اسلام کا تصورِ رمضان اور ہمارا تصورِ رمضان
(قرآن و حدیث کی روشنی میں )
مسجد جامع القرآن ، قرآن اکیڈمی لاہورمیںامیر تنظیم اسلامی محترم شجاع الدین شیخ حفظ اللہ کے21فروری 2025ء کے خطاب جمعہ کی تلخیص
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیاتِ قرآنی کے بعد!
رمضان المبارک اہلِ ایمان کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل مقدس ماہ ہے کیونکہ اس میں قرآن نازل ہواجو کہ سب سے بڑی ہدایت ہے ا اور اس نعمت کے شکرانے کے طور روزے فرض کیے گئے تاکہ ہم تقویٰ حاصل کریں اور اس تقویٰ کی بدولت قرآنی ہدایت ہمیں نصیب ہو۔ اس لحاظ سے رمضان المبارک اہلِ ایمان کے لیے رحمتوں ، برکتوں ، مغفرتوں کا مہینہ ہے ،ایک مجاہدانہ تربیت سے گزر کر روح کو بیدار کرنے کا مہینہ ہے ، جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں رمضان کا جو تصور رواج پارہا ہے، وہ اس تصورِ رمضان کے بالکل برعکس ہے جو کہ اسلام کا تصور ِ رمضان ہے ۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہو گا اس سال بھی کرکٹ چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد رمضان کے پہلے عشرہ میں ہو گا اور لوگوں کو رمضان میں تقویٰ اور ایمان کے حصول کی کوشش کی بجائے لہو لعب میں لگا دیاجائے گا۔ صرف کرکٹ ٹورنامنٹ ہی نہیں بلکہ رمضان کی راتوں میں فلڈ لائٹس لگا کر کرکٹ میچ کھیلنا ، بنگلوں کی چھتوں پر نیٹ لگا کر رات کے تین چار بجے تک بیڈ منٹن اور والی بال وغیرہ کھیلنا ، اسی طرح فوڈ سٹریٹس پر ساری ساری رات کھانے پینے اور عیش و عشرت میں مصروف رہنا ایک وبا کی طرح رمضان میں رواج پارہا ہے ۔پھر ٹی وی چینلزاور ریڈیو پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر جو کچھ ہوتاہے، کیا یہی رمضان کا مقصد ہے ؟ وہ ماہ مقدس جو قرآن سے تعلق کے لیے ہے ، ایمان، تقویٰ اور ہدایت کے حصول کے لیے ہے ، جہنم کی آگ سے خود کو آزاد کرانے کے لیے ہے، اُس میں قوم کو کھیل تماشوں میں لگا دینا، رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر اس کا کھلواڑ بنانا کہاں کا انصاف ہے ؟ آج ان شاء اللہ اسی موضوع پر قرآن مجید کی سورہ لقمان کی ابتدائی 9 آیات کی روشنی میں یاددہانی مقصود ہے ۔ فرمایا :
{الٓمّٓ(1)تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ(2) ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ(3)}(لقمان:1 تا 3)’’الم‘۔یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔ہدایت اور رحمت محسنین کے حق میں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا کلام احسان کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ احسان کرنے والے کون ہیں ؟ اس کی وضاحت ہمیں حدیث ِجبرائیل میں بھی ملتی ہے ۔ حضرت جبرائیلؑ انسانی شکل میں رسول اللہﷺ کے سامنے تشریف لائے اور چند سوالات پوچھے ۔ اُن میں سے ایک سوال احسان کے بارے میں بھی تھا ۔ پوچھا : یا رسول اللہ ﷺاحسان کیا ہے ؟ ۔ آپﷺ نے فرمایا :
((اَلْاِحْسَانُ اَنْ تَعْبُدَاللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ، فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فِانَّہٗ یَرَاکَ))”احسان یہ ہےکہ تو اﷲ کی عبادت اِس طرح کرے،گویا تو اُسےدیکھ رہا ہےاور اگر تو نہیں دیکھ رہا تو (یہ احساس پیدا کر کہ )وہ تجھےدیکھ رہا ہے۔“
