(اداریہ) ٹرمپ،یاہو گٹھ جوڑ - حقیقت کیا ہے؟ - رضا ء الحق

8 /

اداریہ


رضاء الحق


ٹرمپ،یاہو گٹھ جوڑ - حقیقت کیا ہے؟


دنیا حیران تھی، ششدر تھی، پریشان تھی۔ آخر ڈیموکریٹس جو بائیڈن کی جگہ کسی اور کو صدارتی امیدوار کیوں نہیں بنا رہے؟ وہ جو بائیڈن جو بات کرتے کرتے بھول جاتا ہےاور کبھی دائیں کبھی بائیں مڑتے ہوئے خلائی مخلوق سے ہاتھ ملاتا پھرتاہے؟ سوال اٹھائے جا رہے تھے کہ کیا مقدموں میں پھنسا ہوا ٹرمپ صدارتی الیکشن لڑ بھی پائے گا؟ پھر یہ کہ ٹرمپ کو امریکہ کے انتہائی دائیں بازو کی حمایت تو حاصل ہے ہی، کیا تارکینِ وطن بھی اُسی کو ووٹ دیں گے جن کو امریکہ سے نکال باہر کرنے کا ٹرمپ بار بار اعادہ بلکہ وعدہ کرچکا تھا۔ تمام روایتی میڈیا ٹرمپ کی جیت کو تقریباً ناممکن قرار دے رہا تھا، خصوصاََ اُس وقت جب دوسرے صدارتی مناظرے کے دوران جو بائیڈن نہیں کملا حارث مد مقابل تھی۔ جس جس نے بھی وہ مناظرہ دیکھا، اِس بات کا قائل ہو گیا کہ اب امریکہ جو خود کو’’آزاد دنیا کا قائد‘‘ قرار دیتا ہے وہاں پہلی مرتبہ ایک خاتون صدر منتخب ہوگی۔ حسبِ سابق ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس بظاہر ٹرمپ کی مخالفت کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ کس کاروبار نے کس صدارتی امیدوار کی کتنی فنڈنگ کی، اس کا تو بہرحال اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ 2015 ءمیں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بڑی بڑی کارپوریشنز کو اجازت ہے کہ صدارتی امیدوار کو دی جانے والی فنڈنگ کو خفیہ رکھیں۔ لیکن ٹرمپ تو ایلون مسک کو بھی ساتھ ملا چکا تھا۔ ٹرمپ کا ایک ہی بنیادی نعرہ تھا:’’امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بناؤ!‘‘ دوسری طرف جو بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کی غزہ پر (اس وقت تک) کم و بیش بارہ ماہ سے جاری مسلسل وحشیانہ بمباری کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ہر سطح پر اور ہر طریقے سے اسرائیل کی معاونت بھی کی۔ جدید ترین اسلحہ فراہم کیا گیا، امریکہ کے دو بحری بیڑے تو ہر دم بحیرۂ روم میں موجود رہتے تھے۔ اپنے اتحادیوں کو اسرائیل کی حفاظت پر مامور کیا۔ ایران کی طرف سے اسرائیل پر چلائے گئے میزائلوں کو روکنے کا پانچ لہری انتظام کیا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اسرائیل کی شان میں ذرا سی بھی گستاخی کرنے والی ہر قرارداد کو ویٹو کیا۔ الغرض کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔ ایسے میں کیا امریکہ کی سب سے مضبوط لابی ایک لا اُبالی شخص کو دوبارہ صدر منتخب ہونے دے گی؟
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ محض فریبِ نظر تھا۔ ٹرمپ کے دیگر تمام وعدے ایک طرف لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اپنے پہلے دورِ حکومت میں ٹرمپ نے اسرائیل کو اِس قدر نوازا کہ شاید اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے ایسا کرنے کا سوچا بھی نہ ہو۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا اور صرف یہی نہیں، یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بھی تسلیم کر لیا۔ ٹرمپ کے گزشتہ دورِ حکومت میں ہی اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان) نے جیوئش نیشن سٹیٹ لاء منظور کیا جس کے تحت ریاستِ اسرائیل میں اوّل درجے کے شہری صرف یہودی ہوں گے اور اگر فلسطینیوں کو زمین کا کچھ ٹکڑا رہنے کے لیے دے بھی دیا جائے تو وہاں فوج اور پولیس سمیت تمام انتظامی ذمہ داری اسرائیلیوں کے ہاتھ میں ہی رہے گی۔ ٹرمپ نےنام نہاد ابراہم اکارڈز کا اجراء کیا۔ اس کا یہودی داماد جیرڈ کشنر عرب ممالک کے تقریباً تمام حکمرانوں سے انتہائی خوشگوار تعلقات رکھتا تھا۔ وعدوں اور دعوؤں کے ساتھ پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر ایشیا میں اومان اور بحرین اور افریقہ میں مراکش اور سوڈان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کروائے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے’’ normalization of ties ‘‘ کا نام چُنا گیا۔بہرحال 2024ء کے امریکی صدارتی الیکشن سے قبل بھی ہماری یہی رائے تھی کہ ٹرمپ نہ صرف الیکشن جیتے گا بلکہ اُس کی اِس جیت میں امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کا کلیدی کردار ہو گا۔ پھر یہ کہ امریکی صدر بننے کے بعد ٹرمپ اپنا اصلی چہرہ دکھائے گا کہ وہ اسرائیل کا ہی ایک بغل بچہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے حالات و واقعات جس تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں، حتمی طور پر کوئی اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں رہا۔ کون یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ محض 10دن میں 54 سال سے قائم اسد خاندان کی ظالمانہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ بشار الاسد کو اپنے دو ارب ڈالر سمیت شام چھوڑ کر ماسکو میں پناہ لینا پڑے گی۔ روس بھی کسی خفیہ معاہدے کے تحت مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو کم کرنے پر تیار ہو جائے گا۔ شام میں اکثریتی مسلک سے تعلق رکھنے والے عوام کو بالآخر اسد خاندان کے ظلم و جبر سے نجات ملے گی، لیکن نجات دلانے والے امریکہ اور ترکی کے ہاتھ میں کھیلیں گے۔ وہ یہ قرار دیں گے کہ جنگوں نے انہیں تھکا دیا ہے اور امریکہ و اسرائیل سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں پر مکمل قبضہ جما لے گا اور مزید آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کرے گا۔ لیکن یہ سب ہم نے اپنے سر کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دیکھا۔
بہرحال شام کے نئے صدر کے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک رابطے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں اپنے قدم دوبارہ داخل کرنے کی تان رہا ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اِس میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام میں صورتحال کی تبدیلی اور حزب اللہ کو ہونے والے بے انتہاء نقصان نےایران کا بھی خطے میں اثرو رسوخ اور کردار نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ ساڑھے 13 ماہ تک غزہ پر شدید ترین مسلسل وحشیانہ بمباری کرنے والا اسرائیل مجاہدین کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ دیکھا جائے تو اپنے جنگی اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کر سکا۔ نہ حماس کا خاتمہ کر سکا اور ہر نوع کی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے باوجود اسرائیلی مغویوں کا نام و نشان بھی نہ پاسکا۔ معاہدے کے بعد قیدیوں کے تبادلے نے دنیا کی آنکھیں ایک مرتبہ پھر کھول دیں۔ ایک طرف اسرائیلی مغوین جو انتہائی چاک وچوبند، حلال احمر کے حوالے کئے جا رہے تھے تو دوسری طرف اسرائیل اپنے عقوبت خانوں سے ڈھانچوں کو آزاد کر رہا تھا۔ یقیناً غزہ کے مجاہدین نے اسلام کے عطا کردہ جنگ کے سنہری اصولوں پر کاربند رہ کر مسلم دنیا کا سر فخر سے بلند کر دیا۔شنید ہے کہ اسرائیل معاہدے کی ابتدا سے ہی خلاف ورزیوں پر تلا ہوا ہے۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل نے اِس بات کو یقینی بنانا تھا کہ غزہ کے نیم جان مسلمانوں کو امداد پہنچانے کے تمام راستے کھول دےگا اور خوراک، پانی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کے سامان کو غزہ میں داخل ہونے سے نہیں روکے گا۔ پھر یہ کہ 700 میٹر پر مشتمل غزہ اور اسرائیل کے بیچ قائم بفرزون میں موجود فلسطینیوں پر گولی نہیں چلائے گا۔ وہ بجلی اور گیس کی ترسیل بحال کرنے کے لیے غزہ میں داخل ہونے والی بھاری مشینری کو نہیں روکے گا۔ لیکن اسرائیل نے معاہدے کی اِن تمام شقوں کی خلاف ورزی کی اور مسلسل کر رہا ہے۔ نتن یاہو غزہ سے مسلمانوں خصوصاً حماس مجاہدین کا مکمل صفایا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن گزشتہ ساڑھے 13ماہ کے دوران وہ یہ جان چکا ہے کہ غزہ کے عوام اور مجاہدین کا عزم صمیم ختم ہونے والی شے نہیں۔ وہ مسجد اقصٰی کی حرمت کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ لہٰذانتن یاہو نے اپنے مرید ٹرمپ کو عرب ممالک پر رعب جمانے کے لیے روانہ کیا۔ اردن کی قیادت (جس کے بارے میں ایک اہم پاکستانی سابق سینیٹر نے ’’غدار ابنِ غدار ابنِ غدار‘‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے) نے ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوکر اُس کے منصوبے کی مکمل تائید کی۔ جس وقت یہ تحریر قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی تو ٹرمپ کی حماس کو ہفتہ 12 بجے تک تمام اسرائیلی مغوین کو رہا کر دو، ورنہ …کی دھمکی گزر چکی ہوگی۔ بہرحال ٹرمپ نے غزہ کی تباہی کا معاملہ کچھ اس طرح پیش کیا گویا بربادی امریکہ کی طرف سے فراہم کیے گئے اسلحہ کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی بمباری سے نہیں بلکہ اچانک کسی بڑے زلزلہ سے ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے انتقال پر اسےکیمپ ڈیوڈ معاہدے کی اس تصویر کے حوالے سے یاد نہیں کیا گیا جس میں امریکی صدر جمی کارٹر، مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیلی وزیراعظم مناہیم بیگن ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہوئے مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں مصر عرب دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے اسرائیل سے ہاتھ ملایا اور نئی سفارت کاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ بلکہ جمی کارٹر کی کتاب (Palestine: Peace Not Apartheid) ’’فلسطین: پیس نوٹ اپرتھائیڈ‘‘کو یادرکھا گیا۔ اسرائیلیوں کی تو بات ہی چھوڑئیے وہ تو جمی کارٹر کو بھی اینٹی سیمائٹ قرار دیتے ہیں۔
بہرحال ٹرمپ نے اپنے مرشد نتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہو کر جو بیان دیا اس سے ہرگز حیران نہیں ہونا چاہیے۔ صدر بننے کے بعد سے اب تک ٹرمپ کے غزہ کے حوالے سے بیانات کو جوڑا جائے تو بیانیہ کچھ یوں بنتا ہے… جب اسرائیل غزہ میں اپنی جنگ ختم کر لے گا، تو امریکہ غزہ پر قبضہ کرے گا۔ امریکہ کو ایسا کرنے کی ضرورت اس لیے پڑے گی کہ غزہ میں 90 فیصد عمارتیں تباہ و برباد ہو چکی ہیں اور اب وہاں انسانوں کا بسنا ممکن نہیں، لہٰذا 15 لاکھ فلسطینیوں کو کسی دوسرے مقام (جو کوئی قریبی عرب ملک بھی ہو سکتا ہے اور کوئی دور دراز کا جزیرہ بھی) پر منتقل کر کے امریکہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کمر بستہ ہو جائے گا کیونکہ امریکہ وحشی نہیں کہ انسانوں کو عمارتوں کے ملبوں پر زندگی گزارتا دیکھ سکے اور اگر غزہ کے باسی علاقہ خالی نہیں کرتے تو ان کے ساتھ پھر وہی ہوگا جو ساڑھے تیرہ ماہ ہوتا رہا ہے۔ اگر اس حوالے سے کسی قریبی عرب ملک کو کوئی خدشہ ہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ غزہ کی تعمیر نو میں اس عرب ملک کی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے… گویاٹرمپ ابراہم اکارڈز 2 کی رونمائی بھی کر چکا ہے۔ہمیں حیرت ہے کہ کسی صحافی نے ٹرمپ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ حضور والا جس غزہ کی تباہی پر آپ اتنے مغموم ہو رہے ہیں، وہ کسی قدرتی آفت سے نہیں آئی! جس غزہ کی تعمیر ِنو کی فکر آپ کی نیندیں حرام کر رہی ہے،وہ آپ ہی کے فراہم کردہ بموں کے ذریعے ہوئی ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے توفوراً بیان جھڑ دیا کہ میں صدر ٹرمپ کے دلیرانہ منصوبے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ غزہ کے رہائشیوں کو’’ آزادی سے ہجرت‘‘ کی اجازت ہونی چاہیے جیسا کہ دنیا بھر میں قوانین ہیں۔