(زمانہ گواہ ہے) ’’دہشت گردی کا خاتمہ کیسے؟ ‘‘ - آصف حمید

10 /

پاکستان نے کلبھوشن یادیوکے معاملے کو دنیا کے سامنے اس طرح

پیش نہیں کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا، اس سے بھارت کو پاکستان

میں دہشت گردی کرنے کا مزید حوصلہ ملا : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

بلوچستان میں دہشت گردی پاکستان کے خلاف گریٹ گیم کا حصہ ہے

جس میں بعض عالمی طاقتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی

ہیں : ڈاکٹر محمد عارف صدیقی

’’دہشت گردی کا خاتمہ کیسے؟ ‘‘

پروگرام ’’ زمانہ گواہ ہے ‘‘ میں معروف تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا اظہار خیال

میز بان : آصف حمید

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:بلوچستان میں ٹرین کو روک کر ساڑھے تین سو افراد یرغمال بنانے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے ۔ BLA کی پشت پناہی کون کررہا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں ؟
فرید احمد پراچہ:یہ اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے کیونکہ ٹرین کو اغوا کرنا آسان نہیں ہوتا ۔ دنیا میں ایسے چند ہی واقعات ہوئے ہیں ۔ تاہم یہ اللہ کا شکر ہے کہ اغوا کار اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور یرغمال کیے گئے لوگ باحفاظت رہا کروا لیے گئے ۔ BLA کے مقاصد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور ان کے پشت پناہ بھی واضح ہیں ۔ کلبھوشن یادیو کو 10 سال ہوگئے پاکستان کی قیدمیں ہے۔ وہ بھارت کا کرنل لیول کا حاضر سروس آفیسر ہے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد شاید ہی اس لیول کا حاضر سروس جاسوس گرفتار ہوا ہو ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان میں دشمن قوتوں کا کتنا بڑا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے ۔ اگر بھارت کے اندر پاکستان کا اتنا بڑا نیٹ ورک پکڑا جاتا تو بھارت نے پوری دنیا میں اس معاملے کو اُٹھانا تھا اور پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر سفارتی جنگ شروع کرنی تھی۔ لیکن پاکستان نے کلبھوشن کے معاملے کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش نہیں کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا ۔ بھارت کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے پروپیگنڈا کے جواب میں ہم اس چیز کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتے تھےاور بھارتی عزائم کو کھل کر بے نقاب کر سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے بھارت کو مزید کھل کھیلنے کا موقع مل گیا اور اُس کا نیٹ ورک مزید مضبوط ہوگیا ۔ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ BLAکو مضبوط ہونے کا موقع کیوں دیا گیا ؟حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس بھارتی نیٹ ورک کا مقصد پاکستان کو توڑنا ہے ۔ درحقیقت یہ ایک عالمی جنگ ہے جس میں چین کے انجینئرز کو بھی اغوا اور قتل کیا جاتاہے کیونکہ امریکہ اور بھارت جیسی قوتیں چین کے خلاف ہیں اور سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں کیونکہ سی پیک کا تعلق پاکستان کی معیشت سے بھی ہے ۔
سوال:جماعت اسلامی کے ایک نمایاں کارکن مولانا ہدایت الرحمٰن نے بھی بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی تھی ۔ کیا وہ کوئی الگ معاملہ ہے ؟
فرید احمد پراچہ:مولانا ہدایت الرحمٰن گوادر کے ماہی گیروں کے حقوق کے لیے آوازا ُٹھا رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور چین کی لڑائی الگ چیز ہے اس میں بے چارے گوادر کے ماہی گیروں کا کیا قصور ہے ؟ان کی تو زمین بھی چھن گئی ،روزگار چھن گیا ۔ انہیں اپنا رزق کمانے سے بھی روکا جارہا ہے ، چیک پوسٹوں پر ان کی تذلیل کی جاتی ہے ۔ مولانا ہدایت الرحمٰن یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا فریق چائنہ نہیں ہے بلکہ ہمارا فریق وہی استحصالی طبقہ ہے جو ہمارے ماہی گیروں کا استحصال کر رہاہے ۔
سوال:کیاBLA کا صرف ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی ہونی چاہیے یا اس کے علاوہ بھی کچھ مقاصد ہیں؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:بظاہر تو یہ علیحدگی کی تحریک ہے لیکن حقیقت میں یہ اینٹی پاکستان تحریک ہے کیونکہ اس میں امریکہ کے علاوہ بھارت اور ایران بھی ملوث ہیں ۔ آپ اندازہ کریں کہ مفتی شاہ امیر جنہوں نے بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو پکڑوایاتھا ان کو BLA نے شہید کردیا ۔ یہ کس کے مفادات کا تحفظ ہورہا ہے ؟ BLAکے پیچھے را بھی ہے ، سی آئی اےبھی ہے اور دیگر غیر ملکی ایجنسیاں بھی ہیں ۔ چینی مفادات پر حملے کا بلوچستان کی علیحدگی سےکیا تعلق ہے ؟دراصل یہ ساری بیرونی قوتیں ایک تو سی پیک کو ناکام بنانا چاہتی ہیں اور دوسرا وہ پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک باور کرانا چاہتی ہیں ۔ اکثر قوم پرست بلوچ جو BLA کے ممبرز بھی ہیں کہتے ہیں کہ گوادر کے وسائل کی وجہ سے ہم پر ظلم ہو رہا ہے ، پنجاب ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ گوادر کبھی بلوچستان کا حصہ تھا ہی نہیں ۔ اسے عمان سے وفاق نے پیسے دے کر خریدا تھا اور پیسےپاکستانی عوام کے ٹیکس کے تھے لہٰذا گوادر پاکستان کے عوام کی ملکیت ہے ۔ اگر یہ بلوچوں کے حقوق کی بات ہوتی ، مسنگ پرسنز کی بات ہوتی تو پھر BLA، ماہ رنگ بلوچ یا منظور پشتین ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ۔ کیا انہوں نے کبھی ان دہشت گردوں کی مذمت کی ہے جو بسوں سے اُتار کر لوگوں کو گولی مار دیتے ہیں۔ حالانکہ جب ماہ رنگ بلوچ اسلام آباد میں مسنگ پرسنز کے حوالے سے احتجاج کی قیادت کر رہی تھی تو اس وقت سب سے زیادہ پنجابی اس کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔ آج جب دہشت گردوں کے حملے میں ہمارے بچے یتیم ہوتے ہیں ، عورتیں بیوہ ہوتی ہیں تو ماہ رنگ بلوچ دیدہ دلیری سے کہتی ہے کہ میں کیوں مذمت کروں چاہے کوئی مرے ۔ اتنا بے حس تو دشمن بھی نہیں ہوتا ۔ بنیادی طور پر یہ ساری دہشت گردی پاکستان کے خلاف گریٹ گیم کا حصہ ہے کیونکہ ایک تو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور پھر سی پیک کی وجہ سے بھی دشمنوں کے اپنے عزائم ہیں ۔ پھر گوادر کا پاکستان کی معیشت سے بھی گہرا تعلق ہے ۔ اس لیے وہ BLA اور دوسری تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔
سوال:ایک بیانیہ تیار کیا جارہا ہے کہ BLA کو ساری پشت پناہی افغانستان سے مل رہی ہے ۔ اس میں کتنی سچائی ہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:یہ ادھورا سچ ہے ۔ پورا سچ یہ ہے کہ اس میں ایران بھی ملوث ہے ، امریکہ اور بھارت بھی ملوث ہیں ۔ آپ ان کا نام کیوں نہیں لیتے ؟ کلبھوشن یادیو بلوچستان میں کہاں سے داخل ہوتا تھا؟ افغانستان کا معاملہTTP کی وجہ سے بہت زیادہ گھمبیر ہے ۔ نائن الیون کے بعد جب افغانستان پر امریکہ کا قبضہ تھا تو بھارت نے وہاں باقاعدہ دہشت گردی کے لیے انوسٹمنٹ کی تھی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دونوں ممالک میں خلیج پیدا ہورہی ہے ۔ البتہ بلوچستان کے معاملے میں ایران زیادہ ملوث ہے ۔ اسی راستے سے زینبیون اور فاطمیون جاکر شام میں لڑتے رہے اور پھر واپس آکر ان کےپاس کرنے کو کچھ نہیں ہے لہٰذا وہ آلہ کار بنتے ہیں ۔
سوال: نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا اور پرویز مشرف نے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ، ڈرون حملے کروائے ۔ کیا یہ سب اسی کا ردعمل ہے اور کیا اس میں ہمارا اپنا قصور نہیں ہے ؟
فرید احمد پراچہ:بالکل بے وفائیاں دو طرفہ ہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے سفیر کو پکڑ کر پاکستان نے امریکہ کے حوالے کیا جوکہ سفارتی آداب کے بھی خلاف تھا ۔ پھر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں اس بات پر فخر کیا کہ ہم نے ڈالروں کے عوض پکڑ پکڑ کر لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا ۔ پھر عافیہ صدیقی تو پاکستان کی بیٹی تھی اس کو کس جرم میں امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔یہ سب سوالات تاریخ میں محفوظ ہیں اور اُٹھتے رہیں گے ۔ لہٰذا ہمیں اپنی غلطیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
سوال: پاکستان کے دو صوبے اس وقت بہت زیادہ بدامنی کا شکار ہیں ۔خیبر پختونخوا میںTTP اور بلوچستان میں BLA سب سے زیادہ متحرک ہیں ۔ کیا ان دونوں کا آپس میں کوئی گٹھ جوڑ ہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:خیبر پختوانخوا پر افغانستان اثرانداز ہو سکتا ہے اور بلوچستان پر ایران سب سے زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے ان دونوں پڑوسی ممالک کو عالمی قوتیں پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں ۔ افغانستان سے دہشت گردی کے پیچھے بھی بھارت ملوث رہا ہے ، اسی طرح ایران کے راستے بلوچستان میں کلبھوشن کا نیٹ ورک پھیلا ۔ لہٰذا دونوں کا آپس میں تعلق ہے ۔ اسی طرح فرقہ واریت کی وجہ سے لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے ، گاؤں کے گاؤں نیست و نابود کیے جارہے ہیں ، مساجد مسمار کی جارہی ہیں۔ یہ ساری فرقہ واریت اور دہشت گردی پاکستان کے دشمنوں کی وجہ سے ہے اور اس کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔
سوال: مولانا حامد الحق سمیت کئی علماء کو چند ہفتوں میں شہید کر دیا گیا ہے ۔ ان کا کیا قصور تھااور ان کو شہید کرنے والے کون لوگ ہیں ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:مولانا حامد الحق سمیت جن علماء کو شہید کیا گیا وہ دراصل پاکستان کے حق میں تھے ۔ جو بندہ بھی پاکستان کے حق میں ہوگا وہ دشمن کے خلاف ہوگا ، وہ انڈیا ، امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتوں کے عزائم کے راستے میں رکاوٹ ہوگا ۔ لہٰذا اس رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے کے لیے ان لوگوں کو شہید کیا جارہا ہے ۔
سوال: جہاد کشمیر میں جن حضرات نے کردار ادا کیااُن کے متعلق بھی پچھلے کچھ عرصہ سے خبریں آرہی ہیں کہ فلاں کو شہید کر دیا گیا ، فلاں کو شہید کر دیا گیا اور شہید کرنے کا طریقہ بھی ملتا جلتا تھا ۔ آپ کو کیا نظر آرہا ہے ؟
فرید احمد پراچہ:اس وقت جو دہشت گردی کی لہر ہے اس کی آڑ میں را کے ایجنٹ بھی اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اُن کو بھی اپنے اہداف حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ ان حالات میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ریاست اور ریاستی اداروں پر بھی اُٹھ رہا ہے کہ یہ اتنے کمزور کیوں ہو گئے ہیں کہ دشمن کو سب موقع مل رہا ہے ۔ یہ سوالیہ نشان اس وقت تک رہے گا جب تک کہ ان واقعات پر سختی سے قابو نہیں پالیا جاتا۔
سوال: مسنگ پرسنزکا کیس حل کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ کیا مسنگ پرسنز کی وجہ سے دہشت گردوں کو تائید نہیں مل رہی؟اس عنصر کو کیسے ختم کیا جاسکتاہے ؟
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی: بنیادی بات یہ ہے کہ مسنگ پرسنز یا ماورائے عدالت قتل یا ماورائے عدالت اغواکسی بھی صورت ریاست کے مفاد میں نہیں ہے ۔ اس پر پارلیمنٹ میں بھی آواز اُٹھائی جاتی ہے ، میڈیا پر بھی اس حوالے سے مہم چلائی گئی ، بہت سی تنظیمیں آئینی حدود میں رہتے ہوئے اس پر آواز اُٹھا رہی ہیں جیسا کہ آمنہ جنجوعہ صاحبہ کی تنظیم ہے ۔ کچھ مسنگ پرسنز مل بھی گئے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دہشت گرد مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو ان میں چند وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کو مسنگ پرسنز بتایاجاتا ہے ۔ البتہ بعض  ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اُٹھا لیے گئے ، پتہ نہیں کس نے اُٹھا یا ، چاہے کسی دوسرے ادارے نے اُٹھا کر ذمہ داری ریاستی اداروں پر ڈال دی ۔ بہرحال شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے اور ریاست اس کے لیے جوابدہ بھی ہے۔ لہٰذا ریاست کو مسنگ پرسنز کا مسئلہ حل کرنا چاہیے ۔
سوال:خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جو بدامنی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اس کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتاہے، کیا کیا اقدامات ضروری ہیں ؟
فرید احمد پراچہ: سیاسی معاملات سیاسی سطح پر حل ہوں گے جبکہ دہشت گردی کو ریاستی طاقت کے ذریعے ختم کیا جاسکتاہے ۔ دہشت گردوں کے حوالے سے قرآن میں ایک اصول بیان ہوا ہے :
’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺسے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دےدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یاجلاوطن کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘(المائدہ:33)
اس اصول کے تحت دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے اور اس ایکشن میں تسلسل ہونا چاہیے۔ ادھورا ایکشن دشمن کو زیادہ مضبوط کرتاہے ۔ ہمیں ترکی کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے جہاں ایک مستقل پالیسی کے تحت بغاوتوں پر قابو پایا گیا اور اس پورے عمل میں ترکی کے عوام بھی حکومت کے ساتھ تھے ۔ البتہ یہاں حکومت کو عوام کی تائید حاصل نہیں ہے کیونکہ یہاں عوام کو آئیسولیشن کی سی صورتحال کا سامنا ہے ۔ پھر یہ کہ ترکی نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑی مہارت کے ساتھ کیا ہے ۔ پھر ترکی میں کرد باغیوں کے ہتھیار ڈالنے میں کرد سیاستدانوں نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ یہاں بھی سیاستدان اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وہاں کی انٹیلی جنس نے سیاسی قیادت کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ۔ یہاں کامیابی کے حصول کے لیے انٹیلی جنس اور سیاسی قیادت میں ہم آہنگی بہت ضروری ہے ۔ پھر یہ کہ ان لوگوں کے خلاف بھی آپریشن کیا جائے جو امریکہ یا دیگر بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کر چائنہ کے خلاف استعمال ہورہے ہیں یا امن مشن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے سے ہو ۔ خاص طور پر مقامی آبادی کی تذلیل نہ کی جائے کیونکہ جب تک مقامی آبادی کی تائید آپ کو حاصل نہ ہو آپ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اب جو چیک پوسٹوں پرباپردہ عورتوں سے کہا جاتاہے کہ برقعہ اُٹھاؤ ، یہ انتہائی غلط عمل ہے ۔ اگر آپ کو ایسا کرناہی ہے تو لیڈیز پولیس رکھیں۔اس طرح آبادی کی اگر آپ تذلیل کریں گے تو پھر امن قائم نہیں ہوسکےگا۔ اسی طرح   ڈیٹھ سکواڈ اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:آپ کو یاد ہوگا کہ EU ڈس انفو لیبز نے انڈین کرونیکلز کو بے نقاب کیا تھا۔ ایران ہو، افغانستان ہو یا انڈیا ہو ہمیں ان کی سازشوں کو ایسے ہی کھل کر لوگوں کے سامنے لانا چاہیے۔ (2) سفارتی محاذ پر ہماری جنگ دفاعی پوزیشن پر ہے جبکہ ہمیں سفارتی محاذ پر جارحانہ رویہ اپنا ناچاہیے اور جو ملک بھی مداخلت کررہا ہے اس کو ثبوتوں کےساتھ پوری دنیا میں بے نقاب کرنا چاہیے ۔ (3)۔ سیکرٹ ایجنسیز کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کو روکا جائے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو توڑا جائے۔ (4)۔ بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے، انہیںتعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ان کی تالیف قلوب کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔اس حوالے سے سپیشل فنڈنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا جاسکتا ہے۔ (5)۔ وہاں کے قبائلی جرگہ کو اعتماد میں لیا جائے کیونکہ وہاں کے لوگ جرگہ کی بات مانتے ہیں۔ (6)۔ بھارت کسی دوسرے محاذ پر انگیج کیا جائے، جب وہ لداخ میں انگیج کیا تھا تو آپ محفوظ تھے ۔ جیسی ہی بھارت کو فرصت ملتی ہے وہ پاکستان میں مداخلت کرنے لگ جاتاہے ۔ (7)۔قومی بیانیہ کواستحکام دینے کے لیے میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں میڈیا کو ریاست اور ریاستی اداروں پر بےباک تنقید کی کھلی اجازت دی ہوئی ہے ۔ (8)۔ فارن انویسٹرزکو قومی مفاد سے بالاتر ہو کر کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے ۔ (9)۔ دہشت گردوں کا میڈیا ٹرائل کیا جائے۔ جیسا کہ ترکی نے کیا ۔ دہشت گردوں کو پکڑ کر ان کے سارے کرتوت سوشل میڈیا کے ذریعے بے نقاب کیے گئے کہ وہ کیا کیا کرتے ہیں ۔ (10) ۔ اے آئی اور سکیورٹی فورسز کی مدد سے آپ غیر قانونی مداخلت کو 90 فیصد تک روک سکتے ہیں کیونکہ آج سیٹلائٹ سسٹم اور گوگل کے ذریعےآپ کو قدم قدم پر پتہ چل جاتاہے کہ کون کہاںہے ؟اسی طرح  بائیومیٹرکس، سکینرز ،ڈیٹا کلیکشن، یہ ساری چیزیں آپ کی مدد کریں گی ۔ (11) ۔ جب تک آپ مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے آپ گوریلا وار کو ختم نہیں کر سکتے۔ (12)۔ ملٹری سویلین کارپوریشن جب تک نہیں ہوگا اس وقت تک امیج بلڈنگ ممکن نہیں ۔ (13)۔ آپریشن صرف قومی مفاد میں ہونا چاہیے ۔ آپریشن کی آڑ میں ذاتی ، سیاسی یا مسلکی بھڑاس نہ نکالی جائے۔ (14)۔ ریاستی ادارے بالکل غیر جانبدار ہو کر کام کریں ۔ اگر ان کے اپنے اہلکار پر جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے بھی لٹکایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد حاصل ہو ۔
سوال: عوام کے دل جیتنے کے لیے ہمارے مقتدر طبقات کو کیااقدامات کرنے چاہئیں ؟
فرید احمد پراچہ:1965ء کی جنگ میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ پاکستانی قوم فوج کے لیے جان نچھاور کرنے والی قوم ہے لیکن جب سے فوج سیاست میں ملوث ہوئی ہے تب سے عوام کی محبت کھو چکی ہے ۔ لہٰذا فوج کو اپنے عسکری کردار پر توجہ دینی چاہیے اورسیاسی کردار کو کم کرنا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل ہو سکے ۔ یہ فیصلہ فوج نے خود کرنا ہے ۔ اعلانیہ کہہ دیا جائے کہ 2018ء اور 2024ء کے انتخابات میں جو بھی ہوا ہے غلط ہوا ہے ۔ یہ کہنے کے لیے حوصلہ چاہیے لیکن یہ کہنے سے قوم کو بھی حوصلہ ملے گا ۔ اس کے بعد بہت سی چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی ۔ فوج آج بھی قربانیاں پیش کر رہی ہے ، فوجی جوان آج بھی اپنا لہو وطن پر قربان کر رہے ہیں مگر اس لہو کو عوام کی طرف سے خراج تحسین نہیں مل رہا ۔ اس میں سپاہی کا کیا قصور ہے جس نے اپنے وطن کی سرحدوںکی حفاظت کے لیے اپنی جان دی ۔ اس بات پر خود فوج کو غور کرنا ہے کہ عوام کیسے اس کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔
ڈاکٹر محمد عارف صدیقی:کسی بھی معاملے میںمعذرت یا معافی کے چار مراحل ہوتے ہیں ۔ (1) اپنی غلطی مان لینا ، (2)اپنے کیے پر پچھتانا ،(3) یہ وعدہ کرنا کہ آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور (4)جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے ان سے رائے لی جائے کہ اس ظلم کا ازالہ کیسے ہوگا۔ جب ہم قومی سطح پر ، اداروں کی سطح پر ان چار مراحل سے گزریں گے تو ان شاء اللہ ہم دوبارہ متحد قوم بن جائیں گے ۔