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر فرمایا :
(اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔)(الحدید:4)
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں ۔(ق ٓ:16)
جب ملازمین کو معلوم ہو کہ مالک خفیہ کیمرے کی آنکھ سے دیکھ رہا ہے تو وہ مالک کے احکامات کی تعمیل میں لگے رہیں گے ، اگر اولاد میں باپ کا لحاظ باقی ہو تو کیفیت مختلف ہوتی ہے ۔ وہ جو ہمارا خالق ، حقیقی مالک اور رب ہے وہ ہر وقت اور ہر لمحہ نہ صرف ہمیں دیکھ رہا ہے بلکہ ہمارے دل و دماغ میں پیداہونے والے خیالات سے بھی واقف ہے ،اس یقین کے ساتھ ہمارا جو عمل ہوگا اس میں اخلاص بھی آئے گا اور احسان بھی آئے گا ۔ اللہ کے رسولﷺ ہر نماز کے بعد اسی احسان کی دعا مانگا کرتے تھے :
((اللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ))’’ اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔‘‘
سورہ لقمان کی زیر مطالعہ آیات میں فرمایا گیا کہ یہ قرآن ہدایت اوررحمت ہے محسنین کے لیے ۔ قرآن مجید کے بالکل آغاز میں فرمایا :
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(2)}’’ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔‘‘
خوفِ خدا دل میں ہوگا تو عمل میں حُسن پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اب متقین اور محسنین کون ہیں ؟ اس کی وضاحت سورۃا لبقرۃ کی اس آیت کے فوراً بعد ہی آتی ہے:
’’جو بن دیکھے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ا ور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میںسے خرچ کرتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اُتارا گیا آپ پر اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں، اور وہی نجات پانے والے ہیں۔‘‘(البقرہ:3تا 5)
اور وہی وضاحت سورہ لقمان کی زیر مطالعہ آیت میں بھی آرہا ہی ہے ۔ فرمایا :
{الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ(4) اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّ بِّہِمْ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(5)}(لقمان:4،5)
’’ جو نماز قائم کرتے ہیں‘اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یہی لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں۔یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
جتنا کل کی جواب دہی کا احساس ہوگا، اتنا ہمارے معاملات سدھرتے چلے جائیں گے۔ آج ہمارے معاشرے میں سارے بگاڑ کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم آخرت کو بھول گئے۔ جبکہ زیر مطالعہ دونوں مقامات پر فرمایا ہے کہ اُخروی اور حقیقی نجات پانے والے صرف وہی لوگ ہوں گے جو تقویٰ اور احسان کی روش والے ہوں گے ۔ آگے فرمایا:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق وَّیَتَّخِذَہَا ہُزُوًاط} (لقمان:6)’’ اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کھیل تماشے کی چیزیںخریدتے ہیںتا کہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بغیر علم کے ‘اور اس کو ہنسی بنا لیں۔‘‘
اس آیت کی تشریح میں صحابہ کرام؇ نے فرمایا کہ قیامت تک کے لیے جتنی بھی چیزیں اللہ کے ذکر(نماز ، تلاوت ، عبادات اورایمان ) سے غافل کر دینے والی ہوں گی وہ سب لہوالحدیث میں شامل ہیں ۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں جب قرآن کی دعوت پھیل رہی تھی اور لوگ قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر رہے تھے ، بعض کفار اور مشرکین جودل میں کفر رکھتے تھے مگر اس کے باوجود قرآن کے اسلوب بیان سے متاثر تھے اور چھپ چھپ کر قرآن سنتے تھے ۔ مشرکین کے سرداروں نے اس مسئلہ پر اجلاس منعقد کیے اور منصوبہ بنایا کہ کس طرح لوگوں کو قرآن سننے سے روکا جائے ۔ ان میں سے ایک سردار نظر بن حارث تھا جو تجارتی قافلے لے کر شام ، عراق اور ایران تک جاتا تھا ۔ وہ ان علاقوں سے قصے کہانیاں لے کر آیا تاکہ لوگوں کو اُن میں لگا کر قرآن سننے سے روکا جائے ۔ یہاں بھی سلسلہ نہ رکا تو پھر وہ شام سے ایک رقاصہ لے کر آیا تاکہ رقص و سرود ، شراب و کباب کی محافل سجائی جائیں اور لوگوں کو اس تماشے میں لگا کر قرآن سے دور رکھا جائے ۔
یہاںبِغَیْرِ عِلْمٍ سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ غافل کردینے والی چیزوں کا خریدار بن کر وہ کتنا بڑا گھاٹے کا سودا کر رہے ہیں اور اِس پر اُنہیں کس قدر سخت عذاب کا سامنا ہونے والا ہے ۔ ابوجہل نے ایک اور موقع پر کہا تھاکہ محفلیں تو ہماری ہیں، جتھے تو ہمارے ہیں ۔ آج کے تناظر میں بات کی جائے تو اس کے کہنے کا مطلب یہی تھا کہ زیادہ ویوز تو ہمارے ہیں، زیادہ لائکس ہمیں ملتے ہیں ، زیادہ ریٹنگ ہماری ہوتی ہے ۔ محمدﷺ کے پاس تو چند غلام ، کنیزیں اور کچھ غریب غرباء جاتے ہیں ۔ یعنی وہ محسنین اور متقین کا مذاق اُڑاتے تھے اور اللہ کے دین اور آیات کا بھی مذاق اُڑاتے تھے۔ ایسی روش اختیار کرنے والوں کے لیے آگے فرمایا :
{اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ(6)}(لقمان:6)
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔‘‘
قرآن صرف اُس زمانے کے لیے نازل نہیں ہوا تھا بلکہ یہ روز قیامت تک کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے ۔ آج کے دور میں بھی اگر کچھ لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اللہ کے دین اور قرآن سے دور کرنے ، رمضان کی فیوض و برکات کے حصول سے روکنے کے لیے کھیل تماشے اور ہنسی مذاق میں لوگوں کو لگاتے ہیں ، یا دین کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان کے لیے بھی سخت وعید ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم قرآن کی دعوت کو پھیلائیں ، خصوصاً رمضان میں اپنا تعلق قرآن سے مضبوط سے مضبوط تر کریں اور دوسروں کو بھی اس حوالے سے دعوت دیں ۔ لیکن بجائے اس کے اگر پاکستان میں رمضان میں کرکٹ کا کھیل تماشا شروع کیا جائے ، راتوں کو فلڈ لائٹس لگا کر کھیل تماشہ ہو ، ساری ساری رات فوڈ سٹریٹس پر کھانے پینے کا شغل جاری رہے اور جو رمضان کا مقصد ہے اس سے لوگوں کو دور رکھنے کی کوشش کی جائے تو کیا یہ غافل کردینے والے کام نہیں ہیں ؟
غافل کردینے والی ایک چیز یہ سمارٹ فون بھی ہے ۔ ایک بندے نے کہا میں نے 10 دن سمارٹ فون استعمال کرنا ترک کر دیا میری زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ۔ ایک صاحب علم نے کہا جس بندے کو اپنے اوپر اعتماد نہ ہو وہ سمارٹ فون استعمال نہ کرے۔ آج اللہ کے حوالے سے ، ماں باپ کے حوالے سے ، بیوی بچوں کے حوالے سے ، رحمی رشتوں کے حوالے سے ، استاد اور شاگرد ، امیر اور مامور کے رشتے کے حوالے سے کسی قدر غفلت اس سمارٹ فون کی وجہ سے بھی ہے ۔ کسی نے کہا پچھلے ایک ہزار سال میں انسانیت کو ایسا نشہ نہیں ملا جیسا سمارٹ فون کی صورت میں اب دیا گیا ہے ۔ بچوں سے لے کر بڑے بوڑھوں تک سب اس نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں ، بچے کارٹونز اور گیمز میں مبتلا ہیں ، عورتیں ٹک ٹاک بنا رہی ہیں ، اسی طرح سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اکثریت اپنا وقت صرف کر رہی ہے ۔ کوئی تقویٰ ہمارے اندر پیدا ہوگا ، آخرت کی کوئی فکر ہوگی تو نیک اعمال ، احسان کی طرف توجہ جائے گی۔لیکن آج اس سے غافل کردینے والی چیزوں کا غلبہ ہے ۔ مسلم معاشروں میں سب سے بڑھ کر حکومت کا کام ہوتاہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام کرے مگر یہاں اس کے برعکس کام ہو رہا ہے ۔
رمضان کے پہلے عشرے میں ہی کرکٹ چیمپئن ٹرافی کا انعقاد رکھ دیا گیا ۔ ٹائمنگ دوپہر 2 بجے سے لے کر رات 10 بجے تک ہے۔ اس دوران باجماعت نماز کا ثواب ، افطار کے بابرکت اور دعاؤں کی مقبولیت کے لمحات کہاں گئے ؟ تراویح کا اہتمام کہاں گیا ؟ قرآن سننے اور تلاوت کرنے کی سعادت کہاں گئی ۔ کیا یہ ان سب چیزوں سے محروم کردینے کے مترادف نہیں ہے؟ کاش کہ کوئی اس حوالے سے مسلمانوں کو بیدار کرنے کے لیے تحریک چلائے کہ رمضان کی برکات و فیوض سے محروم کرنے کا یہ سلسلہ بند کیا جائے۔ پھر یہ کہ کرکٹ اور جوئے کا بھی آپس میں گہرا تعلق ہے ، بے حیائی اور فحاشی کا بھی اس سے تعلق ہے ۔ رمضان کا تقدس کہاں گیا ؟ رمضان کا لحاظ کہاں گیا ؟ نوجوان نسل کو کس طرف لگایا جارہا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے۔ جس نےاپنے گھر میں ٹی وی لگا کر اپنے بچوں کو سامنے بٹھا رکھا ، جس نے شہروں میں بڑی بڑی سکرینیں لگا کر لوگوں کو بٹھا رکھا ہے اور نماز ، تراویح اور تلاوت قرآن سے دور کررکھا ہے ، جنہوں نے اپنے بنگلوں کی چھتوں پر لائٹس لگا کر کھیل کود ، تماشے لگا رکھے ہیں ان سب کو بھی استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے اس روش سے باز آنا چاہیے ۔
اللہ کے راستے سے روکنا ، اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا اور اللہ کے دین اور احکامات کا مذاق اُڑانا کتنا بڑا جرم ہے اس کا ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہے ۔ عین یہی طرزِ عمل ان مشرکین کا تھا جو قرآن سننے سے لوگوں کو روکنے کے لیے محافل موسیقی ، رقص و سرود کا انعقاد کرتے تھے ۔ ان کے لیے اللہ نے کس قدر سخت عذاب کی وعید سنائی ۔ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اگر وہی سب کچھ کر رہے ہیں تو کیا ہمیں فکرمند نہیں ہونا چاہیے ؟ پچھلے سال غزہ میں مسلم بچے اور عورتیں شہید ہورہے تھے اور ادھر ہم کرکٹ تماشوں اور غافل کردینے والےدیگر مشاغل میں مصروف تھے ۔ حالانکہ اس امت کے کندھوں پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے ، کس قدر عظیم مشن اس امت کو اللہ کے آخری رسول ﷺنے سونپا ہے۔ ایسی اُمت کا اس غفلت میں پڑنا ، حتیٰ کہ لوگوں کو قرآن اور اللہ کے ذکرسے دور کرنا ، رمضان کے مقاصد کو سبوتاژ کرنا کس قدر بڑا المیہ ہے ۔ آگے فرمایا :
{وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا کَاَنَّ فِیْٓ اُذُنَیْہِ وَقْرًاج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(7)}(لقمان:7)’’جب اسے سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے استکبار کرتے ہوئے‘جیسے کہ اُس نے انہیں سنا ہی نہیں‘ گویا اُس کے کانوں میں بوجھ ہے۔تو (ا ے نبیﷺ!) آپؐ اس شخص کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے ۔‘‘
یہ مشرکین کے سرداروں کا بیان ہے لیکن آج ہمارا کیا طرزعمل ہے۔ کرکٹ چیمپئن ٹرافی دیکھنے کے لیے ، فوڈ سٹریٹس پر رت جگے کے لیے ، کھیل کود اور تماشے کے لیے ، انٹرٹینمنٹ کے لیے ہمارے پاس وقت ہے لیکن کیا قرآن کی تلاوت کے لیے ، دورہ ترجمہ قرآن میں شامل ہونے کے لیے ، قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہے ؟کفار اور مشرکین کا مقصد کا قرآن کی دعوت کو روکنا تھا ، ہمارا کام اس دعوت کو پھیلاناہونا چاہیے ۔ مشرکین کھیل تماشے اور کھلواڑ کے راستے پر تھے تو ہمیں اپنا وقت قرآن کو سمجھنے اور اس کی دعوت میں لگانا چاہیے ۔ تنظیم اسلامی کے تحت پاکستان کے تمام شہروں میں نماز تراویح کے دوران دورہ ترجمہ قرآن ہوتا ہے ، خلاصہ مضامین قرآن کا اہتمام ہو تا ہے ۔ ان پروگراموں میں شرکت کے لیے تنظیم کی ویب سائٹ پر اپنے قریبی مقامات کو تلاش کیجئے اور ان میں خود بھی شرکت کیجئے اور اپنے دوست احباب اور اقرباء کو بھی دعوت دیجئے ۔ وہ لوگ جو قرآن کی دعوت سے لوگوں کو غافل کرنے کی بجائے اس کی طرف لوگوں کو بلائیں اور خود بھی عمل کریں ان کے لیے اسی مقام پر خوشخبری ہے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ(8) خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّاط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (9)}(لقمان:8،9)
’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اُن کے لیے نعمتوں بھرے باغات ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، جو سچا ہے۔اور وہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘
اللہ سے بڑھ کر سچا وعدہ کس کا ہو سکتاہے ۔ جو لوگ خود بھی غافل کردینی والی چیزوں سے بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے دائمی جنت کا وعدہ اللہ کی طرف سے ہے ۔
رمضان ٹرانسمیشن
سال بھر میں جو ایک دن بھی دینی حوالے سے پروگرام نہیں کرتے وہ رمضان میں بارہ بارہ گھنٹے رمضان ٹرانسمیشن کے نام پرانٹرٹینمنٹ ، کھیل تماشا اور رنگ رنگا پروگرام دکھا کر لوگوں کو سکرین پر مصروف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اِس لیے کہ اُنہیں اس کام کے لیے پیسہ ملتا ہے اور سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی مختلف پروڈکٹس کی مشہوری ہوتی ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! ہمیں اس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ،مذمت کرنی چاہیے اور لوگوں کو درد مندی کے ساتھ سمجھانا چاہیے کہ رمضان کے اس بابرکت مہینے کو قرآن کے نزول کے مہینے کو کھلواڑ مت بناؤ ۔ اِسے اپنی ناجائز کمائی کا ذریعہ مت بناؤ ۔ رمضان کے مہینے کا اتنا احترام اور تقدس ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ شعبان کے مہینے سے ہی اس کی تیاری شروع کر دیتے تھے ، لوگوں کو ترغیب دینا اور رمضان کے فضائل بتانا شروع کر دیتے تھے ۔ آج حضور ﷺکے نقش قدم پر چلنے کی بجائے ، لوگوں کو رمضان کے بابرکت ماہ میں اللہ اور اس کے دین سے جوڑنے کی بجائے ہم اسے کھلواڑ بنانا شروع کردیں ، اسے انٹرٹینمنٹ اور کھیل تماشے کا مہینہ بنادیں تو ہم کیسے اُمتی ہیں ؟کئی مرتبہ رمضان میں ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ باہر دوپہر 12 بجے سے لائن لگی ہوتی ہے اور رات 10 بجے جاکر باہر نکلتے ہیں۔ اِس دوران کوئی باجماعت نماز ، ذکر اذکار ، تلاوت قرآن ،سب کچھ کہاں گیا ؟
