(ماہِ صیام) استقبالِ رمضان - مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

10 /

استقبالِ رمضان

مرکزی شعبہ تعلیم و تربیت تنظیم اسلامی

ٍ محترم رفقائے گرامی اور گرامی قدر احباب! 
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری زندگی میں ماہِ رمضان ایک مرتبہ پھر ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔
رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ البقرہ آیت نمبر 183 میں فرماتے ہیں:
’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو سکے۔‘‘
نبی اکرم ﷺ رمضان کا استقبال فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری)
رمضان المبارک کے دن اور راتیں ہمارے ایمان اور تقویٰ میں تازگی کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ مبارک مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اسے تمام مہینوں کا سردار قرار دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق رمضان المبارک میں ہر نیک عمل کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ نوافل کا  اجر و ثواب فرائض کے بقدر عطا کیا جاتا ہے۔ اس مہینے کو ’’شہر المواساۃ‘‘یعنی ہمدردی کا مہینہ بھی کہا گیا ہے۔
آئیے!رمضان المبارک آنے سے قبل اس کی تیاری کریں۔ رسول اللہ ﷺ اور صلحائے اُمّت کا یہ معمول ملتا ہے کہ وہ رمضان سے قبل ہی اس کی تیاری فرماتے تھے۔ جب رجب کا مہینہ آتا تو رسول اللہ ﷺ اس طرح دعا فرماتے:
’’اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا۔‘‘(شعب الایمان، البیہقی)
کسی بھی اہم موقع سے پہلے انسان خود کو ذہنی طور پر اُس کے لیے تیار کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ  رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ اعمالِ صالحہ کرنے کے لیے ابھی سے پختہ عزم کریں۔ عبادت کے حوالے سے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنا بھی لازم ہے تاکہ انہیں صحیح طریقے سے ادا کیا جا سکے۔
ہمیں روزے کے مسائل کا علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ مفسدات و مکروہات سے بچ سکیں۔ جن ساتھیوں کا اعتکاف کا ارادہ ہو، وہ اس کے مسائل سے بھی واقفیت حاصل کریں۔
رمضان المبارک سےقبل ہی اس کے معمولات کا تعین بھی کرلیں۔ زیادہ سے زیادہ وقت عبادات و دینی مشاغل کے لیے فارغ کرنے کی کوشش کریں۔
لا یعنی امور یعنی بے کار کام اور وقت ضائع کرنے سے مکمل اجتناب کریں۔ خود اپنے لیے ممکن العمل اہداف مقرر کریں جیسے:
•ژ روزانہ تلاوت قرآن کے نصاب میں گراں قدر اضافہ
•ژ متعلقہ نصاب (مبتدی ، ملتزم ، ذمہ داران اور مدرسین ) کا مطالعہ مکمل کرنے کا پختہ عزم 
•ژ دوستوں اور احباب کو روزہ افطار کرانے کا اہتمام 
•ژ غرباء و مساکین کے لیے زیادہ سے زیادہ  صدقات کا اہتمام کریں تاکہ وہ بھی آسانی سے روزہ رکھ سکیں۔ 
قرآن مجید کا روزے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ البقرہ آیت نمبر 185 میں فرماتے ہیں:
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے کھلے دلائل ہیں۔‘‘
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے دن میں کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے روکے رکھا، پس میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے رات سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا، پس میری سفارش قبول فرما۔ چنانچہ دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘ (مسند احمد)
رفقاء تنظیم اور احباب کے لیے رمضان المبارک میں روزہ کے ساتھ ساتھ تراویح میں قرآن مجید کے علوم و برکات سے بھی بہرہ ور ہونے کے لیے دورہ ٔ ترجمہ قرآن کی صورت میں حصول ِ اجر و ثواب کا بھر پور موقع فراہم ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی انتظامی تیاریاں قبل از رمضان کی جاتی ہیں۔ اس میں بھر پور شرکت کے لیےوقت اور مال کا انفاق رمضان سے پہلے ہی شروع ہوجانا چاہیے۔  
اس میں خود بھی شرکت کریں ، توجہ سے قرآن کا ترجمہ و تشریح سننے کا اہتمام کریں اور اس کے لیے لوگوں کو دعوت دینے کا اہتمام بھی ابھی سے شروع کردیں۔ 
کیا عجب ! ہماری دعوت پر آنے والے کسی شخص کی زندگی قرآن کی دعوت سن کر تبدیل ہوجائے، ہمارے لیے صدقہ جاریہ کا باعث بنے اور ہم سرخ اونٹوں کی بشارت کے مستحق ٹھہریں۔
اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگنے کا اہتمام کریں۔ اپنے لیے ، اپنے والدین کے لیے، اپنے اہل و عیال، صلحائے اُمّت اور اپنے اکابرین کے لیے۔ چلتے پھرتے اللہ کے ذکر کو اپنی عادت بنائیں۔ 
بنیان مرصوص بننے کے لیے رمضان المبارک ایک بہترین موقع ہے۔ بحیثیت جماعت ہم اپنے مقاصد  اُس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہ بن جائیں ، ہم خود آگے بڑھ کر غلط فہمیوں کو دور کریں ، آپس کے معاملات میں انصاف کے بجائے احسان کی روش اپنائیں، جو دور ہو رہا ہے ، خود آگے بڑھ کر اس کے قریب ہوجائیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کردیں۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر دوسروں سے معافی مانگنے پر کوئی جھجک محسوس نہ کریں اور یہ تمام کام صرف اور صرف اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کریں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو رمضان المبارک کی برکتیں، رحمتیں اور مغفرت سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