(منبرو محراب) اُخروی کامیابی کے لیے مطلوبہ صفات - ابو ابراہیم

10 /

اُخروی کامیابی کے لیے مطلوبہ صفات

(قرآن و حدیث کی روشنی میں )

مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی ڈیفنس کراچی  میں امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ  کے24جنوری 2024ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص

خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
قرآن حکیم میں جا بجا اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی صفات کا ذکر فرماتا ہے اور اُن بُرے اعمال کا ذکر بھی فرماتا ہے جو جہنم میں لے جانے والے ہیں ۔ دین کا یہ پوراتصور ہمارے سامنے رہنا چاہیے ۔ ہمارے علم میں ہونا چاہیے کہ کن باتوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتاہے اور کن باتوں سے ناراض ہو تا ہے ۔ بسااوقات انسان کوئی ایک نیک کام کرکے مطمئن ہو جاتاہے کہ اب جنت پکی ہوگئی ۔ اگر اس نکتے کو بنیاد بنایا جائے تو پھر حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ:”جس شخص نےلا الہٰ الا اللہ کہاپھر وہ اسی پر فوت ہو گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘تو کیا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ بس ایک دفعہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہو گئے، کلمہ پڑھ لیاتو بات ختم ہو گئی ۔ یقیناً اس کا یہ مفہوم نہیں لیا جا سکتا۔ کیونکہ صرف زبان سے لا الہٰ الا اللہ کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ دل میں یقین بھی ہو اور ایمان کے تقاضوں پر عمل بھی ہو ۔ جیسا کہ سورۃ العصر میں خسارے سے بچنے کے لیے جامع تصور آیا ہے۔ قرآن و حدیث میں دین کا جو جامع تصور پیش ہوا ہے، اُس کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان دین کے علم میں آگے بڑھے اور مزید سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے ۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ رزقِ حلال کمانا بھی تو فرض ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رزقِ حلال کمانا فرض ہے مگر اِس سے پہلے دیگرفرائض بھی ہیں۔ اُن کا علم ہونا اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ نمازی جنت میں جائے گا۔ لیکن احادیث میں یہ بھی تو ہے کہ سودخور ، یتیم کا مال کھانے والا ، زانی اور مشرک جہنم میں جائیں گے۔ لہٰذا دین کا اتنا علم انسان کوضرور ہونا چاہیے  کہ حقوق و فرائض واضح ہو جائیں ۔ جیسا کہ اللہ فرماتاہے :
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص} (البقرہ:208 ) ’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘‘
اسلام مکمل ضابطہ ٔحیات ہے ۔ اس مکمل ضابطہ کو جو اختیار کرے گا، وہی کامیاب ہے ۔ایک مشہور حدیث ہمیں بچپن سے یاد ہے(اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ ) یعنی نیکیوں کی قبولیت کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اعمال تین قسم کے ہیں۔(1) ایک دل سے کیے جانے والے اعمال ،(2) زبان سے کیے جانے والے اعمال اور (3) پورے وجود سے کیے جانے والے اعمال ۔ نیت دل کا عمل ہےجو ظاہر میں نظر نہیں آتا ۔ تقویٰ، اللہ کی محبت ، آخرت کی فکر ، اللہ سے اُمید اور توکل ، شکر ، صبر کی کیفیت سمیت بہت سی اچھی صفات اور اعمال دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ باطن کے ان اعمال کا بھی دین میں بہت بڑا حصہ ہے ۔اسی طرح حسد ، بغض ، تکبر ، دنیا کی محبت، لالچ ، گھمنڈ جیسے بد اعمال بھی دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ سورۃ المومنون میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ(55) نُسَارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْرٰتِ ط بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(56)}(آیات:55،56)   ’’کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اور بیٹوں سے مدد دئیے جا رہے ہیں،تو ہم ان کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں؟ (ایسا ہرگز نہیں!) لیکن یہ لوگ جانتے نہیں۔‘‘
