اسلاموفوبیادرحقیقت مغرب کا مسئلہ ہے جبکہ اسلام کے اصل چہرے
کو دنیا میں روشناس کروانا ہماری ذمہ داری ہے :رضاء الحق
باطل کوباطل اور ظالم کو ظالم کہنے کے قرآنی بیانیہ سے دستبردار
کروانے کے لیے اسلامو فوبیا کا چورن بیچا جارہا ہے:حامد کمال الدین
دنیا پر لبرل آرڈر کا غلبہ چاہنے والی قوتوں نے مغرب کو اسلاموفوبیا
میں مبتلا کیا کیونکہ اُن کے نزدیک اسلام لبرل آرڈر کی
راہ میں رکاوٹ تھا : قیصر احمد راجہ
’’ اسلاموفوبیا کا عالمی دن اور حقائق ‘‘ کے موضوع پر
پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال
میز بان : آصف حمید
مرتب : محمد رفیق چودھری
سوال: اسلامو فوبیا کے معنی کیا ہیں۔ کیا لفظ ’’فوبیا‘‘کسی اور مذہب کے ساتھ بھی جُڑا ہے ؟ یہ اسلام کے ساتھ ہی کیوں لگایا گیا؟
قیصراحمدراجہ: فوبیا ایک ایسا ڈر ہے جس کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے ،وہ کسی چیز کا بھی ہو سکتا ہے ۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو اسلام سے شعوری طور پر ڈر ہے اور کچھ کو ایسا ڈر ہے جس کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اسلامو فوبیا کی اصطلاح ناکافی ہے۔ ہمیں اسلامو فوبیا کو سمجھنے کے لیے کم سے کم دوسری جنگ عظیم سے شروع ہونے والی صورت حال کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ اس دوران پہلی دفعہ پوری دنیا پر ون ورلڈ آرڈر کے غلبے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس سے قبل یونانیوں نے کچھ غلبہ حاصل کیا مگر وہ پوری دنیا پر نہیں تھا ، روم ایک طاقت تھی مگر اس کا غلبہ بھی پوری دنیا پر نہیں تھا ، مسلمانوں کا غلبہ بھی پوری دنیا پر نہیں تھا ۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلےفاشسٹ اپنی کوشش کررہے تھے ، سوشلسٹ اپنی کوشش کررہے تھے اور لبرلز اپنی کوشش کررہے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں سوشلسٹوں اور لبرلز نے مل کر فاشزم (ہٹلر اور مسولینی) کو شکست دی ۔ اس کے بعد سوشلسٹوں اور لبرلز میں سردجنگ شروع ہوگئی اور سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے نیٹو کے نام سے عسکری اتحاد بنایا گیا۔ 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعدفوکو یاما نے کہنا شروع کر دیا کہ اب پوری دنیا میں ایک ہی ورلڈ آرڈر نافذ ہوگا اور وہ لبرل آرڈر ہوگا۔لیکن نیٹو کو ختم نہیں کیا گیا کیونکہ لبرلز کے مطابق اسلام لبرل آرڈر کے راستے میں رکاوٹ تھا ۔ چنانچہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کے لیے نائن الیون کا ڈراما رچایا گیا ا ور اس کے ساتھ ہی اسلام اور مسلمانوںکے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈا بھی شروع ہوا۔ اس سے قبل جن طاقتوں (روس وغیرہ) سے لبرلز کی جنگ تھی وہ اپنا حقیقی وجود رکھتی تھیں ، ان کا اپنا میڈیا تھا جو لبرلز کو جواب دیتا تھا لہٰذا ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانا آسان نہ تھا لیکن سینکڑوں کی تعدادمیں جن کو دہشت گرد قراردیا جارہا تھا اُن کا کوئی حقیقی چہرہ تھا ہی نہیں، نہ ان کے پاس میڈیا کی طاقت تھی ۔ لہٰذا عالمی میڈیا اپنی طرف سے پروپیگنڈا نشر کرکے اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دہشت پھیلاتا رہا اور عوام اس پر یقین کرکے اسلامو فوبیا کا شکار ہو تے رہے ۔
سوال: ہنٹنگٹن نے کہا تھا کہ دنیا میں دو ہی تہذیبیں ہیں جن سے اُن کو خطرہ ہے۔ ایک کنفیوشس (چینی) اور دوسرا اسلام ہے۔ کیا اسلامو فوبیابھی تہذیبوں کے تصادم کا نتیجہ تو نہیں ہے ؟
حامد کمال الدین: بنیادی طور پر یہ تہذیبوں کا تصادم بھی ہے اور یہ مذہبی جنگ بھی ہے ۔ اسلام سے قبل عیسائیت ہی دنیا کا سب سے بڑا مذہب تھی ۔ عرب کے بہت بڑے حصے پر بھی عیسائیت غالب آچکی تھی لیکن جب اللہ کے آخری رسول ﷺ تشریف لائے تو عیسائیت کو سکڑنا پڑا ، اس وقت سے یہ مذہبی جنگ جاری ہے ۔ اسی طرح اسلام سے قبل رومن تہذیب دنیا کی بہت بڑی تہذیب تھی ۔ مشرق و مغرب، افریقہ اور عرب کے بہت سے علاقے رومن ایمپائر کے ماتحت تھے ۔ اسی طرح فارس کی بھی اپنی تہذیب تھی ۔ جب اسلام کے غلبے کا آغاز ہوا تو فارس کی تہذیب تو فوراً مغلوب ہوگئی اور کسریٰ مٹ گیا لیکن قیصر کسی نہ کسی صورت میں باقی رہا ۔ ایک بہت معروف حدیث کا مفہوم ہے کہ رومن تہذیب کے بہت سارے سینگ ہوں گے ، ایک سینگ ٹوٹے گا تو دوسرا نکل آئے گا ۔ تاریخی لحاظ سے بھی آپ دیکھیں تو شام فتح ہوا تو بازنطین مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا ، بازنطین فتح ہوا تو اٹلی سامنے آگیا ، اسی طرح کبھی فرانس ، کبھی برطانیہ اور اب امریکہ مسلمانوں کے مدمقابل ہے ۔ روم کے خلاف غزوۂ موتہ سے ہماری جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ 1400 سال میں ایک دن بھی نہیں رُکی ۔ یہ ہماری سب سے لمبی جنگ ہے۔ احادیث کے مطابق آخری دور کی بڑی جنگیں بھی ہماری انہی کے ساتھ ہونی ہیں ۔ کمیونزم یا فاشزم کے خلاف لبرلز کی جنگ تو ایک معمولی عرصہ کی جنگ تھی ۔ اصل اور طویل معرکہ اسلام اور رومن تہذیب ہے ۔
سوال: اس وقت عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کی کیا صورتحال ہے ۔ یعنی اسلام جو کہ امن کا دین ہے اس کو دنیا کےلیے خطرہ ثابت کرنےکے لیے جدیدترین کیا طریقے اختیار کیے جارہے ہیں ؟
رضاء الحق:اسلاموفوبیا میں دو طرح کے لوگ مبتلا ہیں ۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو دنیا پر اپنا ورلڈ آرڈر نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن اسلام اس میں رکاوٹ ہے۔ جیسا کہ1991ء میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعدسینئر بش نے نیوورلڈ آرڈر کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سےہر عالمی سطح کے لیڈر کی زبان سے نیوورلڈ آرڈر کی بات سنائی دیتی رہی ۔سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد کسی نے نیٹو کے چیف سے پوچھا کہ کمیونزم کو تو شکست ہو گئی اب نیٹو کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا جواب تھا : اب ہماری جنگ مسلم فنڈامینٹلزم کے خلاف ہوگی ۔ یعنی اسلاموفوبیا کی ایک وجہ یہ طبقہ ہے جو اپنا ورلڈ آرڈر نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو عالمی میڈیا کے پھیلائے ہوئے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور عداوت رکھتے ہیں حالانکہ ان کے اس رویہ کی کوئی حقیقی وجہ نہیںہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کا تعلق اسلام کے ساتھ اس طرح کا نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا یا جو ماضی میں تھا ۔ اس لیے کچھ لوگ دہشت گردی کی جنگ میں عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن گئے اور استعمال ہوئے اور عالمی میڈیا نے پروپیگنڈا پھیلا کر تمام مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نائن الیون سے تین چار سال قبل امریکہ میں ایک تھنک ٹینک وجود میں آیا جس کا نام ہی پروجیکٹ فار نیوامریکن سینچری تھا ۔ اس میں تمام وہ لوگ شامل تھے جو بعدازاں امریکی حکومت میں عہدیدار رہے۔ اس تھنک ٹینک کے تحت پوری پلاننگ کی گئی تھی کہ عالمی رائے عامہ کو کیسے ہموار کرنا ہے ۔ اس کے لیے میڈیا کو پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ اس کے ذریعے مسلمانوں کو دہشت گرد ، بنیاد پرست ، انتہا پسند وغیرہ جیسے نام دینا شروع کیے اور دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا تھا تو اس کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا تھا ۔ حالانکہ اگر کوئی غیر مسلم دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہوتا تو اس کو دہشت گرد نہیں، ذہنی مریض کہا جاتا تھا۔ جیسا کہ ناروے میں ایک عیسائی نے حملہ کرکے 83 لوگوں کو قتل کیا جن میں مسلمان بھی شامل تھے اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی تھے ۔ اسی طرح 2019ء میں نیوزی لینڈ میں ایک شخص نے فائرنگ کرکے مساجد کے اندر 50 سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا مگر اس کو دہشت گرد نہیں کہا گیا ۔ اصل میں بیانیہ ہمیشہ فاتح اور غالب کا تسلیم کیا جاتاہے ۔ مسلمان چونکہ مغلوب ہیں، اس لیے یہ اگر سچ بھی کہیں تو ان کی بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا جبکہ اسلام دشمن طاقتیں میڈیا کے ذریعے جو بھی جھوٹا بیانیہ پھیلاتی ہیں اُسے دنیا سچ مان لیتی ہے ۔
قیصراحمدراجہ:دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جن بے گناہ مسلمانوں، بچوں اور عورتوں کا قتل عام کیا گیا ، جن مسلم ممالک کو تباہ و برباد کر دیا گیا ، ان کے بارے میں آج سے 5 سو سال بعد یہ کہا جائے گا کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے ۔ یہ ایک حربہ ہے جو نیا نہیں ہے ۔ رومن سلطنت جب طاقت میں تھی تو اس وقت بھی یہی کیا جاتا تھا کہ مخالفین کو مار دیا جاتا تھا جبکہ جو لوگ حامی ہوتے تھے ان کو خرید لیا جاتا تھا ۔ آج کے دور میں دیکھیں تو ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام مل رہا ہے جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو فٹ پاتھ پر سلیپر پہن کر انٹرویو دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تاکہ اس کو آئندہ کے لیے نشان عبرت بنایاجائے ۔ اب جواسلامو فوبیا کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو یہ بھی ایک نفسیاتی حربہ ہے ۔ اگر آپ مسلسل ظلم کا شکار ہیںاور آپ کی پشت دیوار سے لگ گئی ہے تو آپ کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ آپ جوابی حملہ کریں ۔ اس حملے سے بچنے کے لیے، آپ کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ بین الاقوامی یا علاقائی طاقتیں ایک طریقہ ضرور رکھتی ہیں کہ لوگوں کا غصہ نکالنے کے لیے ، ان کےجذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی ذریعے سے ان کے حق میں بھی تھوڑی بات کر دی جاتی ہے ۔ اسی طرح اسلاموفوبیا کی اصلاح بھی استعمال ہوتی ہےیا اسلامو فوبیا کا دن منایا جاتاہے تاکہ مسلمانوں کو یہ محسوس ہو کہ دنیا میں کوئی ہماری بات کرنے والا بھی ہے ۔ لیکن جہاں سے یہ ٹرم آئی ہےیعنی اقوام متحدہ، اس کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبرز سمیت ٹاپ ٹین ممالک وہ ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ بیچنے والے ہیں ۔ اب اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت ہرگز نہیں کہ اگر آپ کا بزنس اسلحہ بیچنا ہے توامن آپ کے مفاد میں نہیں ہے۔یہ طاقتیں خود دنیا میں جنگیں بھڑکاتی ہیں ، دہشت گرد تنظیمیں بناتی ہیں ، مسلمانوں کا قتل عام کرتی ہیں اور پھر مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے اسلامو فوبیا کا نام لیتی ہیں۔ جب تک مسلمان اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے اور اپنے فیصلے خود نہیں کرتے تب تک یہی ہوتا رہے گا کہ ایک طرف ان کو مار ا جائے گا اور دوسری طرف سے ایک ٹرم دے کردھوکے میں رکھا جائے گا ۔
