امیرسے ملاقات قسط 36
ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے نماز تراویح کے دوران دورہ ترجمہ قرآن کا جو
سلسلہ شروع کیا تھا اس کی بدولت بہت سے لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔
رمضان میں کرکٹ چیمپئنز ٹرافی اور رمضان ٹرانسمیشن جیسے اقدام
رمضان کے مقاصد سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے
جس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے اور اس حوالے
سے آگاہی مہم شروع کی جانی چاہیے ۔
معاشرتی سدھار کا بنیادی حل یہ ہے کہ خود بھی قرآن سے جُڑیں
اور دوسروں کو بھی قرآن سے جوڑنے کی کوشش کریں ۔
آج ہماری ذلت اور رُسوائی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم
نے قرآن کے نظام کو نافذ نہیں کیا ۔
خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں
امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم و احباب کے سوالوں کے جوابات
میزبان :آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: رمضان المبارک کا مہینہ امیر تنظیم سے لے کر رفیق تنظیم تک تنظیم اسلامی کی اکثریت کو بہت زیادہ اپنے ساتھ مصروف رکھتا ہے۔ الحمدللہ! دورہ ترجمہ قرآن کا آغاز بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے زمانے سے ہوا اور آج پاکستان بھر میں اور بیرون ممالک بھی کئی مقامات پر نماز تراویح کے دوران یہ پروگرامز ہور ہے ہیں ۔ ماشاء اللہ آپ خود بھی 20 سال سے دورہ ترجمہ قرآن کرا رہے ہیں ۔ کیسا تجربہ رہا اور عوام کو ان پروگرامز سے کتنا فائدہ پہنچا ؟
امیر تنظیم اسلامی : تنظیم اسلامی میں میری شمولیت 1998 ءمیں ہوئی ،البتہ ڈاکٹر اسرارا حمدؒ کو میںنے 1991ء سے سننا شروع کیا تھا ۔ اُس دور سے ہی یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ رمضان کی راتیں قرآن کے ساتھ بسر ہونی چاہئیں ۔ رسول اللہ ﷺ،صحابہ کرام ؓ اور اُمت کے اسلاف کا یہی طرزعمل تھا اور احادیث مبارکہ میں اس کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کو سننےکے بعد دوسری بات یہ سمجھ میں آئی کہ قرآن کی تلاوت توہم کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تلاوت کا بھی ثواب ملتا ہے لیکن قرآن مجید اصل میں کتابِ ہدایت ہے۔ اگر سمجھیں گے نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے تو ہم ہدایت کیسے حاصل کریں گے ۔ یہ بات 1992ء تک کالج لائف میں ہی سمجھ میں آگئی تھی اور اس کے بعد نمازِ تراویح مسجد میں اداکرنے کے بعد گھر میں آکر فتح محمد جالندھری صاحب کا ترجمہ قرآن پڑھنا شروع کیا ۔ ڈاکٹر صاحبؒ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ قرآن روزِ قیامت بندے کی شفاعت کرے گا کہ اس بندے کو میں نےرات کو سونے سے روکا لہٰذا س کو بخش دیا جائے ۔ اس وجہ سے شوق پیدا ہوا اور راتیں قرآن کے ساتھ بسر ہونے لگیں ۔ 1998ء میں ڈی ایچ اے کراچی میں محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا دورہ ترجمہ قرآن شروع ہوا تو میرے کزن مجھے اپنے ساتھ وہاں لےجانےلگے ۔پھر اعتکاف میں بیٹھا تو خلاصۂ مضامین قرآن پڑھنے کاموقع ملا ۔ اسی سال تنظیم میں بھی شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔ 2000ء میں الحمد للہ خود دورہ ترجمہ قرآن پیش کرنےکا موقع ملا۔ اللہ کی توفیق سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اسی طرح اور بہت سے لوگوں کی زندگیاں ہم نے دورہ ترجمہ قرآن کی بدولت بدلتے ہوئے دیکھی ہیں ۔ دورہ ترجمہ قرآن سننے کے لیے خواتین کے لیے بھی باپردہ انتظام ہوتاہے ۔ اس وجہ سے ہزاروں مسلمان بچیوں اور خواتیں کی زندگیاں بدلی ہیں ، انہوں نے پردہ اور حجاب شروع کیا ہے اور اسلامی طرززندگی اپنا نا شروع کیا ہے ۔ 2010ء کا واقعہ ہے ، ایک صاحب اور ان کی اہلیہ ماڈلنگ کے شعبہ سے وابستہ تھے ،دورہ ترجمہ قرآن میں آنا شروع ہوئے ۔ انہوں نے بتایا کہ دورہ میں سورۃ النور اور سورۃ االاحزاب کی تشریح سننے کے بعد ان کی اہلیہ رونے لگیں ۔ ساتھ ہی کوئی بزرگ خاتون تھیں، انہوں نے پوچھا کیوں رو رہی ہو تو اس نے بتایا کہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی کہاں گزار دی ۔ دوسرے دن وہ بزرگ خاتون بہت سارے عبایہ اور حجاب لے کر آئی اور بچیوں اور خواتین میں تقسیم کیے ۔ ان صاحب کی اہلیہ نے بھی حجاب اختیار کیا اور بے پردگی سے توبہ کرلی۔ اسی طرح ایک صاحب تھے جنہوں نے کہامیں دورہ ترجمہ قرآن سنوں گا لیکن تراویح نہیں پڑھوں گا ۔ ترجمہ سننے کے بعد پہلے انہوں نے نماز پڑھنا شروع کی اور اس کے بعد تراویح بھی پڑھنا شروع کی اور طرزِزندگی بھی میں بھی تبدیلی آگئی ۔ اسی طرح ہمارے استاد محترم نوید احمد مرحومؒ ایک جگہ دورہ ترجمہ قرآن کرا رہے تھے ۔وہاں حکومتی اداروں کے ایک بہت بڑے عہدیدار بھی آیا کرتے تھے ۔ ایک دن دورہ ترجمہ قرآن کے بعدوہ نوید صاحبؒ سے ملے اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کہ ہم نے زندگی کن گمراہیوں اور مظالم میں گزار دی ۔ نوید صاحبؒ نے انہیں ترغیب دلائی کہ احساس ہوگیا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اس طرح اس شخص کی زندگی بدل گئی ۔ اللہ تعالیٰ انسان کا دل بدلنے پر قادر ہے اورقرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے ۔
سوال: دورہ قرآن کرانا آسان کام نہیں ہے بلکہ مشقت طلب کام ہے ۔تجربے کی روشنی میں بتائیے ؟
امیر تنظیم اسلامی : بعض علماء نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے قران حکیم کی خدمت کے حوالے سے جو کام ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے لیاوہ انہی کا خاصہ ہے اور اُن پر اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت رہی ۔ دورہ ترجمہ قرآن بھی ان کا فیض ہے کہ 25 سال کا نوجوان بھی روزانہ اڑھائی یا تین گھنٹے بیان کرے ۔ جو لوگ دورہ ترجمہ قرآن کی مجالس میں شامل ہوتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ بیان کرنے والے پر کتنا دبائو ہوتاہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔ ہمارے ہاں معروف ہے کہ بعض علماء دن میں دورہ تفسیر کرواتے ہیں مگر وہ مدارس کے طلبہ کے لیے ہوتا ہے لیکن رات میں تراویح کے ساتھ اڑھائی تین گھنٹے تفسیر بیان کرنا واقعی ایک مشقت طلب کام ہے۔اب الحمد للہ! بعض دیگر دینی جماعتوں نے بھی تراویح کے ساتھ 15 منٹ یا آدھا گھنٹہ بیان کر نا شروع کردیا ہے وہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ محنت طلب کام ہے کیونکہ مدرس نے تجوید کا خیال بھی رکھنا ہے کہ کم ازکم حرام غلطی نہ ہو ، اُسے ترجمہ بھی ٹھیک کرنا ہے ، بعض مقامات ترجمے کے اعتبار سے مشکل اور حساس بھی ہیں ، وہاں الفاظ کا انتخاب نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا ہے ،پھر وقت کی تنگی کے باوجود تشریح بھی کرنی ہے ، اس کے لیے تیاری اور مطالعہ بھی کرکے آنا ہے ، بہت سارے مقامات پر فقہی مسائل بھی آتے ہیں ان کو بیان کرنے کے لیے بھی کافی مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پھر تشریح کے دوران فرائض دینی کا جامع تصور بھی بیان کرناہے ، انقلابی تصور بھی پیش کرنا ہے ، دینی فرائض کااحاطہ بھی کرنا ہے ، اقامت دین کی جدوجہد کے لیے جماعت کی اہمیت کو بھی بیان کرنا ہے ، یہ سارا کچھ اُسے چار رکعت تراویح کے وقفہ میں بیان کرنا ہوتا ہے ۔ مقرر وقت کا لحاظ بھی رکھتا ہے لیکن 29 راتوں میں دورہ ترجمہ قرآن کی تکمیل بھی کرنی ہے ۔ اس لیے یہ بہت مشقت والا کام ہے لیکن ہمارے بڑوں خصوصاً ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی محنتوں کا ثمر اور فیض ہے کہ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہمارے استاد انجینئر نوید احمدؒ 2000ء میں رات کو دورہ کہیں اور کرواتے تھے لیکن وہاں سے قرآن اکیڈمی ڈے ایچ اے کراچی تشریف لا کر مجھے رات کو دو گھنٹے بیٹھ کر پڑھاتے تھے اور اگلے دن میں دورہ ترجمہ قرآن کرواتا تھا ۔اب ہمارے بہت سے مدرسین نے قرآن اکیڈمیز کے زیر اہتمام رجوع الی القرآن کورسز کیے ہوتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ جس کام میں اخلاص اور للہیت پیدا ہو جائے تو اس میں اللہ کی مدد بھی آتی ہے ۔
سوال: کیادورہ ترجمہ قرآن میں تفسیر بالرائے کابھی اہتمام کیا جاتا ہے ؟
امیر تنظیم اسلامی :ہم مدرسین کو باقاعدہ تربیتی کورس کرواتے ہیں ۔ ان میں ایک بنیادی کورس ہوتاہے ، اس کے بعد پھر ہر سال ریفریشر کورس سے بھی گزرنا ہوتاہے ۔ ان کورسز میں ہم مدرسین کو سکھاتے ہیں کہ دورہ ترجمہ قرآن کے دوران کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں ۔ پھر ان کو ایک کتابچہ دیا جاتا ہے جس میں ساری ہدایات موجود ہوتی ہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی تشریح نہیں کرنی بلکہ اسلاف کے مؤقف کی روشنی میں بات کرنی ہے۔ ایک تفسیر بالرائے محمود ہوتی ہے اور ایک تفسیر بالرائے مذموم ہوتی ہے ۔ ہم تفسیر بالرائے مذموم سے مدرسین کو منع کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی فرماتے تھے کہ آپ علماء کی تفاسیر کا بھی مطالعہ کریں۔ اب تو ایپس آگئی ہیں ، انسان آسانی سے ہر تفسیر پڑھ سکتا ہے ۔ ہمارے مدرسین میں ڈاکٹرز بھی ہوں گے ، پروفیسرز بھی ہوں گے ، انجینئر ز بھی ہوں گے ، ہر شعبہ کے لوگ ہوں گے تووہ اپنے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن جس چیز کا علم نہ ہو اُس میں نہیں جانا چاہیے ۔
بہرحال ہمارے ہاں ہر کوئی درس نہیں دے سکتا ، کچھ بنیادی معیارات طے شدہ ہیں، اُن پر جو پورا اُترتا ہے وہ پہلے تربیتی کورسز کرتا ہے اور اس کے بعد درس دیتا ہے ۔ جب ہم علماء کو یہ احتیاطی تدابیر بتاتے ہیں تو وہ اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ تنظیم اسلامی کے تحت میعاری کام ہو رہا ہے۔ الحمد للہ !