یہاں کفار کا تذکرہ ہے ۔ وہ مال و دولت کو معیار سمجھ بیٹھے ہیں ۔ وہ یہ تصور رکھتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے ہیں اسی لیے اللہ ہمیں نواز رہا ہے ورنہ اگر ہم بُرے ہوتے تو یہ مال و اقتدار ، جاہ و جلال ہمیں کیوں ملتا ؟اِس فلسفے کی بنیاد پراُن لوگوں کو وہ حقیر جانتے ہیں جو اللہ کو ماننے والے ہیں مگر ظاہری اسباب کے لحاظ سے کمزور ہیں ۔کفار سمجھتے ہیں کہ یہ بُرے لوگ ہیں اِسی لیے اللہ نے ان کوکسمپرسی کی زندگی میں رکھا ہے ۔ سورۃ الکہف میں بھی دو باغوں والے شخص کا ذکر ہے جس کو اللہ نے پھل ، کھیتیاں اور نہریں عطا کی تھیں ۔وہ گھمنڈ میں دوسرے شخص (جو مالی لحاظ سے کمزور تھا لیکن دل میں اللہ پر ایمان رکھتا تھا )سے کہنے لگا میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جماعت کے لحاظ سے بھی زیادہ معزز ہوں،میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوں گےاور نہ ہی کبھی قیامت آئے گی ، البتہ اگر میں اپنے رب کے ہاں لوٹایا بھی گیا تو اِس سے بھی بہتر جگہ پاؤں گا۔ اللہ نے اس کے باغوں کو ہی غارت کر دیا اورپھر وہ افسوس کرنے لگا کہ کاش میں رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ۔اگر اس فلسفے کو مان لیا جائے کہ مال و اقتدار ہی کامیابی کا معیار ہیں تو فرعون ، نمرود ، قارون ، ابوجہل اور  ابو لہب اللہ کے مقرب لوگوں میں شمار ہوں گے جبکہ انبیاء میں سے بعض جو بہت ہی سادہ زندگی گزار کر گئے اور بعض اوقات فاقوں تک بھی نوبت پہنچی تو معاذا للہ اُن کا شمار پھر کہاں ہوگا ؟ لہٰذا مال و دولت ، کرسی و اقتدارحقیقی کامیابی کا اصل معیار ہرگز نہیں ہیں بلکہ دل میں ایمان اور تقویٰ اصل معیار ہیں۔یہ ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان میں سے بعض لوگوں کو اللہ نے خوب مال و دولت اور اقتدار سے بھی نواز ا ہو ۔ جیسا کہ حضرت داؤد وسلیمانؑ، ذوالقرنین ، طالوت ، صدیق اکبر و عثمان غنی ؓ ۔اِس کی نفی نہیں کہ ایمان والے مالدار نہیں ہو سکتے البتہ یہ خناس کہ مال کی بنیاد پر ہی کسی کی حیثیت ہے ، اللہ تعالیٰ اِس کی نفی فرماتاہے۔اس کے برعکس سورۃ المومنون کی اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ اُس کے پسندیدہ بندے کون سے ہیں اور اُن کی صفات کیا ہیں ؟ اِس سورۃ کے آغاز میں ایمان والوں کی اِن صفات کا ذکر ہے جو ظاہر میں دکھائی دیتی ہیں، البتہ جن آیات کا اس وقت ہم مطالعہ کر رہے ہیں، ان میں کچھ باطنی کیفیات کا تذکرہ بھی سامنے آ رہا ہے جو کہ بہت اہم ہیں ۔ فرمایا :
{      اِنَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ (57)} (المومنون)’’یقینا ًوہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے لرزاں و ترساںرہتے ہیں ۔‘‘ـ
خشیت اور خوف میں ایک بنیادی فرق بھی ہے جو کہ ذہن میں رہنا چاہیے ۔ انسان نے شیر کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا ، اچانک کوئی حادثہ رونما ہوگیا یا کوئی آفت ٹوٹ پڑی تو اس وقت انسان پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کو خوف کہا جاتاہے ۔ جبکہ خشیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت ، طاقت اور عظیم قدرت کا احساس دل میں ہو اوراس وجہ سے بندہ اس کی ناراضگی سے ڈرے تو یہ خشیت ہے ۔ یہ کیفیت بندے کو گناہوں سے روکتی ہے مگر آج اِس کی بہت کمی ہے ۔ بخاری شریف کی ایک حدیث میں تین غار والوں کا واقعہ بیان ہواہے جو غار کے اندر بند ہوگئے تھے تو وہ اپنے نیک اعمال کو یاد کرکے دعا کرنے لگے ۔ ان میں ایک شخص وہ بھی تھا جس کو کبھی تنہائی میں یہ موقع حاصل ہو گیا تھاکہ خوبصورت عورت کے ساتھ گناہ کرے مگر وہ اللہ کے خوف سے باز رہا۔ اس واقعہ کو یاد کرکے اُس نے دعا مانگی اور وہ قبول ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص کے عمل کی برکتیں   اللہ تعالیٰ اِس دنیا میں بھی عطا فرماتاہے ۔ اسی طرح ایک حدیث میں بیان ہے کہ سات قسم کے افراد قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے ۔ ان میں سے ایک وہ بھی ہوگا جس کی آنکھوں سے اللہ کی خشیت کی وجہ سے آنسو جاری ہو جائیں ۔ حدیث میں ہے کہ جس رات حضورﷺ پر سورہ آل عمران کی آخری آیات نازل ہوئیں، اُس رات آپﷺ ساری رات روتے رہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شکر کے آنسو تھے کہ  اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا بڑا تحفہ عنایت فرمایا ۔ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے جو آنسو جاری ہو جائیں وہ بھی خشیت کی علامت ہیں۔ اِسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول ﷺ نے دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ آپﷺ نے پوچھا کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا :مجھے جہنم کی آگ کے خوف نے رُلایا ہے۔یہ خشیت کی علامت ہے ۔ آپ ﷺکے گھر میں کئی کئی ہفتوں تک چولہا نہیں جلتا تھا ، فقر اور فاقے کی صورتحال رہتی مگر کبھی اِس وجہ سے رونا نہیں آیا ۔ لیکن اللہ کی خشیت کی وجہ سے رونا آتا تھا ۔ حالانکہ کائنات میں سب سے نیک اور متقی گھرانہ تھا ۔ ذرا سوچئے ہمارے لیے خشیت کی کس قدر ضرورت اور اہمیت ہوگی ۔ لہٰذا حقیقی معنوں میں کامیاب مسلمان وہ ہے جس کے باطن میں خشیت کی کیفیت ہو ، اس وجہ سے اللہ کی رضا کی فکر ہو اور اِسی نیت سے اُس کے اعمال ہوں ۔ جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث ہے : 
’’جو اللہ پاک کے لیے محبت کرے، اور اللہ پاک کے لیے دشمنی رکھے ، اور اللہ پاک کے لیے عطاکرے اور اللہ پاک کے لیے روکے تو اُس شخص نے اپنا ایمان مکمل کیا۔‘‘
آگے فرمایا :
{وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ یُؤْمِنُوْنَ(58)} ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے ماننے والوں سے بھی ایمان لانے کا تقاضا کرتا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ النساء میں فرمایا:
’’اے ایمان والو! ایمان لائو اللہ پر‘ اُس کے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے نازل فرمائی اپنے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے پہلے نازل فرمائی۔‘‘(النساء:136)  
ایمان لانے کا تقاضا کافروں سے تو ہے مگر اہل ایمان سے ایمان لانے کا تقاضا کیوں ہے ؟ اِس لیے کہ محض زبان سے دعویٰ نہ ہو بلکہ دل سے بھی ایمان لاؤ ۔ جب دل میں ایمان ہوگا تو پھر اعمال میں سُدھار آئے گا ۔ زندگی میں نِکھار آئے گا ۔ آج ہمیں دنیا کے حصول کی اتنی فکر ہے کہ دن رات اس کے حصول کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ، بچوں کو دن رات محنت کروا رہے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں اوردنیوی زندگی میں تبدیلی آئے ۔ کیا ہم آخرت کی دائمی زندگی کے لیے بھی فکرمند ہیں ؟دنیا کے حصول کے لیے دنیا بھر کی تعلیم ہم بچوں کو دے رہے ہیں اور اس کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں ، کیا انہیں قرآن کی تعلیم دینے کے بارے میں بھی سوچا ہے ؟۔ دوسری جگہ فرمایا: 
’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اورجب اُنہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘(الانفال:2) 
اللہ کا کلام تو ایسی چیز ہے کہ اگر پہاڑ پر نازل ہو تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے ۔ جیسا کہ فرمایا :
’’اگر ہم اِس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘(الحشر: 21)   
کیا آج ہمارے دلوں پر قرآن کا اثر ہوتاہے ؟ آیات سن کر کبھی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ؟ دنیا کی عارضی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے ہم کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ مفت میں مل جائے ۔ یہاں حقیقی طور پر کامیاب اہل ایمان کی باطنی صفات بیان ہورہی ہیں کہ وہ خشیت کی کیفیت میں لرزاں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں کچھ نشانیاں بھی شامل ہیں جیسا کہ فرمایا : {وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (21)}(الذاریات )    ’’اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی (نشانیاںہیں)۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟‘‘ 
انسان اپنے وجود پر غور کرے تو اُسے اندازہ ہو جائے گا کہ اُس کو بنانے والی کوئی عظیم ذات ہے اور اس کی عظمت  کا احساس دل میں پیدا ہوگا ۔ اِسی طرح زمین و آسمان میں  اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ۔ فرمایا :
’’یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں‘ ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ (آل عمران:190)   
اِن پر غوروفکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قدر ت اور عظمت کا احساس ہوگا ۔ چنانچہ حقیقی کامیاب لوگوں کی تیسری باطنی صفت یہ بیان ہوئی کہ :
{وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِرَبِّہِمْ لَا یُشْرِکُوْنَ(59)}  ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔‘‘
حقیقی کامیابی کے لیے دل میں اللہ کی خشیت اوریقین والا ایمان کا ہونا جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ہرگز نہ ٹھہرایا جائے ۔  یہ تقاضا اہلِ ایمان سے بھی ہے کیونکہ شرک ایسا گناہ ہے جو کسی سے بھی سرزد ہو سکتاہے ۔ جیسا کہ فرمایا :
{وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ(106)} (یوسف ) ’’اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح کہ (کسی نہ کسی نوع کا) شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘ 
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جس نے دکھاوے کی نماز ادا کی وہ شرک کر چکا ، جس نے دکھاوے کا صدقہ دیا، وہ شرک کر چکا، جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا ،وہ شرک کر چکا۔ ‘‘ 
رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں: ’’اس دکھاوے اور ریاکاری کے شرک کو پہچاننا اتنا ہی مشکل ہے جتنا اندھیری رات میں کالی چٹان پر کالی چیونٹی کو پہچاننا مشکل ہے ۔‘‘  اس سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی :
((اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِيْ مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِيْ مِنَ الرِّیَاءِ، وَلِسَانِيْ مِنَ الْکَذِبِ، وَعَیْنِيْ مِنَ الْخِیَانَةِ؛ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْیُنِ وَمَاتُخْفِي الصُّدُوْرِ))(کنزالعمال)’’اے اللہ! میرے دل کو نفاق، میرے عمل کو رِیا ونمود ، میری زبان کو جھوٹ اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک فرما! بے شک تو آنکھوں کی خیانت اور دل میں چھپے خیالات کو جانتا ہے۔ ‘‘
آج میڈیا کا دور ہے ،کتنی مرتبہ ہم سب کے لیے بھی آزمائش کا معاملہ آتا ہے ۔ میرے کتنے ویوز ہوگئے ، کتنے لائکس ہو گئے ؟اگر یہ میری چاہت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بیڑا غرق ہوگیا کیونکہ یہی تو دکھاوا اور ریاکاری ہے۔ جبکہ صحابہ کرام ؇کا طرزِعمل تو یہ تھا کہ ایک جنگ میں حضرت علی؄ نے ایک کافر کو پچھاڑا اور اُسے قتل کرنے کے لیے اُس کے سینے پر سوار ہوئے ، اس اثنا میں اُس نے اُن پر تھوک دیا ۔ آپ ؄نے اُسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا : میں تجھے اللہ کی خاطر قتل کر رہا تھا مگر تمہاری اس حرکت کی وجہ سے انتقام کے جذبات بھی شامل ہوگئے ہیں، لہٰذا اب تجھے قتل کرنا خالص اللہ کے لیے نہ رہے گا۔ اِس لیے تجھے چھوڑ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ سمجھ اور حکمت ہمیں بھی عطا فرمائے ۔ حدیث میں ہے کہ ایک ہاتھ سے صدقہ دو تو دوسرے کو پتہ نہ چلے ۔ بخاری شریف میں ایک بڑے عالم، ایک سخی اور ایک شہید کے حوالے سے مشہور حدیث بھی سب نے سُن رکھی ہے جن میں سے ایک نے علم پھیلایا، دوسرے نے سخاوت کی اور تیسرے نے لڑتے ہوئے جان دے دی مگر اُن کے اِس عمل میں ریاکاری شامل تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے نچلے گڑھے میں پھینکوا دے گا ۔ آگے فرمایا :
{وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ(60)}‘(المومنون:60) ’’اور وہ جو دیتے ہیں (اللہ کی راہ میں) تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ اُن کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘
یہاں  یُؤْتُوْنَ   کالفظ صرف مال خرچ کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ عمل کرنے کے معنی میں بھی ہے۔ اس آیت کے بارے میں حضرت عائشہ ؅نے پوچھا : یارسول اللہ ﷺ! ڈرنے والے کون ہیں؟ وہ جو شراب پیتے، بدکاری کرتے اور چوریاں کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نہیں! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور صدقہ وخیرات کرتے ہیں لیکن ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نا مقبول نہ ٹھہریں۔‘‘
کافر اور منافق گناہ کرکے بھی مطمئن بیٹھا رہتا ہے اور مومن نیکیاں کرکے بھی ڈرتا رہتا ہے ۔ اسلام اس حوالے سے باقاعدہ مومنین کی ذہن سازی کرتاہے کہ وہ نیک اعمال کرنے کے بعد مطمئن نہ ہو جائیں اور نہ ہی گھمنڈ میں مبتلا ہوں بلکہ اللہ سے استغفار کرتے رہیں ۔ اللہ کے نبی ﷺ ہر نماز کے بعد استغفار کرتے تھے ۔ حضرت عمر؄ جیسے صحابہ لرزاں رہتے تھے کہ روزمحشر اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب کیسے دیں گے ۔ ہم جیسے عام مسلمانوں کو کتنا ڈرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تکبرسے بچائے اور خشیت کی صفت عطا فرمائے ۔ حدیث میں ہے کہ : ((الایمان بین الخوف والرجا))  ایمان خوف اور امید کی درمیانی کیفیت کا نام ہے۔یعنی اللہ کی رحمت کی اُمیدبھی رکھنی ہےاوراللہ کی پکڑ کا خوف بھی دل میں رکھنا ہے مگر اپنے اعمال پر تکیہ نہیں کرنا۔ حضورﷺ کی واضح حدیث موجود ہے : تم میں سے کوئی اپنے عمل کی بنیاد پر جنت میں داخل نہ ہوگا ۔عرض کیا گیا: یا رسول اللہﷺ! کیا  آپؐ بھی؟ فرمایا :   ہاں میں بھی ، جب تک کہ اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو۔ باقی کسی کی کیا اوقات ہے ۔ آخر میں ان نیک لوگوں کی ایک اور صفت بیان ہورہی جو آخرت میں کامیاب ہوں گے :
{اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَہُمْ لَہَا سٰبِقُوْنَ(61)}(المومنون) ’’یہ وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں کوشاں ہیں اور ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں۔‘‘
آج دنیا میں دنیوی مال و اسباب کی دوڑ لگی ہے ۔  شروع سے ہی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے اچھے سکولوں میں پڑھیں ،پھر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور پھر مقابلےکے امتحان میں پاس ہوکر اعلیٰ سے اعلیٰ پوسٹوں پر جائیں ۔ اسی طرح ہر سیکٹر میں اور ہر شعبہ میں دوڑ لگی ہے ۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے ، بلکہ اکثر تو دوسروں کو کہنیاں مار کر آگے نکلنے کی کوشش میں ہوتے ہیں ۔مگر جس کے لیے یہ ساری بھاگ دوڑ ہے وہ دنیوی مال و اسباب ، عہدے اور رُتبے سب کچھ اِ دھر ہی رہ جائیں گے۔ آگے کیا جائے گا ؟صرف اخلاص والے نیک اعمال ۔ لہٰذا قرآن کہتا ہے کہ آخرت میں جو لوگ کامیاب ہوں گے، وہ دنیا میں نیک اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کی دوڑ اس میدان میں ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان صفات کا حامل بننے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین یا رب العالمین!