حالات حاضرہ
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑے کشیدہ ہو تے جارہے ہیں ، یہاں تک کہ ہمارے نائب وزیر اعظم اقوام متحدہ میں جاکر افغانستان سے نمٹنے میں مدد کی درخواست کر رہے ہیں ۔ اُمت کن نازک حالات سے گزر رہی ہے ؟ جو قوتیں مسلمانوں سے فلسطین اور مسجد اقصیٰ چھین لینے کی کوشش کررہی ہیں ، انہی سے جا کر اپنے مسلم ہمسایہ ملک کے خلاف مدد مانگی جارہی ہے ۔ کیا ہمارے حکمران بھول گئے کہ 1948ء میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو کس نے منظور کیا تھا ؟ کیا کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد ہو گیا؟ غلامی کی حد یہ ہے کہ آئی ایم ایف والے آکر ہمارے چیف جسٹس سے بھی مل رہے ہیں ، ججز سے بھی مل رہے ہیں ، وزیروں سے بھی مل رہے ہیں ،کاروباری شخصیات سے بھی مل رہے ہیں ، یعنی ہمارے ملک کا سارا نظام ابIMF چلائے گا اور ہم ہیں کہ پڑوسی مسلمان ملک کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ پہلے ہم نے امریکہ کی جنگ لڑ کر کیا حاصل کیا ؟ کتنے لوگ ہم نے شہید کروائے اور کتنے لوگوں کو ناراض کیا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ اب ایک اور جنگ چھیڑنے سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہیں یہ جنگ ہماری سلامتی اور بقاء کو لے نہ ڈوبے ۔ بلوچستان میں پہلے ہی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے ، غیر ملکی عناصر اپنا جال بچھائے بیٹھے ہیں ۔ اپنوں سے جنگ چھیڑ کر فائدہ کس کا ہوگا؟ ڈاکٹر اسراراحمدؒ ہمیشہ خطہ کے مستقبل کے منظر نامے کے حوالے سے احادیث کی روشنی میں بات کیا کرتے تھے کہ یہاں سے لشکرِ اسلام جاکر امام مہدی ؒاور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوں گے اور دجال کے خلاف لڑیں گے۔ عالمی طاقتیں اس بات کو جانتی ہیں ۔ اسی لیے وہ نہیں چاہتیں کہ اس خطہ میں امن قائم ہو ۔ اسی لیے وہ ہمیں آپس میں لڑانا چاہتی ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہماری ایٹمی توانائی اور صلاحیتیں اسلام کے دشمنوں کے خلاف استعمال نہ ہو سکیں ۔ اگر ہم چند ارب ڈالرز کی خاطر، چند عہدوں اوراقتدار کی خاطر ملکی مفاد کا سودا کریں گے تو ہم پر دشمنوں کا شکنجہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ، پالیسی سازوں کو ہدایت نصیب فرمائے اور انہیں سمجھنے اور سوچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ہمارے تمام تر مسائل کا حل اسی میں ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں جو تمام خزانوں اور بادشاہتوں کا مالک ہے ، تمام تر اختیارات اسی کے پاس ہیں ۔ اگر ہم اس کے ساتھ مخلص ہو جائیں گے تو امریکہ سمیت دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ بگاڑ نہ سکے گی ۔ لیکن اگر ہم نے بے وفائی کا یہی رویہ جاری رکھا تو کوئی بھی ہماری مدد نہیں کر سکے گا اورشاید ہم دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھلائی بھی کھو بیٹھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بڑےخسارے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین!