نبی رحمۃ للعالمین ﷺ
فسادیوں کی سرکوبی کے لیے نبی الملاحم بھی ہیں
سجاد سرورمعاون شعبہ تعلیم و تربیت
نبی اکرم ﷺ کی سیرت و شمائل کو بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ کی رأ فت و مودت اور آپ ﷺ کے رحمۃللعالمین ہونے پر بہت ز ور دیا جاتاہے جس سے یہ اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو لوگ اسلام کو طاقت کے زور سے قائم و نافذ کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ طرز ِعمل نبی کریم ﷺ کی ان صفات سے متضاد ہے۔ جب کہ ہم بغور نبی کریم ﷺ کی سیرت کا جائزہ لیں تو اس میں نبی کریم ﷺ کی زندگی اہلِ کفر کے ساتھ کشاکش ہی میں گزری ہے۔ اور آ پ ﷺ نے کافروں کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ میدا نِ جنگ میں ان کاسامنا بھی کیا۔ آپ ﷺ کی سیرت کاایک اہم باب مغازی سے تعلق رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ کاایک صفاتی نام یا لقب ’’نبی الملاحم‘‘بھی ہے ،یعنی جنگوں والے نبی،آپﷺ کی حیات طیبہ میں جہاں تقریباًاٹھائیس غزوات کاتذکرہ ملتاہے،وہیں آپ ﷺنے کئی سرایا بھی روانہ فرمائے۔اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد تقریباًچھپن تھی۔
((سیدنا حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺکو مدینہ کے کسی راستہ میں ملا، آپ ﷺنے فرمایا: ”میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ہوں، میں نبی توبہ ہوں، میں سب سے پیچھے آنے والا ہوں، میں حاشر ہوں اور میں جنگوں کا نبی ہوں))((کشف الاستار (120/3 ح 2378)مسند احمد (455/5)قال الشيخ زبير علی زئی: سند حسن))
قرآن مجید کی سورۃا لانبیاءآیت 107 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کورحمۃ للعالمین کا لقب عنایت فرمایا :ارشادِ ربانی ہے{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} جہاد و قتال بھی نبی اکرم ﷺ کے رحمۃللعالمین ہونے کی ہی ایک علامت ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ اس آیت کی تفسیرکے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ" عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپﷺ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے’’ انا رحمة مھداة ‘‘میں اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں۔ (اخرجہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃؓ)اور حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’انا رحمة مھداة برفع قوم و خفض اخرین‘‘یعنی میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں تاکہ (اللہ کے حکم ماننے والی) ایک قوم کو سربلند کردوں اور دوسری قوم (جو اللہ کا حکم ماننے والی نہیں ان کو) پست کر دوں (ابن کثیر)اس سے معلوم ہوا کہ کفر و شرک کو مٹانے کیلئے کفار کو پست کرنا اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنا بھی عین رحمت ہے جس کے ذریعہ سرکشوں کو ہوش آ کر ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجانے کی امید کی جاسکتی ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم (معارف القرآن)
ترتیب ِ نزولی کے اعتبار سے قرآن مجید میں جہاد و قتال کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ’’ اذ ن ِ قتال‘‘ جاری فرما یا ۔ آغاز میں صرف اپنے دفاع کے لیے لڑنے کی اجازت دی گئی،اسے’’ دفاعی جہاد ‘‘ کہتے ہیں۔اس کے بعد’’ اقدامی جہاد‘‘ کی بھی اجازت مل گئی،اسلام کاآخری غزوہ’’ تبوک‘‘بھی ایک ’’ اقدامی جہاد ‘‘ تھا۔اگرچہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں کفار سے بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں جن سے سب واقف ہیں تاہم ، ہم یہاں ان چھوٹے چھوٹے جہادی دستوں کاذکرکرنا چاہتے ہیں،جو نبی اکرم ﷺنے خود تشکیل دئیے اور اپنے کسی صحابیؓ کو امیر بناکر روانہ فرمایا۔حدیث وسیرت کی کتابوں میں ان دستوں کے لیے ’’سرایا‘‘کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
’سرایا ‘‘عربی زبان کا لفظ ہے اور’’ سریّہ ‘‘کی جمع ہے جس کے معنی فوج کی تھوڑی سی تعداداورمختصر لشکر کے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ عربی زبان کی جنگی اصطلاحات میں’’ سرِیہ ‘‘ رات کے وقت جانے اور’’ساریہ‘‘ دن کے وقت نکلنے کے لیے بولا جاتا ہے،اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں لشکر کا جانا پوشیدہ ہوتا ہے۔اسی طرح ایک لشکر کاوہ حصہ جو اس لشکر سے نکلتا ہے اور اسی میں واپس آتا ہے،وہ بھی سریہ کہلاتاہے۔سریہ کے شرکاکی تعدادزیادہ سے زیادہ پانچ سو تک ہوتی ہے۔(المواہب اللدنیہ)
ذیل میںچند مشہور سرایاکاتذکرہ کیاجاتاہے:
(1) سریہ حضرت حمزہ ؓ:
یہ سریہ رمضان شریف 01ھ میں واقع ہوا ۔اس کے قائد نبی اکرم ﷺ کے چچاا ور رضائی بھائی اسداﷲ والرسول حضرت حمزہ ؓ تھے۔ اس سریہ میں تیس مہاجرصحابہ ؓ شریک ہوئے ، جب کہ دشمن کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی ۔مقابلہ ایک قریشی قافلے سے تھا،جو شام سے سامانِ تجارت لے کر آرہا تھا ۔ اس قافلے کا سردار ابو جہل تھا۔ اس کی فوج تین سو فوجیوں پرمشتمل تھی ۔ مسلمانوں کاارادہ تھا کہ ابو جہل کے قافلے پر حملہ کیا جائے ،جو پورے شہر کا سامان تجارت لے کرآرہا تھا،تاکہ کفار پر معاشی ضرب لگائی جائے ،جس سے ان کے ظلم کا زور ٹوٹ جائے۔
(2)سریہ حضرت عبیدہ بن حارث ؓ :
یہ سریہ شوال 21 ھ میں واقع ہوا ۔حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اس کے قائد تھے۔یہ سریہ ابو سفیان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تھا،جو بطنِ رابغ کے مقام پر دو سو آدمی لے کر مدینہ پر حملہ کی عرض سے پہنچنے والا تھا ۔ اس سریہ میں ساٹھ مہاجرصحابہ ؓ شریک ہوئے۔اس میں بھی کفار تعداد میں کہیں زیادہ تقریباً 200 تھے ۔ جنگ کی تو نوبت نہ آسکی البتہ تیر اندازی ہوئی ۔ یہی وہ سریہ ہے،جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اسلام کی طرف سے پہلا تیر چلایا تھا ۔
(3)سریہ حضرت عبداﷲ بن جحش ؓ اور پہلی غنیمت:
حضرت عبداﷲ بن حجش ؓ کا دستہ سب سے پہلا دستہ ہے ،جس نے غنیمت حاصل کی ،اس اعتبار سے 2 ہجری میں وقوع پذیر ہونے والا یہ سریہ قابلِ ذکرہے ۔حضرت عبداﷲ بن حجش ؓ اس کے سردار تھے،اس دستے میں بارہ مہاجرین تھے ۔ ان کو مقام نخلہ پر قریش کے تجارتی قافلے کی خبر لانے کے لیے بھیجاگیا تھا،اُس قافلے کے اندر عمرو بن حضرمی اور عبداﷲ بن مغیرہ کے دو بیٹے عثمان اور نوفل قابل ِذکر تھے ۔ وہاں اتفاقی طور پر جنگ کی سی صورت حال پیش آگئی ۔ اِس دستے نے سب سے پہلے دو آدمی گرفتار کیے اور ایک کو قتل کردیا۔ یہ جنگ اتفاق سے رجب کے مہینے میں پیش آئی تھی،جو حرمت والے مہینوں میں سے ہے ،جن میں جنگ اور قتل وقتال کی ممانعت ہے ،اس وجہ سے کفار کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیا۔
(4)سریہ بئرِمعونہ :
یہ سریہ ماہ صفر 4ھ میں لڑا گیا ۔ اس میں مسلمانوں کی سرداری حضرت منذر بن عمرو انصاری ؓ کے پاس تھی ۔ مسلمانوں کی تعداد صرف ستّر حفاظِ قرآن صحابہ کرام ؓ پر مشتمل تھی ،جب کہ ان کے پاس سامان جنگ بھی نہ ہونے کے برابر تھا ،کیوں کہ یہ لوگ جنگ کے لیے نہیں گئے تھے ،بلکہ ابو براء عامر کی پُر فریب درخواست کی بنا پر نجد میں تبلیغ کی خاطر نکلے تھے، کہ راستے میں عامر، رعل ، ذکوان ، اور عصیہ کے قبیلے والوں نے حملہ کردیا اور سب کو شہید کردیا ۔ بعد میں یہ قبیلے مسلمان ہوگئے تھے ۔
(5)غزوہ موتہ :
یہ لڑائی جمادی الاولیٰ8ھ میں ہوئی۔ اس جنگ کی وجہ یہ تھی کہ نبیﷺ نے بصریٰ کے حاکم ’’ شرحبیل ‘‘ کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے حضرت حارث بن عمیر ؓ کواپنے نامہ مبارک کے ساتھ روانہ کیا ۔ اس نے نبیﷺ کے سفیر کو شہید کردیا ، اس کی سزا کے طور پر حضورﷺنے یہ لشکر روانہ کیا ۔ اس لشکر میں نبیﷺ نے خود تو شرکت نہیں فرمائی تھی ،لیکن پھر بھی اسے غزوہ اس لیے کہا گیا ،کیوں کہ نبی ﷺ نے اس لشکر کو بہت خاص خاص نصیحتیں فرمائی تھیں ۔ اسلامی فوج کی تعداد صرف تین ہزار تھی، جبکہ شرحبیل کی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔ اسلامی لشکر کا سردار حضرت زید بن حارثہ ؓ کو مقرر فرمایاگیا ، مگر ساتھ ہی حضور ﷺ نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ اگر یہ شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر طیار ؓ کو سردار مقرر کیا جائے اور اگر وہ بھی شہید ہوجائیں تو حضرت عبداﷲ بن رواحہ ؓ کو سردار مقرر کیا جائے ۔وہ بھی شہید ہوجائیں ، تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں۔ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا کفار کے دلوں پر اﷲ تعالیٰ نے اس قدر رعب بٹھایا کہ دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا۔نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق تینوں علم بردار شہید ہوگئے، ان کے بعد جھنڈا حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس آیا اور انھوں نے دشمن کا اس زور سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اس طرح فتح ونصرت نے اسلامی لشکر کے قدم چومے اور کفار کا سب غرور خاک میں مل گیا۔
(6)سریہ غالب بن عبداﷲ لیثیؓ
یہ سریہ صفر 8ھ میں ہوا، مکہ سے 42 میل کے فاصلے پر واقع مقام ِکدید کی طرف حضور اکرم ﷺ نے غالب بن عبداﷲ لیثیؓ کوپندرہ یا سولہ افراد کے ساتھ بنی ملوح قبیلے کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ نبی اکر م ﷺ نے انھیں ہدایت کی کہ دشمن پر اچانک حملہ کردینا۔چنانچہ صحابہ کرام ؓ نے اچانک ان پر حملہ کردیااور بہت سے مویشی لے آئے۔ بنی ملوح ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے، مگر اﷲ تعالی نے دشمن اورنبوی لشکرکے درمیان سیلابی پانی کو حائل کردیاجس کی وجہ سے وہ ناکام ونامراد واپس لوٹ گئے۔اس سے واپسی پرنبی المرسلین ﷺ نے انہی حضرت غالب بن عبداﷲ لیثی ؓکو حضرت بشیر بن سعدؓ کے ساتھیوں کا بدلہ لینے کے لیے بھیجا۔ فدک کے مقام پر حضرت غالبؓ دو سو مسلمانوں کے ساتھ پہنچے اور حضرت بشیر بن سعدؓ کا بدلہ لیا۔واضح رہے کہ رسول اکرم ﷺ نے شعبان 7ھ میں حضرت بشیر بن سعدؓ کو تیس آدمیوں کے ساتھ فدک میں بنو مرہ کی طرف بھیجاتھا۔ بنو مرہ کے قبیلے نے ان پر حملہ کرکے ان سب کو شہید کردیا، صرف بشیر بن سعدؓ زندہ بچے، جنھیں وہ مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔
(7) سریہ قطبہ بن عامرؓ
رسول اکرم ﷺنے صفر 9ھ میں قطبہ بن عامرؓ کو 20 آدمیوں کے ساتھ بنو خشعم کے ایک قبیلے میں تبالہ نامی جگہ کی طرف بھیجا،یہ دس اونٹوں پر باری باری سفر کرتے اس علاقے میں پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے ایک آدمی کو گرفتار کرلیا۔ اس سے پوچھا تو اس نے چلاّ چلاّ کر لوگوں کو خبردار کرنا شروع کردیا جس پر انہوں نے اسے قتل کردیا۔ دونوں لشکروں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، دونوں طرف سے بہت سے افراد زخمی ہوئے۔ قطبہ بن عامرؓ غنیمت میں کافی سارے اونٹ بکریاں لے کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
(8)جیشِ اسامہ ؓ
رسول اقدسﷺ نے ربیع الاول 11ھ میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کو سات سو فوجیوں کے ساتھ بلقا کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ یہ آپ ﷺکی زندگی کی آخری لشکر کشی ہے۔ آپﷺ نے اسامہ بن زیدؓ سے فرمایا: لشکر لے کر جاؤ اور اس جگہ،جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا(اس سے موتہ کا مقام مراد ہے)، ان کو گھوڑوں کے نیچے روند ڈالو۔ یہ لشکر روانہ ہوکر مدینہ سے تین میل دور مقامِ جرف میں خیمہ زن ہوا۔ لوگ تیاری کرکے ساتھ شامل ہورہے تھے کہ آپ ﷺ کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی،اس شدت مرض میں بھی نبی الملاحم ﷺ نے وصیت فرمائی کہ اسامہؓ کا لشکر لازمی بھیج دینا۔چنانچہ جانشین پیغمبرخلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں اسے روانہ کیا گیا،یہ دور صدیقی کی پہلی فوجی مہم تھی۔اس لشکر میں اکثر صحابہ ؓ،جن میں حضرت عمرفاروق ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ بھی شامل تھے،اس لشکر کے ان حالات میں بھیجے جانے کے حق میں نہیں تھے۔ان کا موقف تھا کہ: مدینہ منورہ خود خطرات میں گھرا ہوا ہے اس لیے لشکر کو بھیجنے کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: جس لشکر کو رسول اکرمﷺ نے خود تیار کیا تھا،میں اسے ایک دن کے لیے بھی نہیں روکوں گا، چاہے تمھارے چلے جانے کے بعدیہاں ہمیں کیسے ہی حالات سے دوچار ہونا پڑے۔ اس لشکر کے جانے سے آس پاس کے مخالفین پر بڑا اچھا اثر ہوا۔ باغی یہ جان کر مرعوب ہوگئے کہ اگر مسلمانوں میں کسی قسم کی کمزوری ہوتی یا مدینہ کمزور ہوتا ،تو خلیفہ ٔ وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس لشکر کو روانہ نہ کرتے۔
چنانچہ علامہ عبدالحق محدث دہلوی ؒ لکھتے ہیں:جب جوش جہاد میں بھرا ہوا عساکرِ اسلامیہ کا یہ سمندر موجیں مارتا ہوا روانہ ہو،ا تو اطراف وجوانب کے تمام قبائل میں شوکت ِاسلام کا سکہ بیٹھ گیا اورمرتد ہوجانے والے قبائل ،یا وہ قبیلے جو مرتد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مسلمانوں کا یہ دَل بادَل لشکر دیکھ کر خوف ودہشت سے لزرہ براندام ہو گئے اورکہنے لگے کہ اگر خلیفہ وقت کے پاس بہت بڑی فوج ریزروموجود نہ ہوتی تو وہ بھلا اتنا بڑالشکر ملک کے باہر کس طرح بھیج سکتے تھے؟اس خیال کے آتے ہی ان جنگجو قبائل نے جنہوں نے مرتد ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا خوف ودہشت سے سہم کر اپنا پروگرام ختم کر دیا بلکہ بہت سے پھر تائب ہوکر آغوشِ اسلام میں آ گئے اورمدینہ منورہ مرتدین کے حملوں سے محفوظ رہا ۔(مدارج النبوۃ)
حضرت اسامہ بن زید ؓ کالشکرمقام اُبنی میں پہنچ کر رومیوں کے لشکرسے مصروف ِپیکار ہو گیا اورآخر کار بہت ہی خوں ریزجنگ کے بعد لشکر ِاسلام فتح وظفر کے پھریرے لہراتا ہوا، بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد فاتحانہ شان وشوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس پہنچا۔جانشین رسول خلیفہ ٔ بلافصل سیدنا صدیق اکبر ؓ کے اس صائب فیصلے نے ایک طرف تورومیوں کی عسکری طاقت کوتہس نہس کر دیا اوردوسری طرف مرتدین کے حوصلوں کو بھی پست کر دیا۔
لہٰذا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ باطل نظام کو ہٹانے اور دین ِ حق کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد کرنا اور اگر اس راستے میں کفار مزاحمت کریں تو ان کے خلاف جنگ کرنا بھی عین رحمت کا تقاضا ہے۔ جس طرح کار آمد پودوں کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ زہریلی جڑی بوٹیوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے اور ان کی صفائی کی جاتی رہے اس طرح ایک خوشحال اور پُر امن معاشرہ کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ شر پسندوں اور فساد مچانے والوں کی سرکوبی کی جائے ۔ پس ثابت ہوا کہ نبی اکرم ﷺ رحمۃ اللعالمین ہونے کے ساتھ ساتھ نبی الملاحم بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے مومن بھائیوں کے لیے رأفت و رحمت والا رویہ اپنا نےاورباطل نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین