(امیر سے ملاقات ) امیرسے ملاقات قسط 35 - محمد رفیق چودھری

10 /

حماس اور اہل غزہ کو اسرائیل پر اخلاقی برتری اور فتح حاصل ہوئی ہے،

مگر بحیثیت مجموعی اُمّت ِمسلمہ اس امتحان میں شدید ناکام ہوئی ہے۔

رمضان المبارک میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں ، اہل غزہ کی

دل کھول کر مدد کریں اور ان کے لیے دعا بھی کریں ۔

قرآن اور پاکستان دونوں رمضان کی ستائیسویں شب کو عطا ہوئے، اس فطری

تعلق کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کریں ۔

مسلمانوں کی کامیابی ، فتح اور غلبہ ایمان سے مشروط ہے ۔

خصوصی پروگرام’’ امیر سے ملاقات‘‘ میں

امیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ کے رفقائے تنظیم و احباب کے سوالوں کے جوابات

میزبان :آصف حمید

مرتب : محمد رفیق چودھری

سوال:  فلسطین میں سیز فائر ہوا ، اس بات کی خوشی بھی ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو امن کا سانس لینے کا کچھ موقع ملاہے لیکن ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کی وجہ سے تشویش بھی بڑھ رہی ہے ، آپ کے خیال میں حالات   کس طرف جائیں گے؟
امیر تنظیم اسلامی : اس میں کوئی شک نہیں کہ سواسال کی اِس جنگ میں اسرائیل نے 90 فیصد غزہ کو کھنڈر بنا دیا ہے ، 50 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل کا آرمی چیف بھی بیان دے رہا ہے اور اسرائیلی عوام بھی نیتن یاہو کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں ، دنیا میں بڑے رپورٹرز اور میڈیا ہاؤسز بھی کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو شکست ہو چکی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف حماس کے مجاہدین کی محنت ، قربانیوں اور استقامت سے ثابت ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کررہا ہے اور اس جنگ میں اُنہیں بہت کچھ حاصل ہوا ہے ۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں اور اُس کا اصل چہرہ   بے نقاب ہوا ہے، یہاں تک کہ اسرائیل کی سب سے زیادہ مدد کرنے والے امریکہ اور برطانیہ میں بھی لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین اسرائیل کے خلاف نکلے ہیں ۔ گویا حماس کی قربانیوں نے عالمی ضمیر جگا دیا ہے ۔ حماس اور اہلِ غزہ کو اسرائیل پر اخلاقی برتری بھی حاصل ہوئی ہے ، اُنہوں نے اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ جس حسن ِسلوک کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے ہے اور جس ظلم اور درندگی کا مظاہرہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے آچکا ہے ۔ حماس کی فتح میں پورے عالم اسلام کے لیے بھی بڑی ترغیب و تشویق ہے ۔ اس جنگ میں غزہ کے مسلمانوں کے لیے بھی امتحان تھا اور پوری اُمّت ِمسلمہ کے لیے بھی امتحان تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کے مسلمان اس امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں مگر بحیثیت مجموعی اُمّت ِمسلمہ اس امتحان میں شدید ناکام ہوئی ہے ۔ خاص طور پر اُمّتِ مسلمہ کے حکمرانوں نے بے وفائی کا ثبوت پیش کیا ہے ، مسلم ممالک کو غزہ کے معاملے میں جو رول ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کے حکمرانوں کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہےاور انہیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ صہیونی اگر اپنی پیش گوئیوں پر ایمان رکھ کر گریٹر اسرائیل کی جانب بڑھ رہےہیں تو کیا مسلمانوں کو اللہ کی سچی کتاب پر یقین رکھ کر اللہ کے رسولﷺ کے مشن کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے ؟ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺکی احادیث میںواضح خبریں ہیں کہ اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب ہوگا اور خراسان سے مومنین کا لشکر حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰؑ کی مدد کے لیے جائے گا ۔ اگلی بات یہ ہے کہ کیا فلسطین میں امن ہوگا یا نہیں ؟یہود کی تاریخ ہمارے سامنے ہے اور اُن کے عزائم بھی واضح ہیں ۔ امریکہ میں چاہے ریپبلکنز کی حکومت آجائے یا ڈیموکریٹس کی اسرائیل کے معاملے میں اُن کی پالیسی ایک ہی ہے کہ اُنہوں نے ہر حال میں صہیونی عزائم کی تکمیل کے لیے کام کرنا ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے کہ جنگ ختم ہوتے ہی امریکہ غزہ پر قبضہ کرلے گا ۔ جوبائیڈن نے 200 بم اسرائیل کو دینے سے روک دیا تھا لیکن ٹرمپ نے آتے ہی اس کی اجازت دے دی ہے اور دوسری طرف وہ امن اور جنگ بندی کی باتیں بھی کر رہے ہیں ۔مسلم حکمران کب تک چہرے سے نقاب اُترنے کا انتظار کرتے رہیں گے ۔ آخری بات یہ ہے کہ اسرائیل کئی برسوں سے ماہ رمضان میں ، بالخصوص آخری عشرہ میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کر تا چلا آرہا ہے ، یہاں تک کہ عید الفطر کے موقع پر بھی اُس نے نمازیوں پر گولیاں چلائیں ۔ کوئی بعید نہیں کہ وہ اس مرتبہ بھی کوئی حرکت کریں گے ، اس حوالے سے حماس کو بھی اور پوری اُمت ِمسلمہ کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ 
سوال:   رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ اس موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستان کے مسلمانوں کو بالخصوص کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟نیز فلسطین کے مسلمانوں کے لیے ہم ماہ رمضان میں کیا کر سکتے ہیں ؟
امیر تنظیم اسلامی : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
’’اور سست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘(آل عمران : 139 )
مسلمانوں کی کامیابی ، فتح اور غلبہ ایمان سے مشروط ہے ۔ ایمان ہوگا تو اللہ کی مدد بھی آئے گی اور باطل کے خلاف کامیابی بھی ملے گی اور ایمان کہاں سے آئے گا ؟     سورۃ الانفال میں فرمایا: 
’’ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا نام آئے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اس کی آیتیں اُن پر پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔‘‘(آیت:2)
قرآن ایمان کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور رمضان کا مہینہ سجا ہی قرآن کے لیے ہے ۔رمضان کی اصل فضیلت اسی وجہ سے ہے ۔ فرمایا:
{شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ}(البقرۃ:185)’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا‘‘ 
روزہ اس لیے رکھوایا جارہا ہے تاکہ ہم قرآن جیسی بڑی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں ۔ فرمایا :
’’ تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ (البقرہ: 185) 
قرآن بڑی نعمت اس لیے ہے کہ اس سے انسانوں کو ہدایت حاصل ہوتی ہے ۔ جیسا کہ شروع میں ہی فرمایا :
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)}’’ ہدایت ہے، پرہیزگار لوگوں کے لیے۔‘‘ 
اور روزے کا حاصل بھی تقویٰ ہے :
’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘(البقرہ:183)
تقویٰ ہوگا تو ہدایت ملے گی ۔ دن میں روزہ رکھیں گے اور رات کو قرآن سنیں گے تو تقویٰ پیدا ہوگا ۔ ماہ رمضان میں کروڑوں مسلمان قرآن کی تلاوت کر رہے ہوتے ہیں ، سُن رہے ہوتے ہیں ، بے شک اِس کا بھی اجر ملتا ہے لیکن اگر سمجھ کر پڑھیں گے کہ قرآن میں کیا لکھا ہے اور اللہ ہم سے کیا چاہتاہے تو پھر ہدایت بھی حاصل ہوگی۔ ہمارا اصل پیغام یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم رمضان میں قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں ۔ غزہ کے مسلمانوں نے ثابت کر کے دکھایا کہ قرآن میں کتنی بڑی طاقت ہے ۔چھوٹے چھوٹے بچے جو جنگ میں زخمی ہوگئے ، کسی کی ٹانگ کاٹنے کی ضرورت پڑی ، کسی کا بازو کٹ گیا ، لیکن بے ہوشی کی ادویات نہ تھیں ،ڈاکٹرز پریشان تھے تو اُنہوں نے کہا ہم تلاوت کریں گے آپ ٹانگ کاٹ دیجئے ، بازو کاٹ دیجئے ۔ یحییٰ السنوار کی شہادت ہوئی تو جیب سے صرف قرآنی دعاؤں کاکتابچہ نکلا۔ یہ قرآن افراد اور قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے ۔ بانی تنظیم اسلامی محترم ڈاکٹر اسراراحمدؒ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کو توجہ دلاتے تھے :((اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ))’’اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کر نے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا۔‘‘ 
اِسی قرآن کو اپنانے کی وجہ سے امت مسلمہ دنیا کی سپریم پاور تھی اور آج اسی قرآن کو چھوڑ دینے کی وجہ سے غلام ہے۔ بقول اقبال ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر 
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
 
بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒنے 1980ء کی دہائی میں لاہور سے دورہ ترجمہ قرآن کا سلسلہ شروع کیاتھا جو آج الحمدللہ پاکستان کے ہر شہر میں رمضان کے دوران کروایا جاتاہے بلکہ دیگر ممالک میں بھی یہ روایت پھیل رہی ہے ۔ گزشتہ دنوں عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی ، اس دوران ورجینیا کے ایک عالم نے بتایا کہ اُن کے ہاں نماز تراویح کے دوران انگلش میں دورہ ترجمہ قرآن ہوتاہے ۔ اس سال بھی ملک بھر میں مختلف مقامات پر دورہ ترجمہ قرآن ہوگا ، ہماری ویب سائٹ پر ان تمام مقامات کی تفصیل آجائے گی ، اس کے علاوہ ہمارے رفقاء نے ایک ایپ بھی بنالی ہے جو آپ کے قریب ترین مقام کی نشاندہی کرے گی ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ رمضان میں اللہ کے رسول ﷺ کی سخاوت تیز آندھی کی مانند ہوتی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان المبارک میں فلسطینی مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کریں ۔ انہوں نے اُمت ِمسلمہ کی طرف سے فرض کفایا ادا کرتے ہوئے اپنا گھر بار سب کچھ کھو دیا ، اب نہ ان کے پاس رہنے کے لیے گھر ہیں ، نہ ہسپتال اور سکول ہیں ، نہ ادویات ہیں ۔ یہ پوری اُمت کا فرض ہے کہ اب ان حالات میں وہ ان کی مدد کرے ۔ جو کچھ نہیں دے سکتا وہ کم ازکم   اللہ سے ان کے لیے دعا کر سکتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے لیے قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔ رمضان کی ستائیسویں شب کو اللہ نے پاکستان دیا تھا اور اسی شب کو قرآن نازل ہوا ۔ اس فطری تعلق کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کریں ۔ بحیثیت مسلمان ہم سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا۔ 
سوال: اگر کوئی شخص تنظیم اسلامی میں شامل ہوتا ہے تو کیا وہ کسی دوسری دینی جماعت مثلاً تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی کام کر سکتاہے یا تصوف کے کسی سلسلہ کی بیعت لے سکتاہے ؟
امیر تنظیم اسلامی : دیگر دینی جماعتوں کے تعلیمی اور تدریسی پروگراموں میں شرکت کرنے یا ان کا اکرام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تاہم اصولی بات یہ ہے کہ جس دینی اجتماعیت میں بندہ شامل ہو تو کوشش کرے کہ کل وقتی طور پر اس کے نظم کے تحت کام کرے ۔اگر آپ تنظیم کے رفیق ہیں اور آپ کو تنظیم کے کسی اجتماع یا پروگرام میں دعوت دی جاتی ہے اور آپ اس کو چھوڑ کر کسی دوسری اجتماعیت کے پروگرام میں شرکت کریں تو یہ نظم کا تقاضا نہیں ہے ۔ اگر کوئی پہلے سے کسی تصوف کے حلقے میں جڑا ہوا ہے اور بیعت ارشاد کر رکھی ہے تو ہم اس کو منع نہیں کرتے، وہ اپنی اس بیعت کو برقرار رکھ سکتا ہے اوراپنے شیخ یا عالم کے دئیے ہوئے وظیفے کو پڑھ سکتاہے تاہم جب آپ نے تنظیم اسلامی میں شامل ہو کر بیعت جہاد کر لی تو اب بیعت جہاد کو بیعت ارشاد پر فوقیت حاصل ہو گی ۔ یعنی جب تنظیم آپ کو بلائے گی تو آپ کو اپنے حلقہ تصوف کے پروگرامز کو چھوڑ کر تنظیم کے پروگرامز میں آنا ہوگا ۔جب کوئی رفیق تنظیم اسلامی میں شامل ہوجائے تو اس کے بعد   تصوف کے کسی حلقہ میں بیعت لینے کی اجازت نہیں ہے۔ 
سوال:  کیا تنظیم اسلامی کی سطح پر بھی تزکیہ نفس کروایا جاتاہے یا اس کے لیے کسی پیر طریقت کے ہاتھ پر ہی بیعت کرنا ہوگی ؟
امیر تنظیم اسلامی :تزکیہ نفس کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن مجید ہے اور تنظیم اسلامی کی دعوت کی بنیاد ہی قرآن پر ہے ۔ تنظیم اسلامی کا منہج ، منہج انقلاب نبوی ﷺ ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مرتبہ یہ بیان آیا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کے ذریعے لوگوں کا تزکیہ کرتے ہیں۔ سورۃ الجمعہ میں فرمایا :’’وہی ہے جس نےاُمیوںمیں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے۔‘‘(الجمعہ:2)
اسی طرح حدیث جبرائیل میں جبرائیل علیہ السلام نے انسانی شکل میں حاضر ہو کر جو سوالات کیے ان میں احسان کے متعلق سوال بھی ہے ۔ حضورﷺ نے اس حوالے سے دعا بھی تعلیم فرمائی : 
((اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ))”اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔‘‘
اگر تصوف کا حاصل یہ ہے کہ میرا باطن پاک ہو جائے ،دل میں للہیت ، اخلاص، محبت رسولﷺ اور فکر آخرت پیدا ہو جائے اورمیرے اعمال میں سنت رسولﷺ کا رنگ آنا شروع ہو جائے تو یہی تزکیہ نفس ہے اور یہی احسان ہے ۔لہٰذا منہج انقلاب نبویﷺ سے بہتر تزکیہ نفس کس جگہ ہو سکتا ہے ۔ تنظیم اسلامی کی تعلیم میں پہلا نکتہ ہی یہ ہے کہ اقامتِ دین کی جدوجہد کا بنیادی مقصد اللہ کی رضا ہے۔ شاید دنیا میں ہم اقامت ِدین کی جدوجہد میں ناکام ہو جائیں لیکن اگر ہماری جدوجہد میں اخلاص اور احسان کا پہلو ہوگا تو ہمیں آخرت میں ضرور کامیابی ملے گی اور یہی ایک انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہوتاہے ۔ اب اللہ کو اگر راضی کرنا ہے تو دینی فرائض کو ادا کرنا پڑے گا ۔ دینی فرائض کو اکیلے ادا نہیں کیا جا سکتا ، اس کے لیے لازماً اجتماعیت میں آنا پڑے گا۔ اب اجتماعیت قرآن کے ذریعے ، احادیث رسول ﷺکے ذریعے تزکیہ کا اہتمام کرے گی ، باطنی بیماریوں سے نجات کی طرف توجہ دلائے گی جن میں تکبر ، حسد ، بغض ، عداوت ، حُب جاہ ،     حُب مال وغیرہ شامل ہیں ۔ قرآن و احادیث میں ان تمام بیماریوں سے نجات کے لیے تعلیمات موجود ہیں ۔ لہٰذا جو شخص تنظیم میں شامل ہوگا تو اُسے لا محالہ تزکیہ کا موقع بھی ملے گا، احسان کا موقع بھی ملے گا۔ کمیاں کوتاہیاں تو ہر جگہ ہوتی ہیں ، حضورﷺ کے بعد کوئی بھی خطا سے پاک نہیں ہے لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں تزکیہ اور تذکیر کا عمل جاری رکھا جائے۔ اس حوالے سے سابق امیر تنظیم اسلامی محترم عاکف سعید  نے بڑی کوشش کی ہے ۔ تزکیہ اور باطن کی اصلاح کے لیے احسانِ اسلام کی اصطلاح کے تحت ایک فارم فل کیا جاتاہے جس میں ہر ماہ  فرض عبادات ، نوافل ، باطنی امور کی اصلاح ، قرآن پاک کی تلاوت ، مسنون دعاؤں، دعوتِ دین ، اقامت ِدین کی جدوجہد، غیر شرعی رسومات اور بدعات سے اپنے آپ کو روکنے اور اپنی معاش کو حرام سے پاک کرنے سمیت کوئی 40 امور کے حوالے سے رپورٹ دی جاتی  ہے۔ اس کو طلب اصلاح کے امور کہا جاتاہے اور تنظیم کا    ہر رفیق یہ رپورٹ پیش کرتاہے ۔ کراچی، پشاور ، لاہور ، اسلام آباد اور مختلف شہروں کے چند علماء کرام اور مفتیان سے میں نے اس کو شیئر کیا تو انہوں نے اس کی بڑی تعریف کی اور بعض نے وہ فارم ہم سے لے بھی لیاکہ مشاورت کے بعد اُن دینی جماعتوں کے اندر اس کو رائج کیا جائے گا ۔
سوال: تنظیم اسلامی میں گھر والوں کے تزکیہ کے لیے کیا نظام ہے؟
امیر تنظیم اسلامی : گھر والوں کا تزکیہ ایک مسلمان کے اولین دائرہ کار میں شامل ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ خود دے رہا ہے :
’’اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔‘‘(التحریم :6)
لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر والوں کے لیے اچھا کھانے اور پہننے کا انتظام کرلیا ، گرمی میں اے سی لگوا دیا ، ٹھنڈے پانی   کے لیے ریفریجریٹر لگا دیا ، بجلی نہیں ہے تو جنریٹر لگا دیا تو میں گھر والوں کے ساتھ بڑا مخلص ہوں حالانکہ میں ان کے ساتھ قطعاً مخلص نہیں ہوں جب تک کہ میں اُن کو جہنم کی آگ سے بچانے کےلیے کچھ نہیں کر رہا ۔ تنظیم اسلامی اِس حوالے سے گھریلو اُسرہ پر زور دیتی ہے جس میں گھروالوں کو بٹھا کر قرآن کی تلاوت اور ترجمہ کا اہتمام کیا جائے ، سیرت رسولﷺ اور سیرت صحابہؓ کا بیان ہو یا ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے خطاب کی آڈیو ویڈیو چلائی جائے ۔ اگر روزانہ اس کا اہتمام ہو سکے تو بہت اعلیٰ ورنہ کم از کم ہفتہ میں ایک بار گھریلو اُسرہ لازماً ہونا چاہیے ۔ ہمارے ہاں مقامی تناظیم کے زیر ِاہتمام اس کی رپورٹ بھی طلب کی جاتی ہے ۔آج کے دور میں جدید سہولیات موجو د ہیں ۔ اگر آپ دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں ہیں توتب بھی آپ   آن لائن اُسرہ کا اہتمام کر سکتے ہیں ۔ اگر میں ساری دنیا کو دین کی دعوت دے رہا ہوں لیکن اپنے گھر والوں کو اس سے محروم رکھتا ہوں تو سچی بات ہے کہ میں اُن پر بہت بڑا ظلم کر رہا ہوں اور روز قیامت ہر شخص سے اِس بارے میں پوچھا جائے گا ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور (قیامت کے دن) اُس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی۔ 
سوال: ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریر وتقریر میں اکثر دجالی تہذیب کا تذکرہ آتا ہے، اس سےغلط فہمی کی بنیاد پر بعض لوگ غلط مطلب نکالتے ہیں کہ تنظیم اسلامی اپنے سوا   سب کو دجال کا آلہ کار سمجھتی ہے ۔ دجالی تہذیب سے آپ کی کیا مراد ہوتی ہے اور معاشرے کے دجالی تہذیب کے زیر اثر ہونے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ دوسرا سوال یہ  ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جنہوں نے قرآن کو ڈاکٹر صاحبؒ یا تنظیم کے مزاج سے ہٹ کر سمجھا ہے؟(ثمان عبداللہ، راولپنڈی)
امیر تنظیم اسلامی : دجال ایک شخصیت ہے جس نے قیامت سے پہلے نکلنا ہے ، کب نکلے گا معلوم نہیں لیکن اس کا فتنہ اتناشدید ہے کہ 14 صدیاں قبل اللہ کے رسولﷺ ہر فرض نماز کے بعد رب سے یہ دعا مانگا کرتے تھے : ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے،قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنہ سے اور  زندگی اور موت کے فتنے سے۔‘‘
پھریہ کہ ہر جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی بھی تلقین فرمائی گئی ۔ دجل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی دھوکہ اور فریب ہیں ۔ دنیا اپنی جگہ دھوکہ اور فریب ہے ۔ جیساکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :’’ اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔‘‘(آل عمران:185)
کم از کم تین مرتبہ قرآن میں اس طرح کا ذکر ہے ۔  بانی تنظیم ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے سورۃ الکہف کے موضوع پر اور سائنس اور قرآن کا تصادم کے حوالے سے بے شمار خطبات ریکارڈ کروائے ہیں۔ ان میں بہت واضح طور پر بتایا ہے کہ دجالی تہذیب کیا ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ : کرنے کا اصل کام‘‘ کے عنوان سے بھی ڈاکٹر صاحب ؒ کا ایک تجزیہ شائع ہوتاہے جس میں  واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر ایک ایسی دجالی تہذیب کا غلبہ ہے جس کی بنیاد وحی کے انکار پر ہے ۔ تین چیزوں کو ترک کر دیا گیا ہےا ور ان کی جگہ تین چیزوں پر توجہ مرکوز کر دی گئی ہے ۔ یعنی اللہ کی جگہ کائنات، روح  کی جگہ جسم اور آخرت کی جگہ دنیا کو فوقیت دی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب ؒفرماتے تھے کہ اس دجالی تہذیب میں ہماری مادی علوم والی آنکھ کھلی ہوئی ہے جبکہ روحانی آنکھ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آخرت کو بھلا دیا گیا ہےا ور صرف دنیاکا حصول ہی مقصود زندگی بن کر رہ گیا ہے۔ اسی کے لیے دن رات محنت کی جارہی ہے ۔ یہی دجالی تہذیب آج مسلم معاشروں پر بھی غالب ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ تنظیم اسلامی اپنے سوا سب کو دجالی تہذیب کا آلہ کار سمجھتی ہے تو یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہم سب ہدایت کے محتاج ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں دجالی تہذیب کے فتنوں سے محفوظ رکھے ۔ جہاں اللہ کے رسولﷺ فتنہ دجال سے پناہ مانگا کرتے تھے تو ہماری کیا اوقات ہے۔ دنیا میں جماعتیں صرف دو ہی ہیں : حزب اللہ اور حزب الشیطان ۔ اس لحاظ سے دعوتیں بھی دو ہی ہیں اور نظام بھی دو ہی ہیں ۔ لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اللہ کے نظام کے لیے اپنی صلاحیتیں اور اوقات صرف کریں نہ کہ دجالی نظام کے لیے ۔  اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے تو سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تنظیم اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ  کا اسلامی مزاج کیا تھا ؟ تنظیم اسلامی اور ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا منہج ،   منہج انقلاب نبویﷺ ہے جو کہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہے ۔ یہ ہمارے لٹریچر سے بھی واضح ہے اور ویب سائٹ پر بھی ساری تفصیل موجود ہے ۔ ہمارے عقائد وہی ہیں جو اہلِ سنت و الجماعت کے ہیں ۔ فہم ِقرآن کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبؒ فرماتے تھے کہ قرآن حضور ﷺپر نازل ہوا لہٰذا ہمیں قرآن فہمی کے لیے حضورﷺ کے قدموں میں ہی پہنچنا ہوگا ۔ پھر علمائے سلف نے تفسیر قرآن کے جو اصول بتائے ہیں انہی کے مطابق قرآن کی تشریح اور  تفسیر کرنا ہوگی ۔ یہ سارے مباحث ڈاکٹر صاحبؒ نے    بیان القرآن کے آغاز میں بیان کیے ہیں ۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قرآن کو صرف ہم نے ہی سمجھا ہےکیونکہ ہم بھی  سلف صالحین کی تفہیم کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں ۔ البتہ فہم قرآن کا ایک پہلو وہ بھی ہے جو احادیث میں بیان ہوا ہے کہ اس کی حکمت کے موتی روزقیامت تک ختم نہیں ہوں گے کیونکہ یہ علوم کا خزانہ ہے ۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ اور  تنظیم اسلامی نے جس چیز کو زیادہ اُجاگر کیا ہے وہ دین کا جامع تصور ہے کہ دین محض چند عبادات اور رسومات کا نام نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطہ ٔحیات ہے اور زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں میں اپنا نفاذ چاہتا ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کا لہو مبارک اُحد کے میدان میں بہا ہے ، 70 پیارے صحابہ؇ شہید ہوئے ہیں اور یہ سب قربانیاں اسلام کو بطور نظام قائم کرنے کے لیے دی گئیں ۔ آپ ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا مشن اسلامی نظام کا قیام تھا ۔ ہمیں آپ ﷺ کے ہی اُسوہ پر عمل کا حکم دیا گیا :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}   (الاحزاب:21)’’(اے مسلمانو!) تمہارے لیے اللہ کے رسول ؐمیں ایک بہترین نمونہ ہے۔ ‘‘
اگر ہم حضورﷺ کی تمام سنتوں پر عمل کریں لیکن آپ ﷺکی زندگی کی سب سے بڑی سنت جس پر آپؐ نے 23 برس تک مسلسل عمل کیا اس کو نہ اپنائیں تو  دینی تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔ اقامت ِدین کی جدوجہد اور اس کی فرضیت بھی اسلاف کی آراء کی روشنی میں واضح ہے۔ ہماری اُمّت کے اسلاف نے قرآن واحادیث ، سیرت رسولﷺ ،سیرت صحابہؓ و تابعین کی روشنی میں اقامت دین کی جدوجہد کو دینی فرائض میں سے اہم فریضہ قرار دیا ہے ۔ اس حوالے سے تحقیق پر مبنی کتاب ’’اقامت دین کی فرضیت : اسلاف کی آراء کی روشنی میں‘‘ ہمارے مکتبہ میں بھی موجود ہے ۔ ڈاکٹر صاحب ؒاپنی طرف سے کوئی نئی بات نہیں کر رہے تھے ۔
سوال: تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسراراحمدؒ کے دور سے ہی ہمیشہ فرقہ واریت کے خلاف رہی ہے اور آپ لوگوں   نے ہمیشہ اس کے سدباب کی کوشش کی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ آپ کے اپنے پروگراموں اور سیمیناروں میں ایسی تنظیموں کے اراکین کو بھی بلاتے ہیں جن کا اول و آخر مقصد صرف اپنے فرقے کو فروغ دینا ہے۔ (محمد مجاہد)
امیر تنظیم اسلامی :اس ضمن میں فرقہ اور مسلک کا فرق ذہن میں رہنا چاہیے۔آپ کے سوال میں ہی آدھا جواب ہے کہ ہم مختلف مکاتب فکر اور مسالک کی جماعتوں کے قائدین کو اس لیے بلاتے ہیں کیونکہ ہم اتحاد و اتفاق کی کوشش کرتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہےکہ ہم جن موضوعات یا مسائل پر سیمینار یا پروگرامز منعقد کرواتے ہیں تو وہ مسائل امت کے مشترکہ مسائل ہوتے ہیں جن میں کسی بھی مکتب فکر یا مسلک کو اختلاف نہیں ہوتا۔ یہ رہنمائی ہمیں قرآن سے بھی ملتی ہے :
(اے نبی ﷺ )’’کہہ دیجئے کہ اے اہلِ کتاب!    آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے ۔‘‘(آل عمران :64)
آج سودی معیشت ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے ، انسدادِ سود کے ضمن میں جتنی کوششیں ہوئی ہیں ان میں  تنظیم اسلامی نے دیگر دینی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام  کیا ہے ، عدالتوں میں کیس بھی لڑے ہیں ۔ اسی طرح   اقامتِ دین ،  نظام خلافت کا قیام اور اسلامی اقدار اور اسلامی تہذیب کو بچانا ہر مسلمان کا مسئلہ ہے لہٰذا اس حوالے سے جدوجہد بھی مشترکہ ہونی چاہیے ۔ قرآن بھی یہی رہنمائی دیتاہے :
’’اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔‘‘ (المائدہ:2)
اگر ہم سولو فلائٹ کی بات کریں اور کبھی کسی سے کوئی رابطہ نہ رکھیں، نہ اپنے پروگرامز میں دوسروں کو بلائیں اور نہ ہی دوسروں کے پروگرامز میں جائیں تو پھر لوگ کہیں گے اور ٹھیک کہیں گے کہ آپ علیحدہ فرقہ بن گئے ، آپ اتحاد کی بات نہیں کرتے ۔ اس لیے ہم مشترکات کی بات کرتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کا موقف یہ تھا کہ انقلاب انتخابی سیاست کے راستے سے نہیں آسکتا بلکہ صرف تحریک کے ذریعے آئے گا ۔ جب ہم کسی متفق علیہ منکر کے خلاف کھڑے ہوں گے تو ان شاء اللہ یہ تحریک نفاذ اسلام پر جا کر منتج ہوگی ۔ 
سوال: کوریا میں ایک جہاز گر کر تباہ ہوگیا جس میں تمام غیر مسلم تھے اور وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ پاکستانی ایمبیسی نے اس موقع پر موم بتیاں جلا کر تعزیت پیش کی ۔ کیا حکومتی سطح پر ایسا غیر اسلامی رویہ رکھنا درست ہے؟غیر مسلم کی وفات پر اس کے گھر والوں سے ہمدردی کے لیے مسلمان کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ (زاہد طفیل، ساؤتھ کوریا)
امیر تنظیم اسلامی: فتویٰ دینا ہمارا کام نہیں ہے ، البتہ فقہاء نے جو کہا ہے وہ ہم بیان کرتے ہیں کہ  غیر مسلموں کی رسومات کو اپنا نا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے لیکن جب دین ترجیح ہی نہ رہے تو پھر’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘والا معاملہ ہو جاتاہے ۔اس حوالے سے کچھ لوگوں نے دلائل بھی دینے کی کوشش کی۔ لیکن علماء نے انہیں رد کر دیا ہے ۔ غیر مسلم کی وفات پر اس کے لواحقین سے تعزیت کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے الفاظ کا تعین بھی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے جیسا کہ روایت میں نقل ہیں کہ اللہ آپ کو بہتر نعم البدل عطافرمائے اور آپ کی اصلاح فرما دے ۔ البتہ غیر مسلم کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے ۔ 
سوال:  برتھ ڈے منانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟(محمد ارباب خان)
امیر تنظیم اسلامی : یہ اُمت بہت بڑے مشن کے لیے پیدا کی گئی ہے ۔ اُمت اگر اُمت والے کاموں کو مدنظر رکھے تو ایسی فضولیات میں پڑنےکا موقع ہی نہ ملے۔ ایک طرف غزہ میں معصوم بچوں اور عورتوں کی لہو لہان لاشیں ہوں اور دوسری طرف ہم برتھ ڈے پر اور نیوائیرنائٹ پر جشن منائیں تو یہ زیب نہیں دیتا ۔ سنا ہے کہ یہاں چیمپینز ٹرافی کے کرکٹ میچ رمضان میں ہورہے ہیں۔ کیا مسلمانوں کے پاس ان فضولیات میں پڑنے کا کوئی وقت ہے ؟ برتھ ڈے کا تصور غیروں سے آیا ہے، یہ اسلامی تصور نہیں ہے ۔ اسلامی تصور تو یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا ایک سال مزید کم ہو گیا لہٰذا آپ کی فکر بڑھ جانی چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