(منبرو محراب)  الہامی تعلیمات میں مشترکہ معاشرتی ہدایات - ابو ابراہیم

11 /

 الہامی تعلیمات میں مشترکہ معاشرتی ہدایات


(سورۃ الانعام کی آیات 152اور 153کی روشنی میں)

 

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی  میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ  حفظ اللہ  کے13 دسمبر 2024ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
آج ہم  سورۃ الانعام کی آیات : 152 اور 153   کا مطالعہ کریں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بہت اہم معاشرتی احکام عطا فرمائے ہیں جو تمام شریعتوں میں  مشترک رہے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ سے یوں بھی روایت ہے کہ جو رسول اللہﷺ کی وصیتوں کو پڑھنا چاہے وہ ان آیات کا مطالعہ کرے۔ ان آیات کے اختتام پربھی  وصاکم کے الفاظ آئے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی وصیت اور رسول اللہ ﷺ کی وصیت ایک ہی ہےکیونکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ سورہ انعام کی آیت152 میں چار ہدایات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہیں ۔ 
 پہلی ہدایت:یتیم کے مال کی حفاظت
سب سے پہلے ارشاد فرمایا :
{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج}’’ اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو ‘ مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو )  یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘
شرعاً یتیم وہ نابالغ بچہ یا بچی ہے جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہو ۔ ہمارے دین میں یتیموں کی کفالت کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ اگر ان یتیم بچوں اور بچیوں کو کسی کا دست شفقت نہ ملے تو یہ اپنے آپ کو محروم سمجھتے ہیں اور پھر ردعمل کے طور پر ممکن ہے کہ وہ مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ پروان چڑھیں ۔ مغربی معاشرہ یتیموں کی دیکھ بھال کوکارپوریٹ سیکٹر میں سوشل رسپانسبلٹی (سماجی ذمہ داری) کا نام دیتا ہے ۔ یعنی وہ اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لیے یہ کام کرتے ہیں وگرنہ ان کو انسانوں سے اتنی ہی ہمدردی  ہو تو اپنے شرح منافع میں کمی کردیں تو انسانوں کا بھلا ہو جائے گا ۔ دین تو ایمان کی بنیاد پر ہمیں یہ تعلیم دیتا ہےکہ یتیموں کی پرورش کی جائے۔ ایمان انسانیت سے بہت بڑی شے ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺنے اپنی بہت ساری احادیث میں اس جانب توجہ دلائی ہے ۔ کبھی آپﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے گھرانوں میں سے بہترین گھر وہ ہے، جہاں کسی یتیم کے ساتھ بھلا سلوک ہوتا ہے ، کبھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے بدترین گھر وہ ہے جہاں کسی یتیم کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے ۔ کبھی آپؐ نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ساتھ ہوں گے ۔ اللہ کے نبیﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ کی دو انگلیاں ملا کر دکھائیںکہ یتیم کی کفالت کرنے والا روزمحشر اس طرح میرے ساتھ کھڑا ہوگا ۔ کبھی کسی صحابی ؄نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ! میرا دل سخت ہو گیا ہے ، میں کیا کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھو (بھلا سلوک کرو)، اللہ تمہیں دل کی نرمی عطا فرمادے گا۔آج ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ عام ہوگیا ہے ، دل سخت ہو گئے ، نماز ادا کرنے کو دل نہیں چاہتا ، قرآن کھولنے میں لطف نہیں آتا ، موسیقی کے لیے رات بھر جاگنے کو تیار ہیں لیکن اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے فجر میں بستر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔ بڑے بڑے مظالم دیکھنے کے بعد بھی ہماری آنکھوں میں آنسو نہیں آتے ، کسی کے لیے ہمدردی کے دو بول زبان پر نہیں آسکتے ، یہ سب دلوں کی سختی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے نشاندہی فرما دی کہ دلوں کی اس سختی کی ایک وجہ یتیموں کے سر پر دست ِشفقت نہ رکھنا بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یتیموں کے حوالے سے  دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !
یہاں یتیموں کے مال کی حفاظت کے بارے میں وصیت فرمائی گئی ہے کہ’’  یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو ‘ مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو ) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘ظاہر ہے یتیم بچہ یا بچی اس قابل تو نہیں ہوتے کہ اپنے والد کے چھوڑے ہوئے مال یا جائیداد کی حفاظت کر سکیں ۔ اگر آخرت کی جوابدہی کا خوف نہ ہوگا تو ہر کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا ۔ ہمارے معاشرے میں جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ، ماں باپ کو قتل کیا جارہا ہے ۔ یتیم        بے چارے تو پھر کمزور ہیں ۔  زیر مطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ   کی جانب سے وصیت ہے کہ اگریتیم تمہاری سرپرستی میں آگیا یا کسی یتیم بچے یا بچی کا مال تمہاری حفاظت میں آگیا تو اس کی امانت کے طور پر حفاظت کرنی ہےجب تک کہ یتیم اپنی جوانی کو نہ پہنچ جائے اور مال کی حفاظت کرنے کے قابل نہ ہو جائے ۔ بطور خاص وصیت کی جارہی ہے کہ حفاظت بھی کیسے کرنی ہے :
{ اِلَّا بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ } ’’ مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو )۔‘‘
دیگر مقامات پر ہدایت ہے کہ اگر ایک بندہ غنی ہے اور کسی یتیم کا مال اس کی حفاظت میں ہے تو کوشش کرے کہ یتیم کے مال سے استفادہ ہی نہ کرے لیکن اگر کوئی غریب اور ضرورت مند ہے اور یتیم کی کفالت کررہا ہے تو ظاہر ہے وہ یتیم کی پرورش پر خرچ کرے گا ، جو وہ یتیم کے مال سے بھی کر سکتا ہے لیکن اگر اس سے خود کو محفوظ رکھے تو زیادہ بہتر اور زیادہ اجر کا باعث ہے ۔ لیکن کسی یتیم کا مال ناحق ہڑپ کر جانا بہت بڑا گناہ ہے ۔ سورۃ النساء  میں یتیم کا مال ہڑپ کرنے پر سخت وعید آئی ہے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًااِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُونِہِمْ نَارًاط وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا(10)}(آیت:10) ’’بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیںناحق‘وہ تو اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیںاور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس عذاب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔علماء نے لکھا ہے کہ یتیم کے مال کی حفاظت اُس وقت تک کرنی ہے جب تک وہ بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ کا حامل بھی نہ ہو جائے تاکہ اپنے مال کی حفاظت کر سکے۔ ظلم چاہے کسی یتیم بچے یا بچی کے ساتھ ہو، کسی بیوہ کے ساتھ ہو، کسی کمزور کے ساتھ ہو، کسی کم علم بندے کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم کیا گیاہو یا پوری قوم کو لوٹنے کا جرم ہو کبھی معاف نہیں ہوسکتا اور روز قیامت اس کا حساب دینا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
دوسری  ہدایت:ناپ تول میں عدل 
 فرمایا:
{وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ج لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاج} ’’اور پورا کرو ناپ اور تول کو عدل کے ساتھ۔ ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق۔‘‘
  ناپ تول میں عدل کرنا ہمارے دین کی بنیادی تعلیم ہے ۔ تمام پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو اس کی تعلیم دی۔ قرآن حکیم میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر آتاہے ۔ وہ شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں کمی کرنے کے گناہ میں بھی مبتلا تھی ۔ اللہ کے پیغمبروں کی وصیت بھی نہیں مانی اور بالآخر اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر تباہ ہوئی ۔ ناپ تول میں کمی کے گناہ کے مرتکب ہونے والوں کے لیے قرآن میں بڑی سخت وعید آئی ہے :
’’ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیںاور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کمی کر دیتے ہیں۔کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔ایک بڑے دن کے لیے۔جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔‘‘(المطففین)
آج ہمارے معاشرے میں بھی یہ برائی عام ہے۔ آج کل تو بڑے جدید قسم کے آلات آگئے ہیں ۔ سبزی والا بھی تول کر دیتاہے تو اس کے پاس بھی کچھ گُر ہوتے ہیں ۔ سپر مارکیٹ میں بڑے آرام سے ہیر پھیر ہورہا ہے ۔ پٹرول پمپس میں جو میٹر لگے ہوئے ہیں ان میں بھی بڑی آسانی سے بے ایمانی ہورہی ہے ۔ گھروں میں بجلی کے میٹر لگے ہوئے ہیں اور کبھی الیکٹریشن خود آکر کہتا ہے کہ کیا میں اس کو ’’سیٹ ‘‘کر دوں ؟ آفس کا مالک چاہتا ہے کہ ملازم ٹھیک صبح 9 بجے دفتر میں آکر بیٹھے اور 5 بجے کے بعد تک بھی اگر بیٹھنا پڑے تو بیٹھے مگر کام پورا کرکے دے مگر جب تنخواہ دینے کی باری آتی ہے تو تاخیر پر تاخیر کرتا ہے ۔ ملازم چاہتا ہے کہ میری تنخواہ مہینے کی آخری تاریخ کو مل جائے مگر آفس میں پورا وقت نہیں دیتا ۔  یہ بھی ناپ تول میں کمی کے زمرے میں آئے گا۔ دوسرے کی بیٹی گھر میں بہو بن کر آئے تو نوکرانی کی طرح کام کرے لیکن جب اپنی بیٹی دوسرے کے گھر میں جائے تو رانی بن کر رہے ۔  حکمران چاہتے ہیں کہ عوام وقت پر پورا پورا ٹیکس ادا کریں  لیکن خود حکمران عیاشیوں میں لگے رہیں اور عوام کے مسائل حل نہ کریں ۔ یہ سب ناپ تول میں کمی کی مختلف شکلیں ہیں ۔  
حضرت عمر؄ نے ایک شخص کو دیکھا جلدی جلدی نماز ادا کر رہا ہے۔ فرمایا : تو تطفیف کر رہا ہے،اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر اللہ کے حق میں ڈنڈی ماررہا ہے ۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ ﷺ نماز میں چوری کیا ہے ؟ فرمایا: نماز کے رکوع و سجود کو ٹھیک طریقے پر اطمینان سے ادا نہ کرنا ۔ اسی طرح بندہ اللہ کی نعمتوں سے 24 گھنٹے فائدہ اُٹھاتاہے لیکن پھر بھی مزید کی خواہش رکھتا ہے لیکن جب اللہ کا حکم ماننے کی بات آئے تو ڈنڈی مارتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ کے احکامات توڑتا ہے ، دین سے سرکشی کرتا ہے ۔ ڈاکٹر کے مشورے پر حلال بھی چھوڑ دیتاہے لیکن اللہ کے حکم پر حرام نہیں چھوڑتا ۔ یہ سب ناپ تول میں کمی ہے ۔ اسی طرح حقوق و فرائض کو ٹھیک طریقے سے ادا نہ کرنا ، بندوں کے درمیان اور قوموں کے درمیان عدل نہ کرنا بھی ناپ تول میں کمی ہے ۔ امریکہ نے نائن الیون کا ڈراما رچا کر کروڑوں مسلمانوں کو شہید کردیا ۔ اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب بھی قرارداد آتی ہے تو امریکہ ویٹو کر دیتا ہے ۔ کشمیر ، افغانستان ، بوسنیا ، چیچنیا ، شام ، لبنان میں جس قدر مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اس پر کوئی آواز نہ اُٹھانا اقوام کی سطح پر ناپ تول میں کمی ہے ۔ 
رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے کہ جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ اس پر ظالم حکمران مسلط کر دیتاہے ۔ آج ہم حکمرانوں کو گالیاں دیتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔      زیر مطالعہ آیت میں بھی فرمایا :
{ لَآ نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاج}(الانعام:152) ’’ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اس کی وسعت کے مطابق۔‘‘
یہاں نکتہ یہ ہے کہ ناپ تول کی کمی سے ہمیں بچنا ہے، اپنے معاملات کو درست رکھنا ہے ،حتی الامکان ظلم، زیادتی، حق تلفی سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی کمی رہ جائے تو اللہ معاف فرمانے والا ہے کیونکہ اللہ بندے کو اتنا ہی ذمہ دار ٹھہراتاہے جتنی اس میں وسعت ہوتی ہے ۔ 
بعض لوگ آج ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ سود کو ختم کرنا آج ممکن نہیں ہے ، معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا ، سوال یہ ہے کہ سودی نظام کے ہوتے ہوئے کونسی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں؟انسان اپنی کمزور ی کا اعتراف توکرے ، اللہ سے عمل کی توفیق تومانگے لیکن ڈنکے کی چوٹ پر اللہ کے احکامات کو چیلنج کرنا ،یہ کہنا کہ سود ختم نہیں ہو سکتا ، پردے کے احکامات پر عمل نہیں ہو سکتا ، مخلوط ماحول کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ، یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ 