اِس کے ساتھ ہی اُس نے اپنی فوج کو بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو زمینی، سمندری اور فضائی راستوں کے ذریعے غزہ کی پٹی سے نکالنے کا منصوبہ تیار کرنے کے احکامات بھی جاری کردئیے ۔ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر خوب ’’بیان بازی‘‘ سامنے آئی۔ عرب اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ امریکی اتحادیوں، چین اور روس نے بھی ٹرمپ کو سخت سست کہا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے فلسطینیوں کی غزہ سےجبری بے دخلی کو ’’نسلی تطہیر‘‘کے مترادف قرار دیا ہے۔
اصل مخالفت تو بہرحال غزہ کے عوام اور مجاہدین کی طرف سے ہی آئے گی۔ٹرمپ فطرتاً ایک اداکار ہے۔ اس نے اپنی جوانی کا آغاز ایک ٹی وی شو سے کیا، وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف (جو اَب WWEکہلاتی ہے)میں ریسلنگ کرتا رہا اور اس نے کئی فلموں میں مختصر کردار بھی ادا کیے۔ لیکن اداکاری کا فن غزہ کے معاملے میں کام نہیں آئے گا۔ غزہ کے شہری اور مجاہدین جانتے ہیں کہ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اسرائیل کو وہ 2000 بم بھجوائے جنہیں جو بائیڈن نے بطور امریکی صدر اپنے آخری ایام میں روک لیا تھا۔ پھر یہ کہ حال ہی میں ٹرمپ حکومت نے اسرائیل کے لیے 7 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا بل منظور کیا۔ٹرمپ خوب جانتا ہے کہ اس کی حیثیت گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے ایک مہرے سے بڑھ کر نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل اس معاملے کو کتنا کھینچتا ہے اور کس حد تک لے کر جاتا ہے۔ ٹرمپ کے اِن بیانات کا مقصد دو ریاستی حل کی بحث کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آزاد فلسطین جس کا دارالحکومت یروشلم ہو گااُس میں حقِ حکومت صرف اور صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔
بہرکیف اسرائیل- حماس امن معاہدہ زیادہ عرصہ چلتا دکھائی نہیں دیتا اور اس بات کا اعتراف تو ٹرمپ بھی کر چکا ہے۔ بلکہ جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرنے اور ایک بڑی جنگ کے آغاز کے لیے اقدامات خود نتن یاہو اپنےمرید ٹرمپ کے ساتھ مل کے کر رہا ہے جس کی گواہی حال ہی میں اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان) میں قائدِ حزبِ اختلاف نے خود دی ہے۔ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے اسرائیل میں موجود صہیونی اور یہود کی دیگر تمام اقسام بھی درحقیقت مذہبی یہودی ہی ہیں اوربعض فروعی اختلافات کے علی الرغم سب انتہائی بے چینی سے اپنے مسایاح (جو اصل میںالمسیح الدجال ہو گا) کی آمد کے منتظر ہیں۔پھر یہ کہ ٹرمپ کے اگرچہ عرب ممالک کے حکمرانوں سے اچھے تعلقات ہیںاور بعض تو اُس کی زلفوں کے اِس حد تک اسیر ہیںکہ اُس کی ابرو کے ایک اشارہ پر اندھے کنویں میں بھی چھلانگ لگا دیں گے۔ البتہ پاکستان کے حوالے سے اسرائیل کا نظریہ مختلف ہے۔ اسرائیل کے نزدیک پاکستان اُس کا کُھلا دشمن ہےاور وقت آنے پر وہ اِسے تصادم میں بد ل دے گا۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے تو پہلے بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ اِن شاءاللہ! اصل امتحان تو دیگر مسلم ممالک کا ہے کہ وہ متحد ہو کر باطل اور دجالی قوتوں کے سامنے ڈٹتے ہیں یا نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسجد اقصٰی اور اہلِ غزہ سمیت تمام فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور دیگر مسلم ممالک کو غیرتِ ایمانی عطاء فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!