(نقطۂ نظر) از فساد او فساد آسیا - ابو موسیٰ

10 /

از فساد او فساد آسیا

ایوب بیگ مرزا

آسیا یک پیکر آب و گِل است
ملتِ افغان در آن پیکر دل است
از فساد او فساد آسیا
در گشاد او گشادِ آسیا
ترجمہ و مفہوم : ایشیا پانی اور مٹی کا پیکر ہے۔
افغان قوم اس پیکر میں دل کی طرح ہے۔
اس کا فساد ایشیا میں فساد ہے۔
اس کا سکون و امن ایشیا کا امن ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے اِن احساسات اور خیالات کا اظہار ایشیا میں افغانستان کی اہمیت کے حوالے سے کیا تھا۔ حیرت ہے کہ یہ اشعار جو قریباً ایک صدی پہلے کہے تھے آج بھی ایک حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں اور ایشیا ہی میں نہیں‘عالمی سطح پر اِس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عجب بات یہ ہے کہ اس حقیقت سے مکمل طور پر آشنا ہونے کے باوجود ، دنیا علی الاعلا ن اِسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں البتہ فکری اور عسکری سطح پر افغانستان کو تہہ و بالا کرنے کی کوششوں کی ایک طویل داستان ہے۔برطانیہ، سوویت یونین اور امریکہ جیسی سپر قوتیں اپنےوقت میں افغانستان پر بھرپور حملہ آور ہوئیں جنہیں فکری سطح پر جزوی اور عارضی کامیابی یقیناً ملی لیکن عسکری لحاظ سے بدترین ناکامی اور شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔ اِسی لیے افغانستان کو سُپر قوتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق مالی وسائل اور تباہ کن فوجی قوت کے لحاظ سے موجودہ امریکہ جیسی طاقتور ریاست کبھی دنیا میں وجود میں نہیں آئی لیکن یہ امریکہ بھی دو دہائیاں افغانیوں سے نبرد آزما رہنے کے بعد ذلیل و رسوا ہو کر پسپا ہوا بلکہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح اپنوں کو کچلتا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتا نظر آیا اور آج تک زخموں کو سہلا رہا ہے۔ لیکن اُس کی شیطانی جبلت اُس کو چین نہیں لینے دے رہی۔ البتہ عالمی طاقتوں میں چین نے ایک تو ذہنی اور قلبی طور پر افغانستان کی اِس پوزیشن اور اہمیت کو سمجھا ہے اور دوسرا امریکہ سے مخالفت بلکہ دشمنی کی بنا پر افغانستان سے افہام و تفہیم اور پیار و محبت کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے دونوں یعنی چین اور افغانستان ایک دوسرے سے تعاون کر کے فوائد حاصل کر رہے ہیں ۔ اب آئیے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کا کچھ ذکر کریں۔ یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ اِس وقت دونوں ممالک کے تعلقات بدترین سطح پر ہیں یہ کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں اِس وقت ایک دوسرے کے بدترین دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان اپنی سر زمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہراتا ہے اور افغانستان پاکستان کو امریکہ کے ایما پر داخلی اور خارجی سطح پر اُسے نقصان پہنچانے اور اُس کی زمینی اور فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات اور اُن میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو تاریخ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کا یہ الزام ہے اور اِس الزام میں وزن ہے کہ تلخیوں کا آغاز افغانستان کی طرف سے ہوا۔ وہ یوں کہ دنیا بھر میں افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں شرکت کی مخالفت کی تھی اور پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دیا۔ تاریخ کے آئینہ پر نظر ڈالی جائے تو دونوں نے ایک دوسرے کے بھلے میں اور مخالفت و دشمنی میں بھی بہت کچھ کیا۔ ذیل میں راقم چند مثالوںکے ذریعے قارئین کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی کوشش کرے گا۔ افغانستان آغاز سے ہی غذائی قلت کا شکار رہا ہے اِس حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ تعاون کیا۔ جب گندم کی بوائی کا موقع ہوتا تو ہمیشہ افغانستان کی ضروریات کو بھی مدِنظر رکھا جاتا اور سرحد پار اِس کی منتقلی سے صَرفِ نظر کیا جاتا۔جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا اور قبضہ کرنے کی کوشش کی تو افغان مجاہدین نے بھر پور مزاحمت کی اور اُسے engage رکھا۔ اِس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جنہوں نے کھل کر افغان مجاہدین کی مدد کی ۔ سوویت یونین کو زک پہنچانے میں امریکہ کا بھی مفاد تھا اُس نے بھی بھر پور مالی اور عسکری وسائل مہیا کر دیئے۔ البتہ جانوں کی قربانیاں صرف افغانوں نے دیں۔ اِن مشترکہ کوششوں سے سوویت یونین نہ صرف پسپا ہو گیا بلکہ وہ شکست و ریخت کا شکار بھی ہو گیا۔ یہاں انصاف کی بات یہ ہے کہ افغان اگر فزیکلی مقابلہ نہ کرتے اور اپنا روایتی جنگجوانا کردار ادا نہ کرتے تو پاکستان اور امریکہ کے محض اسلحہ اور مالی وسائل سے سوویت یونین کو روکنا ممکن نہ تھا۔ البتہ افغان مجاہدین سوویت یونین کو engage تو رکھ سکتے تھے لیکن شکست فاش دے کر اُس کے بڑھتے ہوئے قدم روک نہ سکتے تھے اور پورا امکان اِس بات کا تھا کہ سوویت یونین افغانستان کے ساتھ پاکستان کو بھی روندتا ہوا گرم پانیوں تک پہنچنے کی اپنی کو ششوں میں کامیاب ہو جاتا۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان نے سوویت یونین کو افغانستان پر قبضہ کرنے نہیں دیا اور افغانستان اگر یہ کہے کہ ہماری وجہ سے پاکستان روسیوں کے ہاتھوں روندے جانے سے بچ گیا تو دونوں باتیں درست ہیں۔ بہرحال یہ کہنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے کہ افغانستان پر سوویت یونین کے اس حملے پر جو کردار پاکستان نے ادا کیا وہ اگرچہ صحیح اور درست تھا لیکن یہ پاکستان کو بہت مہنگا پڑا اور پاکستان کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اس کی اتنی قیمت ادا کرنا پڑی جس کی پوری تفصیل دی نہیں جا سکتی جس میں مہاجرین کی دیکھ بھال اور اُن پر بھاری وسائل کا خرچ کرنا اور کلاشنکوف کلچر کا وجود میں آ جانا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پھر جب نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو وہ پاکستان میں اگلے جرنیل یعنی پرویز مشرف کا دورِ حکومت تھا ۔امریکہ نے مشرف کو دھمکی دی اور پاکستان سے قولی اور عملی تعاون کا مطالبہ کیا تو مشرف نے نہ آئو دیکھا نہ تاؤ ، مکمل طور پر سرنڈر کر دیا، امریکہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور امریکیوں کے کہنے پر وہ کچھ کر گزرا جس کا ذکر کرتے بھی ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اِس حوالے سے افغانی پاکستان کو جو بھی کہیں کم ہے اِس حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا۔ ہم نے افغانوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا اور تو اور سفارتی آداب کو بُری طرح کچلتے ہوئے افغانستان کے پاکستان میں سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف سے بدترین سلوک کیا اور اسے بھی امریکہ کے حوالے کر دیا جو ایک انتہائی شرمناک عمل تھا۔ دنیا کی سفارتی تاریخ میں ایسی مثال بھی کم ہی ہوگی۔ ہماری ہمسایہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ اِس سے بڑا ظلم اور زیادتی کیا ہوگی کہ امریکی فضائیہ پاکستان کے ہوائی اڈوں سے پرواز کر کے افغانستان میں بمباری کرتی رہی۔ علاوہ ازیں افغان مجاہدین کے قیدیوں سے انسانیت سوز سلوک کیا جاتارہا۔ افغان اس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈالتے تھے جس کی وجہ سے افغانیوں کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ گئی۔ دوسری طرف امریکیوں نے بھی پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگایا گویا ہم نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ قصہ مختصر بہادر افغان طالبان نے امریکیوں کو جوتیاں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ دوسری طرف پاکستان میں جنرل مشرف قصّہ پارینہ بن چکا تھا ۔سول حکومت نے افغان طالبان سے اچھے تعلقات استوار کر لیے تھے۔ آخری دنوں میں پاکستان نے کھل کر افغان طالبان کی مدد کی۔ 15اگست2021ء افغان طالبان کے لیے تاریخ ساز دن تھا جب انہوں نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ اب یہ تصور مضبوط سے مضبوط تر ہو کر سامنے آیا کہ افغانستان اور پاکستان میں گہری چھنے گی لیکن شومئی قسمت ایسا نہ ہو سکا۔ ایک طرف افغان طالبان کی خواہش کے باوجود عام افغانی پاکستانیوں کو دل میں جگہ نہ دے سکے۔ افغان طالبان کی حکومت پاکستان دشمن عناصر کو کنٹرول کرنے میں بُری طرح ناکام رہی۔ امن کے لیے مذاکرات ہوئے لیکن پاکستان کے اپنے حالات سازگار نہ رہے۔ آٹھ فروری کے متنازعہ انتخابات کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا گیا۔یہ تاثر بڑھا کہ مینڈیٹ چوری ہوا ہے اور انتخابات میںہارے ہوئے لوگوں کی حکومت مسلط کر دی گئی۔ نئی حکومت کو خود کو قائم رکھنے کے لیے امریکہ کی جو بائیڈن حکومت کاسہارا لینا پڑا۔امریکی کسی صورت فری لنچ کے قائل نہیں۔ بہرحال صورتحال یہ بن گئی کہ ایک طرف ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو پاکستان کی حکومت سے ناراض افغان طالبان انہیں روکنے کے لیے کسی قسم کی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ دوسری طرف حکومتِ پاکستان نے دہائیوں سے موجود افغانیوں کو انتہائی قلیل مدت کا نوٹس دے کر پاکستان سے نکل جانے کا حکم انتہائی بے رحمی سے دیا پھر یہ کہ پاکستان کی فضائیہ افغانستان میں کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتی ہے اور افغان حکومت اسے اُن معصوم شہریوں کا قتلِ عام قرار دیتی ہے جنہیں پاکستان نے انتہائی شارٹ نوٹس پر پاکستان سے نکال باہر کیا ہے گویا دونوں اسلامی برادر ہمسایہ ممالک میں کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ امریکہ جلتی پر تیل ڈالتا ہے اس کی ایک ویب سائٹ ڈراپ سائٹ نیوز اس طرح کی خبریں لگا رہی ہے: (Pakistan's Mililtary hopes to drag Turmp into war ) تاکہ دونوں ممالک کی کشیدگی میں اضافہ ہو اور وہ تصادم کی طرف بڑھیں۔ راقم کی رائے میں یہ امریکی شرانگیزی کے سوا کچھ نہیں ہے اِس لیے کہ کسی دوسرے ذریعہ نے اِس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ اصل سوال یہ ہے کہ پس چہ باید کرد۔ اِس سوال کے جواب کی ضرورت ہےکہ دونوں ہمسایہ مسلمان برادر ممالک اپنے دشمنوں کی سازشیں ناکام بنا سکیں ۔ راقم کی رائے میں اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ نیک نیتی سے مذاکرات کیے جائیں مذاکرات اور صرف مذاکرات اس کےسوا کوئی حل نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ افغانیوں کوبزور بازو و جبر اور جنگ سے دبایا نہیں جا سکتا اور اب تجربے سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ افغانیوں کے ساتھ زور آوری ہمیشہ ناکام رہی البتہ افغانیوں کا معاملہ بھی بڑا الجھا ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق اصل قصور وار اُن کے بعض شرپسند گروپس ہیں جو بیرونی اشاروں پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اور مذاکرات کو ڈھال بنا کر فائدہ اُٹھاتے ہیں اور یہ اعتراض کوئی ایسا غلط بھی نہیں ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ انتہائی نیک نیتی سے شرپسندوں سے اعراض برتتے ہوئے صرف ان گروپس سے مذاکرات کریں جو نائن الیون کے بعد ہونے والی کارروائیوں سے پاکستان سے ناراض ہیں۔ اُن سے معذرت کی جائے۔ اُنہیں دلائل سے سمجھایا جائے کہ امریکہ اور بھارت کی سازشوں سے مسلمان ایک دوسرے کا خون کیوں بہا رہے ہیں۔ ایک وقت آئے گا ایسے گروپس اچھے سلوک اورانسانی ہمدردی کے قائل ہو جائیں گے پھر ان گروپس اور افغان طالبان کے ساتھ مل کر دوسرے گروپس کے خلاف مشترکہ کاروائی کی جائے جو مال وزر کے لالچ میں اور علاقائی تعصب کی بنا پر مسلمانوں میں خون ریزی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غور کریں ہمارا دین اسلام بھی ہمیں یہی راستہ دکھاتا ہے کہ مسلمانوں کے متحارب گروپس کے درمیان صلح کراؤ اور جو گروپ زیادتی کرے اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرے، دونوں مل کر اُس کے خلاف جنگ کریں۔ صرف اور صرف یہی راستہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں باہم جنگ و جدل سے کسی بھی صورت کوئی فاتح نہیں ہو سکے گا۔ خدارا اصل دشمنوں کوپہچانیں اور اُنہیں ناکام بنائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت کے استعمال کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جب پاکستان وجود میں آیا تو علامہ اقبال کو وفات پائے نو (9) سال گزر چکے تھے اُنہوں نےافغانستان کے امن کو اِس خطے کا امن قرار دیا تھا۔ بھارت علامہ اقبال جیسے دانشور کی اِس بات کو سمجھے اور افغانستان کے ذریعے شرانگیزی پھیلانے سے باز آئے وگرنہ یہاں لگی ہوئی آگ سے وہ بھی اپنا دامن نہ بچا سکے گا اور پاکستان مذاکرات ہی کو اصل حل سمجھے یہی اسلامی اخوت کا تقاضا ہے اور ہماری سلامتی کا بھی یہی راستہ ہے۔
از فساد او فساد آسیا