تیسری ہدایت:عدل کرو
فرمایا:
{وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ج }(الانعام:152)’’اورجب بھی بات کرو تو عدل (کی با ت ) کرو‘ خواہ قرابت دار ہی(کا معاملہ) ہو۔‘‘
معاملات میں کہیں گواہی دینا پڑتی ہے، کہیں فیصلہ دینا پڑتا ہے، کہیں کسی معاملے میں مشورہ دینا پڑتا ہے ،کبھی تنقید کی ضرورت بھی پیش آ جاتی ہے۔ لہٰذا جب کبھی ایسے مواقع آئیں تو انسان عدل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ یہاں تک کہ اپنا یا اپنے کسی عزیز کا نقصان ہی کیوں نہ ہورہا ہو ۔ سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ میں بھی یہ مضمون آیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا: دیکھو کسی کی محبت تمہیں عدل سے نہ روکے اور کسی کی نفرت یا دشمنی تمہیں عدل سے نہ روکے۔ اسی طرح زیر مطالعہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی رشتہ داری، کوئی محبت یا کوئی نفرت اور دشمنی عدل کے معاملے میں آڑے نہ آئے ۔ آپ ﷺ کو تو باقاعدہ عدل قائم کرنے کا حکم دیا گیا تھا :
{وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط}(الشوریٰ :15)  ’’اور (آپؐ کہہ دیجیے کہ) مجھے حکم ہوا کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘
عدل کا معاملہ انفرادی زندگی میں جتنا مطلو ب ہے اتنا ہی اپنے گھر ، معاشرے اور ریاست کی سطح پر بھی مطلوب ہے۔ صرف دو بیویوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ ایک بیوی ہو تو اس کے ساتھ بھی عدل کرنا ہے ، اپنی ذات کے ساتھ بھی عدل کرنا ہے ، اپنی اولاد ، اپنے ملازمین ، عدالت ، معاشرت اور ریاست میں بھی عدل ہو ۔ اسلام میں عدل پورا ایک پیکج ہے ۔ تنظیم اسلامی عدل کے اسلامی تصور کو اجاگر کرنے کے لیے کئی مرتبہ مہمات بھی چلاتی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں عدل قائم کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ یہاں طبقاتی نظام ہے ، ایک طرف اشرافیہ کی عیاشیاں ہیں اور دوسری طرف بھوک ، افلاس اور خودکشیاں ہیں ۔ یہاں غریب کے بچوں کو دوائی تک نہیں ملتی جبکہ اشرافیہ کے کتوں اور گھوڑوں کے لیے ایئر ایمبولینسز میسر ہیں ۔ غریب پستا رہے ، جیلوں میں سڑتا رہے ، سڑکوں پر چالان ہوتے رہیں لیکن اشرافیہ کے لیے سزا کا کوئی امکان نہ ہو تو یہ عدل کے خلاف ہے ۔ اگر FBRمیں کرپشن کی رپورٹ ہے تو ذمہ داران کو سزا ملنی چاہیے ۔ سابق ISIچیف کےخلاف مقدمہ چل رہا ہے ، اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ان کو بھی سزا ملنی چاہے۔ سیاستدانوں پر جرم ثابت ہو تو علی الاعلان سزا ملنی چاہیے ، پولیس کے محکمہ میں ظلم کرنے والے افسران ہوں یا کسی بھی ادارے میں ان کو بھی سزا ملنی چاہیے ۔ یہ عدل کا تقاضا نہیں ہے کہ بڑے ظلم کریں توان کو چھوڑ دو اور چھوٹوں پر الزام لگا کر ان کے بچوں کو گھروں سے اُٹھا لو ، غائب کردو ، عدالت میں بھی پیش نہ کرو ، یہ عدل کے خلاف عمل ہے ۔ 
چوتھی ہدایت:وعدہ پورا کرو
آگے فرمایا:
{وَبِعَہْدِ اللہِ اَوْفُوْاط}(الانعام:152) ’’اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔‘‘
ہم نے اس دنیا میں آنے سے پہلے اپنے رب سے ایک عہد کیا تھا جس کی قرآن میں یاددہانی کروائی گئی ہے :
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ م بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَاج اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ(172)}(الاعراف:172)  ’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو’اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر‘ (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔‘‘
اس عہد کی وجہ سے ہماری فطرت میں ہمارے رب کا تعارف موجود ہے ۔ اگر کسی انسان تک پیغمبروں کی دعوت نہ بھی پہنچی ہو تو اس کا ضمیراس عہد کی گواہی دے رہا ہے ۔ لیکن اللہ نےاحسان کرتے ہوئے اس عہد کی یاددہانی کے لیے پیغمبر بھیجے ، اپنی کتابیں نازل فرمائیں ۔ پھر جس شخص نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا اس نے بھی ایک عہد کرلیا۔ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ۔ عبادت اور بندگی صرف اپنے رب کی کرنی ہے ۔ پھر ہر نماز کی ہر رکعت میں بھی ہم اس عہد کو دہراتے ہیں :
{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ(0)}’’ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔‘‘
 اللہ کو رب ماننا اور اس کی اطاعت اور بندگی کرنا پوری زندگی کا تقاضا ہے ۔ یہی تمام انبیاء اور رسل کی مشترکہ تعلیم ہے ۔ آگے فرمایا :
{ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ(152)} (الانعام)  ’’یہ ہیں (وہ چیزیں) جن کا اللہ تمہیں حکم دے رہا ہے تاکہ تم نصیحت اخذ کرو۔‘‘
اس آیت میںاللہ کی جانب سے وصیت کے طور پر یہ چار ہدایات آئی ہیں ۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ اگلی آیت میں فرمایا :
{ وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج} (الانعام:153)  ’’اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے‘ پس تم اس کی پیروی کرو۔‘‘
نماز کی ہر رکعت میں ہم اللہ سے یہی دعا کرتے ہیں :
{   اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ(0)} ’’(اے ربّ ہمارے!) ہمیںہدایت بخش سیدھی راہ کی۔ ‘‘
جواب کے طور پر اللہ نے سیدھے راستے کی ہدایت قرآن مجید میںعطا فرما دی ہے ۔ احادیث میں یہ بھی ذکر ہےکہ حضور ﷺنے فرمایا: ((وھو الصراط المستقیم)) یہ قرآن کریم ہی سیدھا راستہ ہے۔ تمام رسولوں نے اسی راستے کی طرف بلایا ہے ۔ اسی تعلیم کو قرآن کی صورت میں مکمل اور محفوظ کیا گیا ہے ۔ آگے فرمایا:
{وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط}  (الانعام:153) ’’اور (اس صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر) دوسرے راستوں پر نہ پڑ جائو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا کر منتشر کر دیں گے۔‘‘ 
احادیث مبارکہ میں ذکر ملتا ہے کہ ایک دن اللہ کے نبی ﷺنے زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی اور پھر دائیں بائیں ٹیڑھی اور ترچھی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: سیدھی لکیر صراط مستقیم ہے اور دائیں بائیں شیطان کے راستے ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ صراط مستقیم ہے اور اس کی ہدایت اللہ نے قرآن و سنت کی صورت میں فرما دی ہے ۔ اس راستے پر چلنے والا اللہ تک پہنچ جائے گا جب کہ اس کو چھوڑ کر دوسرے راستوں کا انتخاب کرنے والے گمراہی کی طرف جائیں گے اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ آگے فرمایا : 

 

{ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(153)} ’’یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ تمہیں وصیّت کر رہا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
ان آیات میں پہلے لفظ تَعْقِلُوْنآیا تاکہ تم سمجھو ، پھر لفظ  تَذَکَّرُوْنَآیا تاکہ تم نصیحت پکڑو ،آخر میں لفظ  تَتَّقُوْنَآیا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔ اس میں بھی بڑی حکمت کی بات ہے ۔ بندے نے علم تو حاصل کر لیا لیکن عمل نہ کیا تو اس کاکوئی فائدہ نہیں ہے ۔ آج مسلمانوں کو دین کی تعلیم حاصل ہے لیکن اس کے باوجودبے عملی ہے ، حقوق و فرائض کی ادائیگی میں غفلت ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آخرت میں جوابدہی کا خوف نہیں ہے ۔ دن میں پانچ مرتبہ پکار لگتی ہے مگر کتنے لوگ لبیک کہتے ہیں ۔ نماز میں صراط مستقیم کی ہدایت مانگتے ہیں اور اللہ سے عہد کرتے ہیں مگر باہر نکل کر گمراہی کے راستوں پر ہوتے ہیں ۔الا ماشاء اللہ ۔ اگر آخرت کی جوابدہی کا خوف ہو تو ہمارے سارے معاملات ٹھیک ہو جائیں ۔ انفرادی زندگی میں، گھر میں ، آفس میں ، معاشرے میں اور ریاست کی سطح پر عدل و انصاف قائم ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !