زندگی بھر کا روزہ ، تقویٰ اور ہدایت
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجد جامع القرآن قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے14 مارچ 2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
رمضان کے روزوں کا ایک بڑا مقصد جوقرآن میں بیان ہوا ہے وہ تقویٰ کا حصول ہے تاکہ رمضان کی اس مشق سے انسان ساری زندگی کا روزہ رکھنے (یعنی حلال اختیار کرنے اور حرام کو چھوڑنے )کے قابل ہو جائے۔ لیکن آج ہمارے ہاں المیہ ہے کہ ابھی آدھا رمضان بھی نہیں گزرا کہ مساجد میں نمازیوں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی ہے ، تراویح میں بھی لوگوں کی تعداد کم ہورہی ہے ، ایسے ہی اور بھی بہت سی چیزیں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ رمضان کا تقدس ویسے ہی پامال ہونا شروع ہو گیا ہے ، کرکٹ میچ بھی رمضان میں ہی رکھے گئے ، ہمارے نوجوان اپنی راتیں قرآن کے ساتھ گزارنے کی بجائے راتوں کو کرکٹ کھیل رہے ہیں ۔ انتہایہ کہ اب لڑکیوں کو بھی میدان میں اُتار دیا گیا ہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ! حالانکہ رمضان کے مقدس ماہ میں اللہ تعالیٰ ہمارے لیے جنت کے دروازے کھولتا ہے اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیتا ہےاور ہر رات آسمانِ دنیا سے صدا آتی ہے کہ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا جس کو میں معاف کردوں؟ لیکن ہم بخشش، مغفرت اور رحمت کے اس ماہ کی اس طور پر ناقدری کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور رمضان کی جو راتیں باقی ہیں ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !
زندگی بھر کا روزہ
روزہ صرف ماہ رمضان کا ہی نہیں بلکہ زندگی بھر کا بھی ہے ۔ رمضان کے روزوں کا مقصد اللہ نے قرآن میں بتایا:
’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘( البقرہ: 183)
اللہ کی نافرمانیوں سے بچنا ، اللہ کا خوف دل میں رکھنا ، اللہ کی پکڑ اور عذاب سے ڈرتے رہنا تقویٰ ہے۔ ہم حالت ِروزہ میں اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے حلال چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں ، زوجین کا تعلق حلال ہے لیکن اس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم پوری زندگی میں حرام چیزوں کو چھوڑ دیں ۔ یہ پوری زندگی کا روزہ ہے ۔ اللہ فرماتاہے :
’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جتنا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہے۔‘‘ (آل عمران: 102)
اللہ کے تقویٰ کا حق ادا کرنا آسان نہیں ہے ۔ اس آیت پر صحابہ کرام ؓ بھی پریشان ہوئے ۔ عرض کی یا رسول اللہ ﷺکس کے بس میں ہے کہ وہ اللہ کے تقوی کا حق ادا کر سکے۔ اس کے بعد اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی حد ِامکان تک‘ اور سنو اور اطاعت کرو۔ ‘‘( تغابن :16 )
یعنی اتنا تو گناہوں سے بچو جتنا تمہارے بس میں ہے ۔ اتنی تو محنت کرو کہ اللہ کےحقیقی بندے بن سکو ۔ جو بچہ پانچویں کلاس میںپڑھ رہا ہے ، اس کو معلوم نہیں ہے کہ کل اس نے کہاں تک جانا ہے مگر اس کے باوجود وہ بھی محنت کررہا ہے ۔ اس کے والدین بھی اس پر محنت کر رہے ہیں ، وہ گریڈ10 تک بھی جاتا ہے، ماسٹرز کرتاہے، پی ایچ ڈی کرتا ہے ، جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتاہے ، اس کی صلاحیت بڑھتی ہے ۔ جس فیلڈ میں بندہ محنت کرے، اس میں اس کی صلاحیت بڑھتی جاتی ہے ۔ اسی طرح تقویٰ کی فیلڈ میں بندہ محنت کرے تو اس میں بھی اس کی صلاحیت بڑھتی چلی جائے گی اور اللہ اس کی مدد کرے گا ۔حدیث ِ قدسی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں بھی اس کو ’دل‘ میں یاد کرتا ہوں ،وہ کسی محفل میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر محفل میں اس کا ذکر کرتا ہوں ، وہ بالشت بھر میری طرف آئے تو میں ہاتھ بھر اُس کی طرف آتا ہوں ۔ وہ چل کر میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں ۔یعنی جب ہم اللہ کی طرف بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارا ہاتھ تھام لے گا ۔ فرمایا :
’’اور جو لوگ ہماری راہ میں ِجدوجُہد کریں گے ہم لازماً ان کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف۔‘‘ (العنکبوت:69)
اسی طرح ہم اگر تقویٰ میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا اور ہمارے لیے ہدایت اور صراط مستقیم کے راستے کھول دے گا ۔ جس طرح ہم رمضان کے روزہ میں اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں ، کئی حلال چیزیں چھوڑ دیتے ہیں ، اسی طرح ساری زندگی کے روزے میں ہم حرام چیزوں کو چھوڑنے کی جدوجہد کریں ۔ جیساکہ فرمایا :
’’اے اہل ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جتنا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہے‘اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘ (آل عمران: 102)
اسلام صرف رمضان، پنج وقتہ نماز، جمعہ و عیدین کی نماز تک محدود نہیں ہے بلکہ اسلام کی ضرورت گھر میں بھی ہے ، دفتر میں بھی ہے ، سفر میں بھی ہے ، دکان پر بھی ہے ، سلطنت ، ریاست ، معیشت ، معاشرت ، ہر جگہ پر ہے ۔ پوری زندگی اور زندگی کےہر شعبہ میں اسلام نافذ ہو ۔ جیسا کہ فرمایا :
’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘ ( البقرہ : 208 )
اس پورے کے پورے اسلام پر عمل کرنے کی ایک مشق رمضان کے روزے ہیںکہ روزے میں آپ نے اللہ کے لیے حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دیا اسی طرح پوری زندگی میں حرام چیزوں کو چھوڑ دو ۔ ہر وہ چیز حرام ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺنے حرام قرار دیا ہے ۔ اس کی تفصیل قرآن و حدیث و تفاسیر میں مل جائے گی۔ ممکن ہے جدید دور میں بہت سے ایسے مسائل سامنے آئیں جن کے متعلق قرآن و حدیث میں بظاہر رہنمائی نہ مل سکے تو اللہ نے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا ۔ اس صورت میں دین کا علم رکھنے والے قرآن و حدیث کی روشنی میں اجتہاد کریں گے۔ گویا کہ رمضان پوری زندگی کے روزے کےلیے ایک مشق ہےکہ ہم نے زندگی کے ہر مرحلے پر اور ہر معاملے میں اللہ کی بندگی کا ثبوت دینا ہے ۔
کتنے ہی لوگ ہوتے ہیں جو روزہ رکھ کر کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں ، حلال چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں لیکن حرام کام نہیں چھوڑتے ، سود ، رشوت ، کرپشن نہیں چھوڑتے ، روزہ رکھا ہوا ہے لیکن فلمیں اور ڈرامےدیکھے جارہے ہیں ، ناچ گانا ، بے حیائی اور فحاشی چل رہی ہے ، گالم گلوچ ، وعدہ خلافی ، غیبت ، دکھاوا چل رہا ہے ۔ بہن بیٹی کا حق نہیں دے رہے ۔احادیث مبارکہ کی رو سے ایسے لوگوں کو روزہ کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا ۔ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا: ’’کتنے روزہ دار ایسے ہیں جن کو بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔‘‘(سنن نسائی)
اسی طرح آپﷺ نے فرمایا:’’ جس نے روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولنا اور جھوٹی باتوں پر عمل کرنا ترک نہ کیا، اللہ کو اس شخص کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔‘‘(ابن ماجہ)
اسی طرح اگر زندگی بھر کے روزے میں ہم نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ، قربانی تو کر رہے ہیں ، لیکن ساتھ سود ، شراب ، جوا ، سٹہ ، ناچ گانا ، بے حیائی اور فحاشی سب چل رہا ہے تو ایسا ایمان اللہ کو قبول نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے :
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}( البقرہ : 208 )’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
یہ نہیں کہ دین کی کچھ باتوں پر عمل کرلیا اور باقی کو چھوڑ دیا ۔ ایسا اسلام اللہ کوقبول نہیں ۔ یہ پوری زندگی کے روزے کا اصل تقاضا ہے جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ ہوتا ہے کہ ابھی عید کا چاند نظر بھی نہیں آتا کہ مسجدیں خالی ہو جاتی ہیں ، چاند رات میں عشاء کی نماز میں صفیں خالی ہو جاتی ہیں ، ہوائی فائرنگ اور ہلہ گلہ شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ شیطان کے آزاد ہونے کی خوشی میں جشن منایا جارہا ہو۔ استغفراللہ ۔ رمضان کے دوران جو مشق ہم نے کی ہے، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم تقویٰ حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں اور بُرے کاموں سے باز آجائیں ۔ اس لحاظ سے ہم سب کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ رمضان کی بدولت گناہوں اور اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے حوالےسے ، حرام کو چھوڑنے کے حوالے سے ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی آرہی ہے یا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو توفیق عطا کرے۔
رمضان کا روزہ صبح صادق سے شروع ہو کر غروب آفتاب پر ختم ہوتاہے ۔ زندگی بھر کا روزہ انسان کے بالغ ہونے سے لے کر موت تک ہے ۔ اس پورے عرصہ میں حرام چیزوں سے بچنا ہے ، اللہ کی حدود کو پامال کرنے سے بچنا ہے۔ آج ہمارے حکمران ، سیاستدان، جرنیل، جج اور بیورکریٹ کہتے ہیں فلاں ہماری ریڈ لائن ہے ۔ ہمیں اپنی بنائی ہوئی ریڈ لائنز کا اتنا خیال ہے تو کیا اللہ کی بھی کوئی ریڈ لائنز ہیں یا نہیں ؟ سورہ نوح میں فرمایا :
{مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا(13)}’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کے امیدوار نہیںہو؟‘‘
سورۃ التوبہ میں اللہ فرماتا ہے:
{اَتَخْشَوْنَہُمْ ج فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(13)}(آیت 13) ’’کیا تم ان سے ڈر رہے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی کچھ ریڈ لائنز ہیں ۔ فرمایا :
{تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَاج}(البقرہ:229) ’’یہ اللہ کی حدود ہیں‘ پس ان سے تجاوز مت کرو۔‘‘
یہ پوری زندگی کا روزہ ہے، پوری زندگی اللہ کی حدود کا خیال رکھنا ہے ،اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے ۔ یہ روزہ تب افطار ہوگا جب اللہ کے رسول ﷺکے مبارک ہاتھوں سے جام کوثر نصیب ہوگا اور عید تب ہو گی جب اللہ حجاب ہٹا کر اپنا دیدار کرائے گا اور جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمائے گا ۔
تقویٰ کی برکات
تقویٰ دلوں میں اگر ہو تو یہ عمل میںبھی نظر آئے گا اور اس کی وجہ سے زندگی میں نکھار آئے گا اور زندگی کے کئی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کے رکوع نمبر 28سے 31 تک گھریلو زندگی کے حوالے سے احکامات ہیں جن میں بار بار تقویٰ کی تلقین کی گئی ہے ۔ اگر ہم تقویٰ اختیار کریں گے ، دل میں خدا کا خوف ہوگا ، کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں کریں گے ، کسی کا حق نہیں ماریں گے ، والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں گے ، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے احترام سے پیش آئیں گے تو گھریلو زندگی اور خاندان میں امن اور سکون پیدا ہوگا اور بہتر نتائج حاصل ہوں گے ۔ اسی طرح سورۃ الطلاق کے شروع میں فرمایا :
’’اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا ‘اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔‘‘(آیات:2، 3)
زندگی میں برکات اور رحمتیں دل میں اللہ کا تقویٰ پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہیں جبکہ آج قوم پیروں، فقیروں اور عاملوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے ۔ استغفر اللہ۔ یہ اپنا عقیدہ اور آخرت برباد کرنے والی بات ہے ۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی تمام مشکلات اور مسائل کا حل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ تمام نعمتیں اُسی کی ہیں ۔ فرمایا :
{وَمَنْ یَّـتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ط} (الطلاق:3) ’’اور جو کوئی اللہ پر توکل کرتا ہے تو اس کے لیے وہ کافی ہے۔‘‘
آج ہمارا یقین امریکہ اور چین پر تو ہے مگر اللہ پر نہیں ہے ، اسی وجہ سے ہم دنیا میں ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
آگے فرمایا:
’’اور جو کوئی اللہ کاتقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اُس کے کاموں میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔‘‘(الطلاق:4)
جو جائز کام کسی کے پھنسے ہوئے ہیں ، اللہ ان میں آسانی پیدا فرما دے گا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ :
’’اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا وہ اُس کی برائیوں کو اس سے دُور فرما دے گا‘‘(الطلاق:5)
یعنی گناہوں کو معاف کر دے گااور نیکیوں کا اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔معلوم ہوا کہ تقویٰ کتنی بڑی نعمت ہے جو ہمیں رمضان میں حاصل ہو سکتی ہے ۔ مزید فرمایا:
’’اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر کھول دیتے آسمانوں اور زمین کی برکتیں۔‘‘(الاعراف:96)
آگے فرمایا :
’’لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں۔‘‘(الاعراف:96)
آج انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہم جن مصائب کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے اور ان مصائب سے نکلنے کا حل بھی یہی ہے کہ ہم تقویٰ کی روش اختیار کریں ۔ تقویٰ نہ صرف دنیوی زندگی کے سدھار کے لیے بلکہ اُخروی نجات کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ جنت میں صرف وہی جائے گا جس کے دل میں تقویٰ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے متقی بندوں میں شامل فرمائے اور پوری زندگی کا روزہ رکھنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین !
اسلامو فوبیا کا تدارک
اسلامو فوبیا ایک ایسا تعصب اور عناد ہے جو بلاوجہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کر دیا گیا ہے۔اس کا شکار ہو کر اسلامی شعائر کامذاق اُڑایا جاتاہے ، اللہ کی کتابوں کی توہین کی جاتی ہے ، اللہ کے رسولوں ؊کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں ، مسلم خواتین کے نقاب نوچے جاتے ہیں ، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، مسلمانوں پر قاتلانہ حملے کیے جاتے ہیں اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتاہے ۔ حالانکہ گزشتہ 20 سالوں میں سب سے زیادہ خون مسلمانوں کا بہا ہے لیکن عراق ، افغانستان ، شام ، لیبیا، فلسطین ، کشمیر ، بھارت ، میانمار میںکروڑوں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل ، نیٹو ، بھارت اور برما کو کوئی دہشت گرد نہیں کہتا ۔ اُلٹا دہشت گردی کا الزام مسلمانوں پر لگایا جاتاہے ۔ اسی چیز کا نام اسلامو فوبیا ہے ۔ 2021ء میں عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اُٹھائی اور پھر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے قرارداد پیش کی کہ اسلامو فوبیا کا تدارک ہونا چاہیے اور اس کے لیے عالمی دن مقرر ہونا چاہیے ۔ اس کے نتیجہ میں 15 مارچ کا دن مقرر ہوا ۔ لیکن اس کے بعد بھی فرانسیسی صدر کی سرپرستی میں گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے، سویڈن، ڈنمارک اور ناروے میں قرآن کی توہین کے واقعات ہوئے ، باحجاب مسلم خواتین پر جرمنی میں چاقو سے وار کر کےانہیں زخمی کیا گیا ،
مساجد میں خنزیر چھوڑے گئے ۔ گویا کہ اسلامو فوبیا کا عالمی دن متعین ہونے کے بعد بھی گستاخیوں اور توہین کا سلسلہ بڑھا ہے ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں عالمی اداروں پر انحصار کرنے کی بجائےباطل قوتوں کو خود جواب دینا چاہیے اور مل کر کچھ اقدامات کرنے چاہئیں لیکن مسلم حکمرانوں کی ترجیحات میں شاید یہ شامل نہیں ہے ۔ خالی دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔اگر دن متعین ہوگیا تھا تو مسلم حکمرانوں کو اس کافائدہ اُٹھاتے ہوئے سفارتی سطح پر کوششیں کرنی چاہئیں تھیں ، توہین کے مرتکب ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں تھے ، تجارتی بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا تب جاکر اسلامو فوبیا کا تدارک ممکن ہوتا ۔ سعودی عرب نے ایک دفعہ صرف بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تو ڈنمارک نے معافی مانگ لی تھی ۔ اسی طرح ملائشیا اور ترکی نے تجارتی بائیکاٹ کیا اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ہوئے ۔ بجائے اس کے اگر حکمران بھی صرف مذمتی بیانات تک محدود رہیں تو ان میں اورایک امام مسجد میں کیا فرق ہے ۔ بہرحال ہماری وزارت مذہبی امور نے کہا کہ 15 مارچ کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منائیں گے ۔ اچھی بات ہے ۔ وزارت مذہبی امور نے ایک اور مسئلہ کی جانب بھی توجہ دلائی ہے جوانتہائی سنگین ہے کہ اب گستاخیوں کا سلسلہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہوا ہمارے ملک کے بچوں تک پہنچ چکا ہے ۔ حکومت کو بھی اب ہوش آیا ہے ۔ فحش مواد پھیلایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے توہین مذہب اور توہین رسالت کا ارتکاب کیا جاتاہے ۔ آج بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے ، لوگ دانستہ یاغیر دانستہ اس شیطانی سازش کا شکار ہورہے ہیں ۔ محرم اور نامحرم کی تمیز بھی ختم ہوگئی ، گھر کے اندر فحش ویڈیوز بن رہی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث ہے جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو(بخاری) ۔ یعنی پھر بے حمیتی اور بے حیائی کی کوئی انتہا نہیں رہتی ۔ سینکڑوں مجرم پکڑے جاچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ملوث ہیں ۔
والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ ضرورت سے زیادہ استعمال کے لیے انہیں انٹرنیٹ فراہم نہ کریں ۔ اگر ضروری ہوتو ان کی نگرانی کا بھی انتظام کریں تاکہ وہ ان شیطانی سازشوں کا شکار نہ ہونے پائیں ۔حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کچھ ایسی پابندیاں لگائے تاکہ فحش مواد تک رسائی کو روکا جا سکے ۔
اب یہ سمجھ بھی ہم لوگوں کو آجانی چاہیے کہ جو تعلیم ہم اپنے بچوں کو کالجوں ، یونیورسٹیوں اور سکولوں میں دے رہے ہیں اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں ۔ لہٰذا کوشش کریں کہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام ہو جائے ۔ ورنہ حیا گئی تو سب کچھ چلا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور حکمرانوں سمیت سب کو ہدایت دے ۔ آمین !