اداریہ
رضاء الحق
کشمیر مقبوضہ ہو نہ فلسطین، وہ دن بھی آئے !
کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پہلی بار1931ءمیں کشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کا دن پورے ہندوستان میں منایا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے خلاف اُٹھنے والی سیاسی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں 21 کشمیری شہید کر دئیے گئے۔مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کی جانب سے اس بہیمانہ واقعہ کے ردِ عمل میں علامہ اقبال نے 14 اگست 1931ءکو ہندوستان بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی کال دی۔یہ بھی حسنِ اتفاق تھا کہ ٹھیک 16سال بعد اِسی دن پاکستان قائم ہوا۔14 اگست 1931ءکے سانحہ کے بعد اکتوبر1931ء میں پورے پنجاب میں’’ چلو چلو کشمیر چلو‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں۔حقیقت یہ ہے کہ اِن واقعات کے بعد مسلمانوں میں اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کا جذبہ شدومد سے پیدا ہواجو کہ آج بھی زندہ ہے۔
3 جون 1947ء کو جب تقسیم ہند کا فارمولا منظور ہوا تو ریاستِ جموں و کشمیر کی تقریباً 80فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ اِس کی 600میل لمبی سرحدپاکستان سے ملتی تھی۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی اور بیرونی دنیا کے ساتھ ڈاک اور تار کا نظام بھی پاکستان سے جُڑا ہوا تھا۔ ریاست کی دونوں پختہ سڑکیں راولپنڈی اور سیالکوٹ سے گزرتی تھیں۔ اِن سب حقائق کے پیش نظر ریاست جموں و کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق لازمی طور پر ایک قدرتی اور منطقی فیصلہ ہونا چاہیے تھا، لیکن مہا راجہ ہری سنگھ اور کانگریسی لیڈروں کے عزائم اِس فیصلہ کے بالکل برعکس تھے۔ اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُنہوں نے لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر سازش کا جال بُنا، جس کے پھندے میں مقبوضہ کشمیرکےبے بس اور مظلوم مسلمان آج تک بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعدسکھوں نے جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا۔جموں میں کشمیری مسلمانوںکےقتلِ عام کے بعد مہاراجہ کو پونچھ کی سوجھی۔ پونچھ میں تقریباً 95 فیصد مسلمان تھے جن میں بہت سے ریٹائرڈ فوجی بھی تھے۔ جب ان تک جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کی اطلاع پہنچی تو یہ فوراً دشمن سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ سر پر کفن باندھ کر ڈوگرہ فوج سےجنگ کے لیے نکل پڑے۔ چنانچہ راولاکوٹ، وادیٔ جہلم اور بہت سے علاقوں سے ڈوگرہ فوج فرار ہو گئی۔کشمیر یوں کی رشتہ داریاں افغانوں اور پٹھانوں کے محسود اور دیگر قبائل سے بھی تھیں۔ عورتیں اور بچے جب وہاں پہنچے تو اُن پر ظلم کی داستانیں سن کراُن کا خون کھول اُٹھا۔ چنانچہ ان علاقوں سے لشکروںکے لشکر کشمیر کی طرف روانہ ہوئے اور چند ہی دنوں میںمظفر آباد، کوٹلی، راولاکوٹ، نیلم، باغ اور میر پور وغیرہ کو نہ صرف ڈوگرہ بلکہ ہندوستانی فوج سے بھی آزاد کروا لیا گیا۔ مہاراجہ بھارت فرار ہوگیا اور بھارت سے مدد مانگ لی۔ بھارت نے اس شرط پر مدد فراہم کی کہ وہ بھارت سے الحاق کی دستاویزات پر دستخط کر ے۔ مہاراجہ نے فوراً حامی بھر لی۔ چنانچہ بھارتی فوجیں بھی سرینگر اور وادی کے دیگر حصوں میں پہنچنا شروع ہو گئیں ۔ یوں ریاست کا جو حصہ مجاہدین نے آزاد کروا لیا تھا وہ آزاد کشمیر کہلایا جبکہ باقی ماندہ کشمیر پر بھارت نے اپنا غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ اِسی دور ان پنڈت جواہرلعل نہرو کی سرکردگی میںبھارت نے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کی کہ کشمیر کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے اور انہیں حقِ خودارادیت دیا جائے۔ 15اگست 1948ء کو اقوام متحدہ میں قرار دادِ حق ِخود ارادیت منظور کی گئی، لیکن بھارت آج تک اِس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے اور مسلسل عذر تراشیوں بلکہ ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہے۔
اِس دوران پاکستان سے دو ہمالائی غلطیاں ہوئیں۔ ایک تو شملہ معاہدہ کرکے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سے دو ممالک کے مابین باہمی تنازعہ میں بدل ڈالا اور اس کے بعد جب بھی کشمیر میں استصواب رائے کے حوالے سے بات کی گئی تو بھارت نے یہی جواب دیا کہ اب یہ بین الاقوامی نہیں دو ممالک کا باہمی تنازعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ صدر ضیاء الحق کے دورِحکومت میں خفیہ انداز میں مقبوضہ کشمیر میں کچھ جہادی گروہوں کو بھیجا گیا۔ یہ معاملہ بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا کہ بھارت کو کُھل کر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ کھڑا کرنے کا موقع مل گیا۔ خلوصِ نیت کے باوجود مقبوضہ کشمیر تو آزاد نہ ہو سکا لیکن مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ ضرور کمزور ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ درپردہ اقدامات کی بجائے حکومت و افواجِ پاکستان کُھل کر کشمیر میں جہاد کا اعلان کرتے۔ مگر اِن تلوں میں تیل کہاں!
بہرحال تحریکِ آزادی مقبوصہ کشمیر کو نئی جہت اُس وقت ملی جب کشمیریوں کے مقبول مجاہدبرہان مظفروانی کو 2017ء میں بھارتی فوج نے شہید کر دیا ۔ اس کے بعد تحریکِ آزادی میں نیا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا ۔ بھارت کے لیے اب اس تحریک کو دبانا مشکل ہو گیا، لہٰذاا س نے 5اگست 2019ء کو آئین میں ترمیم کرکے آرٹیکل 370اور 35-Aکو ختم کر دیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ایک خود مختار ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور آئین کی یہ شقیں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے روک رہی تھیں ۔ خاص طور پربھارتی آئین کا آرٹیکل 370 واضح کرتاتھا کہ ریاست کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے قوانین کے اطلاق میں متفق ہونا چاہیے، سوائے ان کے جو مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق ہوں۔ مرکزی حکومت ریاست کے نظم و نسق کے کسی دوسرے شعبے میں مداخلت کرنے کے اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتی۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف اس خطرناک سازش پر اسلامی دُنیا تو گہری نیند سوئی رہی اور خود پاکستان بھی کچھ عرصہ شور مچا کر گزشتہ چھ (6) برس سے خاموش بیٹھا ہے۔ اس سال بھی حسبِ سابق حکومتِ پاکستان، اسٹیبلشمنٹ اور عوام نے 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا۔ اسلام آباد میں منعقدہ بھارت کے 76 ویں یومِ جمہوریہ کی تقریب میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی حاضری بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ البتہ کسی بھی سیاسی جماعت کے چھوٹے بڑے کسی رہنما کی اِس تقریب میں شرکت نہ کرنا قابلِ تحسین ہے۔ اُس روز مذمتی بیانات بھی دئیے گئے، احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں، مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت بھی کی گئی، لیکن عملی اقدام ندارد۔
مقبوضہ کشمیر کی اِس تاریخ کو رقم کرنے کا مقصد معاملے کا سیاق و سباق پیش کرنا تھا۔ ہمارامقصود محض تاریخ کے حوالے سے تفصیلات درج کرنانہیں بلکہ ہنودویہود (اس میں امریکہ اور مغربی یورپ کے اکثر ممالک کو بھی شامل کر لیں) کے گٹھ جوڑ سےآئندہ کے ممکنہ خدشات اوراُمتِ مسلمہ کے سر پر منڈلاتے خطرات کا تجزیہ ہے ۔ غزہ ، لبنان اور اب شام میں مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کی مسلسل درندگی نے صورت حال کو ایک نیا اور انتہائی خطرناک رُخ دے دیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے لیے کانگریس کے آخری دورِحکومت میں بالخصوص اسرائیل کا تعاون حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ لیکن مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت میں مسلمانوں کی سلسلہ وار نسل کُشی کے لیے جو اقدامات مودی نے اپنے گزشتہ دونوں ادوارِ حکومت میں کیے اُن کی مثال نہیں ملتی ۔گزشتہ کئی سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو بھارت سے لاکر بسایا جارہا ہےتاکہ آبادی کا تناسب بدلا جا سکے۔ گویا صہیونی آبادکاریوں کی پالیسی کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری کا کام جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود و ہنود کا یہ گٹھ جوڑ مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر دونوں میں مسلمانوں کی نسل کُشی پر کمر بستہ ہے اور اسے امریکہ اور مغربی یورپ کے اکثر ممالک کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ بھارتی اخبارات کی اپنی رپورٹس کے مطابق 7اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ پر اسرائیلی بمباری میں نہ صرف بھارتی فوجیوں نےباقاعدہ حصّہ لیا بلکہ بھارتی اسلحہ، بارود اور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی تقریر میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کیا اور اسے X (سابق ٹوئٹر)پر بھی شیئر کیاجو یہودیوں کا دیرینہ خواب ہے ۔ ہندوؤں کے ہاں بھی گریٹر انڈیا (اکھنڈ بھارت) کا خواب ہے اور اپنے ان توسیع پسندانہ عزائم کو انڈین پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں دیوار پر لگے نقشے کے ذریعے واضح کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال کو انڈیا کے اندر ضم کر کے دکھایا گیا ہے۔گویا دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم اورمسلم کُش پالیسیاں ظاہرو باہر ہیں۔ یہود وہنود کے مشترکہ دشمن پاکستان کے بارے میں اسرائیل کے پہلے وزیراعظم بن گوریان نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد کہا تھا کہ پاکستان ہی اسرائیل کا اصل اور نظریاتی حریف ہے۔ لہٰذا بھارت سے دوستی اسرائیل کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس کے بعد بھارت اور اسرائیل کے تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔
آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری کلام قرآن مجید میں مسلمانوں کو اس ابلیسی گٹھ جوڑ سے 14 صدیاں قبل ہی خبردار کر دیا گیا تھا: {لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج} (المائدہ: 82) (ترجمہ):’’تم لازماً پاؤ گے اہلِ ایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور اُن کو جو مشرک ہیں ۔‘‘
بھارت اور اسرائیل دونوں کا نشانہ پاکستان ہے اور اس میں خاص طور پر پاکستان کے ایٹمی دانت توڑنا اُن کی ترجیح اوّل ہے۔
اِن حالات میں ہمارا حکومتِ پاکستان کو مشورہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ، تجارتی معاہدات اور ہر طرح کے روابط ختم کرنے کا اعلان کرے۔ شملہ معاہدہ اور اس جیسے تمام سیاسی سفارتی معاہدات بھارت کے منہ پر دے مارے۔ اپنی فضائی حدود اور زمینی راہداری کو بھارت کے لیے مکمل طور پر بند کردیا جائے۔ افواج ِ پاکستان جن کا اصولِ عمل ہی ’’ایمان،تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے، وہ جنگ کی تیاری کریں ۔ مزید براںاسرائیل کی طرز پر پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دینے کااہتمام کیا جائے۔ امریکی مفادات سے گلو خلاصی حاصل کی جائے اور سودی قرضوں سے جان چھڑائی جائے۔ اس وقت پاکستان اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، لہٰذا اس فورم کومقبوضہ کشمیر اور مقبوضہ فلسطین کے حوالے سے بھرپور آواز اُٹھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔مشرقِ وسطیٰ اور اس خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظرپاکستان کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو قرآن وسنت کے تابع کرے اور اُن احادیثِ مبارکہ جن میں اِس خطے کی مستقبل میں خصوصی اہمیت کا ذکر ہے اس کے لیے عملی تیاری کی جائے۔یہی وہ طریقہ ہے جس سے پاکستان کی شہ رگ پنجۂ ہنود سے آزاد ہو سکتی ہے، مسجدِاقصیٰ کی حفاظت ممکن ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنایا جائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی سلامتی اور بقاء کی ضمانت مل سکتی ہے بلکہ ایک ایسا مستحکم اور مضبوط پاکستان وجود میں آسکتا ہے جو مستقبل میں معرکہ حق و باطل میں خراسان کے اُس لشکر کا حصّہ بنے گا جو حضرت مہدی کی بھی نصرت کرے گا اور حضرت مسیح d کی فوج کا حصّہ بن کر یروشلم میں بھی اسلام کا جھنڈا گاڑےگا۔ پھر نہ کشمیر مقبوضہ رہے گا اور نہ فلسطین۔ ان شاء اللہ!
tanzeemdigitallibrary.com © 2025