سوال: ہمارے ملک پاکستان میں ماہ رمضان کو کچھ مخصوص چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے جیسا کہ ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے پروگرامز ہوتے ہیں ، شوز ہوتے ہیں اور اشتہارات ہوتے ہیں ، کرکٹ میچ ہو تے ہیں ، فوڈ سٹریٹس پر گہما گہمی ہوتی ہے ۔کیایہ سب کچھ پلاننگ کے تحت کیا جارہا ہے کہ لوگوں کو رمضان کے اصل مقاصداوربالخصوص قرآن سے دور رکھا جائے ؟
امیر تنظیم اسلامی :جب ہم دور نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس وقت بھی قرآن کی تعلیم سے روکنے کی شعوری کوششیں کی گئیں ۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا :
’’اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں، بے سمجھے اور اُسے ہنسی بنالیں اُن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔‘‘(لقمان :6)
اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین کے سرداران میں سے ایک نضر بن حارث تھا جو تجارت کے لیے شام ، عراق اور فارس تک جاتا تھا ۔ وہاں سے وہ رقاصہ لے کر آیا تاکہ رات کو رقص کی محفلیں سجائی جائیں ، ناچ گانے اور موج مستی میں لوگوں کو لگایا جائے تاکہ لوگ قرآن کو سننے کے لیے نہ جا سکیں ۔ کفار کی تاریخ اس طرح کی کوششوں سے بھری پڑی ہےلیکن بعض اوقات اپنے بھی ان سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ کسے نہیں معلوم کہ رمضان کی کتنی عظمت اور احترام ہے ، اس میں اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کے مواقع اللہ نے رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر سال کبھی کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد رمضان میں کروایا جاتاہے ۔ اس سال بھی 19 فروری سے کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کا آغاز ہوا اور اس کا اختتام جاکر 9 مارچ کو ہوا ۔ گویا کہ رمضان کا پہلا عشرہ اس کی نذر کر دیا گیا ۔ سڑکیں بلاک ہوتی ہیں ، روزہ داروں کو ، مریضوں کو ، طلبہ کو کتنی دقت اور پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے ۔ پھر کرکٹ میں جوا ، سٹہ ، بے حیائی اور فحاشی جیسے منکرات کی بھر مارہوتی ہے ۔پھر ٹائمنگ دوپہر 2 بجے سے لے کر رات 10 بجے تک رکھی گئی ۔ اس دوران ساری نمازیں ، افطار کی برکات ، نماز تراویح ، قرآن کی تلاوت ، یہ سب اعمال کہاں گئے ؟ قوم کو آخر کس طرف لگایا جارہا ہے ؟
کراچی میں پوری پوری رات بنگلوں کی چھتوں پر نیٹ لگا کر کرکٹ کھیلی جاتی ہے ، فوڈ سٹریٹس پر ساری رات کھانے پینے ، ہلے گلے اور پکنگ منانے کا دور چلتاہے ۔ کہاں اس اُمت کی راتیں رمضان میں قرآن کے ساتھ بسر ہوتی تھیں اور کہاں آج اس کو کھلواڑ بنا دیا گیا ہے ۔ وہ رمضان جو تقویٰ اور ہدایت کے حصول کا مہینہ تھا آج معصیت کے کاموں کے لیے مخصوص کر لیا گیا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
’’اور کافروں نے کہا:اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں فضول شوروغل مچاؤتاکہ تم غالب آجاؤ۔‘‘(حٰم السجدہ)
کفار اور مشرکین کو بھی علم تھا کہ قرآن زندگیوں کو بدل دیتاہے ۔ اگرلوگوں نے قرآن سننا اور سمجھنا شروع کر دیا تو ایک انقلاب آجائے گا اور ہم مغلوب ہو جائیں گے ۔ ہم کرکٹ کے خلاف نہیں ہیں ۔ علماء نے لکھا ہے کہ ایسے کھیل جس سے جسمانی و ذہنی ورزش مل جاتی ہو جائز ہے بشرطیکہ دینی تقاضوں کو پورا کیا جائے ۔ لیکن خاص طور پر رمضان میں اس طرح کے کھیل کود میں قوم کو مشغول کرنا جس میں جوا بھی ہو ، سٹہ بھی ہو، فحاشی اور بے حیائی بھی ہو ، رمضان کا تقدس اور احترام بھی پامال ہو رہا ہے ،فرائض دینی اور قرآن کی تعلیم سے بھی لوگوں کو محروم کیا جارہا ہے تو ایسے کھیل کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔ پھر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر 12گھنٹے لوگوں کو ٹی وی کی سکرین پر مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ سب کوششیں اصل میں رمضان کی اصل برکات کے حصول سے لوگوں کو محروم کردینے والی بات ہے ۔ماضی میں رمضان میں افطاری سے پہلے گھر کے افراد مل کر بیٹھتے تھے ، دعاؤں کا اہتمام کرتے تھے ، رات کو تلاوت قرآن اور تراویح کا اہتمام ہوتا تھا ۔ افطاری سے قبل تہجد پڑھتے تھے کیونکہ رات کے اس پہر اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق)نزول فرماتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے ، لیکن آج افطاری سے قبل بھی اور سحری کے اوقات میں بھی رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے کھلواڑ چل رہا ہے ، پھر انٹرٹینمنٹ کے نام پر بےحیائی اور بے پردگی کا طوفان ہے ۔یہ ساری چیزیں اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں ۔
سوال: آج کے دور میں سمارٹ فون بھی ایک بڑی آزمائش ہے ، زیادہ تر اوقات لوگوں کے اس میں صرف ہوتے ہیں اور بھٹکنے کے سو فیصد مواقع ہوتے ہیں ۔ اس طرح جان بوجھ کے اگر بندے سے گناہ ہو جائے تو بندہ کیا کرے؟(محمد زید ، کراچی)
امیر تنظیم اسلامی :یہ اتنا آسان اور ہلکا مسئلہ نہیں ہے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ پچھلے ایک ہزار سال میں انسان کو ایسا نشہ نہیں ملا جو سمارٹ فون کی صورت میں اب ہر انسان کی پہنچ میں ہے۔ ایک دانا شخص نے کہا جس انسان کو خود پر اعتماد نہ ہو وہ سمارٹ فون استعمال نہ کرے ورنہ برباد ہو جائے گا ۔ گناہوں سے بچنے کا آسان طریقہ قرآن میں اللہ نے بتایا ہے : ’’اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘(بنی اسرائیل :32)
تمام ذرائع جو بدکاری اور بے حیائی کی طرف لے جاتے ہیں، ان سے انسان خود کو ددر رکھے ۔ سمارٹ فون کا استعمال اُتنا ہی کریں جتنی آپ کی جائز ضرورت ہے ۔ اس سے زیادہ اس کا استعمال نہ کریں ۔ کوشش کریں کہ بچوں کی پہنچ سےموبائل کو دور رکھیں ۔بچے اگرضروری ہو تو والدین کے سامنے استعمال کریں تاکہ اُن کو معلوم ہو کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں ۔ لیپ ٹاپ ، کمپیوٹرپر اگر بچوں نے کام کرنا ہے تو ان کی نگرانی رکھیں ۔ ایسا اہتمام ہو کہ میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے موبائل کو استعمال کرسکیں، گھر کے دیگر افراد بھی کرسکیں ۔ اس طرح ایک نگرانی بھی رہے گی اور احتیاط بھی رہے گی ۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم رمضان میں سمارٹ فون کابھی روزہ رکھ لیں ۔ اس ایک تربیتی مشق سے ہو سکتا ہے عادت چھوٹ جائے ۔ گناہ ہو جائے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا :’’ سارے کے سارے بنی آدم خطا کار ہیں لیکن بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں ۔‘‘ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
’’مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سےبدل دے گا اور اللہ توبخشنے والا مہربان ہے اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘(الفرقان :70، 71)
لیکن گناہ پر اَڑ جانا ، اس کا جاری رکھنا انسان کے لیے مہلک ثابت ہوتاہے ۔
سوال: تنظیم اسلامی پاکستان سب سے پہلے پاکستان میں خلافت کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کے بعد اسلام کے عالمی غلبہ کی بات کرتی ہے ۔ اس تناظر میں کیا ہم شمالی امریکہ میں تنظیم اسلامی کی کوئی شاخ بنا سکتے ہیں تاکہ لوگوں کو اسلام کا اصل پیغام پہنچا سکیں؟ ( نبیل خان صاحب ، کینیڈا )
امیر تنظیم اسلامی :ہمارے لیے اصل مقصود تو وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺنے بتایا ہے کہ اللہ راضی ہو جائے اور آخرت میں کامیابی مل جائے جس کے لیے ہم نے دینی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں ۔ ان ذمہ داریوںمیں اقامت دین کی جدوجہد بھی شامل ہے جس کا حکم قرآن میں دیا گیا :
’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، اگرچہ مشرک لوگ ناپسند کریں۔‘‘(الصف:9)
مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی ہو اُسے دینی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں ۔آج کے دور میں دعوت دین کے حوالے سے بڑی آسانیاں بھی پیدا ہو چکی ہیں ۔ بندہ یہاں بیٹھ کر دنیا بھر میں لوگوں تک پیغام پہنچا سکتاہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمد ؒ کے دروس لوگوں کو سنا سکتا ہے ۔ نیت میں اخلاص ہو اور مقصد اللہ کی رضا ہو اور بندہ دعوت کا کام شروع کرے تو اللہ تعالیٰ آسانیاں پیدا فرما دیتاہے ۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور بہت سے ممالک میں مثالیں موجود ہیں کہ بعض احباب ہفتہ میں ایک دن مخصوص کر لیتے ہیں اور کسی ایک کے گھر درسِ قرآن رکھ لیتے ہیں ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خطابات سنتے ہیں ، پورے پورے خاندان اس میں شریک ہوتے ہیں ۔ دوسرے ہفتے کسی دوسرے گھر میں رکھ لیتے ہیں ۔ رمضان میں او ر بھی بہترین موقع ہوتا ہے ، روزے کی وجہ سے انسان میں تقویٰ پیدا ہوتاہے اور اس تقویٰ کی وجہ سے قرآن سے ہدایت حاصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح کا پروگرام ہمارے یہ رفیق بھی کینیڈا میں شروع کر سکتے ہیں ۔ دورہ ترجمہ قرآن کی محافل کا لنک ہماری ویب سائٹ سے مل جائے گا۔ اس کی موبائل ایپ بھی ڈیویلپ ہو چکی ہے۔ اسی رمضان سے آغاز کرلیں اور ہمارے مرکز سے بھی رابطہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آسانیاں فرمائے گا ۔
سوال: پاکستان میں رشوت خوری، چور بازاری اور لوٹ مار کرنے والوں کی اصلاح کیسے کی جائے ؟( محمد رفیق ،کراچی)
امیر تنظیم اسلامی :معاشرے میں جتنے بھی جرائم ہوتے ہیں ان میں افراد انفرادی سطح پر بھی ملوث ہوتے ہیں ، اگر انفرادی سطح پر ہم اپنی اصلاح کرلیں تو معاشرے کی اجتماعی سطح پر اصلاح خود بخود ہوتی جائے گی اور جرائم کا سدباب ممکن ہوگا ۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود بھی قرآن سے جڑیں اور دوسروں کو بھی قرآن سے جوڑنے کا اہتمام کریں ۔ قرآن کی محافل کو عام کریں ، ہر گلی اور ہر محلے میں دروس قرآن کا اہتمام ہو ۔سب سے زیادہ انسان کو بدلنے والی چیز قرآن مجید ہے ۔ بہت سے لوگوں کو بدلتے دیکھا ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے ۔ ایک صاحب ہمارے دروس قرآن میں آتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب والدصاحب فوت ہو گئے تو انہوں نے تیسرے دن ہی تمام بہنوں اور بھائیوں کا حصہ دے دیا اور یہ ترغیب ان کو درس قرآن سننے کی وجہ سے ملی ۔ ہر ایک مسلمان پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ عائد ہوتاہے اور ہر مسلمان اس حوالے سے آخرت میں جوابدہ بھی ہوگا کہ جہاں اس کا اختیار چلتاہے وہاں اس نے اسلام کے نفاذ کی کوشش کرنی ہے ۔
لہٰذا یہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کے پیغام کو عام کرے ، اقامت دین کی جدوجہد میں حصہ لے ۔ یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر لیا تھا ۔ اسلام کی بدولت ہی مختلف نسلوں ، زبانوں ، رنگوں اور خطوں کے لوگ مل کر ایک قوم بنے اور اس قوم کی بقاء ، سلامتی اور استحکام بھی اسلام کے نفاذ پر منحصر ہے ۔ پاکستان کا قیام بھی رمضان کی 27 ویں شب کو عمل میں آیا تھا اور قرآن بھی اسی رات نازل ہوا ۔ اس طرح قرآن اور پاکستان کا ایک فطری تعلق بھی ہے ۔ ہماری حکومت اور علماء کو چاہیے کہ 27 رمضان کو قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے عوام کو ترغیب دینے کا رواج قائم کریں ۔ 14 اگست کو تو ہلڑ بازی اور بدتمیزی کا طوفان ہوتا ہے لیکن 27 رمضان کےموقع پر اگر نظریہ ٔپاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید قوم کو بھولا ہوا سبق یاد آجائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کر نے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا۔ ‘‘(رواہ المسلم)
آج ہماری یہ ذلت اس لیے ہے کہ ہم نے قرآن کو نافذ نہیں کیا ۔ اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے :
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔‘‘(سورۃمحمد:7)
جب اللہ کی شریعت زمین پر نافذ ہوگی تو اللہ کی مدد بھی آئے گی اور تمام مسئلے بھی حل ہو جائیں گے ۔
سوال: امیرتنظیم اسلامی اکثر دوسرے شہروں کے دوروں پر ہوتے ہیں اس دوران ان کے گھر والوں کے حقوق سلب نہیں ہو جاتے؟( انصر طالب علم انجینئر)
امیر تنظیم اسلامی :شریعت کی رو سے پابندی یہ ہے کہ مسلسل چار مہینے تک گھر سے دور نہیں رہنا چاہیے ۔ لیکن میرے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے ۔ ہر ماہ دو یا تین دورے کرنے ہوتے ہیں اور اس دوران دو ، تین یا چار دن گھر سے دور رہنا پڑتا ہے لیکن اس دوران بھی فون پر گھروالوں سے ، بچوں سے رابطہ رہتا ہے ، الحمد للہ ۔