(اداریہ) چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے - خورشید انجم

11 /

اداریہ

خورشید انجم

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

ہماری قوم اور خاص طور پرہماری نوجوان نسل کایہ المیہ ہے کہ اُنہیں پاکستان اور ملت اسلامیہ کے اصل مسائل اور حقائق سے جان بوجھ کر مخفی رکھا گیا ہے۔ آج کی نوجوان نسل میں سے ایسےکتنے لوگ ہیں جو اِس بات سے آگاہ ہوں گے کہ 16دسمبر کا دن پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے سیاہ ترین دن ہے ۔ 1971ء کے دسمبر کی 16 ویں صبح جیسی شرمناک اور المناک صبح اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی قوم کے مقدر میں نہ لائے ۔’’ دشمن کے سامنے اپنے ہتھیارڈال دینا ‘‘ لکھ دینا یا بول دینا جتنا آسان کام ہے ،کسی غیرت مند کے لیے یہ عمل اِس سے بہت زیادہ مشکل اوراُس سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔ آج بھی ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جن کے لیے 16 دسمبر کا دن یا سقوطِ ڈھاکہ کی یاد منانا بےکار کا کام ہے۔یہ ذہنیت گزشتہ 53 سال میں دیدہ دانستہ تیار کی گئی ہے تا کہ بقول شاعر؎
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلےپاکستان کے سادہ لوح عوام ہر اُس بات پر یقین کرلیتے ہیں جو اُنہیں پڑھائی جاتی ہے ۔نصاب میں ہمیں یہی پڑھایا گیا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے تین اہم کردار مجیب، بھٹو اور یحییٰ تھے اور تینوں کیفر کردار کو پہنچ چکے ہیں۔سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدراور سول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے تو اُنھوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحییٰ سمیت کئی سینئر جنرلز کو برطرف کردیا، شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔
26 دسمبر کو حکومت نے چیف جسٹس حمود الرحمٰن، جسٹس انوار الحق، جسٹس طفیل علی عبد الرحمٰن اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ الطاف قادر پر مشتمل حمود الرحمٰن کمیشن بنایا جس نے 300 سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد پہلی رپورٹ 1972 ءمیں اور دوسری رپورٹ 1974 ءمیں پیش کی۔
اِس رپورٹ کے مندرجات یقیناً ایسے تھے کہ اُس سے ملک و قوم کو بے خبر رکھنے میں ہی طاقتوروں کی بقا مضمر تھی مگر چند سال پہلے کسی طرح سے وہ رپورٹ منظر عام پر آئی تو معلوم ہوا کہ عوام کوپڑھائی گئی معلومات اور اُس رپورٹ میں واضح فرق ہے، جبکہ ایک محدود طبقہ ایسا بھی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ یہ تو وہی باتیں ہیں جو اِس سے بہت پہلے وہ بیان کرچکے ہیں۔
کمیشن نے ذمہ دار افسروں پر کُھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی مگر بوجوہ ایسا نہ ہو سکا ۔ سقوطِ ڈھاکہ کے وقت جنرل یحییٰ خان صدرمملکت، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، وزیرِ دفاع و وزیر خارجہ تھے۔بھٹو حکومت نے انھیں گھر میں نظر بند رکھا تاہم جنرل ضیاء الحق نے اُن کی نظربندی ختم کر دی ۔ 10 اگست 1980ء کو اپنے بھائی محمد علی کے گھر میں اُن کا انتقال ہوا اور آرمی قبرستان میں اُنہیںفوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔
کمیشن نے چار میجر جنرلز میجر جنرل محمد حسین انصاری ( کمانڈر نو ڈویژن)میجر جنرل قاضی عبدالمجید (کمانڈر14 ڈویژن) میجر جنرل نذر حسین شاہ ( کمانڈر 16 ڈویژن) میجر جنرل راؤ فرمان علی اور19 بریگیڈیئرز کے بارے میں کہا کہ یہ اپنی کمزورپیشہ ورانہ صلاحتیوں کے سبب مزید عسکری ذمہ داریوں کے قابل نہیں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اُنہیں ریٹائر کردینےکے بعدکسی نہ کسی طرح سے سول محکموں کا چارج دے دیا گیا۔اِس کے علاوہ رپورٹ میں کئی سول افسروں کا بھی ذکر موجود ہے جواِس سانحہ کے بعد بھی پاکستان کی سیاسی یا انتظامی مشینری کا کسی نہ کسی طور حصہ رہے ہیں ۔اِس سب کے باوجود حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جی ایچ کیومیں اپنے الوداعی خطاب میں ہمیںبتاتے ہیں کہ سقوطِ ڈھاکہ ہماری عسکری نہیں بلکہ ایک سیاسی شکست تھی جوسیاست دانوں میں کشیدگی اور مخالفت کی وجہ سے ہوئی۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست دان بھی اِس سانحہ کے کسی حد تک ذمہ دارتھے ۔خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو، جنہوںنے شیخ مجیب الرحمٰن کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو ماننے سے یکسر انکار کردیا اور ’’اُدھر تم اِدھر ہم‘‘ــــــکا نعرہ بلند کیا،لیکن حصہ بقدر جثہ کو سامنے رکھتے ہوئے اُس وقت کی عسکری قیادت کی کوتاہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بہرحال جنرل باجوہ کے بیان کی تردید میں دلائل دینے کی یہاں گنجائش نہیں ہےمگر تصدیق کرنے کے خواہشمند انٹرنیٹ پر موجود حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کا مطالعہ بآسانی کرسکتے ہیں ۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جب دسمبر 1971ء میں بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو یحییٰ خان ایک فوجی آمر اور ایوب خان کے جانشین کی حیثیت سے پاکستان پر مسلط تھے اور افواجِ پاکستان کے سربراہ تھے گویا پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے فوج اصلاً اور حقیقتاً ذمہ دار تھی جبکہ سیاسی باگ ڈور بھی اُنہی کے ہی ہاتھ میں تھی۔
سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے فوج اور سیاست دانوں کے علاوہ بھی ایک کردار ہے جس سے اکثر صرفِ نظر کرلیا جاتا ہے،حالانکہ ہماری رائے میں اس ادارے یاشعبہ نے بھی 1971ء میں ہونے والی ذلت آمیز شکست و ریخت میں بھرپورکردار ادا کیا تھااور وہ ہے ہماری سول بیوروکریسی ۔آزادی کے بعد جس نے خود کو انگریز کا جانشین سمجھااور عوام سے غلاموں کی طرح سلوک کیا،خاص طور پر مغربی پاکستان میں مرکزی افسران بنگالیوں کو اپنا ذاتی غلام سمجھتے تھے۔ سول بیوروکریسی نے پہلی واردات لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد کی جب ملک غلام محمد پاکستان کے گورنر جنرل بن بیٹھے۔ پھر اُنہوں نے پاکستان کا جو حشر کیا وہ بھی اپنی جگہ تاریخ ہے۔اقتدار کی ہوس کا اندازہ کریں کہ ملک غلام محمد کو فالج ہو چکا تھا وہ خود چلنے اور اُٹھنے بیٹھنے کے قابل نہیں تھے، زبان کام نہیں کرتی تھی لیکن ٹوٹی پھوٹی زبان میں کہتے تھے ’’اقتدار نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
یہ بھی بتاتے چلیں کہ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ ابھی تک حکومت پاکستان نے خود جاری نہیں کی ہے بلکہ چند سال پہلے کہیں سے لیک ہو کر منظر عام پر آگئی تھی۔ لیک ہونے کے بعد بھی بعض لوگوں کی اطلاعات یا معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ سب کچھ اُن کے علم میں پہلے سے تھاجبکہ حکام اب بھی مُصر ہیں کہ حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کو محفوظ کر دیا گیا ہے لہذاجب تک وہ خود اُس کو منظر عام پر نہیں لائیں گے کسی کو چارج شیٹ نہیں کیا جا سکتا ۔اُن کا یہ عمل اُس کبوتر سے مختلف نہیں ہے جو بلی کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ بلی اُس کے پاس سے جا چکی ہے۔
پاکستان کی سیاست اب اُس موڑ پر آچکی ہے کہ دوست اور دشمن کی پہچان بہت مشکل ہو چکی ہے ۔ ایک سیاسی کارکن جس کو اپنا رہنما اور ملک کا خیر خواہ سمجھ کر اُس کے پیچھے چل رہا ہوتا ہے کچھ دیر بعداُسے معلوم ہوتا ہےکہ وہ تو اُس کے پیچھے چل کر حقیقت سے بہت دور نکل آیا ہے مگر اُس وقت تک اُس کا واپس پلٹنا اُسے اپنی سیاسی موت نظر آتا ہے جس کی وجہ سے وہ بادلِ نخواستہ اُس کے ساتھ چلتا رہتا ہے ۔حتیٰ کہ کئی سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی اِسی صورتحال کا شکار ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اپنے مفادات یا شماتت کے ڈر سے یہ راز اپنے سینے میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔اِس وقت یہ کہنا بھی کہ’’ سیاست صرف آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کی جانی چاہئے ‘‘کسی افسانے سے کم نہیں۔یہ بھی ایک ناقابل ِتردید حقیقت ہے کہ سیاست دانوں اور مقتدر حلقوں نے جس انداز میں آئین پاکستان کو اپنے ہاتھوں میں کھلونا بنا رکھا ہے اُس سے ملک کو نقصان ہی پہنچا ہے۔
گزشتہ77برس کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان جب بھی ترقی کرتا ہوا کسی خاص مقام پر پہنچتا ہے تو کچھ سیاستدان عوام میں مقبول نعرے لے کر میدان میں آجاتے ہیں اور ملک کم ازکم 20 سال پیچھے چلا جاتا ہے ۔1947ء سے لے کر آج تک کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہے اور اُس تاریخ کو دہرا کر صفحات سیاہ کرنا لاحاصل ہے۔موجودہ حکومت کی پالیساں کچھ ایسی ہیں کہ اُن میں یہ بات ڈھونڈنا پڑتی ہے کہ ان سے پاکستان یا پاکستانی عوام کو کیا فائدہ پہنچا؟گزشتہ حکومت جو اب اپوزیشن میںہےاُس نے نااہل اور ناانصاف ہونے کے کئی ریکارڈ توڑ ڈالےتھے۔آج یہ حال ہے کہ اگر حکومت کے سو میں سے دس نمبر بھی آجائیں تومیڈیا پر اُس کو ایک سو دس نمبر دے دئیے جاتے ہیں ۔عوام روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کررہے ہیں اور شاید آئندہ بھی کرتے رہیں گے مگر ملک کی بقا اور امن وامان ہی اگر نہ ہو تو پھر دو دو چپڑ یاں بھی بے کار ہوجاتی ہیں۔
دسمبر کے مہینے میں بہت سے لوگوں کے مشرقی پاکستان کے حوالے سے زخم تازہ ہوجاتے ہیں اور وہ موجودہ سیاسی و معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے کانپ جاتے ہیں۔ایک طرف سیاست دانوں کی ابن لوقتی ہے تو دوسری طرف مقتدر حلقوں کا جبر۔ پھر یہ کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی دگرگوںہے۔لہٰذا خدشات کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔دوسری طرف پاکستان کا دشمن اِس قدر ’’سیانا‘‘ہے کہ وہ پاکستان کو کوئی بھی نیا زخم لگانے کے لیے کسی ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے جس میں اُس کی محنت کم اور پاکستانیوں کو تکلیف زیادہ سے زیادہ ہو۔2014ء میں 16دسمبر کو دشمن ایک مرتبہ پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور اُس نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں حملہ کرکے9 اساتذہ، 132 طلبہ اور3 فوجی جوان، کل ملا کر 144 افراد کو شہید کرکے پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑک کراپنی ذہنی لذت کا سامان کیا۔انتہائی افسوسناک بات تو یہ ہے کہ پاکستان کا دشمن تو یہ یاد رکھتا ہے کہ اُسے پاکستان پر کب اور کیسے وار کرکے پاکستان کونقصان پہنچانا ہے مگر اہلِ پاکستان یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کا دشمن کون ہے اور وہ کب ،کہاں سے اور کیسے وار کر سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم قائل تو اسی بات کے ہیں کہ پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی سقوطِ ڈھاکہ کے سانحہ کی ذمہ دار ہے، لیکن اصل گھناؤنا کردار اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں اور سول بیوروکریسی نے ادا کیا۔ عوام کا قصور یہ تھا کہ ایک تو وہ اُنہیں پہچان نہ سکی اور پھر یہ کہ اپنے ذاتی معاملات اور مفادات سے آگے عوام کی سوچ بھی بڑھ نہ سکی ۔ لہٰذا ہم نے جو بویا وہی کاٹا۔ ہم بھول گئے کہ ہم نے نعرہ لگایا تھاکہ’’ پاکستان کا مطلب کیا:لاالٰہ الا اللہ‘‘ہم منحرف ہو گئے اور اللہ نے بھی ہمیں بھلا دیااور ہمارے کرتوتوں کا انجام پاکستان کی شکست و ریخت کی صورت میں سامنے آگیا۔
اب بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسا سانحہ دوبارہ روپذیرنہ ہو توہم اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کےلیے اپنی حرکتوں سے رجوع کریںاور پاکستان میں لاالٰہ الا اللہ کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کےلیے کمر کس لیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں یہ جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!