سوال:کچھ مسلمانوں نے اسلام کو بدنام کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور اسلاموفوبیا کے نظریے کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے ۔ کیاآپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں ؟
حامد کمال الدین:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سارے بحران کے اصل ذمہ دار مسلمان ہیں۔ دشمنی کرنا دشمن کا کام ہے لیکن اس کو دشمنی کا موقع نہ دینا مسلمان کا کام ہونا چاہیے ۔ غزہ اُحد کے بارے میں قرآن میں اللہ نے فرمایا :
{ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط}(آل عمران:165) ’’(اے نبیؐ) کہہ دیجیے یہ تمہارے اپنے نفسوں (کی شرارت کی وجہ) سے ہوا ہے۔‘‘
آج اگر ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو ہمیں کیوں نہیں مار پڑے گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کے تقاضوں پر عمل کریں ۔ درحقیقت اسلامو فوبیا کی اصطلاح استعمال کرکے اور اس کے نام سے ایک دن منا کر عالم اسلام کے ساتھ بہت بڑی واردات کی جارہی ہے ۔ اس کے ذریعے ایک تو اُمت کے دشمن اچھا بننے کی کوشش کررہے ہیں ، دوسرا یہ کہ اسلام کے کئی اہم تقاضوں سے دستبرداری پر اُکسایا جارہا ہے ۔ مثال کےطور پر نائن الیون کے بعد بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور کئی غیر مسلم داعی بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے ۔ لیکن اپنی جگہ وہ بھی ڈرے ہوئےہیں کہ اسلام تو جہاد و قتال کا حکم بھی دیتا ہے۔ اسی طرح کئی مسلم داعی بھی مغرب میں اسلام کا ایسا تصورپیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ مغرب کی خواہش کے مطابق ہو۔ جبکہ اسلام کہتا ہے کہ سلامتی اس وقت ہوگی جب اسلام قبول کرو گے ، اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو پھر جنگ ہے۔کیونکہ یا تو آپ حق کے ساتھ ہو سکتے ہیں یا پھر باطل کے ساتھ ۔ اگر حق کو تلاش کرنا ہے تو اسلام کو اس کے تمام تر تقاضوں کے مطابق قبول کرنا ہوگا ۔ باطل کو ضلال کہنا ، دوزخ کے راستے پر بتانا قرآن کا بیانیہ ہے ۔ اس بیانیہ سے دستبردار کروانے کے لیے اسلامو فوبیا کا چورن بیچا جا رہا ہے ۔
سوال: مٹھی بھر لوگ جنہوںنے دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو کر تخریبی کارروائیاں کیں اور دشمنوں کا آلۂ کار بن کر پوری اُمت مسلمہ کے خلاف بیانیہ بنانے کا موقع دیا۔ کیا وہی لوگ اصل قصوروار ہیں ؟
حامد کمال الدین:جب کوئی بیرونی قوت کسی ملک پر حملہ آور ہوتی ہے تو اس کے خلاف جہاد کرنا مقامی قوموں کا حق ہے ۔ جیسا کہ فلسطین ، کشمیر ، افغانستان ، عراق وغیرہ میں حملہ آور قوتوں کے خلاف جہاد کیا گیا ۔ یہ بالکل درست اور جائز ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیمیں جنہوں نے بنائیں اور جو ان میں شامل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرتے رہے۔ اُنہوں نے فلسطین اور کشمیر کے جہاد کو بھی بدنام کر دیا ۔اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیمیں کس نے بنائیں ۔
سوال:اسلام کو فرقہ واریت اور چھوٹے چھوٹے دہشت گرد گروہوں نے بدنام کیا اور پھر مغرب زدہ این جی اوز نے بھی فنڈنگ کے لیے اسلام کو بدنام کیا ، انہوں نے اُمت کو اتنا نقصان کیوں پہنچایا ؟
رضاء الحق:مغرب نے رفتہ رفتہ خود کو منظم اور متحد کیا ہے ۔ آپ دیکھیں وہاں پر یورپی یونین بن گئی ، نیٹو بن گیا ، اسی طرح کئی سیاسی ، عسکری اور معاشی اتحاد بن گئے ۔ جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کو پہلی جنگ عظیم کے بعدسے ہی نیشن سٹیٹس کا تصور دے دیا گیا جس کی وجہ سے ہم ایک اُمت بننے کی بجائے نسلی ، لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہوتے گئےاور اس تقسیم کی وجہ سے ہم دشمنوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال بھی ہوئے ۔ جب ہم مسلمان ہو کر ایسے کام کریں گے تو غیر مسلم طاقتیں اس کا خوب فائدہ اُٹھائیں گی ۔ پھر ایک حدیث کے مطابق حب الدنیا و کراہیۃ الموت کی کیفیت بھی مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہے جس کو وہن کی بیماری کہا گیا ہے ۔ چاہے حکمران ہوں یا عوام وہ دین اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینے لگے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کے مطابق اس امت کے بڑے فتنوں میں مال کی محبت اور عورت شامل ہیں۔ہماری انہی دوکمزوریوں سے فائدہ اُٹھا کر مغرب نے ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ۔ آج آپ پاکستان میں دیکھ لیجئے مغرب کو خوش کرنے کے لیے اسلام کی مخالفت کی جاتی ہے ، دینی شعائر کا مذاق اُڑایا جاتاہے اور خود کو ملحد ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یوٹیوب ، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا چینلز پر پیسہ کمانے کے لیے غیر اخلاقی اور غیر شرعی حرکتیں کی جاتی ہیں ۔ درحقیقت دشمن نے ہمیں عسکری حملوں کے ذریعے ہی تباہ نہیں کیا بلکہ سیاسی ، معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے بھی تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ برطانیہ ، فرانس ، جرمنی وغیرہ میں پردہ اور حجاب پر پابندی لگادی ۔ سوئٹرزلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگا دی کہ یہ راکٹ اور میزائل کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں مساجد کے اندر سکول کے بچوں کی کلاسز کے خلاف ’’پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘‘کے نام سے پالیسی نافذ کی گئی کہ مساجد میں کلاسز کی وجہ سے بچے کہیں انتہا پسندی کی طرف نہ چلے جائیں ۔
سوال:اسلاموفوبیا کو ہم کیسے کاؤنٹر کر سکتے ہیں؟
قیصر احمد راجہ: اصل میں اب فرنٹ فٹ پر جانے کی ضرورت ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ ہم واضح موقف رکھیں اور دنیا کو بتائیں کہ ٹھیک ہے ہمارے ہاں دہشت گردہیں مگر ان کوہم دہشت گرد کہتے ہیںاور ان کے خلاف اقدام بھی کرتے ہیں ۔ جبکہ تمہارے ہاں دہشت گردوں کو منسٹر اور پریذیڈنٹ کہا جاتاہے اور ان سب دہشت گردوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے جنہوں نے لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو افغانستان ، عراق اور فلسطین میں شہید کر دیا ۔ جب آپ اس طرح کا ظلم کرتے ہیں تو بذات خود دہشت گردی کر رہے ہوتے ہیں ۔لہٰذا دفاعی انداز اختیار کرنے کی بجائے اب جارحانہ موقف اپنانا ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پورا یورپ اس وقت لبرل ازم کو شکست دے کر مذہب کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ امریکہ سمیت کئی ملکوں میں دائیں بازو کی مذہبی حکومتیں بن چکی ہیں ۔ ہمارے پڑوس میں بھارت کٹر ہندو ریاست بن چکا ہے تو ہمیں اسلام کی طرف آنے میں کیا مسئلہ ہے؟ معذرت خواہانہ انداز کو ترک کرنےکی ضرورت ہے ورنہ ہم دشمن قوتوں کے ہاتھوں فٹ بال بنے رہیں گے ۔
حامد کمال الدین:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ حکم دیتاہے :
’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، اچھی بات کا حکم دے اور بُرائی سے منع کرے اور یہی لوگ مُراد کو پہنچنے والے ہیں‘‘ (آل عمران :104)
مغرب اگر مسلمانوں کو بدنام کرتاہے تو اس کا جواب دینا ہمارا کام ہے ۔ یہ جنگ ہمیں خود لڑنی ہے ، ہماری حکومتیں یہ جنگ لڑ کر ہمیں نہیں دیں گی ۔ گزشتہ 70 سال میں امت نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے تو حکومتی سطح پر نہیں ہوا بلکہ عوامی اورجماعتی سطح پر ہوا ہے ۔ اسی عمل کو موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔ آج ہمارے پاس میڈیا کا ہتھیار ہے ، ہم اس کو اسلام کی دعوت اور دشمن کے پروپیگنڈا کے جواب کے لیے استعمال کرسکتے ہیں ۔ اس میدان میں معیاری کام کریں جو لوگوں کو متوجہ کرسکے ۔ بدقسمتی سے اس وقت امت کی ترجمانی کرنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے جو دشمن کے بیانیہ کا جواب دے سکے ۔ مغرب کے حکمران دہشت گرد ہیں اور مسلمان مظلوم ہیں مگر اس سچائی کو دنیا میں بتانے والا کوئی نہیںہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے ۔
رضاء الحق:اسلاموفوبیادرحقیقت مغرب کا مسئلہ ہے جبکہ اسلام کی دعوت کو دنیا تک پہنچانااور اسلام کو بحیثیت نظام نافذ کرنا ہمارا کام ہے ۔ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان ، ملائشیا اور ترکی نے مل کر ایک اسلامی چینل بنانے کی کوشش کی ۔ لیکن بعض مسلم حلقوں اور چند عرب ممالک کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی ۔گویا ہم خود کوئی اقدام اُٹھانے کی بجائے دشمن کو موقع دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت کو مار پڑرہی ہے ۔ عربوں کے لیے بھی ’’ویل للعرب‘‘کی بات حدیث میں موجود ہے۔ احادیث میں یہ بھی ذکر موجود ہے کہ جس طرح شروع میں اسلام کا غلبہ ممکن ہوا تھا اسی طریقےپر ہم کوشش کریں گے تو دوبارہ غلبہ ممکن ہوگا ۔ دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے ۔لہٰذا اگر ہم اقامتِ دین کی جدوجہد میں حصہ لیں گے تو اس کااصل مقصد اپنی آخرت کو بچانا ہے۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ فرماتے تھے کہ سب سے پہلے ہم خود اپنی ذات پر اسلام کو نافذ کریں پھر دوسروں کی آخرت بچانے کے لیے انہیں اسلام کی دعوت دیں ، جہاں اختیار ہو وہاں اسلام کا نفاذ کریں ۔ پھر اپنے معاشرے اور ملک میں اسلام کے نفاذ کے لیے اجتماعیت اختیار کریں کیونکہ جماعت کے بغیر دین کا غلبہ ممکن نہیں ہے ۔ جب اپنے ملک پر دین کو غالب کر لیں تو پھر ورلڈ آرڈر کے طور پر اسلام کو لے کر چلیں ۔ پہلے خود ہم حزب اللہ میں شامل ہو جائیں تو پھر حزب الشیطان کے ساتھ جنگ کی بات بھی آئے گی ۔ اس وقت تو ہم خود انہی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جووہ کہتے ہیں اُس کو ہم مانتے ہیں، جو وہ کہتے ہیں ہم کرتے ہیں ، اگر ان کا لبرل آرڈر ہے تو ہم نے بھی لبرل آرڈر اپنایا ہوا ہے۔اگر وہ اجتماعی زندگی ، خاندانی نظام کو ترک کرکے انفرادی زندگی کی طرف جارہے ہیں تو ہم بھی اسی طرف جارہے ہیں ، اگر ان کی حکومت پاپولسٹ ہیں تو ہمارے ہاں بھی ایسی حکومتیں آجاتی ہیں ۔ ہم میں اور اُن میں فرق کیا رہا ؟
tanzeemdigitallibrary.com © 2025