قدیر ہے ۔اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی ہے؟ اللہ کی طاقت میں کوئی کمی ہے؟پریشانی کس بات کی ہے ، اپنے منہج کو واضح  رکھیں ، نیت کو صاف رکھیں ، اخلاص کے ساتھ اقامت دین کی جدوجہد میں لگ جائیں۔ اللہ راستے کھولے گا ۔ اسی آیت کی تفسیر ایک حدیث قدسی میں آرہی ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’میرا بندہ مجھے دل میں یاد کرے میں بھی دل میں یاد کرتا ہوں، کسی مجلس میں یاد کرے، میں اس سے بہتر محفل میں اس کا ذکر کرتا ہوں ، وہ ایک بالشت میری طرف آئے، میں ایک ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں۔ وہ ایک ہاتھ بھر میری طرف آئے ،میں دو ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں۔ وہ چل کر میری طرف آئے، میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔‘‘
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص ، توکل اور یقین کی دولت عطا فرمائے، ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور اجتماعیت کے جو تقاضے ہیںان کو واقعتاًدل و جان سے قبول کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین !